ملفوظ 139 : خانقاہ تھانہ بھون اور حضرت حاجی صاحبؒ کی نشست

خانقاہ تھانہ بھون اور حضرت حاجی صاحبؒ کی نشست مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت حاجی صاحبؒ اسی جگہ بیٹھتے تھے جس جگہ حضرت بیٹھتے ہیں فرمایا کہ نہ معلوم ہے کہ اور نہ کبھی تحقیق کی ـ اتنا ضرور معلوم ہے کہ بیٹھنے کی جگہ یہی سہ دری ہے ـ اس سہ دری کے متعلق مختلف اجزاء مختلف لوگوں سے سنے منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ یہاں پر پہلے یہ سہ دری نہ تھی ـ بلکہ ایک میدان تھا اس میں کچھ درخت تھے ایک درویش تھے ـ

حسن شاہ نامی انہوں نے یہاں پر قیام کر لیا تھا درویش تو وہ ایسے ہی تھے سماع وغیرہ کا بہت شوق تھا ـ مگر جب حضرت حاجی صاحبؒ نے یہاں پر آںا شروع کیا تو حسن شاہ یہاں سے اٹھ کر شاہ ولایت صاحب میں چلے گئے ـ حضرت نے کبھی اس کے متعلق کچھ نہیں فرمایا ـ یہ محض ان کا ادب تھا کہ بدوں حضرت کے فرمائے ہوئے چل دیے ـ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نرے کورے ہی نہ تھے ـ پہلے تو یہ لوگ بھی اللہ اللہ کرنے والے تھے ـ اسکا یہ اثر ہوتا تھا اور اب تو کثرت سے فاسق فاجر نفس پرست ہونے لگے ہیں ـ دین کے ساتھ تمسخر کرتے ہیں نہ علم کا ادب نہ اہل علم کا ادب ، نہ شریعت مقدسہ کا قلب میں احترام ، بالکل آزاد ، نہ خدا کے نہ رسول کے جو جی میں آتا ہے کرتے ہیں پہلے درویش علم اوراہل علم اور شریعت مقدسہ کا احترام کرتے تھے ۤـ گو بظاہر بعض حدود سے متجاوز ہوتے تھے مگر ان کے باطن میں شریعت کا ادب و وقعت و عظمت و احترام ہوتا تھا ـ اب تو نہ معلوم کیا ان لوگوں پر بلا نازل ہوئی ہے قطعا حس نہیں ان کی حرکات سن سن کر افسوس ہوتا ہے جھوٹے جھوٹے مسائل جھوٹی جھوٹی روایتیں گھڑ رکھی ہیں خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں ـ عوام بھی ایسے ہی مکاروں کے معتقد ہو جاتے ہیں ـ جتنا جس کو خلاف شریعت دیکھتے ہیں اتنا ہی کامل سمجھتے ہیں ان کے یہاں بزرگی کے لوازم میں سے ہے کہ خلاف شریعت ہو ـ نہ نماز ہو نہ روزہ چاروں ابرو کا صفایا ہو ـ لنگوٹا بندھا ہو وہ درویش ہے ـ صوفی ہے کامل ہے ولی ہے قطب ہے غوث ہے ـ لاحول ولاقوۃ الاباللہ ـ مولانا ایسوں ہی کے بارے میں فرماتے ہیں ؎ کار شیطان میکنی نامت ولی ٭ گر ولی این ست لعنت برولی (تو کام شیطان کے کرتا ہے اور نام تیرا ولی ہے ـ اگر ولی یہی ہے تب ( تو ) ولی پر لعنت ( مطلب یہ ہے کہ ایسے کو ولی کہنا یہی عظیم غلطی ہے 12) غرضیکہ میں یہ بیان کر رہا تھا کہ حسن شاہ خود ہی اس مسجد کو چھوڑ کر شاہ ولایت میں چلے گئے ـ اس کے بعد یہ سہ دری تیار ہوئی اس کا بھی عجیب واقعہ ہے یہاں ایک خاندان تھا ان کے پاس کچھ زمین تھی وہ شاہی زمانہ سے معافی میں تھی انگریزوں نے اس پر مال گزاری لگا دی ـ اس پر

ان لوگوں نے مقدمہ لڑایا اس میں بھی نا کام رہے تو ہائیکورٹ میں اپیل کی ـ حضرت میاں جی صاحبؒ تھانہ بھون تشریف لایا کرتے تھے ان سے دعا کیلئے عرض کیا کہ حضرت ! دعا فرمائیں ـ یہ مقدمہ اپیل میں ہمارے حق میں کامیاب ہو جائے فرمایا کہ ہمارے حاجی کو بیٹھنے کی تکلیف ہے یہاں پر ایک سہ دری بنوا دو ہم دعا کریں گے عرض کیا کہ بہت اچھا ! حضرت نے دعا فرما دی اور وکیل نے اطلاع دی کہ کامیابی ہو گی مالگذاری معاف ہو گئی ـ ان لوگوں نے حضرت میاں جی صاحب کو بھی خبر کی حضرت نے فرمایا وعدہ بھی یاد ہے اب ان لوگوں کو خیال ہوا کہ دعا تو کر ہی چکے ـ عرض کیا کہ حضرت پورے مصارف کا تو تحمل نہیں جو کچھ اس سہ دری میں صرف ہو گا اس کا نصف صرفہ ہم لوگوں کے ذمہ ہے فرمایا بہت اچھا نصف ہی سہی بڑے خوش ہوئے کہ آدھے میں کام بن گیا پھر جو باقاعدہ اطلاع آئی تو وہ یہ تھی کہ سائل کی حین حیات تک معاف اور پھر ضبچ ! بڑے گھبرائے اور پھر حضرت میاں جی صاحبؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ حضرت یہ کیا ہوا ـ فرمایا تم نے ہی تو کہا تھا کہ نصف میں نے بھی نصف منظور کر لیا کام بھی نصف ہی ہو گیا ـ عرض کیا کہ حضرت ہم پوری سہ دری بنوا دیں گے ـ فرمایا جاؤ اب کیا ہوتا ہے ـ اس صورت سے یہ سہ دری تیار ہوئی فرمایا کہ عذر کے زمانہ میں اس سہ دری میں بھی آ گ لگا دی گئی تھی ـ اس حجرہ کا در اور کواڑ پر اب تک جلے ہوئے کا اثر ہے ـ یہ حضرت حاجی صاحبؒ کے زمانہ ہی کے ہیں لوگوں نے مجھ سے کہا بھی کہ ان کو بھی نکلوا دو ـ میں نے کہا کہ نہ بھائی اس کو میں نہ نکلواؤں گا ـ اور یہ اس خیال سے کہ ان کو حضرت کا ہاتھ بھی لگا ہو گا کبھی کبھی حجرہ میں آتے جاتے میرا خود بھی سر لگ جاتا ہے ــ ہاں چھت اس حجرہ کی بالکل ہی جل چکی تھی اس کو بدلوا دیا گیا اور نئی کڑیاں ڈلوا دیں ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ جس جگہ بزرگ رہتے ہیں اس جگہ میں ایک خاص برکت اور نور ہوتا ہے فرمایا میں نے خود حضرت حاجی صاحبؒ کا مقولہ سنا ہے ـ فرمایا کرتے تھے کہ جائے بزرگاں بجائے بزرگاں ـ واقعی برکت ضرور ہوتی ہے فرمایا کہ حضرت مولانا شیخ محمد صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت حاجی صاحبؒ جب حج کو تشریف لے گئے تھے ان کی جگہ بیٹھ کر ذکر کرتا تھا تو زیادہ انوار و برکات محسوس ہوتے تھے اور جگہ میں یہ بات نصیب نہیں ہوتی یہ تو مشاہدہ ہے ـ