( ملفوظ 529)دوسروں کو تکنا یعنی لگاتار دیکھنا مناسب نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کسی کو تکنا اچھا نہیں معلوم ہوتا اس لئے طبعا ناگواری ہوتی ہے مزاحا فرمایا کہ پھر وہ ناگ وار ( سانپ کے مشابہ ) ہو جاتا ہے دوسرے اس میں تجسس کی سی صورت معلوم ہوتی ہے دوسرے کے راز پر مطلع ہونا اس میں لوگ بد احتیاطی سے کام لیتے ہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے برا ہے ۔

( ملفوظ 528) مؤاخذہ کے درمیان ہدیہ دینا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب سے کچھ غلطی ہو گئی تھی ، ابھی ان سے اس کے متعلق خط و کتابت ہی ہو رہی تھی معاملہ صاف نہ ہوا تھا کہ ایک رقم آپ نے بطور ہدیہ بھیجی میں نے روپیہ واپس کر کے لکھ دیا کہ میں کوئی رشوت کھاتا ہوں پھر لکھا ہوا آیا کہ میں نے محبت کی وجہ سے بطور ہدیہ بھیجا تھا ، رشوت کی نیت سے نہ بھیجا تھا ، میں نے لکھا کہ بطور ہدیہ ہی سہی مگر بے موقع بھیجا اس لئے مشابہ رشوت کے ہو گیا وہ روپیہ وصول نہ کیا اس لئے کہ اصول کے خلاف تھا آج تک گئے مصلح کو ضرورت ہے ہر چہار طرف نظر رکھنے کی یہ باتیں تجربات سے تعلق رکھتی ہیں ۔

( ملفوظ 527) آرام کرسی کا استعمال

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں جو مدرسہ میں ایک آرام کرسی کے متعلق تھا فرمایا کہ جی ہاں یہ آرام کرسی رکھی تھی اس لئے کہ کبھی اس پر لیٹ جایا کروں گا تو نیند آ جایا کرے گی مگر کتابیں جو یہاں قریب ہی رکھی ہیں ہمت نہیں ہوتی آرام کرسی پر لیٹنے کی بے ادبی معلوم ہوتی ہے اب یہ ویسے ہی رکھی ہوئی ہے ۔
4 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دو شنبہ

( ملفوظ 526)ترک بہادر ہیں مگر غافل

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ قیصر کہا کرتا تھا کہ افسر تو جرمنی ہوں اور لڑنے والے ترک ہوں تو ساری دنیا فتح کرسکتے ہیں وجہ یہ بیان کیا کرتا تھا کہ ترک بہادر ہیں مگر غافل ہیں اور جرمنی اتنے بہادر نہیں مگر بیدار ہیں ۔

( ملفوظ 525)بیدار مغز ، خود تکلیف میں رہتا ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ تجربہ کی بات ہے کہ جو آدمی بیدار مغز ہوتا ہے وہ خود تکلیف میں رہتا ہے مگر دوسروں کو اس سے راحت پہنچتی ہے اور غفلت میں رہنے والا آدمی خود آرام میں رہتا ہے اور اس سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہے ۔

( ملفوظ 523 ) اختیاری مصائب میں سے اکثرت غفلت کی پیداوار ہوتے ہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ سماوی مصائب جو انسان پر آتی ہیں یہ تو غیر اختیاری ہیں اور ارضی جس قدر مضرتیں ہوتی ہیں یہ اکثر اپنی غفلت کے سبب سے حتی کہ زوال سلطنت بھی غفلت ہی سے مسسب ہے ۔

( ملفوظ 523) نورفہم تقوی سے پیدا ہوتا ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ نورفہم تقوی سے پیدا ہوتا ہے گو زیادہ لکھا پڑھا نہ ہو ایک مرتبہ حضرت مولانا گنگوہی رحمہ اللہ پاؤں دبوا رہے تھے ۔ ایک گاؤں کا شخص آیا اس نے کہا کہ مولوی جی بڑا جی خوش ہوتا ہو گا کہ ہم پیر دبوا رہے ہیں فرمایا کہ راحت کی وجہ سے تو خوشی ہے مگر بڑے ہونے کی وجہ سے خوشی نہیں ہوتی تو وہ گاؤں والا کیا کہتا ہے کہ مولوی جی پاؤں دبوانا تمہیں جائز ہے کیا ٹھکانا ہے اس گاؤں والے کی کہاں نظر پہنچی ہے یہ دین کی برکت ہے ۔ یہ تقوی اور دین بھی عجیب برکت کی چیز ہے اس سے نورفہم پیدا ہوتا ہے لکھے پڑھے ہونے کی اس میں قید نہیں کہ کرامات الاولیاء ایک کتاب ہے مصر کی چھپی ہوئی اس میں ایک بزرگ شیخ قرشی کی حکایت لکھی ہے کہ وہ بزرگ مجذوم تھے ان کی شادی نہ ہوئی تھی مرید ہی خدمت کیا کرتے تھے سچے مریدوں کو عجیب تعلق ہوتا ہے ایک دن ان بزرگ نے نکاح کی خواہش ظاہر کی ایک مرید فورا اٹھے ان کی لڑکی جوان تھی گھر پہنچے اور جا کر ظاہر کیا کہ ایسی بات ہے حضرت شیخ نے یہ خواہش ظاہر کی ہے لڑکی نے کہا کہ میں موجود ہوں باپ نے کہا کہ وہ مرض جذام میں مبتلا ہیں لڑکی نے کہا کہ کوئی حرج نہیں میں تو خدمت کروں گی مرید نے جا کر قصہ بیان کیا کہ میری لڑکی ہے وہ آپ سے نکاح کرنے پر آمادہ ہے بزرگ نے فرمایا کہ اس سے میری حالت بھی ظاہر کر دی عرض کیا کہ اس نے اسی حالت میں آمادگی کا اظہار کیا ہے فرمایا بہت اچھا غرض نکاح ہو گیا شب کو وہ لڑکی کیا دیکھتی ہے کہ ایک شخص آ رہے ہیں کشیدہ قامت بڑی بڑی آنکھیں پتلے پتلے ہونٹ نہایت تندرست جوان حسین و جمیل اس کے پاس چلے آ رہے ہیں فورا گھونگھٹ کر لیا اور رخ پھیر کر کہا اے شخص تم کون ہو غیر محرم جو اس بیباکی سے میرے پاس چلے آئے انہوں نے کہا کہ میں تیرا خاوند ہوں جس سے نکاح ہوا ہے لڑکی نے کہا کہ وہ تو بیمار اور ضعیف ہیں بزرگ نے فرمایا کہ میں نے تیرے خلوص اور دین و صبر کی وجہ سے اللہ تعالی سے دعا کی تھی کہ اس کی برکت سے حق تعالی نے مجھ کو اس تصرف کی قوت عطا فرما دی میں اب تیرے پاس جب آؤں گا اسی حلیہ سے آؤں گا لڑکی نے کہا کہ میں نے جو آپ کی خدمت قبول کی تھی وہ حظ نفس کے واسطے نہیں کی تھی محض اللہ کے واسطے کی تھی اس صورت میرا حظ نفس شامل ہو جائے گا اگر تم اسی حالت میں آؤ جو تمہاری اصلی حالت ہے تو میں خدمت کے لئے حاضر ہوں اور اگر اس ہیئت سے آپ آئیں تو مجھ کو آزاد فرما دیجئےمیں اپنا اور انتظام کر لوں گی یہ ہے خلوص آج کل بڑے بڑے مقتداؤں میں بھی یہ باتیں نہیں یہ سب تقوی کی برکت ہے ۔

( ملفوظ 522) مال سے محبت ہونا طبع امر ہے

ایک سلسہ گفتگو میں فرمایا کہ مال سے محبت ہونا طبعی بات ہے شیخ احمد دحلان نے فتوحات اسلامیہ میں لکھا ہے کہ حضرت عمرفاروق کے سامنے بعد فتح فارس جب خزائن لائے گئے تو انہوں نے جناب باری میں عرض کیا کہ اہے اللہ ہم کو اس کی تو دعا نہیں کرتے کہ اس کی محبت ہمارے دل سے نکل جائے کیونکہ یہ تو آپ کی پیدا کی ہوئی ہے ۔
کما قال تعالی زین للناس حب الشھوات الخ
ہاں اس کی دعا ہے کہ اس مال کی محبت آپ کی محبت میں معین ہو اور اس کا معیار یہ ہے کہ اگر ایسا کوئی موقع ہو کہ مال خرچ کرنے میں اللہ و رسول کی مرضی حاصل ہوتی ہو اور صرف نہ کیا جائے تو یہ محبت خود ذات مال سے ہے اور ناپسندیدہ ہے اور اگر صرف کیا جائے تو اس کو ذات مال کی محبت نہ کہیں گے ۔

( ملفوظ 521) انتظام پر اعتراض کرنے والے لوگ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہاں کے انتظام پر اعتراض کرنے والے اپنے نزدیک متمدن ہیں اور ہم ان کے نزدیک متبدن ہیں اشارہ ہے کہ فربہی اکثر علامت ہے عبادت کی چنانچہ ہم اگر کوئی انتظام کریں اس سے لوگ ناخوش ہوتے ہیں اس کو سختی پر محمول کرتے ہیں عدالتوں میں ان لوگوں کو رات دن سابقہ پڑتا ہے مگر اسی قسم کے قیود سے ان پر اعتراض نہیں کرتے آخر فرق کیا ہے کچھ بھی نہیں ، بجز اس کے وہ گورے چمڑے والوں کی مقرر کردہ قیود اور یہ کالے چمڑے والوں کی بس گورے چمڑے والوں کی وقعت ہے ہندوستان کا نام رکھا ہے کالا آدمی۔

( ملفوظ 520)زائد سفید کاغذ کو احتیاط سے رکھنا

فرمایا کہ ایک خط میں جو واپسی کا نہیں تھوڑا سا سادہ کاغذ ہے جی نہیں چاہتا کہ اس کو ردی میں ڈال دیا جائے دو تین تعویذوں ہی کے کام آ جائے گا اور جو خط واپسی کا ہوتا ہے اس کا زائد کاغذ واپس کر دیا جاتا ہے ۔