( ملفوظ 80 ) شیخ اور طالب کی دونوں کا مجاہدہ

فرمایا کہ تعلیم اور اصلاح کا کام بہت ہی اہم ہے طرفین کو مجاہدہ کی ضرورت ہے ۔ مطلب یہ کہ مجاہدہ ان کا بھی میرا بھی دونوں ہی کا ضروری ہے فرق صرف یہ ہے کہ ان کا مجاہدہ اضطراریہ ہے میرا مجاہدہ اختیاریہ ہے ۔

( ملفوظ 79 ) شیخ اور طالب کی فرمائشیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ شیخ کی تعلیم پر تو طالب کو عمل کرنا بے شک ضروری ہے مگر شیخ کے لیے ضروری نہیں کہ وہ اس کی فرمائشوں کو پورا کیا کرے وہ تو اپنی تجویز کردہ تعلیم میں بھی اس کا خیال رکھتا ہے کہ اگر ضروری ہے تعلیم کرتا رہے غیر ضروری کو حذف کر دیتا ہے ۔

( ملفوظ 78 ) اس طریق کا حاصل اپنی تجویز کو فنا کرنا ہے

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ تمام طریق کا حاصل یہ ہے کہ اپنی تجویز کو فنا کر دو ، دوسرے کی تجویزوں پر عمل کرو ، نفع اس وقت ہو گا کہ طالب میں انقیاد کی شان ہو ، فناء کی شان ہو ، اطاعت کی شان ہو اس کے بدون کامیابی مشکل ہے ۔

( ملفوظ 77 ) لوگوں کی بیہودگی اور حضرت کا جواب

فرمایا کہ آج ان صاحب کا خط آیا ہے جو خواجہ صاحب کے ذریعہ سے کچھ کہنا چاہتے تھے ، لکھا ہے کہ مجھ کو قرآن شریف حفظ کرنے کا بہت شوق ہے ۔ حضرت والا برکت کے لیے شروع کرا دیں ، جواب میں تحریر فرمایا کہ اگر محض برکت مقصود ہے تو کیا دعا میں برکت کم ہے دعا کرا لیں اور اگر کم بھی ہے تو جب زیادہ آپ کی قدرت سے باہر ہے تو کم ہی پر اکتفا کر لینا چاہیے ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ خرچ بھی کیا اور کامیابی بھی نہ ہوئی ، فرمایا کہ دعا کرا لیں اس سے زیادہ کیا کامیابی ہو گی ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس جواب میں ان تمام غیر ضروری خواہشوں کی اصلاح ہے اگر ان کی اس خواہش کو پورا بھی کر دیا جائے تو کوئی ایسی مشکل بات نہیں مگر آئندہ کے
لیے دروازہ کھلتا ہے فرمائشوں کا ، نہ معلوم کیا کیا خواہش قلب میں پیدا ہوں جن میں کبھی تو عذر کرنا پڑے ہی گا سو جو آئندہ چل کر تجویز کروں گا ، وہ آج ہی کیوں نہ کر دوں تا کہ دروازہ ہی بند ہو جائے اور یہ قواعد اور اصول میں نے تجربہ کے بعد تجویز کیے ہیں جن کو حقیقت کی خبر نہیں ان کو سن کر ضرور وحشت ہوتی ہے ۔ میں ایک واقعہ عرض کرتا ہوں اس کو سن کر فیصلہ کیجئے گا کہ فرمائشوں کو کہاں تک پورا کیا جا سکتا ہے ۔ ایک صاحب یہاں پر آئے اور کہنے لگے کہ تم اپنی جیب یعنی زبان میرے منہ میں دے دو میں چوسوں گا ، مجھ کو تو اس تصور ہی سے متلی ہونے لگی ، کیا واہیات فرمائش ہے میں نے نہایت تیزی کے لہجہ میں ڈانٹا ، کہنے لگے کہ تو میں جاؤں میں نے کہا کہ چاہے رہو یا منہ کالا کرو نکل جاؤ ، یہاں سے اب فرمائیے اس میرے جواب پر کیا اعترض ہے ، حضرت گھر بیٹھے فیصلہ کرنا بہت آسان ہے ذرا یہاں رہ کر دیکھئے تب حقیقت کا انکشاف ہو کہ آنے والوں کی زیادتیاں ہیں یا میری ۔

( ملفوظ 76 ) دکاندار پیروں کا حال

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ تو دکاندار پیروں کی من گھڑت ہے کہ بدون بیعت کے خاص اسرار نہ بتائیں گے وہ اسرار ہی کون سے ہیں جس کو وہ نہ بتائیں گے اجی جن اسرار کی ضرورت تھی ان کو تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے پہاڑوں پر منبروں پر چڑھ کر علی الاعلان بیان کر دیا ، باقی ان سے الگ وہ اسرار ہی کب ہیں جن کو وہ بدون بیعت کے نہیں بتلاتے ، ہاں اشرار ہیں جن کی بدولت لوگوں کو جال میں پھنسانا چاہتے ہیں ان کو بے شک نہیں بتلا سکتے مگر وہ ایسی چیزیں ہیں کہ وہ ان کو بعد بیعت بھی نہیں بتلا سکتے کیونکہ اپنے عیوب پر دوسروں کو کون مطلع کیا کرتا ہے تو آج کل کے رسمی پیر اور مشائخ اسی لیے خفا ہیں کہ میں نے ان کے یہ اسرار کھول دیئے کہ یہ لوگ ایسی ہی باتیں بناتے رہتے ہیں باقی کوئی تعلیم نہیں تلقین نہیں اور تعلیم اور تلقین ہو کہاں سے اکثر جاہل ہوتے ہیں ، یوں ہی اڑنگ بڑنگ ہانکتے رہتے ہیں ۔ بس ان کے یہاں تو داخل سلسلہ ہو جانا کافی ہے آگے بے فکری ہاں لوگوں کو پھندے میں پھانسنے کی تدبیریں بہت خوب یاد ہیں ۔ ایک پیر کا واقعہ ہے کہ ایک ریاست میں جاکر یہ حرکت کی کہ اپنے ایجنٹوں کی سازش سے ایک زندہ شخص کا مصنوعی جنازہ بنا کر اور اس کو ایک شاہراہ پر رکھ کر نماز کے بہانہ سے بلوائے گئے جنازہ پر کھڑے ہو کر کہا ” قم باذن اللہ ”

وہ کھڑا ہو گیا ، بس پھر کیا تھا شہرت ہو گئی ، بزرگی کا ڈنکا بج گیا ، راجہ اس ریاست کا بڑا ہوشیار تھا ، اس نے کہا کہ پیر صاحب کو یہاں لاؤ ، پیر صاحب سمجھے کہ راجہ بھی معتقد ہو گیا ، اس کے لیے تو یہ تدبیر کی ہی تھی ، پہنچے خوش ہوتے ہوئے اس نے کہا کہ فوج میں لوگ مرتے ہیں جس کی وجہ سے ریاست کو نقصان پہنچتا ہے کیونکہ پھر ایسے مشاق نہیں ملتے آپ یہیں رہیں ان کو زندہ کیا کریں ،میں آپ کے تمام اخراجات کا کفیل ہوں گا ، تب تو پیر صاحب کے پیروں تلے زمین نکل گئی ۔

( ملفوظ 75 ) مسلمان لیڈر اور ہندو مسلم اتحاد

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جن کے ہاتھ میں مسلمانوں کی باگ ہے اصل ذمہ دار تو ان خرافات تحریکات کے وہ ہیں انہوں نے عوام بیچاروں کے دین و ایمان برباد کیے ۔ خصوص وہ علماء کہ جنہوں نے لیڈروں کے ہم خیال بن کر جھوٹے جھوٹے فتوے شائع کیے اور ہزاروں مسلمانوں کی ملازمتیں چھڑوا دیں اور ہزاروں کی جانیں ضائع کرا دیں ، آنکھ بند ہونے پر پتہ چل جائے گا حق تعالی اپنا رحم فرمائیں اس دین فروشی کی کچھ حد ہے کہ قربانی گاؤ کو کہ جس کو ہزاروں لاکھوں مسلمان اپنی جانیں دے کر ہندوستان میں قائم کر گئے اس کو چھوڑ دینے پر آمادہ ہو گئے ( لفظ آمادہ پر ) مزاحا فرمایا کہ مادہ ہی بن گئے جس سے ان کو اس طرح خطاب کیا جا سکے آمادہ نر نہ رہے کسی ایک شعار اسلام کو چھوڑ دینا بھی تمام ہی احکام اسلام کی بیخ کنی کرنا ہے اور دوسری قوموں کو بتلا دینا ہے کہ سب احکام اسلام ایسے ہی ہیں کہ ان کو کسی کی وجہ سے چھوڑ سکتے ہیں یہ ہیں عقلاء جو مسلمانوں کی باگ ہاتھ میں لے کر ان کے سفید و سیاہ کے مالک بنے ہوئے ہیں جن کو اتنی تک بھی خبر نہیں کہ اس کا انجام کیا ہو گا اور ان باتوں کا اثر کیا ہے کچھ خبر بھی ہے آج تو وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ گائے کی قربانی بند کرو ، کل کو کہیں گے کہ کلمہ چھوڑ دو تو ہم تم میں اتفاق ہو ۔ حقیقت میں تو یہ ساری دشمنی کلمہ پڑھنے ہی کی بدولت ہے تو کیا اسلام ہی کو خیر باد کہہ کر اس سے الگ ہو جاؤ گے اس لیے کہ اتفاق کو ضروری اور فرض واجب سمجھتے ہو جیسے ایک نیچری نے ایک ضروری اختلاف پر اعتراض کیا تھا کہ نااتفاقی شرک سے بھی بدتر ہے اور احمق نے موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام
کے واقعہ سے استدلال کیا تھا ۔ ہارون علیہ السلام نے موسی علیہ السلام کے اس سوال کے ما منعک اذ رایتھم ضلوا ان لا تتبعن جواب میں فرمایا تھا : انی خشیت ان تقول فرقت بین بنی اسرائیل الخ اس کا جواب صحیح تفسیر جاننے سے واضح ہے ۔ بیان القرآن میں اس کی بہت صاف تقریر ہے ۔ خیر اس بے چارے نیچری نے تو آپس کے یعنی مسلمانوں کے افتراق کو شرک سے بدتر بتلایا تھا اور یہاں پر تو اسلام اور کفر کے افتراق کو کفر سے بدتر سمجھ کر اسلام و کفر کے اتحاد پر اسلام کو اور احکام اسلام کو قربان کرنا چاہتے ہیں ۔ حق تعالی رحم فرمائیں اور فہم سلیم اور عقل کامل عطا فرمائیں ۔

( ملفوظ 74 )یورپی عوام اور عقل

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یورپ وغیرہ کی اقوام ہی کون سے بیدار مغز ہیں ۔ یہی مادہ پرست قوم ہے ہاں دنیا کے ملک گیری کے کاموں میں بہت ہوشیار ہیں ان باتوں کو عقل سے کیا واسطہ ، عقل تو کسی اور چیز کا نام ہے ۔

( ملفوظ 73 )طلب علم کے زمانہ میں بیعت کی درخواست

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ طالب علمی کے زمانہ میں کسی دوسری طرف متوجہ ہونا تعلیم کو برباد کرنا ہے ۔ طالب علم کے لیے جمعیت قلب اور یکسوئی ضروری چیز ہے اس کے برباد ہونے سے تعلیم برباد ہوتی ہے ، میں نے زمانے طالب علمی میں حضرت مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہونے کی درخواست کی تھی اس پر حضرت نے یہ فرمایا تھا کہ جب تک کتابیں ختم نہ ہو جائیں اس خیال کو شیطانی سمجھنا واقعی یہ حضرات بڑے حکیم ہیں کیسی عجیب بات فرمائی ۔ ایک وقت میں قلب دو طرف متوجہ نہیں ہو سکتا ، پس ضروری کو غیر ضروری پر ترجیح دینا چاہیے اور طالب علمی ضروری ہے اور بیعت ضروری نہیں اس وقت اس طرف متوجہ ہونے سے نہ تعلیم ہی ہو گی اور نہ یہ ہی ہو گا اس لیے کہ طالب علمی کے زمانہ میں اگر شیخ نے ذکر و شغل کی تعلیم کی تو اس طرف مشغول ہونا بھی ضروری ہو گا اور طالب علمی میں یکسوئی اور جمعیت قلب کی ضرورت ہے ۔ پس اس میں دو چیزیں متضاد کا جمع کرنا ہے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ذکر و شغل کا نفع نہ ہو گا اور پھر مایوسی ہو گی اور شیخ سے بیٹھے بٹھلائے بدگمانی پیدا ہو گی ۔ سو اچھا خاصہ خلجان
مول لینا ہے یہ تو بعد انفراغ تعلیم ہی مناسب ہے اور اگر شیخ سے کچھ تعلیم حاصل نہ کی تو بیعت کا کچھ فائدہ نہ ہوا ۔ البتہ اصلاح اخلاق طالب علمی میں بھی ضروری ہے سو اس کے لیے بیعت شرط نہیں اور اس میں کچھ وقت بھی صرف نہیں ہوتا جس سے طالب علمی کے شغل میں مزاحمت ہو ۔

( ملفوظ 72 )ہندوستان میں نماز ، بزرگوں کی صحبت اور گائے کا گوشت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہندو اب وہ ہندو نہیں رہے ، اب تو بہت ہی حوصلے بڑھ گئے اور یہ سب مسلمانوں ہی کی بدولت یہ جو کچھ بھی ہوا خلط کی بدولت ہوا ۔ ان کے راز اور اسرار ان پر کھل گئے کہ نہ ان میں اتفاق ہے نہ مال ہےاور صاحب ان چیزوں میں سے اگر کچھ بھی نہ ہو پرواہ نہیں اگر ایک چیز ہو وہ دین ہے مسلمان اب بھی دین کے پابند ہوں تو تمام دنیا کی غیر مسلم اقوام ان کا کچھ نہیں بنا سکتیں ، نہ کچھ بگاڑ سکتی ہیں ، دور کیوں جائیں دین کی محض ایک رسم گائے کا گوشت ہے یہی ایسا ہے کہ وہ سپر بن سکتا ہے اور ہندوستان میں جن لوگوں کا یہ پیشہ ہے یعنی قصاب ان سے کسی وقت میں بھی ہندوؤں کو طمع نہیں ہوئی کہ ہمارا جادو ان پر اثر کر سکتا ہے ۔ میں تو کہا کرتا ہوں کہ تین چیزیں اس زمانہ میں مسلمانوں کی وقایہ ہیں ایک نماز ، دوسرے بزرگوں کی صحبت ، تیسرے گائے کا گوشت ۔ ایک مرتبہ میں خورجہ سے واپس ہو کر وطن آ رہا تھا کہ اسٹیشن شاہدرہ پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ دہلی کے چند احباب ملاقات کے لیے آئے ہوئے ہیں ۔ ان کہ ہمراہ کھانا تھا جو ہم لوگوں کی وجہ سے لائے تھے ، من جملہ اور کھانوں کے ایک دیگچی میں قیمہ بھی تھا اور اسمیں ایک گائے کی نلی کا ٹکڑا تھا ، گاڑی پر ہجوم ہونے کی وجہ سے کشمکش ہو رہی تھی ، کثرت ہجوم سے ڈبوں میں جگہ نہ ملتی تھی ۔ ایک دوست نے بہت ہی ظرافت سے کام لیا ، وہ یہ کہ ایک ڈبہ میں سوار ہو کر کھانے کا دستر خوان بچھا لیا جس میں گائے کا گوشت تھا ، ڈبہ کے اندر کے ہندؤں کا تو یہ معاملہ ہوا کہ جس نے دیکھا وہی رام رام کہ کر وہاں سے چلتا ہوا اور باہر کی آمد کا یہ انتظام کیا کہ کھڑکی پر بیٹھ کر اور ڈبہ سے سر نکال کر اور اس ہڈے کو منہ سے لگا کر جیسے بگل ہوتا ہے اس کا روغن کھانا شروع کر دیا اور جو ہندو ڈبہ کی طرف آتا اس کو وہ ہڈا دکھا دیتے اور کہتے کہ یہاں جگہ نہیں آگے جاؤ اس ہڈے کی صورت دیکھتے ہی ہندو ڈبہ کی طرف نہ آتا ۔ میں نے اس مناسبت سے کہ اس ہڈے کی بدولت سفر نہایت ہی آرام سے طے ہو گیا ، اس ہڈے کا نام سفری پستول رکھ دیا تھا ۔ اس واقعہ کے بیان سے یہ مقصود نہیں کہ ایسا کرنا مناسب ہے یہ محض ایک دل لگی تھی جو مناسب بھی نہ تھی ، مقصود میرا یہ ہے کہ گائے کے گوشت کا تلبس اثر کفر کے بعد میں خاص طور پر مؤثر ہے ۔

( ملفوظ 71 )آپ کا آنا پائی برابر بھی نہ ہوا

ایک صاحب نووارد حیدرآباد دکن سے حاضر ہوئے ۔ حضرت والا نےدریافت فرمایا کہ اس قبل کبھی آپ کا یہاں آنا ہوا یا خط و کتابت ہوئی اور اس وقت کے آنے کی مجھ سے اجازت چاہی یا خبر دی ، سب باتوں پر نفی کا جواب دیا ، فرمایا ، اب کے روز قیام کا ارادہ ہے عرض کیا کہ آج ہی واپس ہو جاؤں گا ، فرمایا کہ آج کا آنا تو آپ کا آنا تو کیا ہوتا
پائی کی برابر بھی نہیں ۔ عرض کیا کہ پھر دوبارہ حاضر ہوں گا اس وقت تو محض زیارت مقصود تھی ، بہت ہی جی چاہ رہا تھا کہ کسی طرح ایک نظر دیکھ لوں ، فرمایا کہ آپ کی محبت کی بات ہے ۔ ان صاحب کا لباس غیر متشرع تھا ، مزاحا حضرت والا نے کہا کہ اب جو آپ آئیں تو تھانوی ہو کر آئے گا ، حیدرآبادی بن کر نہ آئے گا ، عرض کیا انشاء اللہ تعالی ایسا ہی ہو گا ۔ پھر حاضرین سے فرمایا کہ حیدرآباد کے لوگوں میں اطاعت اور ادب کا مادہ بہت ہے وہاں تو لوگوں کو پیروں نے بگاڑا ان کے یہاں اس قدر خرافات ہیں جس کا کوئی حد و حساب نہیں ۔