( ملفوظ 93 ) ترکوں کے زمانہ میں حرمین میں عید کی نماز

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اسلامی ریاستوں میں پہلے عیدین کی نماز پر بڑے اہتمام ہوتے تھے ، اب تو آزادی کا ہر جگہ ایسا غلبہ ہوا ہے پہلی باتیں رہی ہی نہیں اور عید کی نماز تو صاحب مکہ معظمہ میں ہوتی ہے ، اشراق کے وقت تمام حرم شریف بھر جاتا ہے
جگہ نہیں رہتی ، شریف اور پاشا سب وقت پر آ جاتے ہیں ، امام سب کے بعد میں آتے ہی ان کے آنے کے بعد کسی کا انتظار نہیں ہوتا ۔ اب تو معلوم نہیں کیا ہوتا ہے جس زمانہ میں میں وہاں گیا اس وقت یہ صورت تھی پانچ چھ تو خطیب ہوتے تھے اس لیے کہ اگر کوئی حادثہ ہو جائے تو خطبہ قطع نہ ہو ، دوسرا فورا کھڑا ہو جائے ، جب دوسرے خطبہ میں دعا میں سلطان کا نام آتا تھا تو ایک ترک خلعت لیے امام کی پشت پر تیار رہتا تھا ، فورا امام صاحب کے کندھوں پر ڈال دیتا تھا ، ادھر تو یہ ہوا اور ادھر جھنڈی کے ذریعہ سے قلعہ میں خبر ہو گئی تو اکیس توپیں سلامی کے لیے چھوڑی جاتی تھیں اس وقت ایک خاص اثر قلب پر ہوتا تھا ، اسلامی شان معلوم ہوتی تھی ، پانچوں نمازوں کے وقت اذان کے ساتھ توپیں چلتی تھیں ، ایک اسلامی شان نظر آتی تھی ۔