سماع اور اس کے نفسانی اثرات کی تحقیق ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آداب سماع میں لکھا ہے کہ مجلس میں کوئی شخص دوسرے مذاق کا نہ ہو ورنہ قلب میں تنگی اور اس سے وجد و حال میں رکاوٹ ہو جاتی ہے ـ اسی طرح ہر شخص کے سامنے بولنے کو میرا دل نہیں کھلتا ـ اب لوگوں نے سماع کو تماشا بنا لیا ہے حتی کہ لہو و لعب تک توبت پہنچ گئی ـ ایک مرتبہ بریلی میں ایک عرس کے موقع پر کلکٹر اور سپر نٹنڈنٹ کو مجلس سماع میں بلایا گیا ـ سپر نٹنڈنٹ نے کلکٹر سے کہا کہ میرے بدن میں تو سنساہٹ معلوم ہوتی ہے کلکٹر نے بھی کہا میری بھی یہی حالت ہے آخر دونوں اٹھ کر چلے گئے ـ اب لوگ کہتے ہیں کہ دیکھو انگریزوں پر بھی اثر ہوا ـ میں نے سن کر کہا کہ یہ نفسانی اثر ہے اس میں مومن کی بھی تخصیص نہیں چنانچہ سانب پر بھی بین کا اثر ہوتا ہے یہ تو چیز ہی ایسی ہے آخر شارع کی کوئی تو حکمت ہے کہ ایسی چیزوں کی ممانعت فرمائی گئی وہ حکمت یہی اثر نفسانی ہے ـ ایک صاحب نے مجھ سے ایک حکایت بیان کی تھی کہ ایک باغ والے نے باغ میں سیٹی بجائی ہرنی وحشی اس آواز سے اس طرح موہوش ہو کر پاس آ کھڑی ہوئی اسکے بطور لطیفہ کے فرمایا کہ اثر سماع کیلئے غزال ہونا بھی کافی ہے غزالی ہونے کی ضرورت نہیں ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حدیث قرآن شریف سن کر جو کیفیت پیدا ہو کیسی ہے فرمایا کہ دیکھنا یہ ہے کہ حدود کے اندر ہے یا باہر ـ
ملفوظ 257: سماع اور اس کے نفسانی اثرات کی تحقیق
لوگ ایسی باتوں میں یا ایسے معاملات میں بوجہ بے خبری کے حقیقت کو نہیں پہنچتے اسباب کو دیکھتے ہیں آثار کو نہیں دیکھتے ـ اسباب کا دیکھنا نہیں ـ بلکہ دیکھنا آثار کا ہے جیسے اگر کوئی مجلد اور ضخیم قرآن شریف سے کسی کو ہلاک کر دے کیا یہ جائز ہو جائیگا ـ اب اگر قرآن شریف سن کر نفسانی کیفیت پیدا ہو تو وہ محمود نہ ہو گی ـ مثلا کسی امرد سے قرآن شریف سنا اس کی آواز یا صورت سے قلب میں ایک کیفیت پیدا ہوئی تو یہاں اسباب کو نہ دیکھیں گے آثار کو دیکھیں گے اور ظاہر ہے کہ وہ کیفیت یقینا نفسانی ہو گی ـ ایسے ہی سماع کو سمجھ لیا جائے اس کی بھی حدود ہیں ہر شخص کو جائز نہیں جیسا کہ آجکل ہر کس و نا کس کو اس میں ابتلاء ہے شیخ شیرازی اسی فرق کو کہتے ہیں کہ ؎ سماع اے برادر بگویم کہ چیست ٭ مگر مستمع را بدائم کہ کیست ( اے بھائی سماع کا حکم تو میں تم کو بتاؤں کہ کیا ہے مگر (پہلے) سننے والے کو معلوم کروں کہ کون ہے ـ 12) مولانا رومی فرماتے ہیں ؎ زندہ دلاں مردہ تناں را رواست ٭ مردہ دلاں زندہ تناں را خطا ست ( جن کے دل ( بوجہ تعلق مع اللہ کے ) زندہ ہوں اور بدن مردہ ہوں ان کے لئے ( سماع ) جائز ہے اور جن کے دل مردہ اور تن زندہ ہوں ان کو سننا غلطی ہے ـ 12) سلطان نظام الدین قدس سرہ اس کیلئے چار شرائط بتاتے ہیں ـ سامع ، مسمع ، مسموع ، آلہ سماع ـ فرماتے ہیں ـ سامع از اہل دل باشد از اہل ہوی و شہوت نباشد ٭ مسمع مرد تمام با شد زن و کو دک نباشد مسموع مضمون ہزل نباشد ٭ آلہ سماع چنگ ورباب درمیان نباشد ( سننے والا اہل باطن ہو ـ اہل ہوی نفسانی واہل شہوت نہ ہو ـ سنانیوالا پورا مرد ہو عورت یا بے ریش لڑکا نہ ہو ـ سننے کی چیز کوئی بے ہودہ مضمون نہ ہو ـ آلہ سماع باجے گا جے نہ ہوں ) ـ
میں ایک بار اپنے ایک صاحب سماع بزرگ کو تلاش کرنے سلطان جی کے عرس میں قبل وقت عرس حاضر ہوا ـ میں اس وقت کانپور میں تھا ان سے ملنے دہلی آیا تھا ـ میں سمجھا کہ وہ عرس میں ملیں گے مگر اس وقت تک عرس میں آئے نہ تھے ـ میں قریب نماز ظہر کے لوٹا کہ پھر شہر میں مل لونگا وہاں چشتی ہی چشتی جمع تھے انہوں نے مجھ کو گھیرا کہ چشتی ہو کر سماع شروع ہونے کے وقت کہاں چلے ـ میں نے کہا کہ اگر میں شریک ہو جاؤں گا تو حضرت سلطان جی خفا ہو جائیں گے اور میں نے اوپر کا ملفوظ سلطان جی کا پڑھ دیا اور کہا کہ مجھ میں یہ شرائط نہیں سب نے کہا کہ تم تو اس کے اہل ہو مگر ہم اہل نہیں ـ ایسی تبلیغ ہم کو آج تک کسی نے نہیں کی تھی ـ
