( ملفوظ 57 ) اصلاح کے کام میں عرفی خوش اخلاقی کام نہیں آتی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل ملانوں کو لوگ بیگاری ٹٹو سمجھتے ہیں کہ پالان کسا سواری لی
ٹٹکاری دی چلدیئے اور یہاں پر یہ بات ہے نہیں ـ اسی وجہ سے خفا ہیں سو خفا ہوا کریں ـ
میں متکبروں کی وجہ سے اصول صحیحہ کو نہیں چھوڑ سکتا ـ میر ا ایسے لوگوں کے لئے بھی یہی معمول ہے کہ میں واسطہ سے گفتگو کرتا ہوں ـ اس لئے کہ واسطے سے جو بات چیت ہو گی اس میں مخاطب سامنے نہ ہو گا تو طبیعت میں اتنا تغیر نہ ہو گا جتنا کہ سامنے ہونے سے ہوتا یہ سب تجربہ کے بعد اصول قائم کیئے ہیں ایک ایسے ہی شخص کی کسی غلطی پر میں نے مواخزہ کیا تھا اور وہ بھی بالواسطہ اس نے یہاں سے جا کر گھر سے خط لکھا کہ علم کا ادب تھا ـ ورنہ میں انتقام لیتا اور اگر بلا واسطہ گفتگو ہوئی تو معلوم نہیں وہ شخص کہاں پہنچتا ـ درحقیقت یہ کام ہی ایسا ہے ـ اصلاح خلق کا اس کے ساتھ خوش خلق مشہور ہو ہی نہیں سکتا ـ مگر یہ ناگوری لوگوں کی اسی وقت تک ہے جب تک کہ بصارت نہیں ـ بصارت ہو جانے کے بعد ہزار جان سے قربان ہونے کو تیار ہوں گے ـ اس کی تائید میں ایک واقعہ بیان فرمایا کہ یہاں ایک شخص تھے ـ وہ آنکھیں بناتے تھے ـ
ان سے ایک رئیس نے فرمائش کی کہ میں اس علاج کو دیکھنا چاہتا ہوں چناچہ ایک شخص آنکھیں بنوانے آیا انہوں نے رئیس کو مطلع کیا ان کے سامنے سامان رکھا گیا ـ جب آپریشن ہونے لگا ـ مریض نے معالج کو گالیاں دینا شروع کیا مگر وہ اپنا کام کرتے رہے رئیس کو تعجب ہوا کہ تم کو نا گواری نہیں ہوتی وہ کہنے لگے یہ معزور ہے ـ اور میں جانتا ہوں کہ اب تھوڑی دیر میں یہ دعائیں دے گا ـ چناچہ جب آپریشن ہو چکا اس کے تھوڑی دیر بعد اس نے دعائیں دیں ـ
خطا معاف کرائی اور فیس پیش کی ـ یہ ہی صورت یہاں پر سمجھ لیجئے اور اگر یہ صورت نہ بھی ہو تو انتظار کس کو ہے ـ اگر بد اعتقاد ہوں تو ہوں اللہ تعالی نیت خالص عطا فرمائے ، لوگوں کے حسن اعتقاد سو اعتقاد سے ہوتا ہی کیا ہے ـ لوگ تو ایسوں سے خوش ہیں جیسے آج کل کے شاہ صاحب ہوتے ہیں کسی کو باوا کہدیا ـ کسی کو بیٹا بنا لیا ـ
بس یہ ان سے خوش اور وہ ان سے خوش اس کی مثال ہے ـ جیسے مرتشی اہلکار سے سب خوش ہیں اور جو رشوت نہ لے اس سے نا خوش یوں سمجھتے ہیں کہ جب اسنے لیا ہے تو کام ضرور کرے گا ـ چاہے نہ بھی کرے سو ہم سے تو ایسا نہیں بنا جاتا ـ چناچہ یہاں پر لوگ آتے ہیں ان سے بڑی چھان بین ہوتی ہے ـ یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون طالب دنیا ہے اور کون طالب دین ـ اس چھان بین پر دہلی کا ایک واقعہ بیان فرمایا کہ مجھ کو مدرسہ عبدالرب کے جلسہ میں مدعو کیا گیا ـ ایک صاحب یہاں سے میرے ساتھ ریل میں سوار ہوئے ـ مجھ کو کچھ شبہ ہوا ـ میں نے پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ بھی جلسہ میں جارہے ہیں ـ میں نے کہا کہ آپ میرے پاس نہ ٹھریں ـ انہوں نے کہا کہ نہیں میں اور جگہ ٹھروں گا ـ
بلا ظاہری سب کے یہ بات میرے دل میں آگئی ـ اس لئے میں نے صف کہدیا اب دہلی پہنچے تو وہ بزرگ اسٹیشن سے میرے ساتھ بیٹھ کرمدرسہ آگئے ـ وہاں پر شربت وغیرہ پلایا گیا ـ وہ بھی شریک رہے ـ میں نے ان کی اس حرکت پر صبر کیا اور سمجھا کہ عام چیز ہے ـ کوئی حرج نہیں پھر شام کو کھانے پر موجود ہوگئے ـ مولانا عبدالعلی صاحب اپنے پاس سے مہمانوں کے کھانے کا انتظام فرماتے تھے مدرسے سے نہیں کرتے تھے اور مجھ کو اس کی اطلاع بھی فرمادی تھی کیونکہ سمجھتے تھے یہ شکی آدمی ہے ـ بڑی ہی رعایت فرماتے تھے ـ ان صاحب کو دستر خوان پر دیکھ کر بہت ناگواری ہوئی مگر مولانا کے سامنے کچھ کہنے کی ہمت نہ ہوئی ـ آخر ان سے کہا کہ آپ سے ایک بات کہنا ہے اور الگ لیجا کر ڈانٹا کہ یہ کیا نامعقول حرکت ہے ـ تم کو بدون دعوت کے کھانا کب جائز ہے ـ خاص کر تصریحا کہدینے کے بعد جب ان کا پاپ کٹا اب فکر ہوئی کہ اگر مولانا پوچھ بیٹھے کیا کہوں گا ـ مگر مولانا کچھ بولے نہیں سمجھ گئے کہ گئے تھے دو ـ اور واپس آیا ایک تو اسی واسطے گیا ہوگا ـ ایسے واقعات اکثر مجھ کو سفر میں پیش آتے تھے
اب تو مدت سے سفر ہی بند ہوگیا ـ سو سب قواعد ایسی ضرورتوں سے تجویز کئے گئے ـ ضرورت سب کچھ کراتی ہے جو ضرورتیں پیش آتی رہیں ـ ویسے قواعد و ضوابط مقرر ہوتے گئے ـ اب دو تین روز سے بعض مہمانوں کے لئے استثناء ہو رہا ہے ـ اور یہ استثناء تو قواعد کے خلاف مگر ان لوگوں کی محبت کی وجہ سے ان کو مستثنٰی قرار دے رکھا ہے ـ
( مراد ان مہمانوں سے طلبہ مدرسہ دیوبند و مدرسہ مظاہرالعلوم سہارنپور کے ہیں 12 جامع ) ان لوگوں سے تو خاص تعلق اور بے تکلفی ہے ـ بوجہ طالب علم ہونے کی اور اس قسم کے بہت سے استثناء ہیں ـ