ملفوظ 64: حضرت کے یہاں مزاح ہونا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب نے میرے متعلق یہ رائے ظاہر کی کہ اس
شخص میں یہ بات کھٹکتی ہے کہ مزاح بہت ہے ایک شخص نے ان صاحب سے سوال کیا کہ کیا مزاح معصیت ہے ؟ کہا کہ نہیں ـ مگر مجھ کو اچھا نہیں معلوم ہوتا ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اگر یہ معترض صاحب عالم ہیں تو حدیث میں کیا کرینگے فرمایا کہ یہ فرق کیا ہوگا کہ وہاں کثرت نہ تھی یہاں کثرت ہے فرق تو ہو سکتا ہے ـ

ملفوظ 63: شریفہ پھل

یک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت شریفہ بھی میوہ جات میں اچھی چیز ہے ـ اور ممکن ہے کہ حضرت کی کھانسی کیلئے مفید ہو وہ لانا چاہتے تھے ـ مزاحا فرمایا کہ اگر لائیں تو کسی شریف کو
لایئے شریفہ کو نہ لایئے دوہی ( منکوحہ ) بہت ہیں کوئی فوج تھوڑا ہی جمع کرنا ہے ـ اسی سلسلہ میں ارشاد فرمایا کہ میں نے تو اس کو بھی اپنے وقف نامہ میں لکھ دیا ہے کہ
اگر میں تیسرا نکاح کروں تو اس کے متعلق یہ وصایا ہیں ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ کیا تیسرا
نکاح بھی ہونے والا ہے فرمایا کہ تقدیر کا حال کس کو معلوم ہے احتیاط کی بناء پر لکھ دیا ہے بعض چیزوں کا احتمال بھی نہیں ہوتا مگر جب قدر غالب ہوتی ہے وہی ہو جاتا ہے حضرت کس کو خبر ہے کہ کیا ہونے والا ہے ـ

ملفوظ 62: اپنی مصلحت اور راحت پر عمل کرنا

ایک مولوی صاحب نے بوقت رخصت مصافحہ کیا حضرت والا نے ارشاد فرمایا کہ اس
قدر جلد واپسی ـ عرض کیا کہ انشاء اللہ تعالی عنقریب پھر حاضر خدمت ہونگا فرمایا ! اس کی ضرورت نہیں جو مناسب اور مصلحت ہو اس پر عمل کیا جائے یہ تو میں کبھی طبعا عرض کر دیتا ہوں باقی اصل
مسلک عقلا یہ ہی ہے کہ جس میں مصلحت اور راحت ہو وہ کروـ فرمایا کہ اس پر یاد آیا بعض لوگ
راحت کی پرواہ نہیں کرتے یہ غضب کرتے ہیں کہ کھانے پر اصرار کرتے ہیں کہ اور کھا لو ـ سفر میں
مجھ کو اکثر اتفاق ہوا کہ مجھ سے کھانے کیلئے اصرار کیا گیا ـ میں نے کہا کہ اگر مجھ کو کوئی تکلیف ہو گئی تو
بھگتنی تو مجھ کو ہی پڑے گی آپ کا کیا بگڑے گا کیا آپ تکلیف کو بٹالیں گے اور بٹا ہی کیا سکتے ہیں
زیادہ سے زیادہ آپ نمک سلیمانی یا کوئی چورن لا دیں گے پھر کوئی کچھ نہ بولتا تھا ـ

ملفوظ 61: اوراد کی تبدیلی کی خواہش

فرمایا ! ایک خط آیا ہے کہ پانچ سو مرتبہ ذکر کی اجازت ملی تھی فرصت نہ ملنے کی وجہ سے نہیں کر سکا اور کوئی وظیفہ بتلا دیں اس سلسلہ میں فرمایا کہ اس بے حسی کو دیکھیئے ـ دوسرے شخص پر کی
طبیعت پر کیونکر اثر نہ ہو کیونکر تغیر نہ ہو اول تو اب بھی اوراد ہی کی خواہش کی ـ میرا جو خیال ہے کہ
لوگ اوراد میں زیادہ مبتلا ہیں بمقابلہ اعمال کے وہ صحیح ہے کچھ نہیں فہم کا قحط ہے چاہتے ہیں کہ
جو ہمارا جی چاہے مصلح اس کا اتباع کرے مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا اور پیر بہت ہیں جو مرضی کے موافق
اوراد و عملیات بتلائیں ان سے تعلق پیدا کرو یہ تو اچھی خاصی غلامی ہے یہ قدر کی تعلیم کی لا حول ولاقوۃ الاباللہ ـ یہ لوگ تعلق رکھنے کے قابل نہیں بالکل بد فہم بد عقل ہیں جب آدمی کو طلب نہ ہو تو کیوں خود پریشان ہو ـ اور کیوں دوسرے کو پریشانی میں مبتلا کرے کوئی بلانے گیا تھا ـ دوسرے اس سے قطع نظر جب پہلے ہی ورد کو نہیں نباہ سکے تو اس کی کیا امید ہے کہ اب جو بتلایا جائے اس
کیلئے فرصت مل جائیگی ـ بدوں کسی خرچ کے تعلیم ہوگئی ہے اس لئے قدر نہیں ہوئی ـ اسی لئے حضرت حاجی صاحب ؒ فرمایا کرتے تھے کہ بھائی کتاب مفت مت دو
ـ دو چار پیسہ ضرور لے لیا کرو قدر تو ہو گی کتاب کی ـ اور اس وجہ سے دیکھ بھی لیں گے کچھ صرف ہوا ہے
وصول کرنا چاہئے واقعی بڑے کام کی بات فرمائی مفت کی چیز کی قدر نہیں ہوتی ـ

ملفوظ 60: حضرت کے یہاں قیام کی شرط سکوت

فرمایا ! ایک صاحب کا خط آیا ہے اس میں آنے کی اجازت چاہی ہے دو مہینہ قیام کو لکھا
ہے ـ اس قیام میں اصلاح نفس چاہتے ہیں کوئی ان سے پوچھے کہ کتابیں کتنے دنوں میں پڑھی ہیں
کچھ تو نسبت ہونی چاہیے ـ اور اب تو میں نے یہ طے کر لیا ہے ایک مدت تک خاموش رہنے کی شرط پر یہاں رہ سکتے ہو اس میں مجھ کو بھی راحت ہے ان کو بھی ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت
یہاں پر خاموش رہنے میں بڑا نفع ہے فرمایا بے شک بہت نفع ہے مگر اس کی قدر تو اہل فہم ہی کر سکتے
ہیں ـ کوڑ مغز اور بدفہم تو اس کو ٹالنا سمجھیں گے خیر سمجھا کریں جو چیز مفید ہے اور طرفین کی راحت بھی اس میں ہے کیوں اس کو چھوڑا جائے ـ

ملفوظ 59 : فقہی سوال و جواب کے لئے لفافہ کی ضرورت

فرمایا ! ایک خط آیا ہے لکھا ہے کہ پیر کو سب باتوں کا علم ہونے
کا جس کا عقیدہ ہو وہ شخص
کافر ہوا یا کیا ـ بہت سے لوگ اس کی اقتداء سے باز رہتے ہیں ( جواب ) ایسے مضمون کے
جواب کیلئے کارڈ کافی نہیں ـ پھر اسی سلسلہ میں فرمایا کہ کسی امام کے متعلق سوال معلوم ہوتا ہے
اماموں کے پیچھے لوگ ہاتھ دھو کر پڑے رہتے ہیں ـ اگر لفافہ جواب کیلئے بھیجیں گے تب کان کھولوں گا ـ کارڈ پر ایسے سوالات کا جواب میں نہیں دیتا ہوں اس لئے کہ اس میں میرا مضمون تو ہو گا
ان کا نہیں ہوگا ـ اس کی تعیین ان کے زبان پر ہوگی ـ اور لفافہ میں میرا ان کا دونوں کا مضمون ہوگا کسی
کو دکھلائیں گے تو وہ سمجھ تو لے گا کہ ایسے سوال پر جواب ہے لوگ بڑی بڑی ترکیبوں اور چالاکیوں
سے کام لیتے ہیں ـ اور اصل تو یہ ہے کہ اوروں کی فکر میں کیوں پڑے آدمی اپنا ایمان سنبھالے ـ

ملفوظ 58: اپنے رنج کا اظہار جائز ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مدرسہ کے ممبران کی نسبت ( جنہوں نے ایک فضول تحریر سے رنج دیا تھا ) میں نے نیت کرلی کہ جس جس کا خط آئے گا جتلاؤں گا ضرور کہ مجھ کو رنج ہے اور خدا نخواستہ
مجھ کو بغض نہیں کینہ نہیں عداوت نہیں ہاں رنج ضرور ہے اس کو ظاہر کروں گا ـ فرمایا بعض اوقات کسی سے
اتنا انتقام لے لینا اچھا ہے اس سے دل صاف ہو جاتا ہے مگر زیادہ پیچھے پڑنا نہ چاہئے ـ

ـ ملفوظ 57: سواد اعظم میں نور شریعت ہونا ضروری ہے

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ مدرسہ میں ممبران کی کمیٹی قائم ہے اور کثرت
رائے سے فیصلہ ہوتا ہے اور اس کو سواد اعظم سے تعبیر کرتے ہیں اس ہی معنی کو بنا جمہوریت قرار دیا
گیا ہے ـ فرمایا سواد اعظم سے مراد تو بیاض اعظم ہے یعنی نور شریعت جس جماعت میں ہو ( اگرچہ
وہ قلیل ہو) مگر لوگوں کو ایسی ہی باتوں میں سواد ( مزہ) آتاہے ـ

ملفوظ 56قرض کی یاد داشت کیلئے ایک کاپی

فرمایا ! کہ منجملہ اور معمولات کے میرا ایک یہ بھی معمول ہے کہ قرض کی یاد داشت کے لئے ایک کاپی الگ بنا رکھی ہے جس کو قرض دیتا ہوں اس میں لکھ لیتا ہوں اور جو پرچہ کے ذریعہ
سے لیتا ہے وہ پرچہ بھی محفوظ رکھتا ہوں اور وصول ہونے پر پرچہ واپس کر دیتا ہوں اور اس رقم کو
باقساط ادا کر نے والے کے سامنے اس میں وصول لکھ لیتا ہوں اور اس کو دکھا دیتا ہوں کہ دیکھو یہ
وصول لکھ لیا ہے اس میں بڑی مصلحت ہے ہر دو طرف اطمینان ہو جاتا ہے جو کام اصول کے ماتحت
ہو گا ـ اس میں کبھی الجھن یا پریشانی نہ ہوگی آجکل بدانتظامی کا نام بزرگی رکھ رکھا ہے

ملفوظ 55: آیت میں مجاہدہ سے کیا مراد ہے ؟

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ حق تعالی فرماتے ہیں :والذین جاھدوا فینا
لنھدینھم سبلنا ( جو لوگ ہماری طلب میں کوشش کرتے ہیں ہم ان کو اپنی راہ کی ہدایت کر دیتے ہیں )
“”جاھدوا “” سے مراد غورو فکر دعاؤ التجاء ، سعی و کوشش حق تعالی کے سامنے الحاح و زاری تواضع و خاکساری یہ چیزیں پیدا کرو ـ رونا اور چلانا شروع کرو نخوت اور تکبر کو دماغ سے نکال کر پھینک دو ـ اس کے بعد وصول میں دیر نہیں لگتی ـ ذرا بطور امتحان ہی کے کرکے دیکھ لو مولانافرماتے ہیں ؎
فہم و خاطر تیز کردن نیست راہ ٭ جز شکستہ می نگیرد دفضل شاہ
( بہت بڑا محقق اور عالم فاضل بننا طریق ( عشق میں کار آمد ) نہیں باد شاہ (حق تعالی )
کا فضل شکستہ حال ہی کی د ستگیری کرتا ہے )
اور محض علمی تحقیقات مسکت ہیں مسقط نہیں اس سے شبہات ساقط ہوتے مخاطب
ساکت ہو جاتا ہے اس کا طریقہ وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا ـ مولانا فرماتے ہیں کہ پھر یہ حالت ہوگی
ہر کجا پستی ست آب آنجا رود ٭ ہر کجا مشکل جواب آنجا رود
ہر کجا دردے دوا آنجا رود ٭ ہر کجا رنجے شفا آنھا رود
( پانی نشیب ہی کی طرف جاتا ہے مشکل پیش آنے پر ہی اسکا حل معلوم ہوتا ہے
جہاں درد ہوتا ہے دوا وہیں پہنچتی ہے جہاں مرض ہوتا ہے شفاء وہیں ہوتی ہے ) ـ
بغیر اس حالت کے پیدا ہوئے کامیابی مشکل ہے ـ مولانا فرماتے ہیں ۔
تانہ گرید طفل کے جوشد لبن ٭ تانہ گرید ابر کے خندو چمن
( جب تک بچہ روتا نہیں ( پستان مادر میں ) دودھ جوش نہیں کھاتا ـ جب ابر روتا (برستا ) نہیں چمن میں شادابی کہاں ہوتی ہے )
ذرا تم خاکساری پیدا کرکے دیکھو اعتقاد سے نہیں امتحان ہی کیلئے سہی مولانا فرماتے ہیں
سالہا تو سنگ بودی دل خراش ٭ آزموں را یک زمانے خاک باش
در بہاراں کے شود سر سبز سنگ ٭ خاک شو تا گل بروید رنگ رنگ
( برسوں تو سخت قسم کا پتھر بنا رہا ـ بطور امتحان کے چند روز کیلئے خاک بن جا ـ
موسم بہار میں پتھر سر سبز نہیں ہوتا ـ خاک ہو جا ـ تاکہ رنگ رنگ کے پھول ( تیرے اندر ) کھلیں ) ـ