( ملفوظ 401 ) مبادی اور انفعالات مراد نہیں

ایک مولوی صاحب کے اس سوال کے جواب میں کہ جب اللہ تعالی بندوں کو معذب دیکھیں گے کیا ان کو رحم نہ آئے گا جبکہ ہم کو رحم آ جاتا ہے ؟ فرمایا کہ رحیم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اپنے بندوں کے ساتھ اپنے ارادہ سے لطف کا معاملہ کرتے ہیں یہ نہیں کہ وہ مخلوق کی طرح کسی کی تکلیف دیکھ کر متاثر ہوتے ہیں اسی لیے علماء نے کہا ہے کہ ان صفات میں افعال مراد ہیں نہ کہ مبادی ۔ بس وہاں انفعالات نہیں محض افعال ہیں معترض نے اپنے اوپر قیاس کر لیا ، یہ درسیات تمام شبہات کے لیے بالکل کافی ہیں اگر سمجھ کر پڑھ لے سب ظلمات و شبہات دور ہو جائیں ۔ چنانچہ مبادی کا مراد نہ ہونا افعال کا مراد ہونا صریح الفاظ میں کتابوں میں موجود ہے مگر سمجھ کر نہیں پڑھتے ۔

( ملفوظ 398 ) حضرت شیخ الہند

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ سبحان اللہ حضرت مولانا دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کی عالی حوصلگی قابل دید ہے کہ میرا مسلک جو حضرت مولانا کے مسلک سے ظاہرا مختلف تھا ڈھکا چھپا نہ تھا مگر حضرت ذرہ بھی دل گیر نہ ہوئے ، بڑے اور چھوٹوں میں یہ فرق ہوتا ہے ۔

( ملفوظ 399 )حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا 63 اونٹ ذبح فرمانا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا حضور صلی اللہ علیہ و سلم میں قوت بدنیہ بھی اس قدر تھی کہ حجۃ الوداع میں تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے ذبح کیے ، اونٹ کا ذبح کرنا کوئی آسان بات نہیں ، کل سو اونٹ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی ملک سے قربانی کیے تھے اب تو کسی کو یوں کہنے کا حق نہیں رہا کہ ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و سلم ( نعوذ باللہ ) مفلس تھے ۔ دکھائے تو کوئی کسی تاریخ میں کہ کسی بادشاہ نے سو اونٹ اپنی ملک سے قربانی کیے ہوں اور اس بادشاہی شان کے ساتھ محبوبیت کی شان یہ ظاہر ہوئی کہ ذبح کے وقت ہر اونٹ کی یہ حالت تھی کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف بڑھتا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم پہلے مجھ کو ذبح کریں بس یہ حالت تھی :
ہمہ آ ہوان صحرا سر خود نہادہ برکف بامید آنکہ روزے بشکار خواہی آمد

( ملفوظ 396 )لوگوں کے ناراض ہونے کی وجہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ زیادہ وجہ لوگوں کی مجھ سے ناراض ہونے کی یہ بھی ہے کہ میں سچی اور اصولی بات کہتا ہوں اس میں افراط تفریط نہیں ہوتی ، وہ لوگوں کو پسند نہیں آتی اس پر خفا ہوتے ہیں مزاحا فرمایا کہ یہ اس لیے کہ وہ بات صاف ہوتی ہے اس میں خفا نہیں ہوتا ۔

( ملفوظ 397 )مدرسہ کی سرپرستی سے انکار اور شرائط

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس زمانہ میں ایک دم ایسی کایا پلٹ گئی ہے کہ جس کا وہم و گمان بھی نہ تھا کہ کبھی ایسا وقت بھی آئے گا فلاں مدرسہ کے ارکان اور مجلس شوری سے گفتگو ہوئی ۔ اس سے معلوم ہوتا تھا کہ اپنے بزرگوں کے مسلک اور مشرب کی ان کو ہوا تک نہیں لگی ۔ ایک بیہودہ تحریر پر جس سے ایک رکن صاحب نے مجھ کو خطاب کیا تھا یہ سب گڑبڑ ہوئی ۔ آخر تہذیب بھی تو کوئی چیز ہے اس میں تہذیب بھی نہ تھی میں نے سرپرستی سے انکار کر دیا
اور کہہ دیا کہ خط کا معاملہ تو ماضی کا ہے وہ تو مضی ما مضی مگر سرپرستی کا معاملہ مستقبل ہے جس میں مجھ کو ہر طرح کا اختیار ہے منسوخ بھی کر سکتا ہوں باقی بھی رکھ سکتا ہے میرے اختیار سے تو باہر نہیں مگر بقاء اسی وقت ہو سکتا ہے کہ حدود اور اصول شرعیہ سے تجاوز نہ کیا جائے ، کہنے لگے کہ اس تحریر ماضی کے متعلق بھی کچھ تدارک ہونا چاہیے ، میں نے کہا کہ میں کیا تدارک کروں ، کیا میں خود اپنے منہ میاں مٹھو بنوں اور یہ لکھوں کہ میں ویسا نہیں جیسا اس تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہا کہ مسودہ لکھ دیجئے گا ہم لوگوں کی طرف سے اس کی اشاعت کر دی جائے گی ۔ میں نے کہا کہ مجھ کو ضرورت نہیں آپ خود لکھیں اور اخیر بات یہ ہے کہ ان قصوں کی ضرورت ہی کیا ہے کہ کسی اور کو سرپرست تجویز کر لیجئے مجھ کو تو ویسے ہی ایسے بکھیڑوں سے وحشت ہوتی ہے جو چیز یکسوئی میں مخل ہو اور غیر ضروری اس سے علیحدہ ہی رہنے کو طبیعت چاہتی ہے کہا کہ سرپرست کے اختیار کیا ہونے چاہئیں ، میں نے کہا کہ جو پہلے سے مدرسہ کے قواعد میں سرپرست کے اختیارات ہیں وہی رکھے جائیں دیکھ لیا جائے کہ کیا اختیارات تھے ، میں نے یہ بھی کہا کہ ہر حال میں یہ ضرور ہے کہ سرپرست ایسے شخص کو بنایا جائے جو اپنے بزرگوں کا نمونہ ہو اس کے خلاف کو میں خیانت سمجھتا ہوں مگر مجھ کو نہ بنائیے اس لیے کہ مجھ کو ایسے معاملات سے مناسبت نہیں اور نہ دلچسپی ۔ اس پر کہا کہ آپ ہی کو منظور کرنا ہو گا ، میں نے کہا کہ سرپرستی کی میری کوئی خواہش نہیں درخواست نہیں اگر آپ کی خواہش ہے تو مجھ کو شرائط کا حق ہے ۔ ایک صاحب نے کہا کہ میری ذاتی رائے ہے کہ سرپرست کو بالکلیہ اختیارات ہوں اس پر ایک شخص بولے کہ تو اس صورت میں اہل شوری نکمے ہوئے ۔ میں نے کہا کہ نہیں اہل شوری کا جو کام یعنی محض مشورہ وہ اس کام کو برابر انجام دیتے رہیں جس کا فائدہ یہ ہو گا کہ ان کے مشوروں سے سرپرست کی رائے اور نظر محیط ہو جائے گی کیونکہ ایک شخص کی رائے اور نظر ہر وقت اور ہر کام میں محیط نہیں ہوتی اس ہی لیے اہل شوری کی ضرورت ہے اور اس سے زائد اہل شوری کا کوئی منصب نہیں ۔ حق تعالی فرماتے ہیں : ” و شاورھم فی الامر فاذا عزمت ”
نہیں فرمایا نہ اذا عزم اکثرکم فرمایا بلکہ فاذا عزمت فرمایا کہ اس سے جہموریت کوئی چیز نہیں رہتی ۔ ایک صاحب کہنے لگے کہ اگر سرپرست کو بالکلیہ اختیارات دے دئیے جائیں تو اندیشہ ہے کہ صاحب غرض آ کر اس کی رائے کو بدل دیں اور متاثر
کر دیں ، میں نے کہا کہ یہی احتمال شوری میں بھی ہے بلکہ اہل شوری کے متعلق تو ایسے واقعات ہیں جس میں ان کی رائے پر اثر ڈالا گیا اور سرپرست کے تو ایسے واقعات بھی نہیں ۔ غرض اس پر اتفاق رائے ہو گیا کہ مجھ کو سرپرست بنایا جائے ۔ میں نے کہا کہ ایک میری رائے اور ہے وہ یہ کہ عجلت سے کام لینا مناسب نہیں ، مرکز پر جا کر اور اپنے احباب سے مشورہ کر کے اور خود بھی آزادی کے ساتھ فکر اور غور کر کے جو بات قرار پائے مجھ کو لکھ دی جائے اور یہ بھی سن لیجئے کہ مجھ کو اس کا انتظار بھی نہ ہو گا اس لیے کہ مجھ کو اس کا اشتیاق نہیں جن صاحب کے ہاتھ کی وہ بیہودہ تحریر تھی جس سے انہوں نے معافی مانگ لی تھی اس معافی کی اشاعت کے متعلق انہوں نے تو کچھ نہیں کہا مگر ان کی طرف سے ایک صاحب بطور وکیل گفتگو کرنے لگے کہا کہ وہ مضمون معافی کا النور یا الہادی میں شائع کر دیا جائے ، میں نے کہا کہ یہ رسالے تو میری طرف منسوب ہیں ان میں چھاپنا موہم ہو گا ۔ میری استدعا کو مستقل چھاپو ، کہا کہ اخبارات میں مضمون دے دیا جائے ، میں نے کہا کہ یہ بھی مناسب نہیں اس لیے کہ اخبارات نا اہلوں کے ہاتھ میں جاتے ہیں مجھ کو یہ بھی گوارا نہیں کہ ان صاحب کی تحریر کی اہانت نا اہلوں کی نظر میں ہو ، غرض کہ میری طرف منسوب رسالوں میں شائع ہو ، یہ میری وضع کے خلاف ہے اور اخبارات میں شائع ہو وہ آپ کی شان کے خلاف ہے اور جو کچھ مجھ کو شکایت ہوئی محض اس وجہ سے کہ آپ کو محبت کا دعوی ہے معاملہ سے بھی اس کا اظہار کیا جاتا ہے اور زبان سے بھی کہا جاتا ہے انا محب لک ورنہ میں تو اپنے کو اس سے بھی بدتر سجمھتا ہوں جتنا مجھ کو کہا جاتا ہے دیکھئے احمد رضا خان صاحب نے مجھ کو ہمیشہ برا کہا مگر مجھ پر ذرہ برابر بھی اثر نہیں ہوا ۔ ایک صاحب بولے کہ جس تحریر پر شکایت ہے ان صاحب تحریر کی عادت ہی ایسی ہے ان کی تحریر کا طرز ہی یہ ہے میں نے کہا کہ آپ کچھ خیال نہ کریں اس جاننے کے ساتھ کہ ان کا یہ طرز ہے یہ بھی جان لینا چاہیے کہ دوسرے کا یہ طرز ہے کہ وہ اس سے دلگیر دل گرفتہ ہوتا ہے ان کا یہ طرز ہمارا یہ طرز پھر ہمارے طرز سے ہم کو کیوں روکا جاتا ہے اس پر خاموش ہو گئے ، کوئی جواب نہ دیا اور صاحب تحریر نے مجھ سے جب معافی مانگی میں نے صاف کہہ دیا کہ معافی تو یہ ہے میں نہ دنیا میں مواخذہ کروں گا نہ آخرت میں لیکن اگر تعلقات بھی ویسے ہی رکھنا چاہتے ہو تو اس کے لیے یہی شرط ہے کہ اپنی غلطی کو چھپوا کر شائع کرو اور میں جو مدرسہ کی وجہ سے مدرسہ والوں کی موافقت کرتا تھا لوگ کہتے تھے کہ مولوی حبیب الرحمن صاحب مرحوم سے متاثر ہے ۔ مولوی مرتضی حسن صاحب نے خوب جواب دیا تھا کہ میاں جو زمانہ تحریکات میں سارے ہندوستان کی مخالفت سے متاثر نہیں ہوا وہ ایک بے چارہ مولوی حبیب الرحمن صاحب سے کیا متاثر ہو گا ۔

( ملفوظ 395 ) مغلوبیت میں شعور رہتا ہے اختیار نہیں رہتا

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ مغلوبیت میں اختیار نہیں رہتا اور بعض اوقات شعور رہتا ہے شعور اورچیز ہے اور اختیار اور چیز ہے جیسے آپریشن کے وقت نشتر لگنے پر آہ نکلتی ہے اس وقت اختیار نہیں رہتا مگر شعور ہوتا ہے ۔ یہ حالت بے اختیاری کی اضطرار کہلاتا ہے اس کو غلبہ حال بھی کہتے ہیں اور حال کوئی مقصود چیز نہیں ایک وقتی بات ہے اور مقام مقصود ہے مگر غیر مبصر ان دونوں میں فرق نہیں کر سکتا اس لیے اس کو حق نہیں کہ وہ کسی پر اعتراض کرے اس کو تو اشتباہ کے موقع پر صرف یہ کرنا چاہیے کہ خاموش رہے ہاں مبصر کو حق ہے کہ اپنی بصیرت سے صاحب حال کو یہ بتلائے کہ یہ تیری حالت قابل اطمینان نہیں بلکہ ایک کیفیت کا غلبہ ہے جو چند روزہ ہے اور یہ بتلانا بھی جزئی طور پر ہو کلی تحقیق نہ کرنے لگے اور جب طالب کے سامنے کلی تحقیق مناسب نہیں تو غیر طالب سے تو ایسا خطاب ہر گز نہیں چاہیے اس میں فن کی بے قدری بھی ہے ۔

( ملفوظ 394 )رسومات کا غلبہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل رسمی پیروں کی بدولت لوگوں کے قلب میں طریق کی عظمت و قدر نہیں رہی بلکہ رسم کا غلبہ ہو گیا ۔ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں سادات کی عظمت بھی رسم کے ماتحت ہے بلکہ قرآن کی عظمت بھی وہی رسمی ہے اگر حقیقتا عظمت ہوتی تو اس کی تعلیم پر تو عمل ہوتا حالانکہ دونوں چیزوں کے جمع کرنے کی ضرورت ہے یعنی عظمت بھی ہونی چاہیے اور عمل بھی ۔ اسی طرح بزرگی کا معیار بھی رسمی رہ گیا جہاں ایک دو کرامت ظاہر ہوئی خواہ حقیقی یا خیالی اور بزرگی کی رجسٹری ہوئی کیا خرافات اور اگر کہیں کسی بزرگ نے لڑے لڑکی بیوی نوکر سے کنارہ کر لیا پھر تو تارک دنیا ہی ہو گئے ۔ اگر غلبہ سے ایسا ہو تب بھی کمال نہیں ، سالک تو وہ ہے کہ اس کے مقام کو غلبہ ہو اور اس کا حال مغلوب ہو ۔

( ملفوظ 392 )عجب اور تکبر میں فرق

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ عجب اور کبر دونوں میں صرف یہ فرق ہے کہ عجب میں دوسرے کو حقیر نہیں سمجھتا اپنے کو عظیم سمجھتا ہے اور کبر میں دوسرے کو بھی حقیر سمجھتا ہے

( ملفوظ 393 )ناواقف کے لیے ہر فن دقیق ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ضروری علوم میں تدقیق ضروری نہیں دقائق میں پڑ کر فن کو مشکل کر دیا ، باقی ناواقف کے نزدیک تو خود فن ہی مشکل ہے گو اس میں تدقیق بھی نہ ہو ایسے شخص کے سامنے فن کا بیان کرنا ایسا ہے جیسے طبیب مریض کے سامنے بیٹھ کر فن کو بیان کرنے لگے اس کو تو مشکل ہی معلوم ہو گا ۔ گو تدقیق نہ کرے ۔

( ملفوظ 391 )دوسری قوموں کی نقل کرنا

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت مسلمانوں کی تو اس بات پر افسوس ہے کہ دوسری قوموں کی سی صورت بناتے ہیں ، فرمایا کہ یہ بالکل صحیح ہے مگر وہ لوگ ہماری جیسی شکل نہیں بناتے ، پھر ہمیں ہی کیا ضرورت ہے کہ دوسروں کی وضع اور لباس اختیار کریں ۔