ملفوظ 111: اولاد کا ہونا بھی اور نہ ہونا بھی حکمت ہے

فرمایا ! کہ ایک مرتبہ حضرت حاجی صاحبؒ نے میرے سامنے ایک تقریر فرمائی کہ اولاد ہونے میں یہ کلفت ہوتی ہے یہ پریشانیاں ہوتی ہیں ـ یہ خلجان ہوتے ہیں ـ سبب اس کا یہ ہوا تھا کہ میری ایک خالہ ساس تھیں انہوں نے حضرت حاجی صاحب سے میرے لئے اولاد ہونے کی دعا کرائی تھی ـ اس موقع پر حضرت نے مجھ سے فرمایا تھا کہ بھائی ! تمہاری خالہ نے تمہارے اولاد ہونے کی دعا کو کہا تھا ـ میں نے دعا تو کر دی مگر جی تو یہی چاہتا ہے کہ جیسا میں ہوں ویسے ہی تم رہو مطلب یہ تھا کہ اولاد نہ ہو میں سمجھ گیا کہ اولاد نہ ہوگی چناچنہ نہیں ہوئی ـ حتی کہ جب میں نے دوسرا عقد کیا ان کی عمر اولاد ہونے کی تھی مگر عجب اتفاق ہے کہ ان کو ڈاکٹرنی نے کہہ دیا تھا کہ تم شادی مت کرنا تمہارے لئے سخت مضر ہے اگر اولاد ہوئی تو پھر تمہاری جان کی خیر نہیں سو اولاد میرے لئے مضر باطن بتلائی گئی اور ان کیلئے مضر ظاہر ـ سو شادی تو ہوئی مگر اللہ تعالی نے ان کی جان کی حفاظت فرمائی کہ ان سے بھی اولاد نہیں ہوئی ـ سو اولاد نہ ہونے میں ان کی مصالح جان کے ساتھ اور میرے مصالح ایمان کے اور یہ سب کے لئے نہیں ـ یہی اولاد بعض کیلئے آلہ بعد ہو جاتے ہیں اور بعض کیلئے آلہ قرب ہو جاتے ہیں ـ اس کو حق تعالی ہی خوب جانتے ہیں کہ کس کیلئے سبب بعد کا ہوں گے اور کس کیلئے سبب قرب کا ـ پس جیسے اولاد ہونا ایک دولت اور نعمت ہے ۤـ مگر سب کے لئے نہیں اسی طرح پیشین گوئی اور تصرف و کرامت دولت ہیں مگر سب کیلئے نہیں بلکہ بعض کیلئے یہ چیزیں حجاب ہیں اور مجھ جیسے کمزور کے لئے تو یہ چیزیں حجاب ہی ہو جاتیں اپنی حالت سے میں ہی خوب واقف ہوں ـ بس مجھے تو یہ ہی حالت پسند ہے کہ جو احکام معلوم ہوں ان پر عمل کر لوں اور وہی اپنے دوستوں کو بتلا دوں ـ