ایک سلسلہ گفتگو میں تحریکات کے متعلق فرمایا کہ حکام سے تو مقابلہ نہیں کرنا چاہیے اس لیے کہ وہ ضرر پہنچا سکتے ہیں لیکن اور جگہ کسی کی رضا عدم رضا کی پرواہ نہ کرنا چاہیے کیونکہ وہ کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے اور اپنی مقاصد کی تحریکات میں سب سے بہتر اور نافع تدبیر یہ ہے کہ مسلمانوں کو قاعدہ میں کاروائی کرنا چاہیے اور جو واقعہ پیش آئے ، حکام کو اس کی اطلاع کی جائے اور وہ جو اس پر تجویز کریں اس پر کاربند ہو اگر پھر کوئی واقعہ خلاف واقع ہو تو حکام بالا کو اطلاع دیں اگر وہاں سے بھی ناکامی ہو ، صبر کریں ، ایسی شورش نہ کریں کہ نفع سے زیادہ نقصان ہو جائے ۔
3 شوال المکرم 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم پنج شنبہ
اقوال
( ملفوظ 149 ) آج کل کی اولوالعزمی تکبر ہے
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آج کل جس کا نام الوالعزمی رکھا ہے وہ فی الواقع ناشی ہے ، تکبر سے انسان کو اپنی ترفع کی فکر و اہتمام نہ چاہیے مگر ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ ذلت سے بھی بچنا چاہیے ایسی اولوالعزمی کے بارے میں یہ کلام حق تعالی کا سن لیں ۔ فرماتے ہیں :
تلک الدار الآخرۃ نجعلھا للذین لا یریدون علوا فی الارض و لا فسادا
اور اسی طرح ان متکبرین کا غرباء پر ہنسنا یا ان کو دیوانہ بتانا اس آیت میں مذکور ہے کہ
قال ان تسخروا منا فانا نسخر منکم کما تسخرون
اور سچی اولوالعزمی کے بارے فرماتے ہیں کہ :
موحد چہ برپائے ریزی زرش چہ فولاد ہندی نہی بر سرش
امید و ہراش نباشد زس ہمیں است بنیاد توحید بس
( ملفوظ 148 )امور طبعیہ کے تقاضے پر ملامت نہیں
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حرص وغیرہ امور طبعیہ ہیں امور طبعیہ کے تقاضا پر ملامت نہ ہو گی ہاں اس کے اقتضاء پر اگر عمل کرے گا تو ملامت ہو گی اور ایسے امور میں زیادہ کاوش کی ضرورت نہیں جو چیز متوسط توجہ سے یا شیخ کی تنبیہ سے سمجھ میں آ جائے اس کا علاج کر لے باقی جو چیز اصل ہے یعنی توجہ الی اللہ اس میں لگنا چاہیے ۔
( ملفوظ 147 )لوگوں میں انتظام کا قحط
ایک صاحب کی غلطی پر مواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ میں تو کہا کرتا ہوں کہ لوگوں میں تو انتظام کی قحط ہے اور مجھ کو انتظام کا ہیضہ تو ہیضہ زدہ اور قحط زدہ جمع نہیں ہو سکتے اور انتظام کی کمی کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں میں سوچ اور فکر نہیں اور انتظام بدون سوچ اور فکر کے ہو نہیں سکتا ۔
( ملفوظ 146 )علماء کیلئے شہادت اور دعوت میں شرکت نہ کرنا
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ علامہ شامی نے تو یہاں تک نقل کیا ہے کہ فقہاء اور علماء کو کسی کی شہادت بھی نہ دینی چاہیے اس کا راز یہ ہے کہ ان کو سب مسلمانوں سے یکساں تعلق رکھنا چاہیے اور شہادت میں ایک فریق میں شمار کیا جائے گا اور یہ بھی نقل کیا ہے کہ کسی کی دعوت نہ کھائیں ، اس کا راز یہ ہے کہ آج کل اس میں ذلت ہے ۔ واقعی یہ حضرات فقہاء حقیقت کو سمجھتے ہیں ، حکیم ہیں اسی سلسلہ میں فرمایا کہ والد صاحب کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے ایسی تعلیمات سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ شیخ تھے جب کبھی کہیں دعوت ہوتی تو ہم کو ساتھ نہ لے جاتے تھے ۔ جیسا کہ لوگوں کی عادت ہے کہ چھوٹے بچوں کو ساتھ لے لیتے ہیں ، رمضان المبارک میں پانچوں مسجدوں میں ختم کے روز بڑے پیمانے پر مٹھائی تقسیم ہوتی تھی تو جس روز ختم ہوتا تھا والد صاحب ہم لوگوں کو یا تو مٹھائی یا روپیہ دے دیتے اور فرماتے اگر وہاں جاتے دھکے مکے کھاتے اور پھر بھی اتنی مٹھائی نہ ملتی اب وافر مٹھائی منگا کر جی بھر کر کھا لو ۔ ان کی تربیت کی بدولت ایسی چیزوں میں آج تک جھجک ہے گو اللہ واسطہ کا کھاتے کھاتے ساری عمر گزر گئی مگر جو اس وقت جھجک تھی وہ اب تک باقی ہے واقعی بچپن کی عادت کو بڑا دخل ہوتا ہے ۔ پھر فرمایا کہ دعوت میں بچوں کے ساتھ لے جانے پر ایک ولایتی کی بیان کی ہوئی حکایت یاد آئی کہ ولایت میں جب کسی تقریب میں دعوت ہوتی تو سب لوگ اپنے اپنے بچوں کو ساتھ لے جاتے ۔ ایک ولایتی نے تماشا کیا کہ اس کا ایک بچھڑا تھا اس کو اپنے ہمراہ لے گیا اور مجمع میں کہا کہ ہمارا کوئی بچہ تو ہے نہیں ہمارا یہی بچہ ہے اس کو بھی سب کے ساتھ کھانا کھلائیں گے ، لوگوں کو بے حد شرمندگی ہوئی اور اس رسم کو چھوڑ دیا ۔
( ملفوظ 145 )کبر اور خجلت میں فرق اور ایک مثال سے اس کی تشریح
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ایک تو ہوتا ہے کبر اور ایک ہوتی ہے خجلت یعنی خلاف عادت ہونے پر جو انقباض ہو اس کو خجلت کہتے ہیں تکبر نہیں ۔ مثلا ایک حالت اس کی عادت سے ارفع ہے جیسے اس شخص کا جلوس نکالیں تو اگر اس سے اس کو نفرت ہے تو اس کو تکبر نہ کہیں گے خجلت کہیں گے اور اگر اس کا عکس ہو کہ بازار میں سر پر گھٹا رکھ کر چلنے میں تو شرماتا ہے اور جلوس نکالنے سے نہیں شرماتا ۔ گو یہ بھی خلاف عادت ہو تو اس کو تکبر کہیں گے اور اگر دونوں میں شرمائے تو تکبر نہیں خجلت ہے ۔ فرمایا کہ آج کل امراض روحانی کو تو لوگ امراض ہی نہیں سمجھتے ، میں نے ایک صاحب سے کہا تھا کہ تم میں کبر کا مرض ہے اپنی خبر لو ، نہیں مانا ، پانچ برس کے بعد اقرار کیا کہ آپ سچ کہتے تھے مجھ میں واقعی کبر کا مرض ہے میں نے کہا کہ بندہ خدا اگر اس وقت مان لیتے تو جب سے تو کیا سے کیا ہو جاتا مگر اتنے زمانہ تک اینٹھ مروڑ ہی میں رہے ۔ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بعض لوگوں کو شیوخ کی تقلید سے عار آتی ہے ، طریقت کے غیر مقلد ہو جاتے ہیں مگر اس طریق میں تمام تر مدار اعتماد پر ہے مگر بعض کو نہیں ہوتا حلانکہ اعتماد بڑی چیز ہے یہی حاصل ہے تقلید شیوخ کا ۔
( ملفوظ 144 )ملفوظات میں زیادہ نفع ہے
ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت وعظ زیادہ نافع ہے یا ملفوظ ؟ فرمایا کہ ملفوظ زیادہ نافع ہوتے ہیں اس لیے کہ ملفوظ میں خاص حالت پر گفتگو ہوتی ہے ۔ البتہ وعظوں میں سے اگر اپنے حسب حال انتخاب کر لیا جائے اس سے بھی انشاء اللہ بہت نفع ہو گا ۔
( ملفوظ 143 )خلوت کا خیال اور حضرت گنگوہی کی رائے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مرتبہ مجھ کو خیال ہوا کہ تنہائی ہو اور اللہ اللہ ہو اور اس کے لیے جنگل تجویز کیا گیا کہ ایک جھونپڑی بنا کر اس میں رہوں گا اس لیے کہ بستی میں رہنے سے ہجوم کے سبب دل گھبراتا تھا مگر ساتھ ہی یہ بھی خیال ہوا کہ بدون بزرگوں سے پوچھے کوئی بات کرنا اچھا نہیں ، میں نے حضرت مولانا گنگوہی رحمہ اللہ سے دریافت کیا حضرت نے اجازت نہ فرمائی ، دو وجہ سے ایک تو یہ کہ اس میں شہرت زیادہ ہو گی ، دوسرے یہ کہ اپنے بزرگوں کے طریقہ کے خلاف ہے ۔ میں نے عرض کیا کہ نقصان یہ ہے کہ آنے والے دق کرتے ہیں کام نہیں کرنے دیتے اب اس کی دو صورتیں ہیں اگر ان کی طرف التفات کیا تو اپنا حرج ہوتا ہے اور اگر التفات نہ کیا جائے تو ان کی دل شکنی ہوتی ہے ۔ فرمایا کہ سب کو جھاڑو مارو اپنے کام میں لگے رہو ۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی دل شکنی کو دیکھیں یا اپنی دین شکنی کو ، بزرگوں کے مشورہ میں بڑی برکت ہوتی ہے
( ملفوظ 142 )بلا ضرورت کلام کی ظلمت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بلا ضرورت کلام کرنے سے قلب پر ظلمت ہوتی ہے اور ضرورت سے اگر کلام ہو گو کتنا ہی زیادہ ہو اس سے ظلمت نہیں ہوتی ، مثلا ایک کنجڑہ تمام دن یہ کہتا پھرے کہ لے لو خربوزے اس سے رائی برابر بھی ظلمت نہ ہو گی اور بلا ضرورت اگر یہ بھی پوچھ لے کہ کب جاؤ گے تو اس سے بھی ظلمت ہوتی ہے ۔
( ملفوظ 141 )پرانے تعلق والوں کی غلطی پر مواخذہ
ایک صاحب کی غلطی پر حضرت والا نے مواخذہ فرمایا اور فرمایا کہ اس کا جواب دو ، وہ خاموش رہے ، فرمایا کہ ارے ظالمو ! اتنی اصلاح کے بعد بھی تم کو کوئی نفع نہ ہوا اب کہاں تک تمہارے افعال اقوال کی تاویلیں کیا کروں ۔ اب بتلائیے کہ میں ایک بات دریافت کر رہا ہوں ، جواب ندارد اب طبیعت میں تغیر نہ ہو تو کیا ہو کیا جواب لینے کے لیے ان کے سامنے ہاتھ جوڑوں ، خوشامد کروں ، نالائق اپنی غلطی کو تو دیکھتے نہیں ، میرے تشدد کو دیکھتے ہیں ۔ بس باب اصلاح مسدود بلکہ مفقود ہو گیا ۔ ایک صاحب کا آج منی آرڈر آیا تھا ، کوپن میں کچھ نہیں لکھا اور یہ وہ ہیں جو یہاں پر رہ بھی چکے ہیں اور برابر آتے جاتے رہتے ہیں ، مزاج سے واقف ہیں ، پرانا تعلق ہے اور پھر یہ غلطی بے حس بے فکر اور کیا کہوں تیلی کے بیل بنے ہوئے ہیں سارے دن چلتا ہے مگر وہیں رہتا ہے جب تک انسان کو خود فکر نہ ہو ، خیال نہ ہو ، اصلاح ہو نہیں سکتی اور یہ تو ان غرباء کی حالت ہے امراء کا تو کچھ کہنا ہی نہیں وہ تو سمجھتے ہیں جہاں ملانوں کو رشوت دی اور سب خفگی ختم مجھ کو امراء پر جو جلد تغیر ہوتا ہے اس کا اصلی راز یہی ہے کہ ان کے دلوں میں ملانوں کی تحقیر ہے ، میں کہا کرتا ہوں کہ ہم تو جب جانیں کہ کلکٹر کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جائے ، آخر وہاں ایسا نہیں کرتے کون چیز مانع ہے اس کا سبب صرف ان کی وقعت و عظمت اور ملانوں کی بے وقعتی ہے ۔

You must be logged in to post a comment.