ملفوظ 296: ملازمین کی راحت کی فکر

ملازمین کی راحت کی فکر فرمایا ! کہ جس طرح میں اپنی راحت و آرام کی فکر کرتا ہوں ایسے ہی دوسروں کی بھی پہلے بعض احباب بذریعہ ریلوے پارسل بعض اشیاء پھل وغیرہ کی قسم سے بکثرت میرے نام بھیج دیتے تھے میں نے اشتہار کے ذریعہ اطلاع کر دی کہ کوئی صاحب میرے پاس کوئی شے میوہ وغیرہ ریلوے پاوسل سے نہ بھیجیں ـ کیونکہ ملازمین وغیرہ کو اسٹیشن بھیجنے سے مجھ کو تکلیف ہوتی ہے ـ اس پر بعض احباب نے لکھا کہ ہمارا جی چاہتا ہے اب کیسے بھیجیں ـ میں نے لکھا کہ یہاں کے رہنے والوں میں سے خود کسی کو راضی کر لو ـ اس کے نام بھیجو اور اسٹیشن سے وصول کر کے مجھے یہاں پر بیٹھے ہوئے دیدے اگر یہ انتظام کر سکو اجازت ہے ـ حاصل یہ ہے کہ میں کسی کی ایذاء کا سبب نہ بنوں اس پر مجھ کو سخت مشہور کیا جاتا ہے ـ