( ملفوظ 518) علامہ ابن تیمیہ اور علامہ ابن القیم

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ابن تیمیہ اور ابن القیم اہم استاد شاگرد ہیں مگر غصیارے بہت ہیں باقی ہیں ذہین اور سلطان القلم بہت تیز چلتے ہیں موٹر سے بھی زیادہ پھر نہیں مگر یہ طرز شان تحقیق نہیں ـ

( ملفوظ 517)طریق تصوف کی تکمیل اور اس کا احیاء

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل لوگ صرف نفلیں اور وظائف کے پڑھ لینے کو انتہائی کمال سمجھتے ہیں حالانکہ کہ کوئی کمال کی چیز نہیں ہاں ثواب کی چیزیں ہیں جو کمال پر موقوف نہیں کمال پیدا ہوتا اصلاح کے بعد اور اصلاح کا ہونا عادۃ موقوف ہے صحبت کامل پر مگر نری صحبت بھی کار آمد نہیں جب تک کہ اعمال ماموربہ کا اہتمام نہ ہو یہی اعمال اصل سلوک ہیں بدون ان کے اختیار کئے ہوئے کوئی شخص منزل مقصود تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا اگرچہ وہ آسمان پر پرواز کرنے لگے یا دریا پر بدون کشتی اور جہاز کے چلنے لگے حقیقت یہ ہے مگر آج کل جاہل صوفیوں نے لوگوں کی راہ ماری ہے اور گمراہ کیا ہے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اب طریق بالکل زندہ ہوگیا ـ مدتوں کے بعد یہ نصیب ہو اور یہ میں فخر سے نہیں کہتا بلکہ بطور نعمت کے عرض کر رہا ہوں وہ جس سے چاہے اپنا کام لے سکتے ہیں طریق سے لوگوں کو اجنبیت اور وحشت ہو چکی تھی وہ اس کو دین سے خارج سمجھ چکے تھے اب الحمد اللہ طریق کی تکمیل ہو گئی ـ
29 صفر المظفر 1351 ھ مجلس خاص بوقت خاص صبح یوم سہ شنبہ

( ملفوظ 516)انگریزوں کا غرض پر مبنی ظاہری اخلاق

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اکثر انگریز ظاہرا بہت ہی خلیق ہوتے ہیں گو یہ اخلاق ان کا اکثر غرض پر مبنی ہوتا ہے مگر اس کی وجہ سے دوسرا آدمی فورا مسخر ہو جاتا ہے جس کا اثر بعض اوقات دین پر بھی پڑتا ہے اسی لئے ایک تجربہ کا فتوی ہے کہ بلا ضرورت سخت ان سے نہ ملنا چاہئے یہ بہت ہی جلد مسخر کر لیتے ہیں ان میں یہ خاص بات ہے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ خدا تعالی کا بڑا فضل ہے کہ انگریز میں دو چیزیں رکھ دیں ورنہ اب تک نصف ہندستان عیسائی ہو جاتا ـ ایک کبر اور بخیل بڑے کام کی بات فرمائی مگر جس میں یہ بات نہ ہو ـ وہ اس میں داخل نہیں ـ بعض احکام قوم کے ہوتے ہیں آحاد ( خاص ) و افراد کے نہیں ہوتے ـ

( ملفوظ 515)بات صاف کہنا اور آج کل کے محاورے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرے یہاں ایک یہ بھی مستقل تعلیم ہے کہ بات صاف کہو مجھے آج کل کی تہذیب سے سخت نفرت ہے جیسے عام محاورہ ہو گیا کہ ایسا ہو سکتا ہے حالانکہ استفہام مقصود نہیں ہوتا یہاں ایک صاحب مقیم تھے وہ کسی کو اسٹیشن پر پہنچانے کے لئے جانا چاہتے تھے مجھ سے اجازت لینے آئے سیدھی بات یہ تھی کہ میں اسٹیشن جانے کی اجازت چاہتا ہوں مگر اس کے بجائے یوں فرماتے ہیں کہ کیا میں اسٹیشن جا سکتا ہوں میں نے کہا کہ کیوں نہیں جا سکتے خدا نے پاؤں دیئے چلنے کو ـ آنکھ دی دیکھنے کو قوت ارادیہ دی ارادہ کرنے کو ارادہ کیجئے اور تشریف لیجائیے چلنا شروع کیجئے پہنچ جاؤ گے کیا خرافات ہے اور کیا مہمل بات ہے غالبا یہ عسائیوں سے لیا ہے اور ان میں یہ کوئی نئی بات نہیں اور نہ نیا محاورہ انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام سے کہا تھا ـ ھل یستطیع ربک ان ینزل علینا مائدۃ من السماء ۔ ان عسائیوں سے مسلمانوں نے یہ محاورہ سیکھ لیا ہے دوسروں کی نقالی کرنا تو اس وقت مسلمانوں کے لئے بعث فخر ہو گیا ہے ہونا تو یوں چایئے تھا کہ دوسرے لوگ ان کی وضع اختیار کرتے مگر انہوں نے سب سے پہلے پیش قدمی کی اور دوسروں کی وضع اور طرز اختیار کیا ـ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔

( ملفوظ 514)تہجد کے وقت کبھی آنکھ کھلنا اور کبھی نہ کھلنا

فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ تہجد کے وقت کبھی آنکھ کھلتی ہے اور کبھی نہیں میں نے لکھ دیا کہ پھر دینی ضرر کیا ہے ـ

( ملفوظ 513)مجلس میں صحیح طریقہ سے بیٹھنا

ایک صاحب کو مجلس میں بے طریقہ بیٹھنے پرتنبیہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ مقصود بیٹھنے اور غرض کے لئے بیھٹنے میں فرق ہوتا ہے صاحب غرض تو ایسا بیٹھتا ہے جیسا اٹھاؤ چولہہ اور مقصودا بیٹھنے کی ہیت میں اطمنان اور سکون ہوتا ہے اور غرض والوں کی صورت بنا کر بیٹھنے سے قلب پر بار ہوتا ہے اگر کسی غرض سے بیٹھے ہو تو اس غرض کو فورا ظاہر کر دو کہ گرانی دفع ہو ـ

( ملفوظ 512)راستے میں چیز کھا لینا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں دروازہ پر کھڑے ہو کر یا راستے میں چلتے ہوئے کسی چیز کے کھانے سے پرہیز نہیں کرتا اگر کبھی اسلامی سلطنت ہو جائے تو زائد سے زائد میری شہادت قبول نہ ہوگی عدالت میں جانے سے بچ جاؤں گا کوئی گناہ تو ہے نہیں ـ
28 صفرالمظفر 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دو شنبہ

(ملفوظ 511)انا للہ کے معنی اور دعوت کی تین قسمیں

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ انا للہ کے معنی ہیں کہ ہم اللہ کے ہیں اس لئے اللہ تعالی کو ہم میں ہر وقت تصرف کا حق ہے اور انا الیہ راجعون کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص مرا ہے اور جس پر رو رہے ہیں وہ اور ہم سب وہاں ہی جائیں گے وہاں ہی ملیں گے پس ان دونوں جملوں کا حاصل یہ ہوا کہ جب تم ان دونوں مضمون کا مراقبہ کرو گے تو تمہاری کلفت جاتی رہے گی راحت ہو گی اور تعزیت کے بھی یہی معنی ہیں کہ رنج والے کو تسلی دی جائے سو یہ آج کل عرف میں رواج ہے کہ جا کر کہتے ہیں کہ ہائے ایسی عمر نہ تھی چھوٹے چھوٹے بچے رہ گئے وغیرہ وغیرہ یہ تعزیت نہیں یہ تو اور رنج کو بڑھانا ہے اس سے تو تعزیت کو نہ ہی جاتے تو اچھا تھا معاشرت کے باب میں شریعت کی جتنی تعلیمات ہیں سب کا حاصل یہ ہے کہ دوسرے کو تکلیف نہ پہنچاؤ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حاجی محمد یوسف صاحب رنگونی نے مجھ سے ایک مرتبہ یہ فرمایا تھا کہ مولانا کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ یہاں بھی راحت سے رہو فرمایا کہ حاجی یوسف صاحب نے ٹھیک کہا شریعت کی تعلیم کا یہ ہی حاصل ہے کہ یہاں بھی راحت سے رہو وہاں بھی راحت سے رہو اب دیکھ لیجئے دعوت ہی ہے یہ محبت اور خلوص کی بناء پر ہوتی ہے مگر اصول چھوڑ دینے کی بدولت کس قدر اس میں تکلیف ہوتی ہے شیخ اصغر علی صاحب لکھنوی کہا کرتے تھے کہ عوت کی تین قسمیں ہیں اعلی ادنی اوسط اعلی تو یہ کہ دام دے دو جو چیز چاہے خرید کر پکا کر پکوا کر کھا لے ـ اوسط یہ کہ خشک جنس دے دو اس میں بھی ایک درجہ آزادی ہے اور ادنی یہ کہ پکا کر کھلاؤ اور پکا کر کھلانے کو جو ادنی کہا واقعی حقیقت ہے اس میں عادۃ وقت سے بے وقت معمول سے غیر معمول گھی زائد یا کم مرچ زائد یا کم ـ نمک زائد یا کم ـ پھر بلایا بڑے اہتمام سے احترام سے اور رخصت کے وقت بتلا دیا کہ یہ راستہ ہے سیدھا نہ سواری ہے نہ کوئی ساتھ ہے چلے جاؤ ـ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ایک بزرگ نے مجھ کو وصیت کی تھی کہ کسی کی دعوت نہ کرنا اسکو بھی تکلیف تم کو بھی تکلیف وقت سے بے وقت معمول سے غیر معمول اس باب میں حاجی صاحب کی بھی یہی رائے تھی البتہ یہ تکلفات نہ ہوں تو وہ اس میں داخل نہیں ـ

( ملفوظ 510)راحت کا اہتمام ضروری ہے تعظیم ضروری نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تعظیم و تکریم کی تو زیادہ رعایت کرتا نہیں البتہ راحت کا خاص اہتمام کرتا ہوں آپ کو سن کر تعجب ہوگا میں نے آج تک دونوں گھروں میں اس کی فرمائش نہیں کی فلاں چیز پکا لو یہ خیال ہوتا ہے کہ شاید انتظام میں کوئی الجھن ہو البتہ خود ان کے پوچھنے پر بتلا دیتا ہوں وہ بھی محض ان کی دلجوئی کی وجہ سے کہ یہ گمان نہ ہو کہ ہم سے اجنبیت برتتے ہیں پھر وہ بتلانا بھی اس صورت سے ہوتا ہے کہ میں ان سے یہ کہتا ہوں کہ تم بسہولت جوجو پکا سکتی ہو اس میں دو چار چیزوں کے نام لو وہ نام لیتی ہیں تو میں اس میں سے ایک کو منتخب کر دیتا ہوں اور اب تو اسکی پروا ہی نہیں کہ دوسروں کو کوئی تکلیف نہ ہو تعظیم و تکریم کا تو اہتمام کرتے ہیں مگر راحت کا کوئی سامان نہیں کرتا ـ

( ملفوظ 509 )نا معقول سوال پر حضرت حاجی صاحب کا جواب

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے کوئی شخص فن کو بے سمجھے سوال کرتا تو فرماتے کہ بھائی یہ قیل و قال کے لئے مدرسہ نہیں ـ