( ملفوظ 353 )مفرحات مقرحات نہ بن جائیں

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر آپ طبیب ہوتے تو آپ کے قول پر عمل کر لیتا اور اگر اب بدون طبیب کے مشورہ کے مفرحات استعمال کروں تو وہ مقرحات ہو جائیں ۔ بڑی راحت اسی میں ہے کہ اپنے سے زیادہ جاننے والے سے حالت بیان کر دی اور جو اس نے تدبیر بتلا دی اس پر عمل کر لیا ، آگے سب گڑبڑ ہے ۔ یہ تو فرض ہے مرید کا باقی شیخ میں بھی تین چیزوں کی ضرورت ہے ۔ دین انبیاء کا سا ہو تدبیر طبیب کی سی ہو ، سیاست ملوک کی سی ۔
کذا فی رسالۃ الشیخ محی الدین ابن العربی