ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فلاں بستی کا ایک شخص حج کو گیا واپسی پر وطن کے
لوگوں نے وہاں کے حالات دریافت کرنا چاہے اس پر کہا کہ خلاصہ بیان کئے دیتا ہوں وہ یہ ہے کہ خدا کسی مسلمان کو وہاں نہ لے جائے کمبخت بد نصیب نے یہ خلاصہ بیان کیا اسی سلسلہ میں حج کے متعلق ایک حکایت بیان کی کہ ایک غریب اور ایک امیر میں حج کے متعلق گفتگو ہوئی امیر صاحب چونکہ بڑی خوش عیشی سے گئے تھے ـ اور غریب بیچاروں کو ٹوٹی پھوٹی حالت میں دیکھا تھا اس کے متعلق امیر صاحب کہنے لگے کہ تم لوگ بے بلائے جاتے ہو کیونکہ تم پر حج فرض نہیں اس لئے تمھاری بے قدری ہوتی ہے اور ہم بلائے ہوئے جاتے ہیں اس لئے ہماری قدر ہوتی ہے اس غریب نے جواب دیا کہ یہ بات نہیں جو تم کہتے ہو بلکہ وجہ یہ ہے کہ تم تو مہمان ہو اس لئے تمھارے ساتھ یہ معاملہ کیا جاتا ہے اور ہم گھر کے آدمی ہیں گھر والوں کے ساتھ اسی طرح بے تکلفی کا معاملہ کیا جاتا ہے بات تو بڑے کام کی کہی ایسا کلام اہل محبت ہی کا ہو سکتا ہے وہ ہر حالت میں خوش رہتے ہیں بخلاف ٖغیر آہل محبت کے وہ ذرا ذر مصائب اور تکالیف پر چیخ پکار مچا دیتے ہیں حضرت لقمان کی حکایت ہے ان کی نبوت میں علماء کا اختلاف ہے مگر ولایت متفق علیہ ہے یہ ایک کسی رئیس کے باغ میں ملازم ہو گئے ایک روز رئیس اپنے باغ کی سیر کو گیا دیکھا کہ باغ میں ککڑی کے چھوٹے چھوٹے لگے ہوئے ہیں حضرت لقمان سے کہا کہ ایک ککڑی توڑ لاؤ توڑ لائے رئیس نے تراش کر ای ٹکڑا ان کو دیا جب آقا نے منہ میں رکھا تمام کڑوا ہو گیا آقا نے کہا کہ بندہ خدا اس قدر تلخ چیز کو جو مثل زہر کے معلوم ہوئی تو کھا گیا اور تیوری سے بھی محسوس نہ ہو سکا کہ یہ تلخ ہے حضرت لقمان نے جواب دیا کہ جس آقا کے ہاتھ سے ہزارہا قسم کی نعمتیں قسم قسم کے ذائقوں کی کھائیں ہوں اگر آج اس کے ہاتھ سے ایک تلخ کھا لی تو کیا اسپر منہ بناتا اس کو منہ پر لاتا اسی طرح خدا کے ساتھ مسلمان کا تعلق ہے اس کی یہی شان ہونا چاہیے اور صاحب اللہ کی تو بڑی شان ہے ایک آوارہ عورت سے کسی کو تعشق ہو جائے اس میں گوارہ ناگوار سب کچھ سہتا ہے اور زبان پر حرف شکایت نہیں لاتا ـ جان مال جاہ سب ہی کچھ فدا کردیتا ہے ـ یہ سب محبت کے کرشمے ہیں اسی ہی لئے کہا کرتا ہوں خصوص جدید تعلیم یافتوں کو جنکو دوسری اصطلاح میں نئی روشنی والے کہا جاتا ہے کہ تمھارے تمام اعتراضات اور شبہات کا پہاڑ محض محبت حق کے نہ ہونے کی وجہ سے تمہارے سامنے ہے محبت پیدا کرو تمام شبہات اور اعتراضات خود بخود ایک دم میں کافور ہوجائیں گے رہا محبت کے پیدا کرنے کا طریق سو وہ اہل محبت کی صحبت ہے بدون اس کے کام بننامشکل ہے اور گو ان شبہات کے ازالہ کا دوسرا طریق ہے تحقیق قالی مگر اس میں اور محبت میں جو تفاوت ہے اس کی مثال ہے کہ ایک جنگل میں بہت ہی کچھ جھاڑ جنھکاڑ کھڑے ہیں کھڑے ہیں ایک شخص ان کو صاف کر کے زراعت کرنا چاہتا ہے اب اس کے صاف کرنے کی دو ہی صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ درانتی لے کر جائے اور ایک ایک درخت خار دار کو کاٹے اس پر جو مشکلات کا سامنا ہو گا ظاہر ہے
اور پھر بھی کامیابی یقینی نہیں ممکن ہے اس صاف کرنے ہی میں اتنا وقت لگ جائے کہ زراعت کی فصل ہی ختم ہو جاوے ـ یہ حالت تو قال و قیل کی ہے اور ایک یہ صورت ہے کہ دیا سلائی لے جا کر ہوا کا رخ کھڑے ہو کر اس کو گھس کر جھاڑ کر دکھلا ئے اور گھر آکر سو رہے ہیں صبح کو دیکھے گا کہ جنگل صاف ہے بلکہ وہی جلا ہوا کھاد کا کام دیگا یہ حال آتش محبت کی ہے اس ہی لیے کرتا ہوں کہ ان شبہات اور اعتراضات سے جو قلب لبریز ہے اسمیں حضرت حق کی محبت کی آگ پیدا کرلو اور پیدا کرنے کا طریق بھی ابھی بتا چکا ہوں کہ اہل محبت کی صحبت ہے وہ دیا سلائی ان کے پاس ہے اس کے مل جانے کے بعد تم کو محض گھس کر لگا دینا ہوگا پھر اس کے سامنے کسی خس و خاشاک کا ٹھرنا مشکل ہوگا پھر تو یہ حالت ہو گی جیسے مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ـ
عشق آں شعلہ است کو چوں برفروخت ہر چہ جز معشوق باقی جملہ سوخت
(عشق وہ شعلہ ہے کہ جب یہ روشن ہوتا ہے ـ تو جز معشوق کے اور سب کو آگ دیتا ہے )
تیغ لا در قتل غیر حق براند ورنگر آخر کہ بعد لاچہ ماند
ماند الا اللہ باقی جملہ رفت مرحبا لہ عشق شرکت سوز رفت
لا کی تلوار غیر حق کو قتل کرنے کے لئے چلا اور پھرا دیکھ کہ لا کے بعد کیا رہا ( ظاہر ہے کہ الا اللہ رہ گیا ( اور یہی مقصود تھا ) عشق کو مبارک باد دیتا ہوں ـ جو شرکت غیر حق کو بالکل جلا دینے والا ہے 16 )
