ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بغیر شوہر کی اجازت کے عورت کو مرید نہیں کرتا اس لیے کہ بہت ممکن ہے کہ مرد غیر معتقد ہو اور عورت معتقد ہو اور مرد اس پیر کی نسبت کچھ کہنے لگے تو عورت کو ناگوار ہو اس لیے یہ مرد کو کوئی جواب دے پھر گھر میں فساد ہو اس لیے مرید کرنا مناسب نہیں میرے یہاں ہر بات الحمد للہ اصول کے ماتحت ہوتی ہے ۔
اقوال
( ملفوظ 339 )بیعت کی حقیقت کیا ہے ؟
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اصل میں بیعت کی حقیقت یہ ہے کہ جانبین کی طرف سے خاص خاص التزام ہوتا ہے ۔ شیخ تعلیم کا وعدہ کرتا ہے اور مرید اس تعلیم کی اتباع کا بس یہی بیعت ہے ۔
( ملفوظ 338 )ذکر و شغل اور حقہ پینے کی ضرورت
فرمایا کہ ایک خط آیا ہے لکھا ہے کہ ذکر و شغل جب سے شروع کیا ہے حقہ پینا چھوڑ دیا تھا اب پھر پینے کی ضرورت محسوس ہوئی اس لیے کہ پیٹ میں درد اور نفخ رہتا ہے اب اس کا پینا میرے لیے مضر تو نہ ہو گا ، جواب یہ دیا گیا کہ ضرورت کی وجہ سے کوئی حرج نہیں مگر پی کر فورا منہ صاف کر لیا جائے مسواک کر لی جائے ۔
( ملفوظ 337 )استفتاء کے جواب میں حکیمانہ تدابیر
فرمایا کہ ایک خط آیا لکھا ہے کہ ایک عورت ہے اس سے زنا تو نہیں کیا مگر اس نیت سے اشارہ سے اس کو بلایا اس کی لڑکی سے نکاح جائز ہے یا نہیں ؟ میں نے ابھی جواب مسئلہ کا نہیں دیا بے باکی بڑھتی ہے بلکہ یہ پوچھا کہ کسی اور عورت سے تو ایسا کرنے کا ارادہ نہیں ، خوب پریشان کر کے جواب دیا جائے گا ، اسی سلسلہ میں حکیمانہ جواب کی تائید میں فرمایا کہ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص دوسرے کو پکڑ کر لایا کہ اس نے انگریز کا جھوٹا کھا لیا ہے آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ ایسا کیوں کیا ؟ اس شخص نے عرض کیا کہ حضرت غلطی ہوئی ، اب ایسا نہ ہو گا ، فرمایا اچھا بھائی پھر آنا بہت نازک مسئلہ ہے ، چھوٹی موٹی کتابوں میں بھی نہ ملے گا ۔ کتابوں میں دیکھ کر بتلاؤں گا غرض خوب پریشان کر کے بتلایا یہ سب حکیمانہ تدابیر ہیں ۔
( ملفوظ 336 ) کبھی کرنا کبھی نہ کرنا ایک قسم کا دوام ہے
ایک خط کے جواب میں تحریر فرمایا کہ کچھ نہ کچھ کرتے رہنا چاہیے اسی سے سب کچھ ہو جائے گا ۔
دوست دارد دوست ایں آشفتگی کوشش بیہودہ بہ از خفتگی
ایک شخص نے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب سے شکایت کی کہ حضرت اعمال پر دوام نہیں ہوتا ، حضرت نے جواب میں فرمایا کہ اس مجموعہ پر ہی دوام کر لو کہ کبھی ہو گیا کبھی نہ ہوا ، یہ بھی ایک قسم کا دوام ہے یہ حضرت کا فرمانا ان کے حکیم ہونے پر دال ہے اس میں راز یہ ہے کہ گویہ دوام مطلوب نہیں مگر اس کو دوام میں داخل کر دینے سے طالب علم کا دل بڑھے گا اس سے دوام مطلوب نصیب ہو جائے گا ۔ غرض یہ جواب تحقیقی نہیں علاج ہے اسی سلسلہ میں فرمایا کہ اگر تہجد کے لیے ہمت نہ ہو اٹھنے کی تو اتنا ضرور کر لے جس کو فرماتے ہیں : تتجافی جنوبھم عن المضاجع ” جب لیٹے سے اٹھ کر بیٹھ گئے ۔ تتجافی تو صادق آ گیا پھر اٹھ کر زیادہ ذکر کی توفیق نہ ہو ، کوئی چھوٹی سی دعا ہی کر لو ، دو تین بار لا الہ الا اللہ ہی پڑھ لو ، انشاء اللہ تعالی اگلے روز اٹھنا آسان ہو جائے گا ۔ یہ سب تدابیر ہیں جو آئندہ کام کرنے کی ہمیت میں معین بن جاتی ہیں ۔
( ملفوظ 335 )معاصی کا زیادہ صدور نفس کی وجہ سے ہوتا ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ شیطان تو کم بختی مارا بدنام ہی ہو گیا ورنہ ہم جیسوں کے بہکانے کے لیے تو نفس ہی بڑی چیز ہے شیطان کی بھی ضرورت نہیں ، شطونگڑے ہی یعنی ذریت شیطان کافی ہیں باقی اگر ان سب کے شرور سے بچنا چاہو تو پہلے یہ معلوم کر لینے کی ضرورت ہو گی کہ دشمن مقابلہ پر کون ہے ؟ یہ معلوم ہو جانے کے بعد مقابلہ آسانی سے ہو سکتا ہے یعنی پہلے یہ معلوم کر لو اس خاص گناہ کی طرف شیطان رغبت دلا رہا ہے یا نفس سو اس کا معیار یہ ہے کہ جس وقت قلب میں معصیت کا وسوسہ پیدا ہو تو یہ دیکھو کہ باوجود بار بار کے دفع کرنے کے بعد اگر پھر وہی وسوسہ ہوتا ہے تو یہ نفس کی طرف سے ہے اس لیے کہ نفس کو گناہ سے محض حظ مقصود ہے اور خاص وقت میں حظ خاص ہی گناہ میں ہے اور اگر دفع کرنے کے بعد قلب سے وہ وسوسہ نکل جائے دوسرے گناہ کا وسوسہ پیدا ہو تو سمجھو کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے اس لیے کہ شیطان کو کوئی خاص حظ مقصود نہیں بلکہ عداوت کی وجہ سے مطلق گناہ میں مبتلا کرنا مقصود ہے اس لیے یہ شخص اگر ایک سے ہٹے گا تو وہ اس کو دوسرے میں مبتلا کرنے کی کوشش کرے گا ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ زیادہ تر صدور معاصی کا نفس ہی کی طرف سے ہے مگر لوگ دھوکہ میں ہیں کہ ایسے خطرات کے وقت کثرت سے لاحول پڑھتے ہیں مگر پھر بھی وسوسہ میں کمزوری پیدا نہیں ہوتی کیونکہ لاحول نفس کا علاج نہیں سو کتنی بڑی غلطی میں بوجہ عدم علم کے ابتلاء ہو رہا ہے نفس کا علاج کرو جو گناہ کرانے میں شیطان کی بھی اصل ہے ۔ چنانچہ ظاہر ہے کہ اوروں کو تو شیطان بہکاتا ہے مگر شیطان کو کس نے بہکایا تھا ظاہر ہے کہ شیطان کو اس کے نفس نے بہکایا تھا تو اصل کون ہوا نفس ہی تو ہوا البتہ بعد میں حق میں دخل دونوں کو ہے ۔ جب یہ معلوم ہو گیا تو شیطان کا مقابلہ لاحول اور ذکر سے کرو اور نفس کا مقابلہ ہمت سے کرو ، آج کل گڈمڈ معاملہ ہے سب کو ایک ہی لکڑی سے ہانکنا چاہتے ہیں جس کا نتیجہ ناکامی ہے اسی لیے کسی کامل کی صحبت کی ضرورت ہے ۔ ایسے علوم اسی کی صحبت سے حاصل ہوتے ہیں اسی وجہ سے فرمایا گیا ہے کہ ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابد سے بھی زیادہ بھاری ہے کیونکہ وہ خود بھی اس کے مکروفریب سے بچتا ہے اور دوسروں کو بھی حقائق بتلا کر بچاتا ہے ۔
( ملفوظ 334 ) فرضی سوال کی ممانعت
ایک صاحب کے غیر واقع سوال کے جواب میں فرمایا کہ فقہاء کو تو ضرورت تھی کہ فرض کر کے مسائل فرماتے تھے کہ شاید وقوع ہو جائے مگر سائل کو کون ضرور ہے کہ وہ فرض کر کے مسائل کی تحقیق کرے اس کو تو واقعی ضرورت کا سوال کرنا چاہیے فضولیات سے بچنا چاہیے ۔ بزرگان دین نے فضولیات سے بچنے کی قولا بھی بہت تاکید فرمائی ہے اور فعلا بھی حتی الامکان فضولیات سے بہت بچاتے تھے ۔
( ملفوظ 333 ) اکیلے بہنوئی کے ساتھ جانا جائز نہیں
ایک صاحب نے عرض کیا کہ فلاں بی بی بیعت کے لیے یہاں پر آنا چاہتی ہے اگر اجازت ہو تو دریافت فرمایا کہ ہمراہ کون آئے گا ، عرض کیا کہ میں ہمراہ آؤں گا ، وہ شخص اس بی بی کا بہنوئی تھا ، فرمایا کہ اکیلی عورت کا بہنوئی کے ساتھ آنا شریعت میں جائز نہیں اور کوئی عورت بھی ہمراہ آئے گی ۔ عرض کیا کہ میری والدہ آ جائیں گی ، فرمایا کہ یہ ٹھیک ہے اب کہی کام کی بات ، اب آنے کی اجازت ہے ۔ ان سے کہہ دینا کہ فلاں دن دس بجے دن کے قریب آؤ ، کھانا کھا کر آؤ اور اگر اس وقت کسی وجہ سے بیعت نہ کر سکوں تو شب کو ٹھہرو مگر اپنا انتظام ٹھہرنے کا خود کرنا ہو گا ، شب کا کھانا ساتھ لانا ہو گا ، ان شرائط کے ساتھ آ سکتی ہو یہ سب باتیں تفصیل سے کہہ دینا اگر زبانی یاد نہ رہیں تو ایک پرچہ پر بطور یاداشت لکھ لو اگر اس کے خلاف ہوا تو آپ ذمہ دار ہوں گے میں ذمہ دار نہ ہوں گا ۔ صاف بات ہے اسی سلسلہ میں فرمایا کہ آج کل پیروں نے اصول چھوڑ دیئے وصول پر پڑ گئے اس لیے نفع دینی کا حصول نہیں ہوتا ۔
( ملفوظ 332 )دوستوں کی محبت سرمایہ نجات
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت ہمارے پاس تو یہی ایک سرمایہ ہے کہ دوستوں کو محبت ہے اسی سے امید ہے کہ شاید آخرت میں نجات ہو جائے اور کچھ بھی نہیں ۔
16 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس بعد نماز جمعہ
( ملفوظ 331 )کافر اور مسلمان میں کوئی دوستی نہیں
ایک صاحب کے سوال کے جواب متعلق بعض ہندوؤں کا یہ کہنا کہ ان کا کیا مسلمان اور کیا ہندو اس کہنے کا واقعہ یہ ہے کہ مولانا سے اکثر لوگ تبرک مانگتے تو مولانا نے ایک چورن کی گولیاں ایک بنئے کو بنوا دی تھیں جو کوئی تبرک مانگتا ، فرماتے وہ گولیاں خرید کر دم کرا لو ۔ چنانچہ بعض اوقات ہندو بھی دم کرانے لاتے تو چونکہ مولانا پر اکثر اوقات جذب غالب رہتا تھا اس لیے کبھی تو دم کر دیتے اور بعض مرتبہ تھوک دیتے اور اس سے ہندوؤں کو ذرہ برابر بھی ناگواری نہ ہوتی تھی ایسے لوگوں سے بعض غیر معتقد ہندوؤں نے بطور اعتراض کے کہا کہ تم مسلمان کا تھوک کھاتے ہو اس پر ان معتقدین نے جواب دے دیا تھا کہ ان کا کیا ہندو کیا مسلمان ۔

You must be logged in to post a comment.