ملفوظ 54: جوابات میں سائل کی مصالح کی رعایت کرنا

ایک خط کے جواب کے سلسلہ میں فرمایا ! کہ منجملہ میرے اور بے مروتیوں کے ایک بے
مروتی یہ بھی ہے کہ میں جواب میں سائل کی خواہش کی رعایت نہیں کرتا حدود کی اور سائل کی مصالح
کی رعایت کرتا ہوں ـ میں نے لکھ دیا ہے اور بتلا دیا ہے کہ ابھی اس کی تحقیق کا وقت نہیں جب کچھ
کام کرلو گے تب جواب میں لطف آئے گا ــ اور اب تو مجھ کو سوال ہی میں مزہ نہیں آیا تم کو جواب میں کیا مزہ آئے گا ـ یہی وجہ ہے کہ میں بغرض تربیت آنے والوں کیلئے قید لگا دیتا ہوں کہ بولا مت
کرو ـ اس لئےکہ بدوں ذوق کے بولنا مناظرہ کی سی صورت اختیار کر لیتا ہے اور یہ اس طریق میں
بے حد سخت مضر ہے یہ وہ اصول ہیں کہ طالب علمی مباحث سے قیامت تک حل نہیں ہو سکتے ـ
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت عام پیروں کے یہاں تو یہ معاملات اور اصول
ہیں نہیں صرف آپ کے یہاں ہیں اس لئے کہا جاتا ہے کہ حضرت کے مزاج میں درشتی ہے
تبسم فرما کر مزاحا فرمایا کہ تین نقطہ الک کر دیے جائیں یعنی درستی ہے ـ
فرمایا کہ آجکل کے اکثر پیروں کی تو یہ کیفیت ہے مثال تو فحش ہے مگر ہے منطبق ـ وہ یہ ہے کہ
میری اور دوسروں کی بالکل ایسی مثال ہے کہ جیسے رنڈی اور گھر ستن کی طالبوں کے جمع کرنے کی
جتنی تدابیر رنڈ ی کرتی ہے اور قسم قسم کے روپ بدلتی ہے پھنسانے کیلئے اور نائکہ سے کہتی ہے
اس کو لاؤ اس کو لاؤ ـ گھر ستن نہیں کر سکتی ـ اور اس میں ایک استغناء کی شان ہوتی ہے ـ مولانا فرماتے ہیں ؎
زیر بارند درختاں کہ ثمر ہا دارند ٭ اے خوشا سرو کہ از بند غم آزاد آمد
( زیر بار ہیں وہ درخت جو پھل دار ہیں ـ مبارک ہو سرو کو کہ قید غم سے آزاد ہے )
دلفریباں نباتی ہمہ زیور بستند ٭ دلبر ماست کہ باحسن خدا داد آمد
( تمام محبوب محتاج زیور کے ہیں اور ہمارے محبوب کا حسن ـ حسن خدا داد ہے )

ملفوظ 53: عارفین کو عبادت کی لذت سے بے توجہی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ عارفین نے تو عبادت کی لذت کے قصد سے بھ پناہ
مانگی ہے اگر ساری عمر گزر جائے اور کوئی لذت ان کو نہ آئے وہ اس پر بھی راضی ہوتے ہیں ایک
بزرگ پہاڑ میں رہتے تھے ایک اور بزرگ ان سے ملنے گئے دیکھا کہ دعا میں مشغول ہیں یہ اس
وقت نہیں ملے ـ اس خیال سے کہ مشغول مع اللہ تھے ـ
یہ یاد رکھنے کی بات ہے بزرگوں نے فرمایا ہے کہ مشغول مع اللہ کو بلا ضرورت اپنی
طرف مشغول کرنے سے حق تعالی کی ناخوشی کا اندیشہ ہے ـ بلا ضرورت کی قید سے میں نے اس
میں توسیع کر دی ہے اگر ضرورت ہو وہ متثنٰی ہے خیر وہ بزرگ یہ دعا مانگ رہے تھے کہ الٰہی تفویض
کی لذت سے بھی پنا ہ مانگتا ہوں ۤـ بعض لوگ تفویض اس لئے اختیار کرتے ہیں کہ اس میں راحت
ہے جو ایسا کرتے ہیں انہوں نے تفویض کا حق ادا نہیں کیا ـ تفویض اس نیت سے ہونا چاہئے کہ یہ
حق تعالی کا حق ہے ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اگر تفویض شکر کی نیت سے کی جائے
فرمایا کہ یہ باتیں ( ان پر عمل ) کرنے سے سمجھ میں آتی ہیں ـ بتلانے سے سمجھ میں نہیں آتی ـ

ملفوظ 52: بدعتی اور ان کی محنت و مجاہدہ

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت بدعتی بھی بہت محنت کرتے ہیں فرمایا کہ خاک محنت کرتے ہیں اور کرتے بھی ہوں تو مقصود زیادہ محنت پر تھوڑا ہی موقوف ہے اول تو ان کے یہاں محنت ہے ہی تھیں محض حکایات ہی حکایات ہیں اس میں کچھ کرنا نہیں پڑتا اور طریق صحیح میں
کرنا پڑتا ہے اور اگر کچھ محنت کرتے بھی ہیں تو ان کی اس محنت کا ثمرہ آخرت میں تو تصلی نارا حامیۃ
( اور آتش سوزاں میں داخل ہو گے ) ہے اور دنیا میں عاملۃ ناصبۃ ( بوجہ مصیبت جھیلنے کے بہت سے چہرے خستہ ہونگے ) ـ

ملفوظ 51: کیفیات اور اعمال کا فرق

فرمایا ! کہ آجکل لوگ کیفیات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جو کہ غیر مقصود ہیں گو یہ
کیفیات غیر مقصودہ لذیذ ہوتے ہیں ـ جیسے مرچ ہے کہ تغذیہ میں غیر مقصود ہے مگر لذیذ ہے ـ اور
اب تو لوگ ان کیفیات کو مقصود سمجھ کر گویا نری مرچوں کا سالن کھاتے ہیں کیا حاصل ہوتا ہوگا نری
آگ ہی آگ ہے ایسے ہی علوم غیر مقصودہ میں جیسے چکنے چپڑے مضامین ہوتے ہیں وہ علوم مقصودہ میں نہیں ہوتے اس کی بالکل ایسی مثال ہے ـ
دیکھئے ! اگر روپیہ کا سکہ خوب صورت نہ ہو تو پھر بھی چونسٹھ ہی پیسے ملیں گے اور یہ شیشہکا ٹکڑا یارانگہ کا ٹکڑا گو بہت چمکدار اور خوب صورت معلوم ہوتا ہے مگر بازار میں نہ چلے گا ـ اسی
طرح بازار آخرت میں کیفیات یا لذات جو حقیقت کے اعتبار سے گویا شیشہ یا رانگہ کا ٹکڑا ہے نہیں چلیں گے ـ
اور اعمال جن کی حقیقیت سکہ ہے یہ چلیں گے ـ ایک اور مثال سے سمجھ لیجئے ایک شخص ہے
اس نے چمن لگایا اس میں قسم قسم کے پھول لگائے انہیں سینچا ایک بڑا خوب صورت اور گلزار چمن
بن گیا ـ اور ایک شخص ہے اس نے دو بیگھ زمین لے کراس میں گیہوں بو دیئے ـ اب دیکھنے
میں چمن بہت خوشمنا ہے گلزار ہے اور گیہوں کا کھیت اس کے سامنے خوشنمائی میں کوئی حقیقت نہیں
رکھتا مگر جس وقت ثمرہ کا وقت آئے گایا کاٹنے کا تو اس چمن کی حقیقت گیہوں کے سامنے اس سے
زیادہ نہ ہوگی جیسے ایک منہیار چوڑیوں کی گٹھڑی لگائے جا رہا تھا ـ ایک گنوار نے اس میں لاٹھی کا
سر ا مار کر پوچھا کہ ابے اس کیا ہے اس بے چارے نے کہا کہ چودھری ایک دفعہ اور مار دو
پھر کچھ نہیں ـ اسی طرح اس گیہوں کے کھیت کے سامنے یہ چمن کچھ بھی نہ ہوگا اس وقت معلوم ہوگا
کہ اس کے سامنے یہ پھول خار ہیں اور یہ چمن اجاڑ ہے ـ غرضیکہ اس چمن کی کچھ بھی حقیقت نہ
ہوگی ـ وجہ وہی ہے جو میں نے عرض کی ـ مقصود اور غیر مقصود ہونے کا تفاوت تو انسان کو مقصود
کاموں میں لگنا چاہئے اور غیر مقصود کے درپے نہ ہونا چاہئے ـ
اسی طرح اختیاری اور غیر اختیاری کے مسئلہ کو سمجھ لیا جائے کہ اختیاری کاموں کو کرے
اور غیر اختیاری کے درپے نہ ہو ـ پھر دیکھنا اس طریق میں کیسی سہولت معلوم ہونے لگتی ہے کام کی
باتوں میں عمر کا حصہ صرف کرو ـ کیوں فضول اور بے کار باتوں میں اپنی عمر کے حصہ کو خراب اور برباد کرتے ہیں ـ

ملفوظ 50 : فلاں کا فلاں کی نسبت سلب کرنا

فرمایا ! کہ ایک کام کی بات یاد آئی یہ جو مشہور ہے کہ فلاں بزرگ نے فلاں بزرگ کی
نسبت سلب کر لی ـ حضرت مولانا رشید احمد صاحب ؒ نے فرمایا ہے کہ نسبت قرب الٰہی کا نام ہے اس
کو کوئی سلب نہیں کر سکتا ـ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک چیز حق تعالی بندہ کو عطا فرمائیں دوسرا کون ہے
کہ جو اس سے سلب کر لے ـ
حقیقت اس کی صرف یہ ہے کہ کسی تصرف سے کسی کیفیت نفسانیہ کو مضمحل کر دے جس
سے نشاط کی جگہ غباوت ہو جائے مگر وہ اس کا مقابلہ کر سکتا ہے لیکن اگر مقاومت نہ کی پھر اخلال عمل
کے سبب اس کا اثر نسبت تک بھی پہنچ جاتا ہے ـ

ملفوظ 49: اولیاء پر ہیئت اعمال کا انکشاف

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ لوگ کبائر میں مبتلا ہیں گناہوں کو اختیار کرتے ہیں ان کو
خوف اورخشیت کا استحضار نہیں بڑی ہی خطرناک بات ہے ـ بعض اکابر کا قول ہے کہ قیامت میں
ہر عمل کی ہیئت مشاہد ہوگی مثلا کسی شخص نے کسی اجنبیہ عورت سے زنا کیا تھا ـ ویسے ہی زنا کرتا ہوا
قیامت میں نظر آئے گا اعمال سے ایک خاص ہیئت پیدا ہو جاتی ہے کبھی کبھی دنیا میں بعض اہل اللہ
اور خاصان حق پر وہ ہیئت منکشف ہو جاتی ہے ـ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص
حاضر ہوا آپ نے اس شخص کو سنا نے کیلئے فرمایا کہ بعض لوگ ہماری مجلس میں آتے ہیں اور ان کی
آنکھوں سے زنا ٹپکتا ہے ـ
حضرت غوث اعظم ؒ کے ہم عصر ایک بزرگ ہیں حضرت سیدنا احمد کبیر رفاعی یہ بہت بڑے اولیاء کبار میں سے ہیں مگر حضرت غوث اعظم ؒ کے پاس ایک شخص مرید ہونے آیا فرمایا کہ بھائی تیری پیشانی سے شقاوت نمایاں ہے تجھ کو کیا مرید کروں وہ بےچارہ مایوس
ہو کر لوٹ گیا ـ حضرت کا صورت دیکھ کر فرما دینا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت پر ہیئت اعمال منکشف ہوئی ہو گی یہ شخص حضرت سید احمد کبیر رفاعی ؒ کی خدمت میں حاضر ہو ، صورت دیکھ کر فرمایا کہ آؤ بھائی میں خود بھی ایسا ہی ہوں ان کے برتاؤ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر دونوں ہیئتیں منکشف ہوئیں شقاوت کی بھی اور اس سے آگے سعادت کی بھی ـ حضرت سید احمد کبیر رفاعی ؒ نے اس شخص کی تسلی و تشفی کی اور طریق میں داخل کر لیا چند روز میں اس شخص کو حضرت غوث اعظم ؒ
خدمت میں حاضر ہونے کی ہدایت فرمائی ـ یہ شخص حضرت غوث اعظم ؒ کی خدمت
میں حاضر ہوا دیکھ کر فرمایا کہ آؤ بھائی ! میرے بھائی احمد کبیر کو اللہ نے ایسا تصرف دیا ہے ـ اس ہیئت کے منکشف ہونے پر ایک اور حکایت یاد آئی ـ ایک بزرگ ایک بستی پر سے گزرے اس بستی میں بھی
ایک بزرگ تھے ـ ان مقامی بزرگ نے ملاقات کا عزم کیا اور ان کے پیچھے دوڑے ملاقات تو نہ ہو سکی ، مگر یہ معلوم ہوا کہ فلاں جگہ ان بزرگ نے نماز پڑھی ہے ان بزرگ کو خیال ہوا کہ لاؤ نماز کی
جگہ ہی کو دیکھیں دیکھا تو سجدہ میں ہاتھ کانوں سے پیچھے ہٹے ہوئے نظر آئے ـ
فرمایا کہ اس شخص کی نماز کی ہیئت خلاف سنت ہے یہ شخص بزرگ نہیں ہو سکتا ـ
یہاں جیسے بصر سے ہیئت عمل کی نظر آ گئی ـ اسی طرح کبھی بصیرت سے نظر آ جاتی ہے ـ
اسی سلسلہ میں ایک حکایت غالبا حضرت مولانا دیوبندی ؒ سے سنی ہوئی
فرمائی کہ ایک بزرگ کو معلوم ہوا کہ فلاں بزرگ اس بستی میں آئے ہیں انہیوں نے ارادہ کیا کہ آنے والے بزرگ سے ملاقات کروں وارد ہوا کہ مت ملو ـ ان بزرگ نے خیال کیا کہ نہ ملنے کی کوئی وجہ نہیں ـ یہ حدیث النفس ہے ملنا چاہئے اللہ کے بندہ ہیں مقبول ہیں ان کی زیارت باعث
سعادت ہے ـ غرضیکہ وارد کی مخالفت کی اور ملنے کا پھر ارادہ کیا وارد میں پھر منع کیا گیا انہوں نے
پھر ارادہ ملاقات کا کیا اور بالاآخر ملاقات کیلئے چل دیئے چلتے میں ٹھوکر لگی گرے
چلنے سے معذور
ہو گئے ـ بعد میں وجہ معلوم ہوئی کہ وارد میں جو منع کیا گیا تھا ـ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ بد عتی بزرگ تھے جن سے ملنے کو منع کیا گیا تھا اس پر فرمایا کہ واردات کی مخالفت معصیت تو نہیں مگر دنیاوی ضرر ضرور ہو جاتا ہے ـ اور یہ ضرر اضطرارا تو نہیں مگر اختیارا کبھی مفضی ہو جاتا ہے ـ ضرر دینی کی طرف اور وہ ضرر دینی اس طرح پر ہوتا ہے کہ کسی معصیت کا وسوسہ ہوا اور اس سے بچنے کیلئے کہ ہمت
سے اس کی مقاومت ہو سکتی تھی مگر طبعا کسل ہو گیا اور اس سے غباوت ہو گئی اس لئے اعمال میں کمی ہو گئی ـ اب اس میں دو ہی صورتیں ہیں کہ پھر وہ عمل اگر واجت تھا تو خسران ہوا اور اگر واجب نہ
تھا تو حرمان ہوا ہے ـ بڑا نازک راستہ بڑے ہی سنبھل کر چلنے کی ضرورت ہے ـ

ملفوث 48 خانقاہ تھانہ بھون کی فتنوں سے دوری

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت تھانہ بھون تہہ خانہ ہے ـ دریافت فرمایا
کیا مطل ہے میں سمجھا نہیں ـ عرض کیا کہ آجکل دنیا میں جو مختلف چیزیں چل رہی ہیں اور آگ
لگ رہی ہے ( مراد تحریکات ہیں ) یہاں آکر معلوم ہوتا ہے کہ کہیں بھی کچھ نہیں دریافت فرمایا اتنا
اور فرما دیجئے کہ اس سے مراد آپ کی قصبہ تھانہ بھون ہے یا خانقاہ ! عرض کیا یہ احاطہ خانقاہ مراد
ہے فرمایا کہ جی ہاں ! اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے یہ سب اپنے بزرگوں کی جوتیوں کا طفیل ہے ایک کونہ
دبائے بیٹھے ہیں میں تو یہ شعر پڑھا کرتا ہوں ؎
ہیچ کنجے بے دو وبے دام نیست ٭ جز بخلوت گاہ حق آ رام نیست
( دنیا کا کوئی کونہ بے درندوں اور ( مختلف قسم کے ) جالوں کے نہیں ہے ـ بجز خلوت گاہ حق کے کہیں راحت نہیں )
مگر اس پر بھی عنایت فرماؤں کی عنایات ہوتی رہتی ہیں

ملفوظ 47 : شادی کے بعد سسرال سے تعلق بڑھانے میں اعتدال

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب ؒ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ جب نئی شادی ہوتی ہے تو سسرال سے تعلق بڑھ جاتا ہے اور اندیشہ ہوتا ہے گھر والوں کے حقوق پامال ہونے کا تو اس کا خیال رکھنا ایسا نہ ہونا چاہئے

ملفوظ 46: اسلام کی نشاۃ ثانیہ

فرمایا ! کہ کس طرح دل میں ڈال دوں جی چاہتا ہے کہ سب اس طرح راہ پر آ جائیں کہ ان کی ہر ادا اسلام کی شان ظاہر ہو جیسے حضرات صحابہ کرام کو لوگ دیکھ کر اسلام قبول کرتے تھے
یہ ان کا نمونہ بن جائیں ـ دنیا و دین کی بہبود اسی میں مضمر ہے یہ امر واقعی ہے کہ اگر مسلمان اپنی اصلاح کر لیں اور دین ان میں راسخ ہو جائے تو دین تو وہ ہے ہی لیکن دنیوی مصائب کا بھی جو کچھ
آج کل ان پر ہجوم ہے انشاء اللہ چند روز میں کایا پلٹ ہو جائے اور گو اس پر دلائل بھی ہیں مگر اس کا جو
حصہ ذوقی ہے چاہتا ہوں کہ اس کو ظاہر کروں مگر ان کے اظہار پر قدرت نہیں ـ جیسے ایک مادر زاد اندھے کی حکایت ہے کسی لڑکے نے کہا کہ حافظ جی آج ہمارے
یہاں تمہاری دعوت ہے پوچھا کیا کھلاؤ گے کہا کہ کھیر دریافت کیا کہ کھیر کیسی ہوتی ہے کہا کہ سفید ـ
پوچھا سفید کسے کہتے ہیں کہا جیسا بگلہ پوچھا کہ بگلہ کیسا ہوتا ہے اس لڑکے نےکہنی سے ہاتھ کھڑا
کر کے اور پہنچے سے موڑ کر کہا کہ ایسا ہوتا ہے ـ حافظ جی نے ہاتھ پھیر کر دیکھا دیکھ کر کہنے لگے نہ
بھائی یہ تو بڑی ٹیڑھی کھیر ہے حلق سے کس طرح اترے گی ـ
دیکھئے ! یہاں حقیقت سمجھ میں نہ آنے کی وجہ سے کھیر کو ٹیڑھی سمجھ بیٹھے ایسے ہی اس
طریق میں بہت سی باتیں ایسی ہیں کہ وہ بیان میں نہیں آ سکتیں تو جیسے وہاں اس کی ضرورت تھی کہ
حافظ جی کے سامنے کھیر کا طباق بھر کر رکھ دیتے کہ یہ کھیر ہے کھا کر دیکھ لو کیسی ہوتی ہے ایسے ہی
یہاں بھی حقیقت معلوم کرنے کی صرف ایک ہی صورت ہے وہ یہ ہے کہ کام کرنا شروع کرو خود بخود
سب معلوم ہو جائےگا ـ مگر اس طریق میں اول ہی قدم میں اس کی ضرورت ہے کہ اس کا مصداق بن جائے ؎
در رہ منزل لیلٰی کہ خطر ہاست بجاں ٭ شرط اول قدم آ نست کہ مجنوں باشی
( لیلی کی طلب میں جان کو بہت سے خطرات ہیں مگر ( راہ طلب میں ) پہلے قدم کی شرط مجنوں ہونا ہے )

ایک اور مثال سمجھ لیجئے کہ ایک شخص ہے ولایتی اس نے کبھی آم نہیں کھایا اس کو آم کی
حقیقت بتلانا سخت د شوار ہے جس چیز سے بھی اس کے ذائقہ کو تشبیہ دیجئے گا وہ ہر گز نہیں سمجھے گا ـ اس کی صرف یہی ایک صورت ہے کہ آم ہاتھ میں دے کر کھا جائے کہ جو اس کا ذائقہ ہے خود کھا کر دیکھ لو ـ
اسی طرح اس طریق میں سمجھ لیجئے گا کہ تقریروں سے یا قیل وقال سے کچھ سمجھ میں نہیں آسکتا ـ یہ تو کام کرنے سے معلوم ہوتا ہے اس میں عقل کی بھی رسائی نہیں عقل کی رسائی نہ ہونے کو
ایک مثال سے سمجھ لیجئے ـ ایک شخص کھڑے پہاڑ پر جانا چاہتا ہے ـ گھوڑے پر سوار ہو کر چلا گھوڑے کا کام دامن کوہ تک پہنچا دینے کا ہے آگے وہ نہیں جا سکتا ـ آگے دامن کوہ میں ایک کمند ہے اس
سے وہ راستہ طے ہوگا ـ عقل گھوڑا ہے اس کی ایک حد ہے اس کو آگے د خل نہیں اور جیسے گھوڑے
پر سوار ہو کر ایسے پہاڑ پر جانا بے عقلی ہے ـ اسی طرح یہاں عقل سے کام لینا بے عقلی ہوگا ایسی ہی عقل کو مولانا فرماتے ہیں ؎
آزمودم عقل دور اندیش را ٭ بعد ازیں دیوانہ سازم خویش را
( میں نے عقل دور اندیش کو آزما کر دیکھ لیا ( مگر راہ عشق میں بے کار ثابت ہوئی )اس آزمائش کے بعد اپنے کو میں نے دیوانہ بنا لیا ہے )
تو پھر تو اس کی یہ حالت ہوگی ؎
اوست دیوانہ کہ دیوانہ نہ شد ٭ مرعسس راوید دور خانہ نہ شد
( بقول مجذوب کے ) وہی دیوانہ ہے جو آپ کا دیوانہ نہیں )
صاحبو ! اس عقل سے جو کام لینے کا ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالی پر اعتماد و انقیاد کا اپنے کو ملکف سمجھ لے آ گے طرق جزئیہ انقیاد کے اس میں عقل کا کام ہے کہ وحی کا اتباع کر

ملفوظ 45: طریق کی د شواری اور مسئلہ اختیاری وغیر اختیاری

فرمایا ! کہ اس طریق میں د شواری اسی وقت تک ہے جب تک اس کی حقیقت سے بے خبری ہے حقیقت معلوم ہو جانے کے بعد پھر اس سے زیادہ سہل اور آسان کوئی چیز نظر نہیں آتی
لوگوں نے فن نہ معلوم ہونے کی وجہ سے اس کو ہوا بنا رکھا ہے اور ایسی بری طرح تصوف کو پیش
کیا ہے کہ بجائے رغبت کے لوگوں کو وحشت ہو گئی حالانکہ تصوف صرف ایک مسئلہ پر ختم ہے ـ عمل
ایک اختیاری ہے ایک غیر اختیاری ـ اختیاری کو لے کر غیر اختیاری کے در پے نہ ہو ـ
بس یہ ایک چھوٹی اور مختصر سی بات ہے ـ ایک لطیفہ یاد آیا چھوٹے اور مختصر ہونے پر ـ
ایک پیر صاحب تھے ان کا مقولہ ایک صاحب نے مجھ سے بیان کیا انہوں نے میرا نام لے کر کہا
کہ فی الحقیقت تصوف کو جس قدر سہل کر کے اس نے دکھلایا ہے آج تک اس کی نظیر نہیں مگر بات
یہ ہے کہ تعبیر کرنا بھی سہل حقیقت سمجھنا بھی سہل مگر عمل مشکل ہے ـ میں جواب میں کہا کرتا ہوں کہ
تم جو یہ عذر حق تعالی کے احکام میں کرتے ہو یہی عذر تمہارا نوکر یا غلام تمہارے کاموں میں کرے
تب بتاؤ کہ کیا اس کو معذور سمجھو گے ـ اگر یہی مواخذہ حق تعالی نے فرمایا اور باز پرس کی تو جواب
کیلئے تیار رہنا چاہئے ـ