ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو اس کا خاص اہتمام رکھتا ہوں کہ قلب فضولیات سے خالی رہے کیونکہ فقیر کو تو برتن خالی رکھنا چاہیے نہ معلوم کس وقت کسی سخی کی نظر عنایت ہو جائے ۔ ایسے ہی قلب کو خالی رکھنے کی ضرورت ہے نہ معلوم کس وقت نظر رحمت ہو جائے ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
یک چشم زدن غافل ازاں شاہ نباشی شاید کہ نگاہے کند آگاہ نباشی
( ایک پل بھر کو اس شاہ کی طرف سے غافل نہ ہو ممکن ہے کہ کسی وقت نظر عنایت ہو اور بوجہ غفلت کے تم کو خبر بھی نہ ہو تو محروم رہ جاؤ )غرضیکہ قلب کو خالی رکھنا چاہیے فضولیات سے اور معصیت سے تو خالی رکھنا ضروری ہی ہے ۔ بعض سالکین تو مباحات سے بھی خالی رکھتے ہیں مگر اس میں غلو کرنا مضرت ہے کیونکہ شیطان خالی گھر دیکھ کر اپنا تصرف کرنے لگتا ہے اس لیے اگر طاعات سے پررکھنا مشکل ہے تو مباحات نافعہ سے پررکھے مثلا دوستوں سے ملنا ، کھانے وغیرہ کا اہتمام کرنا یا کتاب دیکھ لینا خواہ وہ طاعات کی جنس سے نہ ہو تفریح ہی کی جنس سے ہو یہاں پر تفریح سے مراد تھیٹر اور سینما وغیرہ نہیں بلکہ مباحات ہیں جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے ۔ حاصل یہ ہے کہ وہ مباح فی الجملہ نافع ہو اور اس میں معصیت نہ ہو یہ سب تدابیر ہیں دین کی درستی کی اس ہی لیے تو یہ فن بڑا دقیق ہے اسی لیے یہاں شبہ ہو سکتا ہے کہ مباح کا دین سے کیا تعلق اسی طرح اگر خلوت میں نشاط جاتا رہے واجب ہے ہنسنا بولنا مجمع میں آ کر بیٹھ جانا صوفیاء نے جو سمجھا ہے وہ حقیقت ہے بڑے سے بڑے فلاسفروں کی تحقیق ان کے سامنے گرد ہے ، افلاطون کو کسی نے خواب میں دیکھا تھا بعض حکماء کا نام لے کر پوچھا کیا یہ حکماء ہیں جوب نفی میں دیا ۔ پھر پوچھا اچھا بایزید شہاب الدین سہروردی کو بتلاؤ ، کہا ” اولئک ھم الفلاسفہ حقا ” ( وہ یقینا حقیقی فلاسفر ہیں ۔ 12 )
میں ایک مثال بیان کرتا ہوں جو فی نفسہ تو مباحات کے درجہ میں ہے لیکن بعض اوقات وجوب کے درجہ میں ہو جاتا ہے ۔ مثلا بیوی کے ساتھ ہنسنا ، بولنا کہ بیوی سے ہنسنے بولنے میں اجنبیہ کی طرف میلان نہیں ہوتا تو یہ کتنی بڑی مصلحت ہے ۔ نواب ڈھاکہ سے ایک درویش کہہ گئے تھے کہ بیوی کے ساتھ مشغول رہنے میں حق تعالی سے غفلت ہوتی ہے انہوں نے مجھ سے پوچھا میں نے کہا جتنی زیادہ محبت ہو گی بیوی سے اتنا ہی اجر اور ثواب و قرب حق ملتا ہے ۔ یہ ہی شریعت کی خوبی ہے اگر شریعت نہ بتلاتی اور طبیعت سلیم ہوتی اس کو ہی تجویز کرتے مگر باوجود تعلیم شریعت کے فن کے جاننے والے کی اب بھی ضرورت ہے ۔ مثلا طبیب کے پاس جا کر کہا جائے کہ یہ مصالحہ ہے وہ کہتا ہے کہ دھنیا اور اتنا بڑھا لیا جائے ۔
