( ملفوظ 98 )محبت کی شان ہی جدا ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر کسی کو کسی سے محبت ہوتی ہے تو اس کی ادا محبوب معلوم ہوتی ہے ۔ محب کی نظر میں محبوب کی شان بچے جیسی ہوتی ہے کہ وہ نوچے کھونچے سب ادا پیاری معلوم ہوتی ہیں اور اگر یہی حرکت کوئی بڑا کرے ناگوار ہوں گی ۔ میں خود اپنا حال بیان کرتا ہوں کہ ایک شخص ایک بات کرتا ہے ناگوار معلوم ہوتی ہے دوسرا وہی بات کرتا ہے اچھی تو کیا مگر ہاں ناگواری نہیں ہوتی ۔ بجز محبت کے اس کا کوئی ضابطہ نہیں حدود نہیں واللہ العظیم محبت وہ چیز ہے کہ عتاب اور غصہ پر بھی پیار معلوم ہوتا ہے ۔ کسی نے خوب کہا ہے :

تم کو آتا ہے پیار پر غصہ ہم کو غصہ پر پیار آتا ہے

محبت کے معاملات کی اور ہی شان ہوتی ہے اور اس پر قانون سے کوئی ملامت بھی نہیں ہو سکتی ۔ گو خشک علماء نے اہل محبت پر بہت کچھ
طعن و تشنیع کیے ہیں مگر ان کے ایسا کرنے کا سبب محبت کی حقیقت سے بے خبری ہے ان کو اس کوچہ کی ہوا ہی نہیں لگی ۔