ایک مولوی صاحب کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اصل سبب مصائب کا معصیت ہے اب یہ شبہ ہوتا ہے کہ جو معصیت سے اجتناب رکھنے والے ہیں وہ بھی تو مصائب میں مبتلا ہوتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے مصائب میں اور ان کے مصائب میں زمین آسمان کا فرق ہے یہ ان مصائب سے پریشان نہیں ہوتے اس لیے وہ حقیقی مصائب نہیں محض صورتا مصائب ہیں اور وجہ پریشان نہ ہونے کی یہ ہے کہ ان کو حق تعالی سے محبت ہوتی ہے اور محبت اور عشق وہ چیز ہے کہ تمام تلخیوں کو شیریں بنا دیتی ہے ۔
میں اس پر ایک مثال بیان کرتا ہوں کہ ایک عاشق مدت سے محبوب کی تلاش میں تھے کہ کہیں ملے تو دل ٹھنڈا ہو ، اس تمنا اور آرزو میں سالہا سال گرد چھانتا پھر رہا تھا کہ دفعتا پشت کی طرف سے ایک شخص نے آ کر اور آغوش میں لے کر اس طرح دبایا کہ ہڈی پسلی ایک ہونے لگی اور آنکھیں تک باہر نکل آئیں مگر جب پیچھے نظر کرتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہی محبوب ہے جس کی ملاقات کی تمنا میں برسوں گلیوں اور جنگلوں کی خاک چھان ماری ۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ وہ محبوب اس سے کہے کہ اگر تجھ کو میرے دبانے سے تکلیف یا ناگواری ہو تو میں تجھ کو چھوڑ کر کسی اور کو جو تیرا رقیب ہے جا دباؤں ۔ صاحبو ! اس وقت یہ بجز اس کے اور کیا کہے گا کہ یہ تکلیف نہیں ، یہ تو ہزاروں راحتوں سے بڑھ کر راحت ہے ۔ گو بظاہر جسم کو تکلیف ہو گی مگر قلب کی یہ کیفیت ہو گی اور بزبان حال یہ کہے گا :
کشتگان خنجر تسلیم را ہر زماں از غیب جان دیگرست
اور یہ کہے گا :
ناخوش تو خوش بود برجان من دل فدائے یار دل رنجان من
اس بیان کے وقت حضرت والا پر ایک خاص حالت طاری تھی جس کا لطف اہل مجلس ہی اٹھا رہے تھے اور قریب قریب اہل مجلس پر گریہ طاری تھا ۔ ( احقر جامع )
پھر دوبارہ حالت جوش میں حضرت والا نے فرمایا کہ خوب ہی فرمایا :
نا خوش تو خوش بود برجان من دل فدائے یار دل رنجان من
پھر اسی معاصی کے اثر کے سلسلہ میں فرمایا کہ بعض لوگ وہ ہیں جو بظاہر خود تو اعمال صالحہ کرتے ہیں اور معاصی سے بچتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی ان لوگوں کے افعال غیر مشروع و معاصی میں بھی شریک رہتے ہیں جو خدا کے نافرمان ہیں ۔ محض اس خیال سے کہ یہ دنیا ہے اس میں رہتے ہوئے برادری کنبہ کو کیسے چھوڑا جا سکتا ہے اور یہ مقولہ زبان زد ہے کہ میاں دین سے دنیا تھامنا بھاری ہے اور بعض وہ ہیں کہ شریک تو نہیں ہوتے مگر ہوتے دیکھ کر ان منکرات کرنے والوں کے افعال سے نفرت بھی نہیں ہوتی انہیں شیر و شکر کی طرح ملے جلے رہتے ہیں ۔ یعنی روزانہ کھانے پینے میں ان سے کوئی پرہیز نہیں کرتے ۔ حاصل یہ ہے کہ اپنے کسی برتاؤ سے ان پر اظہار نفرت نہیں کرتے تو ایسے لوگوں کے اعتبار سے اس شبہ مذکورہ کا جواب یہ ہے کہ یہ شرکت یا سکوت خود معصیت ہے تو ان کا ابتلاء بھی معصیت کے سبب ہو گا اور یہ سوال نہ ہو سکے گا کہ غیر معاصی پر بھی مصائب آتے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیث شریف میں امم سابقہ کا قصہ بیان فرمایا ہے کہ جبرئیل علیہ السلام کو حکم ہوا کہ فلاں بستی کو الٹ دو عرض کیا کہ اے اللہ ! فلاں شخص اس بستی میں ایسا ہے کہ اس نے کبھی آپ کی نافرمانی نہیں کی ، حق تعالی فرماتے ہیں کہ مع اس کے الٹ دو وہ بھی ان ہی میں سے ہے اس لیے کہ ہماری نافرمانی دیکھتا تھا اور کبھی اس کے تیور میں بھی بل نہ پڑتا تھا اور اس کی مثال تو دنیا میں موجود ہے جو شخص حکومت اور سلطنت کے باغیوں سے میل رکھتا ہے یا ان کو مدد دیتا ہے وہ شخص بھی باغیوں ہی میں شمار کیا جاتا ہے ہم جس کے وفادار ہیں وفاداری اسی وقت تک ہے کہ ہم اس کے دشمنوں سے نہ ملیں ورنہ ایسے شخص کو وفادار ہی نہ کہیں گے جو دشمنوں سے ملے یہ تو اجتماع ضدین ہے دونوں کو جمع کرنا چاہتے ہیں ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
ہم خدا خواہی وہم دنیائے دوں ایں خیال ست و محال ست و جنوں
