ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ مسلمانوں کی سمجھ میں اگر اور بھی کچھ نہیں آتا مگر دوسری قوموں کی ان سے عداوت یہ تو کھلم کھلا نظر آ رہی ہے مگر یہ جان کر بھی دھوکے میں آ جاتے ہیں اور اس سے بھی بڑا سبب مسلمانوں کے نقصان کا یہ ہے ان میں نظم نہیں ۔
( ملفوظ 389 )انگریز اپنے مطلب کے ہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب کہتے تھے اہل یورپ میں علاوہ کفر کے اور سب خوبیاں ہیں ، میں نے کہا کہ ایک خوبی تو میں بھی بیان کرتا ہوں وہ یہ کہ کسی پر شفقت نہیں سوائے اپنے مطلب کے اس پر خاموش ہو گئے کوئی جواب نہیں دیا ۔
( ملفوظ 386 ) حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کا انتظام
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کو بھی لوگ بدنام کرتے تھے کہ خشکی ہے حالانکہ یہ بالکل غلط ہے حضرت کے یہاں انتظام تھا اس کو نخوت سے تعبیر کیا ۔
( ملفوظ 387 ) ہمیں سیدھا سادہ طرز پسند ہے
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر لوگ آ کر سیدھی اور سچی بات کہہ دیا کریں تو کوئی بھی جھگڑا نہ ہو ، گنوار بھی تو شہریوں والی باتیں آ کر بگھارتے ہیں اس میں کھنڈت پڑتی ہے ہم تو دیہاتی آدمی ہیں ہم کو تو وہی سیدھا سادھ طرز پسند ہے ، بات وہ ہونی چاہیے جس میں دوسرے کو اذیت نہ ہو تکلیف نہ ہو الٹی پلٹی بات سے دوسرے کو تکلیف ہوتی ہے خدا ناس کرے اس رسم و رواج کا جس نے معاشرت ہی بدل دی ۔ ان بیہودہ باتوں میں نہ راحت ہے نہ اطمینان نہ سکون سوائے اذیت اور کلفت کے کچھ بھی نہیں ۔
21 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم چہار شنبہ
( ملفوظ 384 )لڑکیوں کی دینی تعلیم ضروری ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل لڑکیوں کو کچھ نہیں پڑھاتے بالکل جاہل رکھتے ہیں یہ برا ہے کم از کم قرآن شریف اور دینیات کے چند رسالے جس سے نماز روزہ اور ضروری معاملات کے احکام سے بخوبی واقفیت ہو جائے پڑھا دینا چاہیے ۔
( ملفوظ 385 ) خانقاہ میں حضرت مولانا یعقوب کا تہجد کیلئے اٹھنا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے زمانہ میں جب سب حضرات یہاں حاضر ہوتے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب جو ذرا نازک تھے جب شب میں اٹھتے تو حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے کہ ابھی نہیں لیٹے رہو جب وقت ہو گا ہم خود جگا دیں گے ۔ یہ شفقت ہے شیخ کی مطلب یہ تھا کہ کام وہ کرنا چاہیے جس میں مداومت ہو سکے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس طریق میں رہبر کامل کی سخت ضرورت ہے ۔ اسی کو مولانا فرماتے ہیں :
قال را بگذار و مرد حال شو پیش مردے کاملے پامال شو
( ملفوظ 383 )اپنی اصلاح مقدم ہے
ایک صاحب کی غلطی پر تنبیہ فرماتے ہوئے حاضرین سے فرمایا کہ آدمی دوسروں کی وجہ سے اپنے دین کو خطرہ میں کیوں ڈالے ، اپنی اصلاح مقدم ہے اپنی تو کچھ فکر نہیں ، دوسروں کی فکر ہے یہ بھی آج کل مرض عام ہو گیا ہے اور ان کی نسبت یہ بھی فرمایا کہ ان سے کچھ مناسبت نہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر ذوق نہیں حالانکہ انہوں نے مجھ سے اس وقت تک کوئی بات نہیں کی تھی مگر مجھ کو ان کے بشرے سے معلوم ہوتا تھا کہ ذوق کی کمی ہے ۔ آخر بات چیت کرنے سے وہی بات ثابت ہوئی ۔
( ملفوظ 384 )کپڑا گھٹیا پہنے ، کھانا بڑھیا کھائے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کپڑا تو گھٹیا پہننا چاہیے کہ مقصود اس سے بھی حاصل ہے مگر کھانا اگر خدا دے تو اچھا کھانا چاہیے کیونکہ نہ کھانے سے مضمحل ہو جائے گا اور لوگ اس کا عکس کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کھانے کو کس نے دیکھا ہے پہننے کو سب دیکھتے ہیں یہ بھی ایک مرض ہے جس کا تعلق جاہ سے ہے اور مزاحا فرمایا کہ کھانے کا تعلق باہ سے ہے ۔
19 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دو شنبہ
( ملفوظ 381 )بندر بھبکی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ انگریز نے تاریخ لکھی ہے بھائی اکبر علی مرحوم بیان کرتے تھے اس نے ایک خود غرض قوم کے بارے میں یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اور چمار ایک دادا کی اولاد ہے ان کی حرکات بھی چماروں سے کم نہیں نہایت کم حوصلہ اور بزدل قوم ہے اب ان تحریکات کی بدولت بہادری کا دعوی ان کے اندر پیدا ہو گیا ہے مگر پھر بھی بندر بھبکی سے زیادہ نہیں جہاں کہیں خانہ جنگی ہوئی ہے میدان میں ان کو کہیں فتح نصیب نہیں ہوئی ۔ یہ دوسری بات ہے کہ کوٹھے پر چڑھ کر اینٹیں برسا دیں یا جہاں کہیں سارے گاؤں میں دو چار گھر مسلمانوں کے ہوئے وہاں پر سارے گاؤں نے مل کر مسلمانوں کو نقصان پہنچا دیا ۔
( ملفوظ 382 )ایک عالم کی ذہانت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولوی فیض الحسن صاحب کی ایک عجیب حکایت ہے ذہانت کی اس سے پہلے کبھی ایسی حکایت کسی عالم کی سننے میں نہیں آئی ۔ جب لاہور تشریف رکھتے تھے اس زمانہ میں ایک خربوزہ والے کی دکان سے چار آنے کے خربوزے خرید کر گھر لائے ان کو تراش کر دیکھا تو سب پھیکے ، واپس لے کر دکان پر پہنچے کے بھائی یہ تو سب پھکیے ہیں ۔ اس دکاندار نے کہا کہ مولانا صاحب اب میرے یہ کس کام کے ہیں آپ نے سب کو تراش ڈالا ، اب ان کو کوئی خرید نہیں سکتا ، کہا کہ اچھا بھائی یہ کہہ کر اس کی دکان کے قریب چادر بچھائی اور اس پر خربوزے رکھ کر بیٹھ گئے ، اب جو خریدار اس کی دکان پر آتا ہے اس سے کہتے ہیں کہ میاں خربوزے تو خریدو ہی گے مگر پہلے نمونہ چکھ لو اب کوئی نہیں خریدتا ، اس دکاندار نے کہا کہ مولانا اپنے چار آنے پیسے لے لو اور مجھ کو معاف کرو ، بس چار آنہ واپس لے کر گھر آ گئے ، غضب کی ذہانت کی حکایت ہے ۔ میں تو کہا کرتا ہوں کہ اگر درسی کتابیں کوئی سمجھ کر پڑھ لے تو وہ سب کام کر سکتا ہے حتی کہ سلطنت بھی اگر ہاتھ میں آ جائے تو اس کو بھی اوروں سے اچھی طرح پر انجام دے سکتا ہے اور ایک چیز درسی کتابوں سے بھی بڑھ کر ہے یعنی صحبت دیکھئے صحابہ کرام نے کون سا تمدن سیکھا تھا محض حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت کی برکت تھی قیصر اور کسری ان کا لوہا مان گئے ۔ ایک ادنی سا کمال ان حضرات کا یہ ہے کہ اس وقت نقشے نہ تھے قبلہ نما نہ تھا ریاضی کے آلات نہ تھے وہ خود ریاضی کے قواعد نہ جانتے تھے اس پر دور دراز ممالک مفتوحہ میں جو مساجد بنائی گئی ہیں سب کا سمت قبلہ نہایت صحیح اسی طرح آج کل کے تمدن والے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے تمدن کا لوہا مانے ہوئے ہیں ۔

You must be logged in to post a comment.