ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ جانوروں میں عقل بالکل نہیں ہوتی محققین کے نزدیک صحیح نہیں ۔ البتہ وہ عقل نہیں ہوتی جس سے احکام کا مکلف بنتا ہے وہ خاص ہے انسان کے ساتھ جو شخص اپنی اس عقل سے کام نہ لے وہ جانور کے مشابہ ہے مگر جانور بے عقل کہلائے گا اور یہ شخص کم عقل ۔ سو یہی کم عقلی بہت ہی بری چیز ہے اس سے یہاں پر بھی گمراہی ہوتی ہے وہاں پر سزا اور کبھی یہاں بھی سزا ہو جاتی ہے ۔ ایک شیعی کو ایک انگریز نے اپنے اجلاس سے تبرا پر سزا دی تھی اس نے کہا تبرا ہمارے یہاں مذہبی عبادت ہے اور عبادت میں ہر شخص آذاد ہے اس انگریز نے کہا کہ ہم بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ مذہبی عبادت ہے مگر اس عبادت کا اجر آخرت ملے تو ملے مگر یہاں تو فلاں دفعہ کے تحت سزا بھگتنی پی پڑے گی ۔ خوب ہی فیصلہ دیا بعض حکام بڑے دانشمند ہوتے ہیں بعض حکام کی دانشمندی پر یہ حکایت بیان کی کہ ایک مولوی صاحب نے جن پر تحریکات خلافت کے زمانہ میں بعض نوکریوں کی حرمت کے فتوی پر کراچی میں جیل کی سزا ہوئی تھی یہ کہا کہ فلاں شخص نے بھی تو ( اس سے میں مراد تھا ) یہی فتوی دیا ہے جس کی بناء پر ہم مجرم قرار دیئے گئے ۔ حاکم نے جواب دیا کہ آپ کی نیت اضرار سلطنت کی ہے ۔ یہ جرم ہے ان کی نیت اضرار سلطنت نہیں وہ جرم نہیں یہ فرق سمجھنا فہم کے متعلق ہے پھر فرمایا کہ عنایت فرماؤں کی عنایت مجھ پر ہمیشہ رہی ۔ اس پر مجھ کو ایک شعر یاد آ گیا ہے :
قتل ایں خستہ بشمشیر تو تقدیر نبود ورنہ ہیچ از دل بے رحم تو تقصیر نبود
اقوال
( ملفوظ 329 )غلام احمد قادیانی پر نفسانیت کا غلبہ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب غلام احمد قادیانی کے متعلق فرماتے تھے کہ شروع میں تو کوئی غلطی ہو گئی مگر آخر میں نفسانیت ہو گئی ۔ اسی کی وجہ سے ہمیشہ غلطی پر اصرار رہا اور رجوع ایک دعوے سے بھی نہیں ۔ بات یہ ہے کہ جب ایسا ابتلاء ہوتا ہے تو وہ وقت بڑا ہی خطرناک ہوتا ہے بدون رہبر کامل کے اس راہ سے گزرنا غیر ممکنات سے ہوتا ہے ۔
( ملفوظ 328 )فکر آخرت بدن کو گھلاتی اور روح کو تازہ کرتی ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حدیث میں جو آیا ہے کہ اللہ تعالی موٹے عالم سے نفرت رکھتے ہیں یہاں پر مراد موٹا ہونا بے فکری سے ہے اس لیے کہ فکر آخرت وہ چیز ہے کہ بدن کو گھلا دیتی ہے اور روح کو تازہ کرتی ہے ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
صحت ایں حس زمعموری تن صحت آں حس زتخریب بدن
صحت ایں حس بجوئیداز طبیب صحت آں حس بجوائیداز حبیب
چند خوانی حکمت یونانیاں حکمت ایمانیاں راہم بخواں
( اس ظاہری بدن کی فربہی تو بدن کو پالنے سے ہوتی ہے اور باطن کی ترقی ظاہری حالت کو بگاڑنے سے ہوتی ہے اس بدن کی صحت تو طبیب کے پاس ڈھونڈو اور باطن کی محبوب کے پاس تلاش کرو ۔ یونانیوں کی حکمت کب تک پڑھتے رہو گے ، ایمانیوں کی حکمت کو بھی پڑھ لو )
ایک بزرگ کی حکایت ہے کہ رات کو سوتے نہ تھے بیوی نے کہا کہ سو جائیے تکلیف ہو گی ، فرمایا کہ جب سے یہ آیت تلاوت کی ہے کہ ” قوا انفسکم و اھلیکم نارا و قودھا الناس و الحجارۃ ” ( تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پھتر ہیں ) نیند نہیں آتی اور یہی فکر ہے جس سے حظوظ نفس مضمحل ہو جاتے ہیں ۔ حظوظ کے مغلوب ہو جانے پر ایک حکایت فرمائی کہ کرامات اولیاء میں ہے کہ ایک بزرگ جو قریشی کہلاتے تھے جذامی تھے ان کی بیوی بھی نہ تھی ان کے ایک مرید کی لڑکی نے سنا کہ شیخ کو نکاح کی ضرورت ہے اس لڑکی نے دین پر اپنی دنیاوی حیاء کو نثار کر کے باپ سے کہا کہ معلوم ہوا کہ آپ کے شیخ کو ضرورت نکاح کی ہے آپ جا کر کہیں کہ میری بیٹی حاضر ہے اور وہ نکاح آپ سے کرنے پر راضی ہے ۔ مرید نے جا کر شیخ کی خدمت میں عرض کیا شیخ بھی تیار ہو گئے ، غرض کہ نکاح ہو گیا ، اب شب کو شیخ اپنی بیوی کے پاس پہنچے تو اس حالت میں کہ نہایت تندرست جوان نہایت حسین بڑی بڑی آنکھیں پتلے پتلے ہونٹ لانبی صراحی دار گردن اس لڑکی نے منہ چھپا لیا اور سوال کیا کہ تم کون ہو ؟ فرمایا کہ میں تیرا شوہر ہوں ، تیری دینداری کی وجہ سے میں نے خدا سے دعا کی مجھ کو اللہ نے ایسی قوت تصرف کی عطاء فرما دی کہ صورت بدل سکوں ، اب میں تمہارے پاس اسی شان سے آیا کروں گا وہ لڑکی جواب دیتی ہے کہ اس میں تو میرا حظ نفس شامل ہو گیا ، میں نے تو محظ اللہ کے واسطے آپ کی خدمت کو قبول کیا تھا اب یا تو اس صورت کو چھوڑ دو ورنہ مجھ کو چھوڑ دو ، کیا ٹھکانہ ہے اس للہیت کا ۔ عجیب حکایت ہے حقیقت میں بعض لوگوں کو اللہ تعالی اپنے ہی واسطے پیدا فرماتے ہیں اور ظاہری سبب اس کا فکر آخرت ہے کہ حظوظ کو مغلوب کر دیتا ہے ۔ اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ دنیا میں رہ کر تو ایسے حضرات بھی اکثر سب ہی کام کرتے ہیں ، کھانا ، پینا ، سونا ، آرام کرنا تو یہ حظوظ کہاں فنا ہوئے ۔ جواب یہ ہے کہ یہ بالکل صحیح ہے مگر اس کی ایسی مثال ہے کہ ایک شخص نے چاقو خریدا ہے ، قلم بنانے کے واسطے مگر کبھی کبھی ناخن بھی تراش لیتا ہے لیکن رہے گا وہ قلم تراش ہی ۔ اسی طرح وظیفہ ان حضرات کا شغل آخرت ہی ہے اور دوسرے حظوظ وقتی اور عارضی ہیں ۔
( ملفوظ 327 )غلبہ خوف کے ساتھ حقوق العباد
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ انبیاء علیہم السلام ہی کا ظرف تھا کہ ایک وقت میں سب کاموں کو مجتمع کر سکتے ہیں کہ خوف کا بھی غلبہ ہے اور اسی میں ازواج و اولاد کا حق بھی ادا کر رہے ہیں یا اولیاء کاملین ایسا کر سکتے ہیں اور ہم جیسوں کا کیا منہ اور ہم ہیں کس شمار میں اگر ہم پر ایسا غلبہ ہو جائے ، غالبا مجنون یا ہلاک ہو جائیں ۔
( ملفوظ 326 ) ہم مرغان جنگی نہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب کے زمانہ میں مدرسہ دارالعلوم میں ایک سوال آیا وہ حضرت نے میرے سپرد فرمایا کہ اس کا جواب لکھ دو ، میں نے جواب لکھ دیا ، وہاں سے اس پر کچھ اشکال لکھا ہوا آیا ، میں نے پیش کیا تو فرمایا کہ لکھ دو کہ ہم مرغان جنگی نہیں یہ ہمارا تبرع اور احسان تھا کہ وقت نکال کر جواب لکھ دیا اگر آپ کو ہمارے جواب سے شفا نہیں ہوتی تو ” فوق کل ذی علم علیم ” اور کسی سے تحقیق کر لو ۔
میں نے عرض کیا کہ حضرت جواب تو ہونا چاہیے فرمایا نہیں جی چنانچہ اسی پر عمل کیا گیا بعد میں اسی کا مصلحت ہونا معلوم ہوا تو غرض ہم کو بچپن سے یہی تعلیم کی گئی ہے اور یہی پسند ہے مگر افسوس ہے آج کل تو یہ بات خواص میں بھی نہیں دیکھی جاتی ۔ الا نادرا اور وہ بھی محض اس خیال سے کہ لوگ سمجھیں گے کہ انہیں کچھ آتا جاتا نہیں ، کیا واہیات خیال ہے ، علماء کو تو اسے لغو خیال سے اجتناب چاہیے ان کی تو شان یہ ہونا چاہیے :
دلفریبان نباتی ہمہ زیور بستند دلبر ماست کہ باحسن خداداد آمد
حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر مناظرہ کرنے کے وقت خاموش ہو جائے ایسی حالت میں کہ وہ حق پر تھا مگر جدال سے نفرت کی وجہ سے خاموش ہو گیا ، اس کا مکان وسط جنت میں بنے گا اور جو اس حالت میں خاموش ہو گیا کہ وہ باطل پر تھا تو اس کا مکان جنت کے کنارے پر بنے گا ۔ ایک عام خرابی جہلاء میں یہ ہو رہی ہے کہ احکام کے دلائل پوچھتے ہیں اور علماء میں یہ خرابی ہے کہ ان کو دلیل بتلاتے ہیں ۔ ایک بزرگ ایسے موقع پر عجیب جواب دیا کرتے تھے جہاں کسی نے مسئلہ کی دلیل پوچھی تو فرماتے کہ بھائی ہمارا باپ دادا تو شروع ہی سے مسلمان چلے آ رہے ہیں ، یہ نو مسلموں سے پوچھو کہ یہ مسئلہ تم نے کہاں سے سمجھا ، باقی ہمیں اس کی ضرورت نہیں ، دوسرے یہ کہ ہمارے باپ نے عمل کے لیے پڑھایا ، لڑنے کے واسطے نہیں پڑھایا تھا کیسی کام کی بات ہے ۔
( ملفوظ 325 )تقلید کی برکت سے تحقیق نصیب ہوتی ہے
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں مقلدین بن کر تقلید کی برکت سے تو محقق ہو سکتا ہے اور بدون اس کے محقق نہیں ہو سکتا اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ بچہ اگر الف ب ت شروع کرے اور وہ کہے کہ اس کی کیا دلیل ہے کہ یہ الف ہے یعنی ابتداء ہی سے محقق بننا چاہے تو بس وہ پڑھ چکا اور تم اس کو پڑھا چکے اس بچہ سے یہی کہا جائے گا کہ دلیل مانگنا اور محقق بننے کی کوشش فضول ہے اس وقت تقلید ہی سے مان لو تو گو گھڑ کر الٹی سیدھی دلیل بھی تراشی جا سکتی ہے اور اسی سے اس کا جواب بھی دیا جا سکتا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ وہ جواب مقبول ہے یا مردود ، دیکھئے حق تعالی کے سوال کے جواب میں شیطان نے بھی کہہ دیا تھا کہ
خلقتنی من نار و خلقتہ من طین
آگ افضل ہے اور طین یعنی خاک ارذل ہے تو افضل کو ارذل کے سامنے جھکانا خلاف حکمت ہے تو دیکھئے جواب تو یہ بھی ہے کہ مگر یہ دیکھئے کہ اس جواب پر شیطان کا کیا حشر ہوا کس کو معلوم نہیں اور حق تعالی نے اس جواب پر جو جواب ارشاد فرمایا وہ بھی معلوم ہے ۔ وہ جواب یہ ہے کہ ” اخرج منھا ” نکل یہاں سے جو کہ حاکمانہ جواب ہے گو اس کا حکیمانہ جواب بھی حق تعالی فرما سکتے تھے مگر یہ اسی وقت ہوتا جبکہ یہ امید ہوتی کہ مخاطب میں فہم و انصاف ہے کہ کوڑمغز نہیں اور جب یہ معلوم ہے کہ مخاطب بدفہم ہے سمجھے گا نہیں یا اگر سمجھ بھی لے مگر سوال میں نیت اچھی نہیں تو اس وقت حکیمانہ جواب نہ دیا جائے گا حاکمانہ جواب دیا جائے گا ۔ پس حاکمانہ جواب کا سنت اللہ ہونا بھی ثابت ہے آج کل یہ طرز علماء کو اختیار کرنا چاہیے کہ اگر مخاطب فہیم ہے اور محض تحقیق مقصود ہے تب تو حکیمانہ جواب دینا چاہیے اور اگر یہ بات نہیں بلکہ اس کا عکس ہے تو حاکمانہ جواب دینا چاہیے ۔ علی گڑھ میں ایک صاحب نے جو لکھے پڑھے تھے انگریزی بھی عربی بھی مجھ سے ایک حکیم کی حکمت کا سوال کیا ، میں نے کہا کہ اگر حکمت نہ معلوم ہو تو نقصان کیا ہے کہا کہ نقصان تو کچھ نہیں لیکن معلوم ہونے میں نفع ہے میں نے کہا کہ کیا نفع ہے کہا کہ اطمینان میں نے کہا کہ خود ایسے اطمینان کے مطلوب ہونے کی کیا دلیل ہے کہا کہ اگر اطمینان مطلوب نہ ہوتا تو ابراہیم علیہ السلام یہ نہ عرض کرتے ” ولکن لیطمئن قلبی ”
میں نے کہا کہ یہ کیا ضرور ہے کہ جو چیز ابراہیم علیہ السلام کو نافع ہو ، آپ کو بھی نافع ہو ، اس کی کیا دلیل ہے اس پر کچھ نہیں بولے ، خاموش ہو گئے اور اٹھ کر چل دیئے ، میں نے کہا کہ ایک بات اور سنتے جائیے ، شاید آپ کو یہ خیال ہو کہ اس کا جواب ان کے پاس نہ تھا ۔ الحمد للہ جواب ہے مگر نہیں بتلاتے اور میں نے یہ شعر پڑھا :
مصلحت نیست کہ از پردہ بروں افتد راز ورنہ در مجلس رنداں خبرے نیست کہ نیست اب ایسے جواب پر زیادہ سے زیادہ کوئی کہے گا کہ ان کو کچھ آتا جاتا نہیں ، سو کہا کرے مگر اصول کو کسی کے کہنے سننے سے نہیں چھوڑا جا سکتا ۔ اگر ساری دنیا حق تعالی کے وجود کا انکار کرے تو حق تعالی کا کیا ضرر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا انکار کرے تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا کیا ضرر اس کی ایسی مثال ہے کہ ایک شخص مالدار ہے اور دنیا اس کو غیر مالدار کہے تو اس کا کیا ضرر اور نہ اس کو اس کی ضرورت ہے کہ وہ اپنا مالدار ہونا ثابت کرے بلکہ وہ مالدار اس پر مسرور ہو گا کہ اچھا ہے یہ جہل ہی میں مبتلا رہے وہ اسی میں اپنی خیر اور راحت سمجھتا ہے اور اس کی بدفہمی اور حماقت سے مزے لے گا اور بتلانے کی کوشش نہ کرے گا ۔
( ملفوظ 324 )آنے والوں کی غرض صرف ملاقات ہونی چاہیے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہاں آنے والوں کے واسطے میں مشورہ کیا کرتا ہوں کہ سوائے ملاقات کے اور کسی غرض سے نہیں آنا چاہیے حتی کہ مخاطبت و مکاتبت بھی مقصود نہ ہونا چاہیے کیونکہ اگر خلاف اصول کچھ کہا یا لکھا چونکہ وہ سامنے ہوتے ہیں اس لیے ایسی مخاطبت مکاتبت سے تغیر ہوتا ہے اور سامنے ہونے سے بالمشافہ ان کو تنبیہ کی جاتی ہے ۔ پھر طالبوں کی شان بھی مختلف ہوتی ہے اور بعض کی تو بد تمیزی ناگوار نہیں ہوتی اور بعض کی بے حد ناگوار ہوتی ہے اور اکثر بدمزگی کی یہی وجہ ہوتی ہے کہ متکلم یا کاتب میں سلیقہ نہیں ہوتا اور ہوتا ہے وہ سامنے اس لیے اضطرارا مشافہت کا تقاضا ہوتا ہے اور اختلاف بڑھ جاتا ہے بخلاف اس کے کہ وطن سے مکاتبت کی جائے سو چونکہ سامنے ہوتا نہیں اس لیے ناگواری بھی نہیں ہوتی یہ اصول ہیں ان کے خلاف میں طرفین کو کلفت ہوتی ہے اور چونکہ اصول صحیحہ ہر موقع پر واجب الاتباع ہوتے ہیں اس لیے میں بیعت بھی اصول سے کرتا ہوں اور تعلیم بھی اصول کے ماتحت ہوتی ہے ۔ مثلا ان کی قوت کی رعایت ان کے مشاغل کی رعایت الحمد للہ ہر ہر چیز پر میری نظر رہتی ہے اور یہ میں نے تجربہ مذکورہ کی بناء پر طے کر لیا ہے کہ یہاں پر نئے آنے والوں کی تعلیم و بیعت سے خدمت نہ کروں گا ۔ یہاں پر تو صرف ملاقات کے لیے آئیں پھر اگر وہ میری باتیں سن کر وطن پہنچ کر اپنے حالات سے اطلاع دیں تو میں خدمت کو موجود ہوں ۔ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ مشافہۃ بیعت کی شرائط بھی نہ بتلاؤں گا یہاں پر تو اس کے متعلق کوئی ذکر ہی نہ ہونا چاہیے خاموش بیٹھے رہیں پھر وطن میں جا کر غور اور فکر کے بعد جو رائے قائم ہو اس سے اطلاع دیں اور یہ بھی اختیار ہے کہ جو کچھ یہاں سے لے کر جائیں وہاں جا کر ردی کی ٹوکری میں رکھیں ہاں جن سے بے تکلفی ہے وہ ان قواعد سے مستثنی ہیں اور ان اصول اور قواعد میں میری تو صرف مصلحت دنیاوی ہی ہے یعنی راحت مگر ان کی مصلحت دینیہ ہے اور میں تو ترقی کر کے کہتا ہوں کہ یہ ایک عام بات ہونی چاہیے کہ اگر کسی کو شاگرد بنائے چاہے علوم میں چاہے صنعت میں حتی کہ اگر روٹی ہی لگانا سکھائے سب کو اصول اور قاعدے سے سکھانا چاہیے ، اگر بے ڈھنگے پن سے کام لیا تو اس کا اثر فن پر پڑے گا یعنی فن بدنام ہو گا اور یہ سب باتیں بعد تجربہ کے امور طبعی ہیں ۔
اور تجربوں کے بعد یہ اصول اور قواعد منضبط ہوئے ہیں اور تحری کے بعد یہ باتیں ذہن میں آتی ہیں , پابندی قواعد کی مثال کے طور پر فرمایا کہ ایک شخص نے خط لکھا کہ وہ کارڈ تھا ، میں نے لکھا کہ یہ جواب کے لیے کافی نہیں ہے اس نے لکھا کہ اگر کسی کے پاس لفافہ کے پیسے نہ ہوں میں نے لکھا کہ تم خرچ ہم سے منگا لو مگر جواب لفافہ ہی میں ہو گا ، وہ اڑھائی آنے ہمارے پاس سے لے لو مگر وہاں سے جب آئے باقاعدہ اور باضابطہ ہی آئے اس شخص نے لکھا کہ دام بھیج دو میں نے ایک روپیہ بھیج دیا اور لکھ دیا کہ جب یہ خرچ ہو جائے اور منگا لو مگر ایک دفعہ میں ایک روپیہ سے زائد نہ بھیجا جائے گا ۔ حاکم کو دس روپیہ دینا آسان مگر درخواست جب آئے گی کورٹ فیس کا ٹکٹ اس پر ضرور ہو گا اس کے بدون منظور نہ ہو گی اور بعض گستاخوں کا یہ کہنا کہ یہ اصول تو انگریزوں کے سے ہیں بالکل غلط ہے ۔ انہوں نے خود ہم سے سیکھا ہے مانگنے والوں کو تو حق ہو گیا اور ہمارے گھر کی چیز ہے ہم کو حق نہیں ہم کو بھی تو ان پر قبضہ رکھنا چاہیے اور مزاحا فرمایا کہ کہیں ان کا قبضہ مخالفانہ نہ ہو جائے ۔ اسی سلسلہ میں ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک طالب علم یہاں پر آ کر دو چار روز ٹھرے تھے یہاں سے مراد آباد پہنچ کر لکھا کہ تمہارے یہاں جو کچھ اصول اور قواعد و ضوابط ہیں سب بدعت ہیں خیرالقرون میں یہ کچھ نہ تھا طالب علم صاحب نے مراد آباد کے مدرسہ میں تعلیم پائی ہے میں نے کہا کہ اگر جواب کے لیے کارڈ یا لفافہ آتا تو میں جواب دیتا کہ آپ نے خود طریقہ بدعت سے کتابیں ختم کی ہیں کیونکہ مدرسہ میں اسباق کے گھنٹے مقرر تھے اور خیرالقرون میں نے تھے پھر بطور ظرافت کے ایک حکایت نقل کی کہ ایک غیر مقلد سے ایک شخص نے کہا تھا کہ خیرالقرون میں تو آپ بھی نہ تھے اس لیے آپ مجسم بدعت ہیں ۔
( ملفوظ 323 )ایک خط میں ایک مضمون ہونا چاہیے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک خط میں ایک مضمون ہونا چاہیے چاہے باطن کے متعلق ہو چاہے ظاہر کے متعلق ہو خواہ فقہ کے متعلق ہو ہر حال میں ایک ہی مضمون ہو کیونکہ اس میں بھی دو چیزیں صرف ہوتی ہیں وقت اور دماغ پھر دماغ کے صرف ہونے کی بھی دو صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ ایک ہی قسم کا کام ہے طبعا اس میں گرانی نہیں ہوتی اور ایک یہ کہ مختلف قسم کا کام ہے اس میں گرانی ہوتی ہے ہاں مختلف قسم کا کام مختلف لوگوں کا ہو تو اس سے بھی گرانی نہیں ہوتی ۔
( ملفوظ 322 )پیر کا ٹرا ہونا ضروری ہے
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ امیر شاہ خان صاحب مرحوم فرماتے تھے کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ جس کا پیر ٹرا نہ ہو اس مرید کی اصلاح نہیں ہو سکتی ۔ بڑے کام کی بات ہے اور راوی بھی ثقہ ہیں ۔
16 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم جمعہ
( ملفوظ 321 )پیروں کی رشوت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل جس طرح مرتشی حکام کو پسند کیا جاتا ہے کہ وہ لے کر ہمارا کام کر دے گا اور غیر مرتشی سے امید نہیں ہوتی ۔ اسی طرح پیروں کو سمجھتے ہیں کہ اگر لیتے رہیں بلکہ مانگتے رہیں تو بہت خوش ہیں کہ حضرت کو بڑی عنایت بڑی توجہ ہے خدا جانے کیا دے دیں گے ۔ واقعی بڑی توجہ ہے کہ لوٹ رہے ہیں یہ بدفہم لوگ ایسوں ہی سے خوش رہتے ہیں کہ پیر یہ کہتا رہے کہ فلاں جگہ کے انگور بھیج دینا اور فلاں جگہ کی چائے اور فلاں جگہ کے امرود اور پانچ روپیہ ششماہی بھیج دیا کرنا یہ تو عنایت اور توجہ کی حقیقت ہے ۔ اب خوش اخلاقی کی حقیقت سمجھ لیجئے وہ یہ ہے کہ خوش اخلاقی کے معنی یہ ہیں کہ ایک تو اس کا ہر کام کر دیا جائے گو حدود سے باہر ہی ہو اور اگر یہ بھی نہ ہو تو جھوٹی امیدیں دلا کر گوڈر سے پیٹ بھر دے اور اگر پھر بھی کامیابی نہ ہو تو معتقد کہتا ہے کہ خوش اخلاق تو بڑے ہیں کوشش تو بہت کی مگر میری قسمت مزاحا تبسم کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر صاف بات کہہ دے تو پھر پیر کی قسمت ہے مرید کی نہیں ۔

You must be logged in to post a comment.