ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ دو چیزوں کی حفاظت کی بڑی ضرورت ہے ایک قلب اور ایک دماغ کی ۔
( ملفوظ 538)آخرت میں وزن اعمال کی نظیر
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت بجلی کے وزن کا اندازہ ایک خاص قسم کی گھڑی سے ہو جاتا ہے کہ اس قدر مہینہ بھر میں جلی فرمایا کہ آخرت میں اعمال کے وزن پر لوگ شبہ کرتے ہیں یہاں بجلی کا وزن ہوتا ہے تھرمامیٹر سے وزن حرارت کا ہوتا ہے اس پر شبہ نہیں کرتے اور یہ جواب تو ان کی خاطر سے دے دیا ہے ورنہ وہاں تو اعمال کا وزن ہونا منصوص ہے ترازو ہو گی ڈنڈی ہو گی پلڑے ہوں گے وہ جھکیں گے اعمال کا وزن ہو گا ان لوگوں کے سمجھانے کے واسطے میں نے یہ جواب دیا ہے ورنہ نصوص کے ہوتے ہوئے اس جواب کی ضرورت نہ تھی افسوس ہم کو ایسے لوگوں سے سابقہ پڑا ہے جو محض جاہل ہیں اس لئے ایسے جوابات کی نوبت آئی البتہ اعمال کے وزن ہونے میں تو شبہ اس وقت ہو سکتا تھا جبکہ وہ جواہر نہ ہوں ہم تو کہتے ہیں کہ وہاں وہ جواہر ہوں گے اور جب جواہر ہوں گے تو ان کا وزن ہو جائے گا حقیقت تو یہ ہے کہ ایسے جاہلوں کا جواب اصل وہی ہے جو میں نے ایک صاحب کو علی گڑھ میں دیا تھا انہوں نے مجھ سے سوال کیا تھا یہ جو آیا ہے کہ زنا سے طاعون ہوتا ہے فعل اور جزا میں ربط کیا ہے میں نے کہا کہ اگر ربط معلوم نہ ہو تو ضرر کیا ہے بس یہ جواب کافی ہے ۔ جاہلوں کے لئے اگر جہل نہ ہو تو یہ سوال ہی پیدا نہ ہوتا ، ضبیع ایک شخص تھا شام میں وہ متشابہات قرآنیہ میں گفتگو کہا کرتا تھا اس کی اطلاع حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ہوئی آپ نے حکم فرمایا کہ گرفتار کر کے ہمارے پاس بھیج دو گرفتار کر کے بھیج دیا گیا ، آپ نے ستون سے بندھوا کر حکم دیا کہ اس کے دماغ پر درے لگاؤ ، لگنا تھا کہ چیخ اٹھا کہ حضرت میں توبہ کرتا ہوں کبھی قرآن کے ساتھ ایسا معاملہ نہ کروں گا تمام شیاطین دماغ سے نکل گئے ۔ یہ ساری برکت نعل دار جوتے کی ہے ، حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے نعل دار جوتہ کا نام روشن دماغ رکھا تھا واقعی روشن دماغ ہی ہے اسی واسطے حکومت کی ضرورت ہے بریلی کے ایک شخص یہاں پر رہتے تھے ذکر و شغل کرتے تھے اور کبھی کبھی وساوس کی شکایت بھی کرتے تھے میں ان کی تسلی کر دیتا تھا بس ایک روز جوش میں بھرے ہوئے آئے اور کہنے لگے کہ اب تو جی میں آتا ہے کہ میں عیسائی ہو جاؤں میں نے ایک دھول رسید کیا اور کہا نالائق اسی وقت عیسائی ہو جا ۔ اسلام کو ایسے ننگ اسلام کی ضرورت نہیں اسلام بے نیاز ہے ، ایسے نالائقوں اور بدفہموں سے اس کے بعد ان کو کبھی قسم کا وسوسہ پیدا نہیں ہوا یہ دھول کی برکت تھی کہ سب دھول جھڑ گئی یہاں ایک اور ذاکر تھے ان کو ذکر کرتے وقت جوش اٹھتا تھا اس میں اٹھ کر بھاگتے بہت ہی قوی آدمی تھے لوگوں کو خوف ہوتا کہ کہیں کسی پر حملہ نہ کریں لوگوں نے مجھ سے کہا کہ آج رات کو میں یہیں رہوں گا غرض اس روز میں خانقاہ میں رہا اور ان سے کہا کہ میرے ساتھ کھڑے ہو کر تہجد پڑھو اور ذکر شروع کرو ، تہجد پڑھ کر ذکر شروع کیا تو جوش اٹھا اور ایک طرف کو بھاگے میں نے زور سے ایک دھول رسید کی کہ کہاں جاتا ہے فورا بیٹھ گئے ، پھر کبھی ذکر میں ان کو جوش نہیں اٹھا ، بہت عرصہ کے بعد کلکتہ میں ملے تھے کہتے تھے کہ پھر کبھی مجھ کو ذکر میں جوش نہیں اٹھا ، پھر اٹھ کر بھاگنے کے متعلق فرمایا وجد و جوش حقیقت میں مذموم نہیں مگر کمال بھی نہیں ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ اور مشائخ کے یہاں تو ذکر کر کے جوش کو اچھا سمجھتے ہیں ، فرمایا کہ آپ بھی عجیب عقلمند ہیں کیا میری تقریر آپ نے سنی نہیں میں تو پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ مذموم نہیں پھر اس کہنے کی کون سی ضرورت باقی رہی کہ اور مشائخ اچھا سمجھتے ہیں ، میں نے ہی برا کب بتلایا ہے ، یہ کہا ہے کہ کمال بھی نہیں اگر آدمی کو بولنا نہ آئے تو کیوں بولے خاموش رہے خواہ مخواہ پریشان کیا ، اچھے برے ہونے پر گفتگو نہیں ہے گفتگو اس میں ہے کہ کمال بھی ہے یا نہیں سو کمال نہیں بلکہ یہ ضعف قلب کی دلیل ہے کہ آدمی بے اختیار ہو جائے سو اس قدر مغلوب ہو جانا یہ ضعف قلب سے پیدا ہوتا ہے اگر یہ کمال ہوتا تو انبیاء علیہم السلام کو سب سے زیادہ مغلوب ہو جانا چاہیے تھا مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ از جا رفتہ ہو گئے ہوں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حالت کمال کے خلاف ہے ہاں گریہ جاری ہو جانا یہ نقص نہیں ۔ گریہ کے مضمون پر ایک صاحب نے شیعوں کی مجالس کا ذکر کیا کہ وہ رونے ہی کو ذریعہ نجات سمجھتے ہیں اور اس کے لئے سامان مہیا کرتے ہیں فرمایا کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ وہ رنج ہی کیا ہوا جو اتنے سامان کے بعد رونا آئے ۔
( ملفوظ 537) حضرت حاجی صاحب کی سادگی کا حال ایک اہل علم کی زبانی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولانا محمد حسین صاحب الہ آبادی سے کسی نے پوچھا تھا کہ آپ نے حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ میں کیا دیکھا جس کی وجہ سے ایسا خادمانہ تعلق کر لیا فرمایا اسی سے تو تعلق کیا کہ وہاں کچھ نہیں دیکھا مطلب یہ تھا کہ کوئی تصنع کی بات نہیں دیکھی تھی خوب ہی جواب دیا واقعی بات تو یہ ہے کہ اپنے بزرگوں میں ایسی باتوں کا نام و نشان نہ تھا بہت ہی سادہ وضع اور متبع سنت تھے دوسروں کی طرح کسی قسم کا ڈھونگ نہ تھا پس یہی طرز ہے قابل پسند ۔
( ملفوظ 536) طبعا جھوٹے کھانے کی رغبت نہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ میری طبعی غیر اختیاری بات ہے کہ میں کسی کے سامنے کا کھانا بچا ہوا نہیں کھا سکتا ہاں ساتھ کھا لیتا ہوں حتی کہ اپنے بزرگوں کو جھوٹا بھی کبھی نہیں کھایا اور کچھ فرض و واجب بھی نہیں ۔
( ملفوظ 535)محبت کا مادہ ہے تعظیم کا نہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ محبت کا مادہ تو ہے میرے اندر مگر تعظیم کا مادہ نہیں زیادہ چاپلوسی کرتے ہوئے ذلت معلوم ہوتی ہے ۔
5 ذی الحجہ 1350 ھ ۔ مجلس بعد نماز ظہر یوم سہ شنبہ
( ملفوظ 533 ) حدیث کا ترجمہ یاد کر لینا کافی نہیں
ایک س نہیں چھوڑا کس کا قانون ہے مگر فہم کی ضرورت ہے ورنہ محض الفاظ کا یاد کرنا کافی نہیں ایک حکایت فرمائی کہ ایک شخص میرے پاس آیا تھا اور شہوت نفس کے غلبہ کی شکایت کی کہ بدکاری کی طرف میلان کرتا ہے اور نکاح کی وسعت نہیں ایک غیر مقلد صاحب یہاں پر ٹھرے ہوئے تھے اتفاق سے اس وقت وہ میرے پاس بیٹھے تھے میں ابھی کچھ نہ بولاتھا کہ وہ غیر مقلد صاحب بول پڑے کہ روزے رکھا کرو اس نے کہا کہ میں روزے بھی رکھ چکا ہوں کچھ اثر نہیں ہوا ان لوگوں کو حدیث دانی میں بڑا دعوی ہے مگر اس کہنے پر میاں کا ذخیرہ سب ختم ہوا آگے کوئی جواب نہ تھا ان کو صرف اتنا یاد تھا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ نکاح کی وسعت نہ ہو اور شہوت کا غلبہ ہو تو روزہ رکھا کرو آگے فہم کی ضرورت تھی میں نے اس سے کہا کہ بھائی کثرت سے روزے رکھو تم نے کم رکھے ہوں گے اس نے اقرار کیا کہ جی ہاں کم رکھے ہیں میں نے کہا کہ اس پر حدیث ہی میں دلالت ہے ارشاد ہے ۔
فعلیہ بالصوم اور علیہ ہے لزوم کے واسطے اور عادۃ لزوم ہوتا ہے تکرار سے اس طرح کثرت کی قید حدیث میں مذکور ہے تو محض الفاظ حدیث پڑھ لینے سے کیا ہوتا ہے جب تک فہم نہ ہو ۔ لسلہ گفتگو میں فرمایا کہ شریعت مقدسہ کی اس قدر پاکیزہ تعلیم ہے اور اس قدر حاوی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی بات میں بھی ہمیں کسی کا محتاج
( ملفوظ 532 )پانچ مخفی فن
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ منجملہ اسرار کے پانچ فن ہیں کیمیا ، لیمیا ، ہیمیا ، سیمیا ، ریمیا اس وقت یاد نہیں کہ ان میں سے وہ کون سا فن ہے کہ جس سے روح کے منتقل کرنے کا تصرف حاصل ہو جاتا ہے پہلے مجھ کو ان کا نام یاد نہیں رہتا تھا تب میں نے ہر ایک کا اول کا حرف لے کر ایک مجموعہ بنایا کہ کلہ سر اور مجموعہ بھی موضوع ہے کیونکہ یہ سب علوم مخفی ہیں اس میں یہ بھی لطیفہ ہے ۔
( ملفوظ 532)موت کا مراقبہ بقدر بضرورت ہے
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اگر کبھی کبھی موت کا مراقبہ کیا جائے تو کیسا ہے فرمایا کہ ضرورت کے وقت ورنہ اصل چیز تو اللہ ہی کی یاد ہے اس ہی کے لئے موت کا مراقبہ بھی تجویز کیا جاتا ہے حاصل یہ ہے کہ موانع ذکر مرتفع کرنے کے واسطے موت کا مراقبہ کرایا جاتا ہے اگر وہ موانع ہوں تو اب ضرورت ہے کہ موت کا مراقبہ کرے اور اگر موانع نہیں تو اللہ کی یاد میں مشغول رہے اور موت کا مراقبہ بھی غلو کے ساتھ نہیں بقدر ضرورت کافی ہے جیسے طاعون کے زمانہ میں سب کام کرتے ہیں مگر دل دنیا سے اکھڑ جاتا ہے دل برداشتہ ہو جاتے ہیں بس اتنا استحضار کافی ہے ۔
( ملفوظ 531)مسلمان جمع غائب کرتے ہیں اور ہندو جمع حاضر رکھتے ہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مسلمانوں کو تو جمع غائب کا صیغہ یاد ہے یعنی جو جمع آئی غائب کر دی اور ہندوؤں کے یہاں جمع حاضر کا یہ جو کچھ جمع کر لیتے ہیں اس میں سے پھر صرف نہیں کرتے ایک صاحب نے ایک مہاجن کی حکایت بیان کی جس کو میں مہاجن بکسرالجیم کہا کرتا ہوں یعنی بڑا جن کو وہ بیمار ہوا علاج نہ کرتا تھا بے حد مالدار تھا لوگوں نے بمشکل علاج پر آمادہ کیا کہ اچھا تخمینہ کراؤ علاج میں کس قدر صرف ہو گا طبیب کو بلایا گیا نبض دکھلائی نسخہ لکھا طبیب نے انداز سے بتلایا کہ ایسا مرض ہے اس میں اس قسم کی دوائیں استعمال ہوں گی اور اتنے زمانہ تک غرض یہ کہ ایک مجموعی مقدار تخمینہ بتلا دی کہ یہ صرف ہو گا تو وہ کہتا ہے کہ اب یہ دیکھو کہ مرنے میں کیا صرف ہو گا حساب لگایا تو مرنے میں علاج سے کچھ کم صرف بیٹھا اس نے کہا کہ جس میں کم صرف ہو وہی کام ٹھیک ہے لہذا مرنا ہی بہتر ہے کیا ٹھکانا ہے ۔ انتہائی حکایت ہے اور چاہے حکایت صحیح ہو یا غلط اصول تو ان کے قریب قریب ایسے ہی ہیں ۔
( ملفوظ 530)خط کے ذریعہ قربانی کی وکالت
فرمایا کہ ایک خط آیا ہے لکھا ہے کہ میں قربانی کرنا چاہتا ہوں اس کی تفصیل لکھی ہے کہ ایک تو حق تعالی کی خوشنودی کے لئے اور ایک حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے اور ایک آپ کی طرف سے فرمایا کہ تشخیص کا عنوان اچھا نہیں ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ پار سال جو ہم نے قربانی کے لئے بکرے خریدے تھے یہاں پر تو چار روپیہ میں آئے تھے اس حساب سے تین بکروں کی قیمت بارہ روپیہ ہوئی ایک روپیہ احتیاط کا تیرہ تیرہ روپیہ بھیجتا ہوں اگر اجازت ہو ( جواب ) بکرے بکری کی قیمت بدلتی رہتی ہے کیا خبر کتنے میں آئیں اس پر فرمایا کہ میں اپنی قربانی خود کروں گا کیا معلوم ہے اس وقت لکھ رہے ہیں نیت بدل جائے یا خط ہی نہ پہنچے یا اور کوئی گڑبڑ ہو جائے ایک صاحب نے عرض کیا کہ کیا خط کے ذریعہ سے بھی وکالت ہو سکتی ہے فرمایا ہو سکتی ہے ۔

You must be logged in to post a comment.