ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت میں جب وعظ بیان کرتا ہوں تو بیان کے وقت روانی نہیں ہوتی اور یہ بات تھوڑے ہی دنوں سے پیدا ہوئی ہے اس سے پیشتر خوب روانی ہوتی تھی فرمایا کہ اگر کسی کے کلام میں روانی نہ ہو لیکن روانی نہ ہونے کا سبب خوف آخرت ہو وہ تو عین مطلوب اور ممدوح فی الحدیث ہے ـ لیکن اگر خوف آخرت بھی سبب نہ ہو بلکہ کسی اور وجہ سے ہو تو اس کے مصالح پر نظر کر کے یہ حالت بھی مغتنم و مبارک ہے کہ جیسے سبب سے مسبب کا حدوث ہوتا ہے ایسے ہی بعض اوقات مسبب سے سبب پیدا ہو جاتا ہے ـ پس توقع ہے کے اس عدم روانی سے جو کہ بعض اوقات مسبب ہوتا ہے ـ خوف آخرت سے خود سبب یعنی خوف آخرت بھی پیدا ہو جائے ـ جیسا کہ حسیات میں بھی بعض اوقات ایسا ہو جاتا ہے جیسا کہ کھانا مسبب اور رغبت اس کا سبب ہے لیکن بچے کا جب دودھ چھڑایا جاتا ہے تو غذا اس واسطے دیتے ہیں تاکہ اس سے اس کا سبب یعنی رغبت پیدا ہو جائے ـ
