(ملفوظ 75)تعلیم کی بیعت سے زیادہ ضرورت ہے

(ملفوظ ۷۵) ایک گفتگو کے سلسلہ میں فرمایا کہ تنبیہات میں نمونے دکھاتا ہوں لوگوں کی بےفکری سے معلوم ہوتا ہے کہ فکر ہے ہی نہیں ایک صاحب نے عرض کیا کہ آج کل بیعت پر لوگوں کو اصرار ہوتا ہے تعلیم کی طرف توجہ نہیں کرتے فرمایا میں اسی عقیدہ کی اصلاح چاہتا ہوں یہ بہت جہالت ہے کہ لوگ کام کو ضروری نہیں سمجھتے بیعت کو ضروری سمجھتے ہیں

(ملفوظ 74)عدم مناسبت کی صورت میں الگ کرنا حضرت خضر علیہ السلام کی سنت ہے

(ملفوظ 74) ایک نووارد صاحب کی غلطی پر منتبہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ یہ تو فطری بات ہے کہ آتے ہی انسان بتلا دے کہ میں کون ہوں کہاں سے آیا ہوں اور یہاں کیوں آیا ہوں مگر انہوں نے ایسی موٹی بات میں فرو گذاشت کی تو اب ان کا طرز میرے طرز سے بعید میرا طرز ان کے طرز سے بعید۔ پھر نباہ کیسے ہو لہذا عدم منا سبت کی صورت میں الگ کردینا خضرعلیہ السلام کی سنت ہے کہ انہوں نے عدم توافق کی بناء پر حضرت موسی علیہ السلام سے عرض کردیا

ھذا فراق بینی وبینک

اس معمول پر مجھے کوئی الزام نہیں دے سکتا نہ موسی علیہ السلام سے کوئی بڑا ہوسکتا ہے

(ملفوظ 73)مریض نسخہ خود تجویز نہیں کر سکتا

(ملفوظ 73) ایک خط کے جواب کے سلسلے میں زبانی ارشاد فرمایا کہ اگر پیچس کا مریض کہے کہ بنا ہوا گوشت دے دو بچہ کہے کہ ہاتھ میں سانپ لوں گا تو کیا دینا چاہیے اس کو کیا خبر وہ کیا جانے نادان ہے اسی طرح اس کاتب خط کو کیا خبر کے مصلحت کیا ہے ان کو چاہئے کہ وہ تعابع نہیں میں ان کا تعابع کیوں بنوں آپ ہی انصاف کیجئے جب مرض خود تجویز کر کرلیا اور نسخہ بھی خود ہی لکھ لیا اب مریض مریض ہی نہیں وہ تو خود مستقل طبیب ہے پھر اس کو طبیب کی کیا ضرورت

(ملفوظ 71)عام باتوں کی تعلیم

(ملفوظ 71) ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگ بڑے ذہین ہوتے ہیں ایک شخص نے کسی غلطی پر میرے مواخذہ کرنے پر کہا کہ اسی واسطے تو یہاں آتے ہیں کہ غلطیوں کی اصلاح ہو میں نے کہا کہ کل کو حوض کی نالی میں پاخانہ بھر دینا اور کہنا کہ پیر جی ذرا آبدست لے دیجئو اور جب کوئی مواخذہ کرے تو کہہ دینا کہ غلطیوں کی اصلاح کے لئے تو آئے ہیں میں نے یہ بھی کہا کہ یہاں ان باتوں کی تعلیم ہوتی ہے جو تمہاری سمجھ میں نہ آ سکے اور جو غلطی تم نے کی ہے اس کو تم خود سمجھ سکتے ہو جیسے حوض کی نالی میں پاخانہ پھرنا کہ ایسا کبھی نہیں کر سکتے

(ملفوظ 69)صاحب حاجت کو ضروری قیود کا پابند ہونا چاہئے

(ملفوظ ۶۹) ایک صاحب کی غلطی پر مواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ صاحب حاجت کو چاہیے کہ خود سب ضروری قیود کا پابند ہو اور جس سے کام لینا ہے اس کو آزاد رکھے یہ ہے تربیت اصول کے موافق انسان کو ہر کام میں اہتمال اور فکر ہونا چاہئے اس پر بھی اگر کوئی گزاشت ہو جائے تو یہ سمجھ لیتا ہوں کہ بشر ہے ہاں بے فکری اور بے پروائی سے ناگواری ہوتی ہے اور میں بلاوجہ تھوڑا ہی کسی کو کچھ کہتا ہوں بے وجہ کہنا تو اس کا کام ہے یا تو متکبر ہو دوسروں کی تحقیر کے لیے باتیں نکالا کرے یا دماغ میں خلل ہو وہ الٹی پلٹی ہانکا کرے الحمدللہ یہاں یہ دونوں باتیں نہیں ہیں میں سب صاحبوں سے عرض کرتا ہوں کہ یہاں مجلس میں بیٹھ کر کسی قسم کی بےاصول حرکت نہ کیجائے حتی کہ میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ جس وقت میں کسی پر مواخذہ کرو کوئی شخص میری نصرت وتائید کرے گو اس میں معتوب کو سمجھانا ہی مقصود ہو اس میں چند مفاسد ہیں ایک تو اس میں میری اہانت ہے اس کے تو یہ معنی ہیں کہ تو اور تیری اصلاح کافی نہیں جب تک ہم بیچ میں جوڑ نہ لگائیں دوسرے اس میں آنے والوں کی رہائیرعایت کی کے ان کی تفہیم کی تکمیل کر دی میری مصلحتوں کی ذرہ برابر پرواہ نہ کی گئی کیونکہ دوسرے کا دخل دینا دینے والے کو میرا مقرب سمجھیں گے اور اس میں جو مفاسد ہیں وہ بے شمار ہیں اور بزرگوں کے درباروں میں شب وروز مشاہد ہیں۔