ایک صاحب نے سوال کیا کہ نقشبندی سلسلہ میں بھی بدعات ہیں اور مروج پیر زادگی کا سلسلہ ہے ۔ فرمایا کہ ہاں بہت لوگ بدعات میں مبتلا ہیں ۔ ان لوگوں نے چشتیوں کے بدنام کرنے کو بدعت کو صرف سماع میں منحصر کر دیا ہے ورنہ آج کل نقشبندیوں میں کثرت سے بدعات ہوتی ہیں ، میں نے خود دیکھا ہے ایک شخص کو مجدد صاحب کے مزار پر سجدہ کرتے ہوئے بس ان کے نزدیک صرف ایک سماع ہی بدعت ہے اور کوئی چیز بدعت نہیں ۔
اقوال
( ملفوظ 259 ) ضابطہ کی خلاف ورزی اور بدرد رومنور کی بے اثری
ایک صاحب پنجاب سے حاضر ہوئے ۔ ان کے ہمراہ دو بی بی بغرض بیعت آئیں تھیں ، حضرت والا نے دریافت فرمایا کہ کوئی خط میرا آپ کے پاس ہے جس میں میں نے آپ کو آنے کی اجازت دی ہے ۔ عرض کیا کہ عرصہ دو ماہ کا ہوا اس وقت ایک خط کے جواب میں حضرت والا نے آنے کی اجازت فرمائی تھی دریافت فرمایا کہ وہ خط کہاں ہے عرض کیا کہ وہ خط ساتھ لانا یاد نہیں رہا ۔ فرمایا کہ پھر مجھ کو کیسے اطمینان ہو اور یہ کس طرح معلوم ہو کہ میں نے کن شرائط سے آنے کی اجازت دی تھی ۔ یہ تو سب خط ہی سے معلوم ہو سکتا تھا اس پر انہوں نے کوئی معقول جواب نہ دیا ، فرمایا کہ ایسے ایسے کوڑ مغزوں سے سابقہ پڑتا ہے ۔ اب بتلائیے میں کیا کروں ، گھر میں ایک ایسا مریض ہے کہ جس کی وجہ سے تمام گھر والے پریشان ہیں اور اس پر مہمان داری خیر اگر گھر میں یہ حالت بھی نہ ہوتی تب بھی تو اس طرح آنا بے اصول ہے اور بے اصول بات سے اذیت پہنچتی ہے اگر کوئی دوسرے سے اپنی سیر بھر رعایت چاہیے تو دوسرے کی پاؤ بھر تو رعایت کرنا چاہیے ۔ اگر خط ہمراہ لے آتے تو بڑی معونت ہوتی ۔ پتہ چل جاتا کہ اس شخص کا تعلق ہم سے کس قسم کا ہے اور یہ کس برتاؤ کا مستحق ہے اور میں تو یہ لکھ بھی دیتا ہوں کہ یہ خط ہمراہ لانا اور آتے ہی دکھا دینا اس میں بڑی مصلحت ہوتی ہے اب اگر یہ کہیں عدالت میں جاتے تو کیا کاغذات متعلقہ مقدمہ مکان پر بھول آتے ، ہر گز نہیں یا نوکری کی درخواست کو گھر رکھ آتے اور خالی ہاتھ حاکم کے سامنے جا کر کھڑے ہوتے یہ ہم ہی غریب مسکین ملانے تختہ مشق کے لیے رہ گئے ہیں اب اگر سکوت کرتا ہوں تو ان کے اخلاق خراب ہوتے ہیں اگر سکوت نہیں کرتا تو بعد دل دکھتا ہے کہ اتنی دور سے آئے ان کے ساتھ ایسا برتاؤ ہوا مگر ہوا ان کی بے اصولی سے سبب اس کا وہی ہے جس کو میں اکثر کہا کرتا ہوں یعنی قلت وقعت اس میں تو کوئی شک ہی نہیں ، فرمایا کہ اکثر لوگ پنجاب کے پیروں کے بگاڑے ہوئے ہیں وہ پیر تو یہ دیکھ لیتے ہیں کہ آنے والے نے مدور یا منور ( روپیہ ) بھی دیا ہے یا نہیں ، یا آئندہ دینے کی امید ہو ، بس پھر نہ کچھ روک نہ ٹوک ، پوچھ نہ گن ، مدور ! بیض کہتے ہیں روپیہ کو یہ مشہور محاورہ ہے مگر میں نے بجائے ابیض کے منور کر دیا ہے واقعی بڑی ہی منور چیز ہے بلکہ منور بھی اس سے دل اور دماغ سب منور ہو جاتے ہیں مگر الحمد للہ یہاں اس سے کام نہیں چلتا ۔ یہاں تو خلوص کی ضرورت ہے فلوس کی ضرورت نہیں ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ ان آنے والے صاحب کی زبانی معلوم ہوا کہ آنے والیوں میں سے ایک بی بی بہت رو رہی ہیں کہ حضرت ناراض ہو گئے ، فرمایا کہ میں نے رلایا ہے بھگتیں اپنے بے ڈھنگے پن کو ہم اپنے قواعد نہیں چھوڑ سکتے ، چاہے کوئی رو دے یا ہنسے ہم کو تو ستایا جائے تکلیف پہنچائی جائے اور ہم اپنی مصالح کا انتظام بھی نہ کریں ، عجیب بات ہے ۔
12 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم دو شنبہ
( ملفوظ 258 )حق تعالی کی تنبیہ اور بندہ پر اس کا اثر
ایک ملازم لڑکے کے متعلق فرمایا کہ وہ آج پٹا ہے اس کو کسی کام کو بھیجا جاتا تھا تو کئی گھنٹہ میں واپس آتا تھا ، پیٹنے کے بعد ڈاک خانہ بھیجا ، اس قدر جلد واپس آیا ، شبہ ہوتا تھا کہ شاید ڈاک خانہ گیا بھی یا نہیں ، معلوم ہوا کہ دوڑا ہوا گیا اور دوڑا ہوا آیا ، ٹھیک ہو گیا مگر یہ اثر دو چار ہی روز رہے گا پھر وہی حرکت کرے گا فرمایا کہ یہی معاملہ بندہ کا حق سبحان تعالی کے ساتھ ہے کہ اس کو متنبہ کیا جاتا ہے چند روز اثر رہا پھر کچھ بھی نہیں وہی حرکتیں شروع کر دیتا ہے مگر حجت الہی تام ہو جاتی ہے یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھ کو تنبہ نہ ہوا ۔
( ملفوظ 257 ) شہید صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زیارت
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرات صحابہ کے قد و قامت اس زمانہ کے لوگوں سے بہت بڑے ہوں گے ، فرمایا کہ مجھ کو بھی یہی خیال ہوا کرتا تھا مگر ایک بدوی مجھ سے کہتے تھے کہ عرصہ ہوا ، ایک مرتبہ مدینہ کے پہاڑوں میں پانی جمع ہو کر سیلاب کی صورت میں ایک دم چڑھ آیا اور اس نے بہت سے مقامات کو کاٹ ڈالا ، من جملہ اور مقامات کے شہداء احد کی قبریں بھی اس سیلاب سے کٹ گئیں ، کثرت سے لاشیں دیکھی گئیں ، ان میں کوئی تغیر نہ تھا ۔ یہ معلوم ہوتا تھا کہ آج ہی دفن کی گئی ہیں ، ہزاروں مخلوق نے دیکھا ذرا برابر لاشوں میں تغیر نہ ہوا تھا ، فرمایا کہ شہید کو ان ہی کپڑوں میں دفن کیا جاتا ہے وہ لباس بجنسہ موجود تھا ، کہتے ہیں کہ موٹا کپڑا تھا اس قدر موٹا کپڑا آج کل دیکھنے میں نہیں آتا ، میں نے ان سے دریافت کیا کہ قد ان حضرات کے کیسے تھے کہا کہ اس وقت کے لوگوں سے زائد فرق نہ تھا ، یہ میں نے اسی وجہ سے سوال کیا تھا کہ میں بھی یہی خیال کرتا تھا کہ شاید اس زمانہ کے لوگوں سے زیادہ فرق ہو گا مگر معلوم ہوا کہ کوئی زیادہ تفاوت نہیں ہوا تھوڑا ہی سا فرق ہوا ہے ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ جن لوگوں نے شہدا احد کی لاشوں کی زیارت کی اس کا حاصل یہ ہوا کہ ان پر صحابہ کی زیارت نصیب ہو گئی ، کیا وہ تابعی ہو گئے ، فرمایا کہ بعد وفات کے صحابہ کی زیارت کرنے سے تابعی نہیں ہو سکتا ۔
( ملفوظ 256)ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و سلم جامع کمالات ہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مرتبہ ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا تھا کہ جو کتے پلے ہوئے ہیں کھتی وغیرہ کے واسطے ان کے علاوہ اور سب کو مار دیا جائے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم تو بادشاہی بھی کرتے تھے مال و جاہ کے اعتبار سے مسکین نہ تھے البتہ مزاج کے اعتبار سے اخلاق کے اعتبار سے مسکین تھے ۔ اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ و سلم شجاع بھی ایسے ہی تھے ایک مرتبہ رکانہ پہلوان نے جو تنہا ایک ہزار آدمیوں کے مقابل سمجھا جاتا تھا آ کر حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا کہ مجھے پچھاڑ دیں تو میں ایمان لے آؤں گا ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا آؤ وہ آیا ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اٹھا کر پھینک دیا اس نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم مجھے دوسری مرتبہ پچھاڑئیے ، فرمایا بہت اچھا پھر دوبارہ اٹھا کر پھینک دیا ، یہ شخص ایمان لے آیا ۔ فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی امت کسی بات میں بھی کسی جماعت سے شرمندہ نہیں اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم جامع کمالات ہیں حسین بھی ایسے ہی شجاع بھی ایسے ہی حسین پر یاد آیا ۔ ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو ایک مرتبہ اس حالت میں دیکھ رہا تھا کہ چاندنی رات تھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم بھی موجود تھے اور چاند مقابل پر تھا ، میں ایک نظر چاند پر کرتا اور ایک نظر حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم زیادہ حسین معلوم ہوتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا حلیہ ہر ہر اعضاء کا الگ الگ بیان کیا گیا ہے اس کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نہایت ہی حسین تھے ۔
( ملفوظ 255 )مسلسل چالیس دن گوشت کھانا یا نہ کھانا برابر ہیں
ایک صاحب نے سوال کیا کہ کیا حدیث شریف میں یہ ہے کہ چالیس دن مسلسل گوشت کھانے سے دل پر سختی آ جاتی ہے فرمایا کہ حدیث شریف میں تو نہیں بعض بزرگوں کا قول ہے اور یہ بھی بزرگوں کا قول ہے کہ مسلسل نہ کھانے سے بھی دل سخت ہو جاتا ہے ، غرض ہر چیز میں اعتدال مطلوب ہے ۔
( ملفوظ 254 ) دو ساتھیوں کے ساتھ یکساں برتاؤ ہونا چاہیے
فرمایا کہ جب دو ساتھی شخص مہمان آتے ہیں تو کھانے کے معاملہ میں ان کے ساتھ ایک سا برتاؤ کرتا ہوں مجھے یہ بھی نا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک کے ساتھ کچھ معاملہ کیا جائے اور دوسرے کے ساتھ کچھ دونوں کے ساتھ یکساں برتاؤ ہونا مناسب ہے ۔
( ملفوظ 253 ) مسماۃ کے حالات خود پوچھنا مناسب نہیں
کسی مسماۃ کے آنے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ کسی سے اس کے حالات خود پوچھ کر جرح و قدح کرنا اچھا نہیں معلوم ہوتا ، اگر وہ مسماۃ خود کچھ کہتیں اور یہاں پر آنے کی وجہ بیان کرتیں تو اس کا جواب بھی ہوتا اور جرح و قدح کا بھی حق ہوتا ، میں اس کی بھی رعایت رکھتا ہوں اس پر مجھ کو سخت مشہور کیا جاتا ہے ۔
( ملفوظ 252 )ایک چادر ہدیہ کا جواب
ایک صاحب نے حضرت والا کے لیے ایک چادر بطور ہدیہ بھیجی اس پر حضرت والا کا یہ جواب گیا ، السلام علیکم ! قبول کر کے عرض ہے کہ بدون مشورہ لیے ہوئے کوئی چیز بھیجنے کا نتیجہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ وہ چیز حاجت سے زائد ہوتی ہے ۔ اب بجز فروخت کوئی سبیل نہیں اور قیمت نہ معلوم ہونے سے خسارہ کا احتمال ہوتا ہے ۔
( ملفوظ 251 ) ایک صاحب کے ارسال کردہ سرمہ کی واپسی
فرمایا کہ ایک صاحب نے سرمہ بھیجا ہے جس کا وزن ایک تولہ ہے اور قیمت آٹھ آنہ ہے لکھا ہے کہ ویسے ہی نذر کرتا ہوں ایک ہفتہ کے استعمال کے بعد نفع ظاہر ہو گا جو نفع ہو اس کو تحریر فرما دیں میں اس کو شائع کروں گا ۔ میں نے سرمہ واپس کر دیا اور لکھ دیا ہے کہ میں کوئی چیز بدون اپنے معالج کے مشورہ کے استعمال نہیں کیا کرتا لہذا آپ کا سرمہ واپس ہے ۔ فرمایا ان کی وجہ سے میں اپنی آنکھوں کو تختہ مشق بناؤں ، موافق آئے نہ آئے اگر کوئی مضرت پہنچ گئی تو ان کا کیا بگڑ جائے گا ، زحمت تو مجھ کو اٹھانا پڑے گی ، میں ہمیشہ اس احتیاط رکھتا ہوں ۔

You must be logged in to post a comment.