( ملفوظ 108 ) انسان کی حقیقت

ایک سلسہ گفتگو میں فرمایا کہ انسان ناز کس بات پر کرے اس کی ہستی اور وجود ہی کیا ہے ایک عالم کی حکایت لکھی ہے کہ میں نے ایک چیز ایسی یاد کی کہ کوئی یاد نہیں کر سکتا اور ایک ایسی چیز بھولا کہ کوئی نہیں بھول سکتا یاد تو یہ کہ قرآن شریف تین دن میں یاد کر لیا ـ اور بھولا یہ کہ داڑھی چار انگلی سے زائد ہو گئی مٹھی میں تھی پکڑ کر جاٹنی چاہی خیال نہ رہا اوپر کی جانب سے کاٹ گیا بالکل صاف ہو گئی حق سبحانہ تعالی انسان کا عجز دکھا دیتے ہیں اسی کو مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ـ
گر خدا خواہد نگفتند از بطر پس خدا بنمود شان عجز بشر
بندوں کی غلطی ظاہر کر دیتے ہیں تاکہ ان میں دعوی نہ پیدا ہو جائے یہ بھی بڑی رحمت ہے حق تعالٰی بندوں پر ماں باپ سے بھی زیادہ شفیق ہیں چناچہ میں نے ایک روایت دیکھی ہے کہ جب بندہ نافرمانی کرتا ہے تو آسمان کہتا ہے کہ میں اس پر ٹوٹ پڑوں زمین کہتی ہے کہ میں اس کو نگل جاؤں مطلب یہ کہ اسکو فنا کر دیں حق تعالی فرماتے ہیں اگر تم اس کو بناتے اور پھر ایسی درخواست کرتے تب جانتے اپنی بنائی ہوئی چیزوں سے محبت ہوتی ہے کہیں اختیار کہیں اضطرارا وہاں اضطرار تو ہے نہیں صرف اختیار ہے حضرت نوح علیہ السلام کی دعا سے جب قوم غرق ہو گئی حکم ہوا مٹی کے برتن بناؤ کئی سال تک برتن بنوائے گئے پھر حکم دیا کہ توڑ دو ـ دیکھنے بھی نہ پائے تھے کہ توڑدیئے ارشاد ہوا کہ کچھ رنج ہوا عرض کیا کہ بہت رنج ہوا ارشاد ہوا دیکھو اپنی بنائی ہوئی چیز سے ایسی محبت ہوتی ہے مگر ہم نے تمھارے کہنے سے اپنی مصنوعات کو ہلاک کر دیا ـ

( ملفوظ 107 ) تعویز کے بارے میں ایک اصولی بات

فرمایا کہ میرا معمول ہے کہ میں تعویز پر ایک سادہ کاغز لگا دیتا ہوں تاکہ لینے والے کو بے وضو مس کرنا جائز رہے ـ

( ملفوظ 106 )چاپلوسی کی مزمت

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ کسی سے تعلق رکھنا اور چیز ہے اور تملق کرنا اور چیز ہے یہ خلط مبحث کیسا میں تعلق تو سب سے رکھتا ہوں تملق کسی سے نہیں ہے مجھ کو جب اس کا تصور ہو جاتا ہے کہ کسی سے تملق نہیں نہایت لزیز معلوم ہوتا ہے چاہے اس پر کوئی متکبر ہی سمجھے ـ

( ملفوظ 105 )اتباع اور اعتماد

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس طریق میں اتباع اور اعتماد پر مدار ہے طبیب کے معالجہ میں بھی یہ ہی بات ہے اگر طبیب پر اعتماد اور اسکی تجویز کا اتباع نہ ہو مریض اچھا ہو چکا ہو تو یہ سمجھے کہ قلندر ہرچہ گوید دیدہ گوید ـ

( ملفوظ 104 ) مانگنا بے عزتی ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ شخص معزز ہے گو کپڑے پہنے ژولیدہ ( پھٹے پرانے ) مگر سوال نہ کرے بخلاف اسکے جو عبا و قبا پہن کر سوال کرے وہ معزز نہیں ایک صاحب کسی مقام پر کپڑے بدل کے گئے پرانی وضع کے آدمی تھے چوغہ و عمامہ زیب تن تھا محض براہ اخلاق ایک رئیس سے ملنے گئے اس نے دور سے دیکھ کر یہ سمجھا کہ یہ کوئی چندہ مانگنے والے ہیں گھر میں گھس گئے پھر اطلاع پر کہ سب جج ہیں تب باہر آئے یہ حالت ہو گئی ہے ان مانگنے والوں کی بدولت مجھ کو ایسی باتوں سے طبعی بفرت ہے جس کام کے لئے چندہ کی ضرورت ہے اس کام کی عام اطلاع کر دینا کافی ہے اس پر اگر کوئی اعانت اور امداد کرے قبول کرے ورنہ خیر علماء کو تو ان امراء کے دروازے پر جا کر ان سے سوال کرنا نہایت ہی نا پسندیدہ بات ہے اگر علماء چند روز بطور امتحان ہی ایسا کر کے دیکھیں تو یہ امراء خود ان کے دروازوں پر آئیں اور قدموں میں سر رکھنے کو تیار ہو جائیں ـ

( ملفوظ 103 ) بیعت پر بے جا اصرار سے تکدر ہو جانا :

ایک خط کے جواب میں تحریر فرمایا کہ اگر اس خط میں بیعت کا مضمون نہ ہوتا تو بڑا اچھا خط تھا ضرور جواب دیتا ـ
( نوٹ ) ـ اس میں بیعت پر بے اصول اصرار تھا جس سے طبیعت کو تکدر ہوگیا ـ
22/ ذی الحجہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم جمعہ

( ملفوظ 102 ) تبادلہ خیالات مہمل لفظ ہے :

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ تبادلہ خیالات نہایت مہمل لفظ ہے پھر معنوی دلالت بھی اس میں کافی نہیں مشورہ اچھا لفظ ہے یہ تبادلہ لفظ بھی تو غلط ہے تبادل البتہ صحیح لفظ ہے تبادلہ عربی میں کوئی لفظ ہی نہیں ـ

( ملفوظ 101 ) انعامات خداوندی کا مشاہدہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا ۔ کا ہر وقت مشاہدہ ہوتا ہے ہزاروں واقعات ایسے ہیں کہ جس چیز کو جس طرح چاہا اللہ تعالی اسی طرح پورا فرما دیتے ہیں ـ

( ملفوظ 100 ) توکل کی صورت بھی بڑی دولت ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ توکل تو اتنی بڑی چیز ہے جس کو حق تعالی نصیب فرمادیں بڑی دولت اور بڑی نعمت ہے باقی ہم جیسوں کو تو اگر توکل کرنے والوں کی نقل ہی نصیب ہو جاوے یہ بھی سب کچھ ہے اس پر بھی فضل ہو جاتا ہے ـ دیکھ لیجئے کہ رؤسا کے یہاں نقل پر بھی انعام ملتا ہے بلکہ بعض دفعہ زیادہ ملتا ہے اصلی خربوزہ تربوزہ آم کریلے لے جائے تو بازار کی قیمت تو چار آنہ ملے گی اور اگر نقلی لے جائے تو انعام پانچ دس روپیہ ملجاتے ہیں تو اسی طرح ہمارا توکل تو کیا اگر نقل بھی ہو جاوے تو یہ بھی انشاءاللہ تعالی قابل انعام ہے اور دوسرے اعمال کو بھی اسی طرح سمجھ لیجئے ـ

( ملفوظ 99 ) جہاں جائے وہاں کے معمولات معلوم کرے

ایک صاحب کی غلطی پر مواخزہ فرماتے ہوئے ان کے نا واقفی قواعد کے عزر کرنیکے جواب میں فرمایا کہ میں اس کو تسلیم کرتا ہوں کہ بدون کسی جگہ جائے ہوئے ـ اطلاع کئے ہوئے کسی جگہ کے معمولات کی کیا خبر کہ وہاں کے کیا اصول ہیں کیا قواعد ہیں مگر اتنی عقل تو ہونا چاہیئے کہ جہاں جائے وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کر لے یہ تو کوئی ایسی باریک اور غامض بات نہیں جو سمجھ میں نہ آسکے ایسی موٹی بات اور اس میں یہ گڑبڑ تو پھر ایسے شخص سے آئندہ ہی کیا امید ہو سکتی ہے میں کہا کرتا ہوں کہ ایسی باتوں کو نہ سمجھنا بے عقلی یا بد فہمی کے سبب سے نہیں ہوتا بلکہ زیادہ بے فکری کے سبب ہوتا ہے ـ جو کہ ختیاری ہے بس یہ ہے وجہ میرے مواخزہ کی میں جب کسی غلطی کے صدور پر کسی سے سوال کرتا ہوں کہ یہ بتلاؤ کہ اس غلطی کا سبب بدفہمی ہے یا بے فکری اکثر ہوگ یہ سمجھ کے اگر بے فکری کو سبب بتلاتے ہیں تو وہ چونکہ اختیاری ہے مواخزہ سخت ہوگا بس جان بچانے کے لئے کہہ دیتے ہیں کہ بد فہمی میں اس پر کہتا ہوں کہ بے فکری اگر سبب ہوتی تو چونکہ وہ اختیاری ہے اس لئے امید انسداد کی قریب نہیں لہزا تم سے موافقت مشکل ہے تمھاری خدمت سے معزور ہوں ـ