( ملفوظ 357 )صاحب فن کے پاس بیٹھنے سے فن سے مناسبت پیدا ہوتی ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو ان نوتعلیم یافتوں سے جو قابلیت کے بڑے مدعی ہیں ، کہا کرتا ہوں کہ تم چند روز کسی محقق کے پاس بیٹھو ، تب تم میں سوال کی قابلیت پیدا ہو گی اور پاس بھی اس طرح بیٹھو کہ مجلس میں بالکل مت بولو ، اس محقق کی باتیں دن کو سنا کرو اور رات کو سوچا کرو ۔ بعضے لوگوں کو اپنی قابلیت پر بڑا ناز ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کو سوال کرنے کی بھی تمیز نہیں ہوتی ۔ ایک صاحب نے حضرت مولانا گنگوہی کو تنہا بیٹھے ہوئے دیکھا تو ادائے حق کے لیے کچھ گفتگو کرنا چاہی اور یہ گفتگو کی کہ حضرت وہ چھوٹی چھوٹی باتیں کون سی ہیں جن سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے ۔ حضرت نے مزاحا فرمایا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے انبٹہ والوں کا نکاح ٹوٹ جاتا ہو گا ، ہمارا نہیں ٹوٹتا کہنے لگے حضرت یہ ہی کفر و شرک کی باتیں حضرت نے فرمایا کہ حضرت کفر و شرک کی باتیں تو چھوٹی ہو گئیں پھر بڑی کون سی باتیں ہوں گی ، شرمندہ ہو کر خاموش ہو گئے تو حضرت نری نقل سے کام نہیں چلتا جیسے انہوں نے اہل فہم کو مسائل کی تحقیق کرتے دیکھا تو خود بھی تحقیق کا جوش اٹھا ۔ ایک جاہل مجسٹریٹ کی حکایت ہے کہ وہ مجسٹریٹ ہو گیا ، آتا جاتا کچھ تھا نہیں انہیں اب فکر ہوئی کہ فیصلے کس طرح دیا کروں گا ، فیصلے دیکھنے کے لیے ایک اور مجسٹریٹ کے اجلاس میں پہنچے وہاں جا کر دیکھا اتفاق سے ایک درخواست پیش آ گئی اس کو منظور کر لیا دوسری آئی اس کو نا منظور کر دیا بس آپ نے اپنے اجلاس میں آ کر اس طرح نقل شروع کر دی جو طاق کے سلسلہ میں درخواست آ گئی منجور اور جو جفت کے سلسلہ میں درخوست آ گئی نا منجور ۔ حضرت جس فن میں بدون شیخ یا استاد کے قدم رکھے گا یہی حالت ہو گی کہ اس کا درجہ نقال سے نہیں بڑھ سکتا ۔ ایک صاحب کی حکایت ہے کہ
ان کی بیوی گلگلے پکا رہی تھی ان کو بیوی سے کسی کام کی ضرورت تھی ، بیوی نے کہا کہ میں اس وقت اس کام میں لگی ہوئی ہوں اس سے فارغ ہو کر کر دوں گی ، کہنے لگے یہ کام میں کر دوں گا وہ بیچاری چھوڑ کر کھڑی ہو گئی میاں گلگلے پکانے پر تیار ہوئے اور کھڑے کھڑے کڑاہی میں آٹا چھوڑ دیا تمام تیل کی چھینٹیں اوپر آئیں ، بھاگے چولہے کے پاس سے ۔ دیکھ لیجئے ایک معمولی سی بات مگر چونکہ کسی اہل فن سے سیکھی نہ تھی اس کو انجام نہ دے سکے تو بھلا اور کام تو کیا کوئی انجام دے سکتا ہے ۔ خصوص جن کاموں کا تعلق ذوق اور وجدان سے ہو ۔