ایک صاحب کی غلطی پر مواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ صدق کا اور اثر ہوتا ہے کذب کا اور اثر ہوتا ہے صدق سے قلب کو اطمینان ہوتا ہے ، سکون ہوتا ہے کذب میں اضطراب ہوتا ہے بے اطمینانی ہوتی ہے ۔ خدانخواستہ مجھ کو کسی مسلمان کو ذلیل کرنا تھوڑا ہی مقصود ہے استغفر اللہ لیکن اگر میں اس طرح پر کھود کرید نہ کروں تو پھر آخر اصلاح ہو کیسے جو بات اس وقت آپ نے کہی دق کر کے تکلیف پہنچا کر پہلے ہی کیوں نہ کہہ دی تھی مجھ کو ، خدانخواستہ آپ سے بغض نہیں ، کینہ نہیں ، عداوت نہیں ، اب آپ نے سچ بات کہی سب کلفت دور ہو گئی ، یہ آپ کے صدق کا اثر ہے پہلی باتوں میں سے ایک بھی دل کو نہ لگی تھی ، بہت اچھا میں خدمت کے لیے حاضر ہوں ۔
( ملفوظ 380 ) ہندوؤں کے دو انگریزوں کے دو اور مسلمانوں کے تین دشمن
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ وقت مسلمانوں کی غفلت کا نہیں مگر مشکل تو یہ ہے کہ اگر مسلمان غفلت سے بیدار ہوتے ہیں تو اس کے مصداق ہو جاتے ہیں ۔ اگر غفلت سے باز آیا جفا کی تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی یعنی اس بیداری میں نہ اتباع احکام کا ہوتا ہے نہ باہمی اتفاق ہوتا ہے ۔ اسی نا اتفاقی کے متعلق ایک انگریز حاکم نے ایک بات خوب کہی کہ ہندوؤں کے دو دشمن ایک مسلمان اور ایک انگریز ، انگریز کے دو دشمن ایک ہندو اور ایک مسلمان اور مسلمانوں کے تین دشمن ایک ہندو ایک انگریز ، ایک خود مسلمان ۔
19 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم دو شنبہ
( ملفوظ 377 )ادب تعظیم کا نہیں حفظ حدود کا نام نہیں
ایک نو عمر شخص نے آ کر تعویذ مانگا اور یہ نہیں بتلایا کہ کس چیز کا تعویذ اس پر حضرت والا نے اس کو تبنیہ فرمائی ۔ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہ بے خبری کا نتیجہ ہے ، فرمایا کہ یہ بے خبری کا نتیجہ نہیں آپ کو تجربہ نہیں یہ خبر کا نتیجہ ہے جو فطری چیزیں ہیں ۔ ان میں ضرورت نہیں ، تعلیم کی خلاف فطرت میں ضرورت ہے تعلم کی جس وقت گھر سے چلا ہو گا یہ تو ضرور معلوم ہو گا کہ کس چیز کا تعویذ لاؤں گا وہی آ کر ظاہر کر دیتا مگر اس کو خلاف پر تعلیم کی گئی ہو گی کہ جا کر چپ بیٹھ جانا جب تک وہ خود نہ پوچھیں تو خود کچھ مت بولنا اور اس کو ادب قرار دیا گیا ہو گا ۔ اگر آپ کو شبہ ہے تو میں ابھی معلوم کرائے دیتا ہوں تا کہ آپ کو بھی تجربہ ہو جائے ۔ حضرت والا نے اس شخص کی طرف مخاطب ہو کر دریافت فرمایا کہ اس نے اقرار کیا کہ یہ ہی مجھ سے کہا گیا تھا ، فرمایا کہ مجھ کو تو شب و روز ایسے لوگوں سے سابقہ پڑتا رہتا ہے اس کے بعد فرمایا کہ جاؤ ایک گھنٹہ کے بعد آ کر پوری بات کہنا تب تعویذ ملے گا ۔ وہ شخص چلا گیا ، فرمایا کہ اب کبھی انشاء اللہ ادھوری بات نہ کہے گا ۔ یہ طریق ہے اصلاح کا تا کہ ہمیشہ یاد رہے اب اس ہی واقعہ میں بتلائیے کہ میری کونسی مصلحت ہے اس کی ہی مصلحت ہے میں نے ایسا کیا اس پر مجھ کو بندم کیا جاتا ہے کہ بدخلق ہے آنے والوں کے اخلاق کو کوئی نہیں دیکھتا کہ وہ کیا برتاؤ کرتے ہیں ۔ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ اس کو ادب سمجھتے ہیں کہ خاموش آ کر بیٹھ جائے کچھ بولے نہیں میرے نزدیک ادب تعظیم کا نام نہیں بلکہ ادب کا ایسا مفہوم ہے کہ جو چھوٹوں بڑوں میں سب میں مشترک ہے وہ یہ کہ ادب کے معنی ہیں حفظ حدود اور اس کے لیے لازم ہے کہ کسی کو ایذاء نہ پہنچنی چاہے بڑا ہو یا چھوٹا ، کافر ہو یا مسلمان ہو سو یہ سب کے لیے مساوی ہے ۔
( ملفوظ 378 )حاجی صاحب کے یہاں حضرت گنگوہی کا کھانے پر امتحان
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل تو محبت و عقیدت کا دعوی ہے ، محبت اور عقیدت تو اس کو کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنے ساتھ حضرت مولانا گنگوہی صاحب کو کھانا کھلا رہے تھے ، مولانا شیخ محمد صاحب تشریف لے آئے ، دیکھ کر فرمایا کہ آہا آج تو مرید کے حال پر بڑی نوازش ہو رہی ہے کھانا ساتھ کھایا جا رہا ہے ۔ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ واقعی ہے تو نوازش ورنہ مجھ کو تو یہ حق تھا کہ ایک روٹی اور اس پر دال ان کے ہاتھ پر رکھ کر کہتا کہ وہاں الگ بیٹھ کر کھاؤ ۔ حضرت مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ حضرت یہ فرما کر کن انکھیوں سے میرے چہرہ کو دیکھ رہے تھے ، کسی نے حضرت مولانا گنگوہی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ کی کیا حالت تھی ؟ فرمایا کہ خدا کی قسم اس وقت قلب پر اس کا استحضار تھا کہ میں تو اس سے بھی زیادہ ذلیل و حقیر ہوں جو حضرت میری نسبت فرما رہے ہیں ۔ اھ میں تو کہا کرتا ہوں کہ مربہ بننا آسان نہیں جب تک تکلوں سے چاقو سے اس کو کوچا نہ جائے ، مٹھائی اندر تک اثر کر نہیں سکتی ۔ نیز جوش بھی دیا جائے چونے کے پانی میں اور وہ چوں نہ کرے ۔ کسی نے خوب کہا ہے :
صوفی نشود صافی تادر نکشد جامے بسیار سفر باید تا پختہ شود خامے
( ملفوظ 375 )آنے والے سے اپنے کام کی فرمائش نہ کرنا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر کسی شخص سے میرا کوئی کام متعلق ہو اور اتفاق سے وہ میرے پاس آ جائے تو میں اپنے کام کی اس سے اس وقت فرمائش نہیں کرتا اس سے اس کو آئندہ کے لیے یہ وہم نہ ہو کہ جب وہاں جاؤں گا ممکن ہے کہ کوئی کام کہہ دے اور آتے ہوئے بعض اوقات بار ہو بلکہ خود اس شخص کے پاس جا کر جو کام ہوتا ہے کہہ دیتا ہوں یہ حسن معاشرت ہے ایک عالم غیر مقلد یہاں پر قیام کیے ہوئے تھے اور میرے پاس بیٹھے تھے مجھ کو ایک کتاب کی ضرورت تھی میں خود جا کر کتب خانہ سے لے آیا تو ان پر بڑا اثر ہوا ، اپنے دوستوں سے کہا کہ ہم لوگوں کا تو محض دعوی ہی ہے کہ اتباع سنت کا باقی سنت تو فلاں شخص میں ہے اور کتاب لانے کا قصہ بیان کیا ، میں نے کہا کہ یہ بھی کوئی بڑے کمال کی بات تھی مجھ کو تو اس کا وسوسہ بھی نہیں کہ میں نے کوئی کام کیا یہ تو حسن معاشرت ہے ۔
( ملفوظ 376 )سیدھی سچی بات آسان ہوتی ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک شخص نے کہا تھا کہ منکر نکیر کے سوالات کے جواب تو آسان مگر اس کے ( یعنی میرے ) سوالات کا جواب مشکل ہے ۔ میں نے کہا کہ بالکل صحیح ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں تو اینچ نیچ سے کام نہ لو گے سیدھی اور سچی بات کہو گے اس لیے خود ہی وہاں کے سوالات کا جواب آسان ہو گا اور یہاں پر اینچ نیچ سے کام نکالنا چاہتے ہو اور وہ چلتا نہیں اس لیے یہاں کے سوالات کا جواب مشکل ہو جاتا ہے ۔
( ملفوظ 374 )ہر قسم کے تعلیمی خزانے اسلام میں ہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اسلام کی ہر تعلیم عجیب و غریب ہے عیادت کے باب میں حکم ہے فلیخفف الجلوس اور یہ حکم ہے کہ اگر تین شخص ایک جگہ ہوں تو دو شخصوں کو سرگوشی کرنے کی اجازت نہیں ، تیسرے کی دل شکنی ہو گی کہ مجھ کو غیر سمجھا اس لیے مجھ سے اخفاء کیا گیا ۔ اگر تعزیت کے لیے جائیں تو غمزدوں کی تسلی کی باتیں کرنے کا حکم ہے تا کہ وہ خیال ان کے دلوں پر سے ہٹ جائے نہ یہ کہ جیسی آج کل رسم ہے کہ مرنے والے کی جدائی کا صدمہ بیان کرتے ہیں اس سے تو گھر والوں کو اور بھی تکلیف ہوتی ہے ۔ غرض کہ تمہارے گھر میں ہر قسم کے تعلیمی خزانے دبے ہوئے ہیں مگر تم کو قدر نہیں ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
یک سبد پر ناں ترا بر فرق سر تو ہمیں جوئی لب ناں دربدر
تابزانوئی میان قعر آب وزعطش وزجوع گشتی خراب
( ملفوظ 373 )ایک صاحب کی اپنی غلطی کی تاویل
ایک صاحب کی غلطی پر جنہوں نے اپنی غلطی کا کوئی منشاء بغرض برات کے بیان کیا تھا مواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ بے منشاء سمجھے تو کوئی غلطی ہو ہی نہیں سکتی ، کوئی منشاء ہی سمجھ کر غلطی ہوتی ہے ، شیطان بھی تو کچھ سمجھا ہی تھا اور یہ سمجھا تا کہ میں بڑا ہوں اور یہ چھوٹا مگر وہ سمجھ غلطی نکلی ۔ معلوم ہوا کہ محض منشاء کا ہونا برات کے لیے کافی نہیں ورنہ پھر تو کسی بات پر مواخذہ نہ ہونا چاہیے ۔ اس پر صاحب خاموش رہے اور منشاء کے غلط ہونے تک کا اقرار نہیں کیا ۔ فرمایا کہ یہ دوسری غلطی ہے کہ جواب نہیں دیتے کہاں تک آپ لوگوں کے اقوال و افعال میں تاویلات کیا کروں ، کیوں ستانے پر کمر باندھ رکھی ہے ۔ بتلائیے باوجود تنبیہ کے پھر بھی کوئی جواب نہیں کیا ٹھکانا ہے اس تمرد اور سرکشی کا ۔ یہ اصلاح کرانے کے لیے آتے ہیں پتھر کے بت بن کر خود اپنی پرستش چاہتے ہیں ۔ میں تو کہتا کہتا تھک گیا ، قریب قریب ناامید ہو گیا اس قدر بدفہمی اور کم عقلی کا دور دورہ ہے کہ کوئی بات بھی تو ڈھنگ اور سلیقہ کی نہ رہی اور یہ بات تو دنیا سے قریب قریب مفقود ہی ہو گئی کہ اس کا خیال ہو کہ ہماری وجہ سے کسی کو تکلیف اور اذیت نہ پہنچے اور زیادہ افسوس ناک تو میری حالت ہے کہ میں ہی ساری دنیا سے کیوں جدا ہوں اور لوگوں کی غلطیاں نکالتا ہوں ۔ حالت موجودہ بالکل اس کے مشابہ ہے کہ ایک وزیر نے آثار سے معلوم کیا کہ ایک بارش ہو گی اور جو کوئی اس کا پانی پئے گا مجنون ہو جائے گا ۔ بادشاہ سے عرض کیا اور اس کی اجازت سے یہ انتظام کیا کہ اچھے پانی کا ایک حوض بھر لیا گیا تا کہ اس بارش کا پانی استعمال نہ کریں ۔ چنانچہ وہ بارش ہوئی اور بجز بادشاہ اور وزیر کے سب نے اس کا پانی پیا اور مجنون ہو گئے ۔ اب شہر میں جلسے شروع ہوئے کہ وزیر بادشاہ مجنون ہو گئے ہیں ان کو تخت و تاج سے الگ کر دینا چاہیے ، بادشاہ بہت گھبرایا اور وزیر سے مشورہ کیا ، بعد مشورہ یہ قرار پایا کہ ہم تم بھی پی لیں ، غرض کہ بادشاہ اور وزیر نے بھی وہ پانی پی لیا ان کی بھی وہی مجنونہ حالت ہو گئی سب رعایا میں خوشی ہوئی کہ بادشاہ اور وزیر کو خدا نے صحت عطاء فرما دی وہی صورت قریب قریب یہاں نظر آ رہی ہے ۔ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ آدمی جس کے پاس اپنا کام لے کر جائے کم از کم اس کی بھی تو کچھ رعایت کرنا چاہیے کہ اس کو تکلیف نہ دے یہ میں نہیں کہتا کہ تم بزرگ سمجھ کر آؤ معتقد بن کر آؤ ، آ کر جوتے سیدھے کرو ، صرف یہ چاہتا ہوں کہ خدمت لو مگر انسانیت سے تہذیب سے گنوار پن سے کام مت لو ۔ فرض کر لو کہ جس کے پاس تم آئے ہو وہ بزرگ نہ سہی مگر کیا اس کو بلا وجہ ستانا چاہیے مجھ کو تو اس کا رنج ہوتا ہے کہ جو باتیں طبعی تھیں جنہیں تعلیم کی حاجت نہیں ان کی تعلیم میں تمام وقت صرف ہوتا ہے کہ جو باتیں تعلیم کی تھیں ان کی تعلیم کی نوبت بھی نہیں آتی ان ہی خرافات میں وقت ضائع ہو جاتا ہے میں تو دوسروں کی یہاں تک رعایت کرتا ہوں کہ اپنا کام چھوڑ کر دوسرے کا پہلے کام کر دیتا ہوں سو جو شخص دوسروں کی اتنی رعایت کرے ظاہر ہے ایسے شخص کو تو بے اصول بات سے اذیت پہنچے ہی گی ۔ اگر کوئی اصول سے کام لے خادم ہوں اور بے اصولی کے ساتھ تو مخدوم بھی بننا نہیں چاہتا ۔
( ملفوظ 371 )غیر اختیاری وساوس کفر کے بھی مضر نہیں
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ وساوس غیر اختیاریہ چاہے کفر ہی کیوں نہ ہوں اگر یہ شخص صراط مستقیم سے نہ ہٹے تو وہ گمراہ نہیں بلکہ میں تو توسیع کر کے کہتا ہوں کہ یہ عین قوت ایمانیہ کی دلیل ہے کہ باوجود مزاحم کے پھر اس راہ پر لگا ہوا ہے ایسی حالت میں گھبرانا نہیں چاہیے اور قوت و ہمت کے ساتھ راہ طے کرتا ہوا چلا جائے بڑا اجر ہے اور میں تو کہتا ہوں کہ مسلمان کی کوئی حالت غیر اختیاریہ ایسی نہیں کہ وہ محمود نہ ہو اور اس پر اس کو اجر اور ثواب نہ ہو ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
در طریقت ہر چہ پیش سالک آید خیرا دست بر صراط مستقیم ایدل کسے گمراہ نیست
کام میں لگے رہنے کی ضرورت ہے لگے رہو جو کچھ بن پڑے کئے جاؤ ۔ ایک صاحب کا مقولہ مجھ کو تو بہت ہی پسند آیا کہ وہ تو ایسا دربار ہے کہ کئے جاؤ اور لئے جاؤ واقعی کمی کیا ہے ، کوئی لینے والا چاہیے مگر محض قیل و قال سے کام نہیں چلتا ہے ۔ پھر دیکھو کیا کچھ عطا ہوتا ہے کام کرنے اور نہ کرنے پر ۔ ایک مثال یاد آئی ایک شخص کہتا ہے کہ میں بھوکا ہوں مگر جو روٹی مجھ کو دی جائے اس کا قطر چار انگشت کا ہو ۔ اس سے معلوم ہو گا کہ اس کو بھوک نہیں ورنہ قیل و قال نہ کرتا ، ارے بھائی روٹی ہونا چاہیے وہ ایک بالشت کی ہو یا چار انگشت کی ہو اسی طرح جنت میں تو پہنچ جاؤ چاہے وہ درجہ داہنے یا بائیں نیچے ہو یا اوپر ۔
( ملفوظ 372 )آج کل کی ترقی ، اعلی درجہ کی پستی ہے
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہوں آج کل ترقی کرنے کا مرض ایسا عام ہوا ہے کہ شاید ہی کوئی بچا ہو حالانکہ جس کو یہ لوگ ترقی سمجھتے ہیں وہ اعلی درجہ کی پستی اور تنزلی ہے ۔ میں نے لکھنؤ میں ایک واعظ میں جس کا نام الحدود القیود ہے اور بڑے بڑے بیرسٹر اور نو تعلیم یافتہ لوگ اس وعظ میں شریک تھے یہ کہا تھا کہ کیوں صاحب اگر ترقی مطلقا مطلوب ہے تو پھر جسم پر جو ورم آ جاتا ہے اس کا علاج کیوں کرتے ہو ، بس جیسے طب میں ترقی کی ایک حد ہے وہی ہمارے یہاں شریعت میں بھی اس کی ایک حد ہے حد سے گزر کر کسی چیز کا ہونا وہ مرض کہلاتا ہے صحت نہیں ۔ اس پر سب کی آنکھیں کھلی رہ گئیں ۔ بعد وعظ کے اکثر نے کہا کہ آج حقیقت معلوم ہوئی بڑی زبردست غلطی میں ابتلاء تھا ۔
18 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم یک شنبہ

You must be logged in to post a comment.