( ملفوظ 191 )لوگوں کو تکلیف دے کر مصافحہ کرنا

ایک دیہاتی شخص اہل مجلس کے کاندھوں پر سے پھاندتا ہوا حضرت والا کی طرف بغرض مصافحہ آ رہا تھا ، حضرت والا نے دیکھ کر فرمایا کہ بندہ خدا کہاں چلا آ رہا ہے ، منہ میں زبان نہ تھی ، وہیں سے بیٹھے بیٹھے کہہ دیا ہوتا جو کہنا تھا عرض کیا کہ مصافحہ کی غرض سے آ رہا ہوں ، فرمایا کہ کیا مصافحہ فرض ہے واجب ہے اور کیا اسی وقت کرنا سنت ہے اتنے مسلمانوں کو تیری اس حرکت سے تکلیف پہنچی اس پر جو گناہ ہوا اس کی کچھ بھی فکر نہیں ، مصافحہ کا ثواب ڈھونڈتا پھرتا ہے چل یہاں سے کیوں کھڑا ہے سب میں پیچھے جا کر بیٹھ اور پھر تو ایسی غلطی نہ کرے گا ۔ عرض کیا کہ نہیں فرمایا کہ گنواروں کے یہاں مصافحہ فرض ہے ۔ جی چاہتا تھا کہ تجھ کو سیدھا الٹا کر کے لوگوں کو تیرے اوپر سے چلاتا مگر دونوں آدمی قبول نہ کریں گے اور اگر کر بھی لیا تو کمر اور پیٹ کی خیر نہیں ، خبردار پھر کبھی ایسی حرکت نہ ہو ۔