فرمایا ! کہ کس طرح دل میں ڈال دوں جی چاہتا ہے کہ سب اس طرح راہ پر آ جائیں کہ ان کی ہر ادا اسلام کی شان ظاہر ہو جیسے حضرات صحابہ کرام کو لوگ دیکھ کر اسلام قبول کرتے تھے
یہ ان کا نمونہ بن جائیں ـ دنیا و دین کی بہبود اسی میں مضمر ہے یہ امر واقعی ہے کہ اگر مسلمان اپنی اصلاح کر لیں اور دین ان میں راسخ ہو جائے تو دین تو وہ ہے ہی لیکن دنیوی مصائب کا بھی جو کچھ
آج کل ان پر ہجوم ہے انشاء اللہ چند روز میں کایا پلٹ ہو جائے اور گو اس پر دلائل بھی ہیں مگر اس کا جو
حصہ ذوقی ہے چاہتا ہوں کہ اس کو ظاہر کروں مگر ان کے اظہار پر قدرت نہیں ـ جیسے ایک مادر زاد اندھے کی حکایت ہے کسی لڑکے نے کہا کہ حافظ جی آج ہمارے
یہاں تمہاری دعوت ہے پوچھا کیا کھلاؤ گے کہا کہ کھیر دریافت کیا کہ کھیر کیسی ہوتی ہے کہا کہ سفید ـ
پوچھا سفید کسے کہتے ہیں کہا جیسا بگلہ پوچھا کہ بگلہ کیسا ہوتا ہے اس لڑکے نےکہنی سے ہاتھ کھڑا
کر کے اور پہنچے سے موڑ کر کہا کہ ایسا ہوتا ہے ـ حافظ جی نے ہاتھ پھیر کر دیکھا دیکھ کر کہنے لگے نہ
بھائی یہ تو بڑی ٹیڑھی کھیر ہے حلق سے کس طرح اترے گی ـ
دیکھئے ! یہاں حقیقت سمجھ میں نہ آنے کی وجہ سے کھیر کو ٹیڑھی سمجھ بیٹھے ایسے ہی اس
طریق میں بہت سی باتیں ایسی ہیں کہ وہ بیان میں نہیں آ سکتیں تو جیسے وہاں اس کی ضرورت تھی کہ
حافظ جی کے سامنے کھیر کا طباق بھر کر رکھ دیتے کہ یہ کھیر ہے کھا کر دیکھ لو کیسی ہوتی ہے ایسے ہی
یہاں بھی حقیقت معلوم کرنے کی صرف ایک ہی صورت ہے وہ یہ ہے کہ کام کرنا شروع کرو خود بخود
سب معلوم ہو جائےگا ـ مگر اس طریق میں اول ہی قدم میں اس کی ضرورت ہے کہ اس کا مصداق بن جائے ؎
در رہ منزل لیلٰی کہ خطر ہاست بجاں ٭ شرط اول قدم آ نست کہ مجنوں باشی
( لیلی کی طلب میں جان کو بہت سے خطرات ہیں مگر ( راہ طلب میں ) پہلے قدم کی شرط مجنوں ہونا ہے )
ایک اور مثال سمجھ لیجئے کہ ایک شخص ہے ولایتی اس نے کبھی آم نہیں کھایا اس کو آم کی
حقیقت بتلانا سخت د شوار ہے جس چیز سے بھی اس کے ذائقہ کو تشبیہ دیجئے گا وہ ہر گز نہیں سمجھے گا ـ اس کی صرف یہی ایک صورت ہے کہ آم ہاتھ میں دے کر کھا جائے کہ جو اس کا ذائقہ ہے خود کھا کر دیکھ لو ـ
اسی طرح اس طریق میں سمجھ لیجئے گا کہ تقریروں سے یا قیل وقال سے کچھ سمجھ میں نہیں آسکتا ـ یہ تو کام کرنے سے معلوم ہوتا ہے اس میں عقل کی بھی رسائی نہیں عقل کی رسائی نہ ہونے کو
ایک مثال سے سمجھ لیجئے ـ ایک شخص کھڑے پہاڑ پر جانا چاہتا ہے ـ گھوڑے پر سوار ہو کر چلا گھوڑے کا کام دامن کوہ تک پہنچا دینے کا ہے آگے وہ نہیں جا سکتا ـ آگے دامن کوہ میں ایک کمند ہے اس
سے وہ راستہ طے ہوگا ـ عقل گھوڑا ہے اس کی ایک حد ہے اس کو آگے د خل نہیں اور جیسے گھوڑے
پر سوار ہو کر ایسے پہاڑ پر جانا بے عقلی ہے ـ اسی طرح یہاں عقل سے کام لینا بے عقلی ہوگا ایسی ہی عقل کو مولانا فرماتے ہیں ؎
آزمودم عقل دور اندیش را ٭ بعد ازیں دیوانہ سازم خویش را
( میں نے عقل دور اندیش کو آزما کر دیکھ لیا ( مگر راہ عشق میں بے کار ثابت ہوئی )اس آزمائش کے بعد اپنے کو میں نے دیوانہ بنا لیا ہے )
تو پھر تو اس کی یہ حالت ہوگی ؎
اوست دیوانہ کہ دیوانہ نہ شد ٭ مرعسس راوید دور خانہ نہ شد
( بقول مجذوب کے ) وہی دیوانہ ہے جو آپ کا دیوانہ نہیں )
صاحبو ! اس عقل سے جو کام لینے کا ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالی پر اعتماد و انقیاد کا اپنے کو ملکف سمجھ لے آ گے طرق جزئیہ انقیاد کے اس میں عقل کا کام ہے کہ وحی کا اتباع کر
