ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں امراء کو مرید نہیں کرتا اس لیے کہ ان کی تربیت نہیں ہو سکتی ۔ تربیت کے لیے ضرورت ہے کہ ڈانٹ ڈپٹ بھی ہو اور نواب یا بادشاہ اس کو کب برداشت کر سکتے ہیں ۔ مرید ایسے ہی کو کرے کہ جن کو کم از کم گدھا
تو کہہ سکے ۔ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ پھر وہ اس نعمت سے محروم ہی رہیں ۔ فرمایا کہ اگر چاہیں تو محروم نہیں رہ سکتے اس کا بھی ایک طریقہ ہے ہر ایک عذر کا جواب اللہ نے دل میں پیدا فرما دیا ہے وہ یہ ہے کہ قبل از بیعت اس درجہ کی بے تکلفی پیدا کر لیں پھر بیعت ہوں دیکھو کیسے اصلاح کی جاتی ہے جس سے حکومت اور ریاست سب کو بھول جائیں مگر اکثر وہاں ان چیزوں کی ضرورت بھی کم ہوتی ہے اس لیے کہ امراء میں سے اکثر فقیروں کے پاس وہی امراء آتے ہیں جو واقع میں اپنی طبیعت سے فقراء ہی ہوتے ہیں اور یہ ان کی فہم سلیم ہونے کی پہلی دلیل ہے پھر فہم سلیم کے ہوتے ہوئے وہ ایسی بیہودگی اور بے تمیزگی کیوں کریں گے جس سے ایسی سیاست کی ضرورت واقع ہو ۔
