ملفوظ 112: حضرتؒ کے عقد ثانی کا واقعہ

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت عقد ثانی کا داعی کیا پیش آیا تھا فرمایا ان کی سادگی دینداری اور بے نفسی داعی ہوئی ـ شروع ہی سے ان کی یہ حالت تھی اسی وجہ سے میں نے ان کو سعید احمد مرحوم کیلئے تجویز کیا تھا ـ جی چاہتا تھا کہ ایسی اچھی طبیعت کا آدمی گھر میں رہے جب مرحوم کی وفات ہو گئی ان کے گھر میں رہنے کی بجز عقد کے کوئی صورت نہ تھی اور یہ بات مجھ کو بعد میں معلوم ہوئی کہ علاوہ میرے خاص دوستوں کے حضرت مولانا خلیل احمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی بھی یہی رائے تھی کہ ایسا ہو جانا چاہئے ـ بلکہ یہ بھی فرمایا تھا کہ وہ اپنے گھر میں سے اس معاملہ میں ڈرتا ہے ـ واقعی مجھے جو اس میں تردد تھا وہ یہی تھا مجھے پیلے گھر کے مزاج سے اندیشہ تھا اور وہ اندیشہ واقع بھی ہوا گو اب بحمد اللہ اس کا اثر باقی نہیں رہا ـ میں نے ایک مرتبہ اس کے متعلق خواب دیکھا کہ میں کسی سے پوچھ رہا ہوں کہ اگر عقد ثانی ہو گیا تو بڑے گھر میں سے کیا کریں گی تو یہ جواب ملا کہ وہ بیٹھی ہوئی قرآن پاک پڑھا کریں گی نیز اس کے متعلق میں نے ایک یہ بھی خواب دیھا تھا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا میرے مکان میں تشریف لانے والی ہیں ـ اس سے میں یہ تعبیر سمجھا کہ جو نسبت عمر کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بوقت نکاح حضور کے ساتھ تھی وہ ہی نسبت ان کو ہے یہ شاید اس طرف اشارہ ہو ـ میں نے اس کے متعلق ایک رسالہ بھی لکھا ہے الخطوب المذیبہ اس کا نام ہے اس میں واقعہ کی حقیقت کو ظاہر کر دیا ہے اور رسالہ کے لکھے جانے کے داعی میرے بھائی منشی اکبر علی صاحب مرحوم ہوئے تھے انہوں نے ایک خط میں مجھ سے استفسار کیا تھا کہ آخر ضرورت ہی نکاح کی کیا پیش آئی تھی اصل میں تو ان کو جواب دینا تھا وہ بہ شکل سالہ ہو گیا ـ وہ رسالہ بعض لوگوں کے لئے تو جو کہ اہل فہم تھے دوستی کا سبب بن گیا ایسے لوگوں نے یہ کہا کہ ایسے شخص سے ضرور تعلق رکھا جائے اس لئے کہ اس میں استقلال اور اگر بعض کا اعتقاد جاتا رہا ہو تو جاتا رہے ـ بحمد اللہ ! میں کوئی کام کسی کے معتقد یا غیر معتقد بنانے کی نیت سے تھوڑا ہی کرتا ہوں میرے بڑے گھر میں سے مجھ سے کہا کہ تم نے یہ عقد کر کے عقد ثانی کا دروازہ کھول دیا اب لوگ ایسا ہی کریں گے ـ میں نے کہا کہ کھولا نہیں بند کر دیا ہے لوگوں کو معلوم تو ہو گا کہ اتنے حقوق ہیں کسی کی بھی ہمت نہ ہو گی ـ فرمایا یہ ادائے حقوق کی دشواری کا خیال ہی خیال ہے ورنہ اللہ تعالی ایسی مدد فرماتے ہیں کہ عمل کرنا اور حقوق کا ادا کرنا پھولوں سے بھی ہلکا ہو جاتا ہے ـ مشکل سے مشکل کام ان کی مدد سے آسان ہو جاتا ہے مگر ارادہ شرط ہے ـ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ حضرت قرآن پاک میں ہے ما جعل علیکم فی الدین من حرج ( دین میں حق تعالی نے تم پر کوئی تنگی نہیں فرمائی ) اور مفقود الخبر کے متعلق جو امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب ہے اس میں حرج ہے فرمایا اس میں تو حرج اور تنگی ہے اور جہاد میں تنگی نہیں جہاں سر کٹتے ہیں عورتیں بیوہ ہوتی ہیں بچے یتیم ہوتے ہیں اگر حرج کے یہی معنی ہیں اور تنگی اسی کو کہتے ہیں تو اسکو بھی قرآن شریف کی فہرست سے نکال دو چپ رہ گئے ـ مولانا پر جذب غالب رہتا تھا مجذوب سمجھے جاتے تھے مگر کیسا جواب دیا یہ حضرات دین کے عاشق تھے اس لئے اامور دینیہ میں ہر وقت ہوشیار اور بیدار رہتے تھے ـ دیکھئے ! جہاد میں کتنا تعب ہے اور آخر انجام اس کا قتل ہے مگر حضرت اس وقت ایسا بھی نہیں ہوتا جیسے چیونٹی کاٹ لیتی ہے ـ بعض بزرگوں کا قول ہے کہ جو پلنگ پر پڑ کر مرتا ہے اس کو ایسی تکلیف ہوتی ہے جیسے چھ سو تلوار اس پر ایک دم پڑی ہوں اور جہاد میں آسانی سے جان نکلتی ہے ( جو اس قدر سخت ہے ) بظاہر یہ سب ارادہ کی برکت ہے ارادہ بڑی دولت ہے اس سے بڑے سے بڑے مشکل کام آسان ہو جاتے ہیں چنانچہ مجھ کو اس معاملہ میں عدل بالکل آسان ہو گیا ـ اور گو کہنے کی تو بات نہیں مگر کہتا ہوں کہ میں نے حقوق کی رعایت یہاں تک کی اور یہ محض دوستوں کو معلوم کرانے کی غرض سے کہہ رہا ہوں تاکہ عمل کریں کہ ایک کے وقت میں دوسرے کا خیال بھی نہیں آنے دیتا ـ اور یہ اس وجہ سے کہ جہاں تک میرے ارادہ اور قصد کو دخل ہے وہاں تک کیوں کو تا ہی کروں اور یہ خیال کیا کہ قصدا اس خیال کرنے میں بھی ایک قسم کا استمتاع ہے ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نے اس خیال کے استمتاع ہونے کے متعلق ایک مرتبہ اور بھی فرمایا تھا اور اس سے استدلال کیا تھا کہ اگر اپنی بیوی کے پاس ہو اور صحبت کے وقت کسی اجنبیہ کا قصدا خیال کرے تو وہ حرام ہوگا ـ فقہاء نے اس کو بیان فرمایا ہے فرمایا کہ ہاں استدلال کیا ہوگا ـ