( ملفوظ 276 )سائل کے سلام کا جواب اور کاغذ میں مٹھائی دینا

ایک مسئلہ خاص کے سلسلہ میں حضرت والا کوئی فقہ کا فتوی ملاحظہ فرما رہے تھے ، فرمایا کہ عجیب عجیب جزئیات لکھی ہیں ۔ لکھا ہے کہ اگر سائل آ کر سلام کرے اور پھر مانگے اس کے سلام کا جواب دینا واجب نہیں اس لیے کہ مقصود اس کو سلام کرنا نہیں بلکہ مانگنا ہے ، فرمایا کہ ایک اور جزئی لکھی ہے کہ ہمارے زمانہ میں روافض داہنے ہاتھھ میں انگوٹھی پہنتے ہیں اس لیے گو یہ سنت ہے مگر روافض کا شعار ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے ۔ فرمایا کہ ایک اور جزئی لکھی ہے جو کاغذ میں مٹھائی وغیرہ لپیٹتے ہیں اس کے متعلق لکھا کہ نجوم و طب اور ادب کی کتاب کے اوراق میں لپیٹ لینا جائز ہے مگر شرط یہ ہے کہ اس میں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا نام نہ ہو اور اگر ہو اس کو جدا کر لیا جائے ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ لپیٹ لینا ناجائز ہے یا مکروہ ہے ، فرمایا کہ الفاظ تو مجھے یاد نہیں مگر تقابل کیا ہوا مکروہ وہ بھی ناجائز ہی کی ایک قسم ہے ۔ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ اس بلا میں تو ہم بھی مبتلا ہیں ایسی چیزیں بدون ان قیود کی رعایت کے لپیٹ لیتے ہیں اور یہ بہت ہی برا ہے کہ جس میں خود مبتلا ہو اس کو کھینچ تان کر جائز کرنے کی کوشش کرے اس سے اچھا ہے کہ اپنی غلطی کا اقرار کر لے ۔