ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نے تو خطبے ہی نہایت مختصر تحریر فرمائے ہیں جس سے لوگوں پر ذرا برابر گرانی نہیں ہوتی ، فرمایا جی ہاں کوئی خطبہ سورہ مرسلت سے زیادہ نہیں ، فرمایا کہ ایک خطبہ حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ کا بھی مختصر اور جامع ہے ۔ میں پہلے اس کو پڑھا کرتا تھا ، اب اپنے لکھے ہوئے خطبے پڑھتا ہوں ، ان میں بحمد اللہ ہر باب کے احکام موجود ہیں ، نہایت جامع اور مختصر ہیں ، اس خطبہ کے متعلق مجھ کو خیال تھا کہ غیر مقلدیں زیادہ پسند کریں گے اس لیے کہ ان میں تمام تر آیات اور احادیث ہیں مگر معلوم ہوا کہ محض اس لیے خفا ہیں کہ اردو میں خطبہ پڑھنے کی اس میں ممانعت ہے اس لیے نہیں خریدتے اور
نہ پڑھتے ہیں ، غیر مقلد بھی عجیب چیز ہیں ، بجز دو چار چیزوں کے کسی حدیث کے بھی عامل نہیں مثلا رفع یدین ( رکوع میں جاتے اور اٹھتے وقت ہاتھ اٹھانا اور پکار کر آمین کہنا ) آمین بالجہر بھلا اردو میں خطبہ پڑھنا کبھی سلف میں اس کا معمول رہا ہے کبھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے
پڑھا ہے صحابہ نے پڑھا ہے کسی کا تو معمول دکھائیں تو کیا ایسی حالت میں یہ اردو میں خطبہ بدعت نہیں ہو گا ، کچھ نہیں غیر مقلدی نام اسی کا ہے جو اپنے جی میں آئے وہ کریں ۔
