فرمایا کہ ایک خط آیا ہے لکھا ہے کہ جھوٹ بولنے کی عادت ہے اگر جھوٹ نہ بولا جائے تو شرمندگی ہوتی ہے جواب لکھا گیا گوہ کھانے والوں میں بیٹھ کر کوئی گوہ کھانے لگے اور کہے کہ اگر نہ کھاؤں تو شرمندگی ہوتی ہے ایسے شخص کا کیا علاج ۔ پھر فرمایا کہ گوہ کھانا قبیح حسا ہے اور جھوٹ بولنا قبیح شرعا ہے دونوں میں فرق کیا ہے اس فرق پر یاد آیا ایک شخص تھا عبدالرحیم یہ دہری تھا اس نے مولانا شہید صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے گفتگو میں کہا کہ داڑھی رکھنا اس لئے ضروری نہیں کہ پیدائش کے وقت یہ نہ تھی تو یہ فطرت کے خلاف ہے ۔ مولانا شہید نے جواب میں فرمایا کہ اس وقت تو دانت بھی نہ تھے ان کو بھی نکلوا دو اپنا سا منہ لے کر رہ گیا ، مولوی عبدالحی صاحب حضرت شہید صاحب کے رفیق تھے انہوں نے کہا کہ واہ مولانا کیا دندان شکن جواب دیا اس دندان شکن میں عجیب لطیفہ ہے ۔
اقوال
( ملفوظ 518)فکر چھوڑئیے ذکر جوڑئیے
ایک خط کے جواب میں فرمایا کہ فکر چھوڑئیے ذکر جوڑئیے سب اللہ فضل کرے گا ۔
( ملفوظ 517) دادا دادہ بن گئے
ایک استفتاء آیا تھا جواب تحریر فرما کر فرمایا کہ اس واقعہ میں ماں اور دادا کو حصہ ملا اور سب محروم رہے مزاحا فرمایا کہ پہلے یہ دادا تھے اب ترکہ ملنے کے بعد دادہ ہو گئے ۔
( ملفوظ 516)گرفتاری کو عزت سمجھنا
ایک صاحب نے عرض کیا کہ آج جو لوگ شورش میں کام کر رہے ہیں وہ گرفتاری کو اپنے لئے باعث فخر سمجھتے ہیں فرمایا جی ہاں یہ سمجھنا ایسے ہے جیسے ایک سرحدی ہندوستان آیا کسی شہر میں کسی حلوائی کی دکان سے حلوا اٹھا کر لے بھاگا اور کھا گیا اس کو پکڑ کر پولیس میں پہنچا دیا داروغہ نے دیکھا کہ نووارد شخص ہے اور ایک معمولی سی حرکت پر کیا چالان کیا جائے حکم دیا کہ اس کو ایک گدھے پر سوار کر کے لڑکوں کو کوئی چیز بجانے والی ہاتھ میں دے کر سارے شہر کا گشت کراؤ یہی سزا کافی ہے جب یہ سرحدی وطن واپس گیا لوگوں نے دریافت کیا کہ آغا ہندوستان رفتہ بودی آں چگونہ ملک است تو یہ سرحدی کہتے ہیں کہ ہندوستان خوب ملک است حلوہ خوردن مفت است سواری خر مفت است فوج طفلاں مفت است ڈم ڈم مفت است ہندوستان خوب ملک است تو جس قدر اسباب ذلت کے اس واسطے جمع کئے گئے تھے اس نے اپنے لئے ان کو باعث فخر اور عزت کا سمجھا یہی حالت آج کل کے لوگوں کی ہے کہ اسباب ذلت کو عزت اور فخر کا سبب سمجھتے ہیں خدا معلوم ان کی عقلوں کو ہوا کیا ہندو بڑے ہوشیار ہیں جس وقت سے گورنمنٹ نے سختی کا اعلان کیا ہے اس وقت سے ہندوں نے اپنی رفتار کو بدل دیا ہے بخلاف مسلمانوں کے یہ آگے بڑھے چلے جاتے ہیں کچھ خبر نہیں کہ انجام کیا ہے فرمایا کہ یہ وہ زمانہ ہے کہ بجائے ہوس ملک کے اپنے ایمان کی سلامتی کی فکر کرنا چاہیے ۔
( ملفوظ 515)کسی کے دل کی کسی کو خبر نہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ قلوب اللہ ہی کے قبضے میں ہیں کچھ کسی کو خبر نہیں کہ کس کا قلب کیسا ہے قصبہ مارہرہ میں ایک شخص تھا جو نہایت ہی فسق و فجور میں مبتلا تھا لوگ اس کو نصیحت کرتے کہ میاں ان کاموں سے باز آ جواب میں کہتا کہ میاں ہم جانیں ہمارا خدا جانے تم کون ہوتے ہو ایک روز بدون کسی وعظ کے اور بدون کسی ترغیب و ترہیب کے اس پر ایک حالت طاری ہوئی زبان پر یہ جاری ہوا کہ میرا کیا حال ہو گا اور رونا شروع کیا کھانا پینا سب بند دو تین روز یہی حالت رہی اور اسی حالت میں مر گیا اسی خوف میں کلیجہ پھٹ گیا جو کافر کی تلوار سے مرے وہ تو سب جانتے ہیں کہ شہید ہوتا ہے مگر جو خدا کی محبت یا خشیت کی تلوار سے مرے وہ کیوں نہ شہید ہو گا یہ اس سے بڑا شہید ہے ایک خان صاحب کی حکایت ہے کہ جتنی بازیاں دنیا میں ہو سکتی ہیں سب ان میں تھیں ، عمر رسیدہ ہو گئے تھے ، ان سے لوگ کہتے کہ بڑے میاں فسق و فجور کو چھوڑ دو قبر میں پیر لٹکائے ہوئے ہو پوچھتے پھر کیا کروں لوگ کہتے کہ نماز پڑھو ، روزہ رکھو پوچھتے نماز پڑھ کر روزہ رکھ کر کیا ہو گا ، کہتے جنت ملے گی ، اس پر جواب دیتے کہ جنت کا لینا کون سا مشکل ہے ، جنت کے لئے اتنی مشقت کی کیوں ضرورت ہے ، جنت تو بہت آسانی سے مل سکتی ہے وہ یہ کہ ایک ہاتھ ادھر مارا اور ایک ادھر مارا بس کائی سے پھٹتی چلی گئی راستہ صاف ہو گیا سامنے جنت ہے لو جنت میں پہنچ گئے اس کو کوئی نہ سمجھتا کہ یہ مجذوبوں والی بڑ ہے کیا جس وقت مولوی امیر صاحب نے ہنومان گڑھی کے موقع پر جہاد کا فتوی دیا تو یہ خان صاحب مولوی صاحب کے پاس پہنچے کہ مولوی صاحب ہم جیسے گنہگار بھی اس کام کے لئے قبول کئے جا سکتے ہیں مولوی صاحب نے فرمایا مانع کون چیز ہے غرض تلوار لے کر میدان میں پہنچ گئے اور دس بیس کو مارا او خود بھی شہید ہو گئے پھر فرمایا کہ بحمد اللہ جان دینے والے اب بھی موجود ہیں اس وقت کوئی بہت ہی بڑی چیز ہوتی ہے آنکھوں میں یا دل میں کہ جان دینا آسان ہو جاتا ہے اور یہ حالت ہو جاتی ہے غرض برکات اب بھی ہیں اسی کی نسبت فرماتے ہیں ۔
ہنوز آں ابر رحمت درفشانست خم و خمخانہ با مہر و نشانست
( ملفوظ 514)آسیب کے نقش پندرہ میں ترمیم
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ محقق کی ہر ضروری چیز پر نظر ہوتی ہے ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک پندرہ کا نقش تھا اس کے ہر چہار گوشوں پر اجب یا جبرائیل اجب یا میکائیل وغیرہ لکھا تھا جس کو باقی رکھا جائے تو موہم شرک اور حذف کیا جائے تو عمل ناتمام حضرت نے اس میں اس طرح اصلاح فرمائی اجب یا رب جبرائیل اجب یا رب میکائیل جس میں سب ضروری رعایتیں ہو گئیں ایک نقش پندرہ کا میرے پاس بھی ہے اکثر آسیب زدہ کو لکھ دیتا ہوں اس کے آخر میں شیاطین کے نام کے ساتھ لکھا ہے کہ سوختہ شوند اور شریعت میں کسی کے جلانے کی اجازت نہیں میں نے اس میں اتنا اور بڑھا دیا کہ اگر نہ گریزند سوختہ اب اگر وہ جلے گا اپنی مرضی سے ورنہ ہم نے تو اس کو مہلت دے دی دیکھئے جہاد میں گو کفار کے مکانات باغات جلا دینے کا جواز ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی حکم ہے کہ تین طرف آگ لگائی جائے ایک طرف راستہ چھوڑ دینے کا حکم ہے تا کہ کفار اگر اس راستہ سے نکلنا چاہیں نکل جائیں کوئی مدعی ادیان کا تو اپنے یہاں باغی کے ایسے حقوق تو بتلا دے اسی رعایت حقوق کی فرع ہے کہ جہاد میں بیٹے کو اجازت نہیں کہ وہ باپ کو قتل کرے اسلام نے اس کے حق کی کیسی رعایت رکھی حالانکہ عین قتال کے وقت غصہ ہوتا ہے مگر اس موقعہ پر حکم ہے کہ غصہ کو ضبط کرو ۔ اور باپ کو قتل نہ کرو اس لئے کہ وہ محسن ہے اس نے پرورش کیا ہے اگر یہ بھی نہ ہو تو تمہارے وجود کا سبب بنا ہے یہ رعایات اسلام کی خوبی ہے دوسرا کوئی شخص اس کی مثال پیش نہیں کر سکتا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی زرہ چوری ہو گئی ایک روز حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک یہودی کے پاس زرہ دیکھی آپ نے اس کو شناخت کر لیا کہ یہ زرہ میری ہے اگر چاہتے تو آپ امیر المومنین تھے اس سے زرہ جبرا لیتے اس بے چارہ کا وجود ہی کیا تھا مگر آپ نے ایسا نہیں کیا باقاعدہ قاضی شریح کے یہاں دعوے کیا یہ قاضی بھی ظاہر ہے کہ آپ ہی کے محکوم تھے قاضی نے شہادت طلب کی کہ آپ شہادت قائم کریں کہ یہ زرہ آپ کی ہے آپ نے اپنے بیٹے حسن رضی اللہ عنہ کو اور ایک آزاد شدہ غلام قنبر کو شہادت کے لئے پیش کیا قاضی نے عرض کیا کہ غلام کی شہادت تو معتبر ہے مگر بیٹے کی شہادت باپ کے حق میں قبول نہیں اس میں حضرت اور قاضی شریح میں اختلاف تھا حضرت علی بیٹے کی شہادت کو جائز سمجھتے تھے قاضی اس کے خلاف تھا جب آپ اور کوئی شہادت پیش نہ فرما سکے قاضی نے آپ کے خلاف مقدمہ کر دیا اور وہ زرہ یہودی کو دلوا دی آپ وہاں سے نہایت خوش خوش چل دیئے اس یہودی نے دیکھا کہ باوجود امیرالمومنین ہونے کے اور ہر قسم کی قوت کے ان پر کوئی اثر مقدمہ کے ہارنے کا نہیں ہوا یہی دلیل ہے اس مذہب کے حق ہونے کی جس کا اثر قلوب میں ایسا خالص ہے وہ آگے بڑھا اور حضرت سے عرض کیا کہ یہ زرہ آپ کی ہے اور مجھے مسلمان کر لیجئے اسی وقت اس نے کلمہ شہادت پڑھا اور مسلمان ہو گیا پھر وہ زرہ آپ نے اس کو ہبہ کر دی ۔ دوسرا واقعہ ایک یہودی نے خلیفہ وقت ہارون رشید پر قاضی کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا کہ قاضی اس وقت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ تھے مسئلہ یہ ہے کہ اگر امیرالمومنین خود عدالت میں آئیں تو قاضی کو اپنی مسند چھوڑ کر امیرالمومنین کو اس جگہ بٹھلانا چاہیے اور امیرالمومنین کے خصم کو بھی اسی مسند پر بٹھلائے تا کہ دونوں میں مساوات رہے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے مسند تو چھوڑ دی اور امیرالمومنین کو مسند پر بٹھلایا بھی اور بیان لیا مگر اس یہودی کو مسند پر نہیں بٹھلایا اپنے برابر بٹھلایا اور امیرالمومنین پر ڈگری کر دی اس یہودی کو مقدمہ جتا دیا جس وقت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کا وقت آیا تو آپ اس وقت رو رہے تھے کہ اے اللہ اس یہودی کو میں نے مسند پر نہیں بٹھلایا تھا ساری عمر میں انصاف کے خلاف مجھ سے یہی کام ہوا ہے ۔ معاف فرما دیجئے گا اگر ایسے لوگ حکومت کریں تو کیا کوئی ظالم کسی پر ظلم کر سکتا ہے ایک صاحب نے عرض کیا کہ حکومت ہی جب ظلم کرائے تو حکام کیا کریں فرمایا کہ یہ سب تاویلیں ہیں لوگوں نے جان دینا گوارا کیا مگر انصاف کے خلاف گوارا نہیں کیا ۔ پہلے ایسے لوگ بکثرت گزرے ہیں انہوں نے کر کے دکھلا دیا مگر ایسا کرنے میں ضرورت ہے قوت ایمانیہ کی ، حضرت ابوالحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ دجلہ کے کنارے پر گزر رہے تھے ایک کشتی کنارے آ کر لگی جس میں دس مٹکے بھی تھے آپ نے دریافت کیا کہ ان مٹکوں میں کیا ہے معلوم ہوا کہ ان میں شراب ہے خلیفہ کے لئے آئے ہیں آپ نے لکڑی لے کر مٹکے توڑنے شروع کر دیئے دس مٹکے تھے آپ نے نو توڑ ڈالے ایک چھوڑ دیا اس کی اطلاع خلیفہ کو دی گئی خلیفہ نے آپ کو طلب کیا آپ تشریف لے گئے اس کے ظلم کی یہ حالت تھی کہ لوہے کی کرسی لوہے کی میز اور لوہے کا قلمدان لوہے کی قلم لوہے کی پوشاک غرض یہ کہ ہر چیز آہنی اور دل بھی آہنی تھا ابوالحسن نوری رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا کہ آپ نے مٹکے توڑے ہیں فرمایا ہاں میں نے توڑے ہیں کہا کیوں فرمایا کہ حق تعالی فرماتے ہیں :
وامر بالمعروف و انہ عن المنکر
کہا کہ یہ تو محتسب کے واسطے ہے فرمایا کہ محتسب ہوں کہا سند احتساب کی کیا ہے فرمایا وہی آیت ۔
وامر بالمعروف و انہ عن المنکر
کہا کہ اب کیا ہو گا فرمایا اسی آیت میں
واصبر علی ما اصابک
بھی ہے میں اس لئے تیار ہوں جو کچھ بھی گزرے کہا کہ اچھا یہ بتلائیے کہ دس مٹکے تھے نو توڑے ایک کیوں چھوڑ دیا فرمایا نو مٹکوں تک تو محض اللہ کے واسطے ہاتھ چل رہا تھا دسویں پر نفس میں خیال آیا کہ ہم بھی ایسے ہیں اس لئے دسواں نہیں توڑا اس میں نفس کی آمیزش ہو گئی تھی اور نفس کے واسطے ہم کوئی کام نہیں کرتے اس پر خلیفہ نے کہا فی الحقیقت آپ محتسب ہیں آپ احتساب ہی کا کام ہاتھ میں لے لیجئے اور آپ کو محتسب بنا دیا پس یہ لوگ حکومت کرنے کے قابل تھے
( ملفوظ 513)حضرت کی تقریر اور وکلاء کی خواہش
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جس وقت شروع شروع کانپور گیا تو اس وقت عمر تقریبا بیس برس کی تھی سبزہ آغاز تھا علم نیا نیا تھا تقریر رواں تھی آواز بلند تھی بڑے بڑے بیرسٹر وعظ میں شریک ہوتے تھے ایک وعظ سن کر ایک وکیل صاحب نے کہا کہ کس ظالم نے آپ کو عربی پڑھائی آپ تو انگریزی پڑھتے بڑے زبردست بیرسٹر ہوتے ان کے نزدیک یہی بڑا کمال تھا ۔
3 ذی الحجہ 1350 ھ ۔ مجلس بعد نماز ظہر یوم یکشنبہ
( ملفوظ 512) عورتوں میں چکی پیسنا موسل کوٹنا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ پہلے عورتیں چکی پیستیں تھیں موسل سے کوٹتی تھیں چرخہ چلاتی تھیں اس سے ان کی صحت اچھی رہتی تھی اب قطعا یہ چیزیں چھوڑ دی گئیں تو عورتوں کی بھی صحت خراب رہنے لگی ۔ میں نے ایک موقع پر عورتوں سے کہا کہ تم بے کار ہوئیں تھیں اپنی نسلوں کو کیوں بے کار کرتی ہو ان سے چکی پسوایا کرو جواب ملا کہ نوج میں نے کہا موج کرو یہ نعوذ کی گت بنائی گئی ہے جس کو نوج کہتے ہیں ۔
( ملفوظ 511)غیر ملکی کپڑے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ زمانہ تحریک میں ایک استدلال یہ کیا گیا تھا بدیشی کپڑا پہننا اس لئے حرام ہے کہ اس میں سور کی چربی استعمال کی جاتی ہے ، میں کہتا ہوں کہ اگر اس روایت کو صحیح مان لیا جائے تو زائد سے زائد یہ لازم ہو گا کہ بدون دھوئے ہوئے مت پہنو یہ کیسے کہہ دیا کہ بالکل حرام ہے ۔
( ملفوظ 510)بے فکری کیسے ہو سکتی ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ عالم ناسوت کو کہتے ہیں ابدی اور روحوں کو کہتے ہیں محدود تو اس کا لازمی نتیجہ ہے کہ یہ دور کبھی ختم ہی نہیں ہو سکتا کبھی بے فکری ہو ہی نہیں سکتی کتنے ہی مجاہدے کرے ریاضتیں کرے اعمال صالحہ کرے کبھی اطمینان اور چین میسر نہیں ہو سکتا ہمیشہ چکر ہی میں رہے گا ۔

You must be logged in to post a comment.