( ملفوظ 12 ) قوت کی مدار حق پر ہے شخصیت پر نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بھائی اکبر علی مرحوم ایک زمانہ میں بسلسلہ ملازمت بریلی میں تھے وہاں پر ایک ڈپٹی کلکٹر مسلمان تھے ان ڈپٹی صاحب نے چند آریونکی جو ایک مناظرہ کے جلسہ میں آئے تھے اظہار بے تعصبی کی غرض سے دعوت کی شہر میں شور مچ گیا کہ ڈپٹی صاحب آریہ ہو گئے ایک شخص بھائی کے پاس آئے اور کہا کہ آج ایک بہت بڑا حادثہ پیش آ گیا بھائی نے دریافت کیا کہا کہ فلاں ڈپٹی صاحب آریہ ہوگئے بھائی نے جواب دیا کہ یہ تو کو ئی حادثہ نہیں اگر یہ صحیح ہے جو تم کہہ رہے ہو تو اس سے معلوم ہوا کہ ان کے اندر خبیث مادہ پہلے سے موجود تھا سو ایسے خبیث کا اسلام اے نکل جانا ہی اچھا ہے آپ کو کیا فکر ہوئی اور آپ کو دوسروں کی تو فکر ہے اپنے اسلام کی تو خبر لیجئے ان ک داڑھی بھی کٹی تھی اور بھائی نے یہ بھی کہا کہ تم اپنے کو مسلمان سمجھتے ہو یاد رکھو اگر بریلی میں ایک بھی حقیقی مسلمان ہوتا تو آج تمام بریلی مسلکان ہوتی اس پر وہ شخص گھبرا کر کہنے لگا کہ فلاں مولوی صاحب بھی مسلمان نہیں بھائی نے جواب دیا کہ وہ تو ایسے مسلمان ہیں کہ اگر اس وقت صحابہ میں سے کوئی آجاویں تو سب سے پہلے ان پر جہاد کریں خیر یہ تو اس شخص کو جوبدیدیا مگر فرصت کے وقت بھائی ان ڈپٹی صاحب سے ملے اور واقعہ کی حقیقت دریافت کی انہوں نے کہا کہ کیا واہیات ہے محض لغوبات ہے میں آریہ ہوگیا ویسے ہی اخلاقا اس دعوت کے قصہ کا تو البتہ مجھ سے صدور ہو گیا پھر ان ڈپٹی صاحب نے بھائی سے مشورہ کیا کہ اب مجھ کو کیا کرنا چاہیئے یہ بات تو بڑی بدنامی کا سبب بن گئی ـ یہ خبر اور مقامات میں بھی شہرت پائے گی ( مزاحا حضرت والا نے فرمایا کہ بریلی سے مشورہ سے بہت خوش ہوئے اور مولویونکی اور مجمع میں کھڑے ہو کر توبہ کی تب شہر میں اس کا چرچا بند ہوا اور مسلمانوں کو اطمنان ہوا اس واقعہ سے لوگوں کا یہ مزاق بھی معلوم ہوا کہ اسلام کی قوت کا مدار لوگوں کی شخصیتوں پر سمجھتے ہیں اسی لئے ڈپٹی صاحب کے انقلاب کی کسقدر فکر ہوئی حالانکہ اسلام کی قوت کا مدار حق پر ہے نہ کہ کسی مخلوق پر اسلام کی قوت خارج سے نہیں داخل سے ہے اور عوام کا تو یہ مذاق ہے ہی غضب تو یہ ہے کہ خواص بھی اس سے خالی نہیں چنا چہ اپنے ایک معمولی کے متعلق ایک مولوی صاحب کا مشورہ عرض کرتا ہوں وہ معمول ہے کہ میں عورت کو اور مریض کو تو سفر میں بھی مرید کر لیتا ہوں محض اس خیال سے کہ عورت اہل الرائے نہیں اور مریض قابل رحم ہے مگر تندرست کو اور مرد کو انکار کردیتا ہوں سفر ختم ہونے پر تو وطن میں آویا خط و کتابت کرواسکے متعلق ایک مولوی صاحب نے مشورہ دیا کہ انکار نہ کیا کرو سب مرید کرلیا کرو اس سے جماعت بڑھے گی میں نے کہا حق ان چیزوں کی قوت محتاج ہے کچھ معلوم بھی ہے کہ حق میں وہ قوت ہے کہ اگر ایک شخص حق پر ہو اور ساراعالم اس کا مخالف ہو تو وہ ضعیف نہیں اور اگر یہ شخص حق پر نہیں سارا عالم اس کا معتقد ہو وہ شخص ضعیف ہے اس میں کچھ بھی قوت نہیں ـ