ملقب بہ التخدیر عن التحقیر ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جب نیت خالص ہو اور محض حق کے واسطے کوئی کام ہوتا ہے حق تعالی اس میں برکت و امداد فرماتے ہیں ۔ مولوی رحم الہی صاحب منگوری مرحوم کا ایک عجیب واقعہ ہے یہ بات سب کو معلوم ہے کہ یہ سنت اللہ ہے کہ جہاں اللہ والے ہوتے ہیں وہاں ان کے مخالف بھی ہوتے ہیں لہذا مولوی صاحب کے پڑوس میں ان کے مخالف بھی رہتے تھے جہاں برہمن وہیں قصائی پھر مخالفین میں بھی بعض کی طبائع میں خبث ہوتا ہے ان کا جی اسی سے خوش ہوتا ہے کہ دوسروں کو تکلیف میں دیکھیں ۔ ان اہل محلہ نے یہ شرارت کی کہ مولوی صاحب کے گھر سے مسجد جانے کا ایک چوک کی شکل میں جو راستہ تھا اس میں گانے بجانے کا انتظام کیا اور ایک طوائف کو بلا کر مجلس رقص قائم کی ۔ مولوی صاحب گھر سے نماز کے لیے مسجد کو چلے تو راستہ میں یہ طوفان بے تمیزی برپا دیکھا چونکہ نماز کا وقت قریب تھا صبر کیے ہوئے مسجد پہنچ گئے بعد فراغ نماز گھر کو واپسی ہوئی ، دربارہ دیکھ کر صبر نہ ہو سکا ۔ آخر صبر اور ضبط کی بھی تو کوئی حد ہے ۔ اب مولوی صاحب نے سوچا کہ جڑ ہی کی خبر لینا چاہیے جوتا نکال کر مجمع سے پھاندتے ہوئے اور بیچ مجمع میں پہنچ کر جو جڑ اور بنا تھی اس کے سر پر جوتا بجانا شروع کر دیا مگر اہل مجلس میں سے کسی کی یہ ہمت نہیں ہوئی کہ کوئی کچھ بولتا یہ ہیبت حق ہے جو اہل اللہ کو عطاء فرمائی جاتی ہے اور یہ مولوی صاحب کا جوش اور ہمت تمام تر محض حق کے واسطے تھی اس واقعہ کے بعد جلسہ تو ختم ہو گیا اور شریر لوگوں نے اس عورت سے کہا کہ ہم روپیہ صرف کریں گے اور گواہی دیں گے تو مولوی صاحب پر دعوی کر اس نے کہا کہ روپیہ تو میرے پاس بھی بہت ہے اور گواہ ہو ہی مگر دیکھنا یہ ہے کہ جس شخص کا مقابلہ کرنے کی تیاری کا مجھ کو مشورہ دیا جا رہا ہے وہ خالص اللہ والا ہے اس لیے کہ اگر اس شخص کے قلب میں دنیا کا ذرا برابر بھی شائبہ ہوتا تو مجھ پر اس کا ہاتھ ہر گز نہ اٹھتا اس سے ثابت ہوا کہ یہ شخص محض اللہ والا ہے تو اس کا مقابلہ حقیقت میں اللہ تعالی کا مقابلہ ہے ۔ میں کہتا ہوں کہ مولوی صاحب کا تو کمال تھا ہی مگر اس عورت کا بھی معتقد ہونا پڑتا ہے ۔ پھر اس ہی پر بس نہیں کیا وہ عورت مولوی صاحب کے مکان پر پہنچی اور معافی کی درخواست کی اور یہ کہا کہ مجھ کو اس فعل سے توبہ کرا دیجئے اور کسی نیک شخص سے میرا نکاح کرا دیجئے ۔ مولوی صاحب نے توبہ کرا کر کسی بھلے آدمی سے نکاح کرا دیا ، وہ پردہ میں بیٹھ گئی اور بھلی بی بی بن گئی ۔
یہ سب حق تعالی کا فضل اور مولوی صاحب کے خلوص اور جوتیوں کی برکت تھی ۔ اگر ہر شخص خلوص سے ہمت کر کے دین کے کاموں کو انجام دے انشاء اللہ برکت ہو ، کامیابی نصیب ہو ۔ آج کل خلوص کا تو کہیں نام و نشان نہیں ، محض فلوس کی فکر ہے ۔ عجیب ہی حکایت ہے اس سے کام کرنے والوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے ۔ اس واقعہ پر یہ تفریع بھی کیا کرتا ہوں کہ کسی کی تحقیر نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہر شخص کے متعلق بدرجہ احتمال یہ اعتقاد رہنا چاہیے کہ ممکن ہے کہ اس میں خدا کے نزدیک کوئی بات ہم سے بہتر ہو ۔ دیکھئے اس عورت کے اس فہم و خلوص کی کس کو خبر تھی پھر مولوی صاحب کی للہیت کی برکت کے متعلق ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ برکت کا اثر بھی ہر شخص پر نہیں ہوتا ۔ دیکھئے انبیاء کی برکت ابوجہل اور ابوطالب کے لیے کارگر نہ ہوئی اور تو کس کا منہ ہے کہ ایسی غیر مستخلف برکت کا دعوی کرے ۔ پس برکت کی بھی ایک حد ہے اس کو بھی بلکہ ہر چیز کو اپنی حد پر رکھنا چاہیے ، غلو ہر چیز میں برا ہے-اس عورت کی حکایت کے مناسب ایک اور حکایت حضرت مولانا گنگوہی نے نقل فرمائی ۔ گنگوہ میں ایک بے قید درویش آیا ، شہرت ہوئی ، ایک آوارہ عورت کو بھی معلوم ہوا اس نے اپنے آپ سے کہا کہ چلو ہم بھی اللہ والے کی زیارت کر آئیں ، دونوں گئے ، مرد تو جا کر شاہ صاحب کے پاس بیٹھ گیا اور عورت بوجہ شرمندگی ایک طرف بیٹھ گئی ۔ شاہ صاحب نے پوچھا یہ کون ہے ؟ اس نے کہا کہ بازاری عورت ہے آپ کی زیارت کو آئی ہے مگر بوجہ اس پیشہ کے شرمندگی کے سبب پاس آنے سے رکتی ہے ۔ وہ شاہ صاحب کیا کہتے ہیں کہ بی بی پاس آ جاؤ ، شرمندگی کی کون سی بات ہے وہی کرتا ہے وہی کراتا ہے یہ الفاظ سن کر اس عورت کے سر سے پیر تک آگ لگ گئی اور کھڑی ہو گئی اور اس آشنا یعنی اپنے ساتھی سے کہا کہ بھڑوے تو تو اس کو بزرگ بتلاتا تھا یہ تو مسلمان بھی نہیں یہ کہہ کر وہاں سے چل دی ۔ کہتا ہوں کہ ان الفاظ سے اس حقیقت تک کسی مفتی کا ذہن تو پہنچ سکتا تھا مگر بیچاری جاہل نے کیسا سمجھا ، یہ فہم کی بات ہے اور اس میں فہم تو تھا ہی بغض فی اللہ کس درجہ تھا کہ بیٹھ نہ سکی ، خاموش نہ رہ سکی چل دی ۔
بھلا ان واقعات سے کیا کوئی کسی کی تحقیر کر سکتا ہے ؟ اور حقیر سمجھ سکتا ہے ۔ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ میرے ایک دوست تھے قنوج میں وہ شاعر بھی تھے ان کا ماہواری رسالہ بھی نکلتا تھا ، اب انتقال ہو گیا ۔ انہوں نے لکھا تھا کہ آپ میرے نام پر ہنسیں گے میرا نام ہے بھگو خان ۔ میں نے لکھا کہ میں ہنسوں گا نہیں یہ تو ” ففروا الی اللہ ” کا ترجمہ ہے اللہ کی طرف بھاگنے والا اس پر خط آیا مسرت کا اظہار کیا ، غرض کسی کے نام پر کسی کے اعمال پر کسی کے لقب پر کسی کی ظاہری حالت پر ہر گز تحقیر نہ کرنا چاہیے مگر اتنی بھی رعایت نہ چاہیے جیسے ان شاہ صاحب نے کی کہ اس فعل معصیت کو توحید میں داخل کیا ۔ ( نعوذ باللہ منہ ) مگر اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ جیسے ان شاہ صاحب نے اس آوارہ اور بازاری عورت کی رعایت کی گو اس کی نظر میں شاہ صاحب مسلمان بھی نہ رہے ۔ اسی طرح لوگ علماء کو مشورہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ زمانہ کے اعتبار سے مسائل میں عوام کی رعایت کرنا چاہیے مگر معلوم بھی ہے کہ ایسا کرنے سے سب سے اول ہم ہی ان کی نظروں سے گریں گے ۔ پس نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہاری نظر سے بھی گریں گے اور دین داروں کی نظر سے بھی ۔ اب اہل حق کی نسبت کہتے ہیں کہ میاں یہ تو پرانے خرانٹ ہیں ، پرانی لکیر کے فقیر ہیں ان سے تو زمانہ شناسی کی امید نہیں ، یہ تو پک گئے اچھا صاحب ہم تو جیسے کچھ ہیں ، تم اپنے بچوں کو روشن دماغ مولوی بناؤ ، ہم خاک نشین سہی ذلیل سہی تم کو ہماری خیر خواہی کرنے کی کیا ضرورت تم اپنی فکر کرو ۔
