( ملفوظ 431 )مسئلہ تقدیر پر ایک آریہ کے اعتراض کا جواب

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک آریہ کا اعتراض مسئلہ تقدیر پر میرے ایک عزیز نے میرے پاس بغرض جواب لکھ کر بھیجا ، میں نے جواب دیا کہ یہ مسئلہ مخصوص نہیں ، اسلام کے ساتھ بلکہ عقلی ہے اس لیے ہمارے یہاں بھی ہے اور تمہارے یہاں بھی ، سو جس طرح ہمارے ذمہ اس کا ثبوت ہے ویسے ہی تمہارے ذمہ بھی اس کا ثبوت ہے ، ہم بھی غور کریں تم بھی غور کرو ، صرف ہمیں ہی اس کا ذمہ دار کیوں بنایا جاتا ہے ۔
24 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ

( ملفوظ 428 )یہاں پیر پرستی نہیں خدا پرستی ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرے یہاں رسمی پیروں کی طرح پیر پرستی نہیں ، میں مخلوق پرستی کراتا نہیں یہاں تو خدا پرستی کا سبق ملتا ہے میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ اپنے کام میں لگے رہیں اور ایک یہ کہ عمل میں میری تعلیم کے خلاف نہ کریں گو میری خدمت بھی نہ کریں ۔ اس خدمت کے متعلق تو یہ مذہب ہونا چاہیے ۔
بہشت آنجا کہ آزارے نباشد کسے رابا کسے کارے نباشد
اپنے کام میں لگاؤ دوسروں کے تعلقات سے تم کو کیا سروکار

( ملفوظ 429 ) حضرت کی سختی کی حقیقت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر میرا خطاب میری اصلاح میری تدبیر میرا انتظام طالبین کے نزدیک ناکافی ہے تو کہیں اور جائیں ، میں بلانے کب جاتا ہوں مگر یہ یاد رہے کہ میرے اندر سختی سیاست سب کچھ سہی لیکن طالب طریق کو یا طالب علم کو بحمد اللہ کبھی نظر تحقیر سے نہیں دیکھتا بلکہ اس کو اپنے سے افضل سمجھتا ہوں ۔ میں ایک طالب علم کو کان پور میں نصیحت کر رہا تھا ایک شہر کے شخص میرے پاس بیٹھے تھے ، انہوں نے بھی میری تائید میں طالب علم کو کچھ کہا ، میں نے ان سے بگڑ کر کہا کہ آپ کو کہنے کا کیا حق ہے آپ ان کو غریب اور مسکین سمجھ کر ذلیل سمجھتے ہیں اور ڈانٹتے ہیں مجھے ان کے کہنے کی برداشت نہیں ہوئی اور نہ گوارا ہوا مجھ کو طالبین سے محبت ہے مگر ماں کی سی نہیں بلکہ باپ کی سی ہے مگر باپ کی محبت معلوم نہیں ہوتی ماں کی محبت ظاہر ہو جاتی ہے اس لیے کہ وہ پیار کرتی ہے ، چومتی ، چاٹتی ہے اور باپ ہے کہ ادھر سے چپت ادھر سے دھول رسید کی ، باپ بلائیں دے رہا ہے اور ماں بلائیں لے رہی ہے یہاں پر جو لوگ آتے ہیں مجھے کبھی گوارا نہیں ہوا کہ دوسرے انہیں کچھ کہیں میں چاہے کچھ معاملہ کروں یہ جہاد اصلاح تو فرض کفایہ ہے میں ہی سب کی طرف سے کافی ہوں جس اصلاح میں سب شور و شغب کرنے لگیں وہ جہاد نہیں ہوتا فساد ہوتا ہے ان مجموعی باتوں کو لوگ دیکھتے نہیں ۔ یونہی مشہور کر دیتے ہیں کہ سخت ہے حلانکہ یہ سختی نہیں قوت ہے ۔ دیکھئے ریشم کا ڈورہ ہے اس کو جس طرف کو چاہو موڑ لو ، مسوس لو گرہ لگا لو ، نرم تو اتنا ہے ہاں مضبوط ہے حتی کہ اگر ہاتھی بھی زور لگائے تو نہیں توڑ سکتا تو سختی اور چیز ہے اور مضبوطی اور چیز ہے ۔ اب لوگ چاہتے ہیں کہ کچا ڈورا ہو ہاتھ لگاتے ہی بکھر جائے تو میں ایسا بھی نہیں ۔ ” جعل لکم الارض ”
میں مفسرین نے فرمایا ہے کہ زمین نہ اس قدر نرم ہے کہ چلنے والا پانی کی طرح اس میں اترتا چلا جائے اور نہ اس قدر سخت کہ کھودنے سے بھی کچھ اثر نہ ہو ۔ اصل یہ ہے کہ لوگ نہ نرمی کو سمجھتے ہیں اور نہ سختی کو جو چاہا ہانک دیا مگر میں نے اس کا بھی اہتمام نہیں کیا کہ کوئی مجھ کو برا نہ کہے ، کوئی برا کہا کرے میرا بگڑتا کیا ہے ۔

( ملفوظ 426 )تصوف کا مطالعہ کافی نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کتاب سے کیا ہوتا ہے ضرورت مہارت کی ہے جو موقوف ہے ماہر کی صحبت پر اس کی تائید میں ایک قصہ بیان فرمایا کہ مجھ کو ایک زمانہ میں قلت نوم کی شکایت ہو گئی اپنے معالج سے ظاہر کرتا تھا مگر تدبیر سے نفع نہ ہوتا تھا ۔ مجھ کو خیال ہوا کہ حکیم صاحب کچھ یاد سے بتلا دیتے ہیں کتاب کا مطالعہ کر کے نہیں بتلاتے ۔ یہ خیال کر کے ایک روز میں خود حکیم صاحب کے پاس پہنچا اور یہ کہا کہ مجھ کو شرح اسباب دے دیجئے اور میں نے دل میں یہ خیال کیا کہ کتاب میں میں خود دیکھوں گا اور سبب کی تعیین کر کے تدبیر کروں گا ۔ چنانچہ کتاب میں وہ بحث دیکھی ، اب جتنے اسباب دیکھتا ہوں سب اپنے اندر پاتا ہوں ، میں نے کہا کہ اے اللہ یہ تو سب میرے اندر ہیں اب کس کی تعیین کروں ، کتاب کو سمجھنا تھا مگر اپنا فیصلہ نہیں کر سکتا تھا ۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ ہر سبب مؤثر نہیں ہوتا بلکہ وہی مؤثر ہوتا ہے جو معتدبہ ہو اور اس کی تحقیق موقوف ہے مناسبت اور ذوق پر وہ طبیب میں ہوتا ہے مجھ میں نہ تھا ۔ اسی طرح ہر فن کی حالت ہے اس لیے تصوف کے مطالعہ کو کافی نہ سمجھنا چاہیے ۔

( ملفوظ 427 )شیخ کی ضرورت اور سلب نسبت کی تحقیق

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر فہم سلیم ہو تو پھر شیخ کی ضرورت نہیں ، کتاب و سنت پر عمل کیا جائے کافی ہے ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ کیا اس قدر فہم سلیم ہو سکتا ہے ؟ فرمایا ہو سکتا ہے مگر قلیل باقی جو اس قدر فہم سلیم نہ رکھتا ہو اس کو اس راہ میں بدون شیخ کے قدم رکھنا نہایت خطرناک ہے اس وقت نہ کتاب سے کام چلے گا نہ اپنی رائے سے ۔ اسی لیے فرماتے ہیں کہ :
جملہ اوراق و کتب در نارکن سینہ را از نور حق گلزار کن
البتہ کتابیں معین ضرور ہیں ، کتابیں پڑھنے والا جس قدر سمجھ سکتا ہے نہ پڑھنے والا سمجھ نہیں سکتا ۔ پس یہ شرط کے درجہ میں ہے علت کے درجہ میں نہیں اور یہ جو میں کہا کرتا ہوں کہ اختیاری کا ترک بھی اختیاری ہے تو پھر پیر کی کون سی ضرورت ہے ۔ یہ کتابوں کی مدد سے نہیں کہتا یہ بھی شیخ ہی کی صحبت کا فیض ہے ورنہ کتابیں اوروں سے زیادہ ہم نے بھی نہیں پڑھیں ۔ پس یہ سب کچھ صحبت شیخ ہی کی بدولت ہے اور یہ ضرورت شیخ کی ایسی ہے کہ جیسے کسی بچہ کا باوا چاہے جنوا کر مر جائے پرورش میں اس کی ضرورت نہیں مگر جنوانے میں تو ضرورت ہے باوا کی یا جیسے مرغی کے نیچے انڈے رکھتے ہیں تو ضرورت تھی مرغی کی لیکن اگر انڈے بطخ کے ہیں تو بچے نکلنے کے بعد خود مرغی تو دریا کے کنارے کھڑی ہے اور اس کے بچے تیر رہے ہیں یہ تفاوت استعداد کا ہے پس ممکن ہے کہ مرید اکمل ہو جائے پیر سے مگر تربیت کے لیے اس کو بھی پیر کی ضرورت ہو گی پھر بعد حصول مقصود بعض اوقات پیر کو مرید کے مقام کی خبر بھی نہیں ہوتی یہاں سے ایک شخص کا جہل بھی ثابت ہو گیا ہے جو اپنے شیخ کے ساتھ گستاخی کرنے سے مسلوب الحال ہو گیا تھا مگر وہ اس گمان میں تھا کہ میں صاحب حال ہوں جب دوسروں کے کہنے سے اس کو شبہ واقع ہوا تو اس نے ایک مجذوب سے کہا کہ دیکھنا مجھ میں نسبت باقی ہے یا نہیں ؟
اس کی ایسی مثال سمجھ لو کہ ایک ضعیف الباہ شخص کسی طبیب سے کہے کہ میرا خاص بدن پکڑ کر دیکھ کہ میں مرد ہوں یا نہیں ۔ اس سے خود معلوم ہو گیا کہ مرد نہیں دوسروں سے معلوم کراتا پھرتا ہے ۔ یہی حالت اس مسلوب الحال کی تھی اور اسی سلسلہ میں فرمایا کہ ابتداء ہی سے جو محجوب ہو وہ اتنا برا نہیں جس قدر مسلوب الحال برا ہوتا ہے محجوب کو نسبت حاصل ہو سکتی ہے مگر مسلوب النسبت کو عادۃ پھر نسبت حاصل نہیں ہوتی اور یہ مسلوب کہنا باعتبار ظاہر کے ہے ورنہ واقع میں یہ شخص صاحب نسبت ہی نہیں ہوا تھا کیونکہ نسبت حقیقی حاصل ہو کہ پھر غیر اہل نسبت نہیں ہو سکتا جیسے پھل پک کر کچا نہیں ہوتا یا بالغ ہو کر نابالغ نہیں ہو سکتا ۔ گو غلطی سے اس کو شبہ ہو گیا کہ میں صاحب نسبت ہو گیا جیسے صبح کاذب کو کوئی صادق سمجھ لے جس کو مولانا فرماتے ہیں :
اے شدہ تو صبح کاذب رار ہیں صبح صادق راز کاذب ہم ہیں
نابالغی کے زمانہ میں کسی کا نکاح ہو گیا ، کچھ عارضی جوش اٹھا مگر عورت کے پاس جا کر دیکھا کہ اب کچھ نہیں تو حقیقت میں وہ بلوغ نہ تھا دھوکہ ہوا بلوغ کا ، حاصل یہ ہے کہ بلوغ کا جو درجہ مطلوب ہے وہ نہیں ہوا اس لیے اپنے خیال پر اعتماد نہ کرے ، شیخ کی شہادت کا انتظار کرے اور شیخ کو حقیقی تعلق مع اللہ کا جو کہ محض غیب ہے علم نہیں ہوتا مگر نقص کا تو علم ضروری ہے پس شیخ عالم الغیب نہیں ہوتا مگر عالم العیب ہوتا ہے ۔ اسی طرح شیخ کا صاحب کشف ہونا صاحب الہام ہونا ضروری نہیں حتی کہ شیخ کا من الحیث الشیخ صاحب تقوی ہونا بھی ضروری نہیں ، غیر متقی صحیح راہ بتلا سکتا ہے البتہ شیخ اگر متقی ہو گا اس کی تعلیم میں برکت ہو گی ۔ اگر متقی نہ ہو گا برکت نہ ہو گی ، البتہ حق کا جاننا شیخ کے لیے ضروری ہے مگر ولی و مقبول ہونا شیخ کے لیے شرط نہیں ، یعنی افادہ کی ۔

( ملفوظ 425 ) امام شافعی کے چند دلچسپ واقعات

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ صحیح اصول بھی حضرات اہل اللہ ہی کو نصیب ہیں دنیا دار کو یہ بھی نصیب نہیں ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بصورت مہمان پہنچے ، کھانے کے وقت خادم نے اول امام شافعی کے ہاتھ دھلانے چاہے ، امام مالک صاحب نے فرمایا کہ پہلے ہمارے ہاتھ دھلاؤ پھر خادم نے پہلے کھانا امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے رکھنا چاہا ، امام مالک صاحب نے فرمایا کہ پہلے ہمارے سامنے کھانا رکھو اس کے بعد کھانا بھی خود ہی شروع کر دیا ۔ میری سمجھ میں اس کی جو حکمت آئی وہ یہ ہے کہ تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مہمان کو کھانے میں سبقت کرتے ہوئے ایک قسم کا حجاب ہوتا ہے تو امام مالک کو اصل تو کھانے میں اپنی تقدیم مقصود تھی مگر جو مقصود کا حکم ہوتا ہے وہی مقدمات کا حکم ہوتا ہے اس لیے کھانے کے مقدمات میں بھی تقدیم کی ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ایک رئیس کے یہاں مہمان تھے ان کے یہاں غلام کو کھانے کی فہرست دے دی جاتی تھی کہ اس کے مطابق کھانا تیار کر کے لا دے ، ایک روز امام شافعی نے اس سے فہرست لے کر اس میں ایک کھانے کا اضافہ کر دیا ۔ عین کھانے کے وقت میزبان نے دیکھا کہ ایک کھانا دسترخوان پر زائد ہے ۔ غلام سے وجہ دریافت کی اس نے عرض کیا کہ حضرت امام صاحب نے ایک کھانے کا اضافہ فہرست میں فرما دیا تھا اس سے میزبان کو اس قدر خوشی حاصل ہوئی کہ اس غلام کو آزاد کر دیا محض اس کی خوشی ہوئی کہ مجھ پر مہمان نے فرمائش کی قدر دانی بھی ہو تو ایسی ہو اور مہمان نوازی اس کو کہتے ہیں ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا مذاق محبت اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرمایا کرتے تھے کہ جب سے مجھ کو یہ معلوم ہوا ہے کہ جنت میں دوستوں سے ملاقات ہوا کرے گی تب سے جنت کی تمنا کرنے لگا ۔ واقعی یہ خط تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے ۔ پھر فرمایا اس باب میں میری طبیعت ایک خاص رنگ کی ہے وہ یہ کہ مجھ کو کسی سے ملنے کا اشتیاق نہیں ہوتا البتہ مل کر مسرت ہوتی ہے اشتیاق و انتظار سے آزادی یہ سب مجذوب صاحب کا اثر ہے جن کی دعاء سے پیدا ہوا ہوں ۔

( ملفوظ 424 )صوفیاء کے علوم مکاشفہ کا مطالعہ مضر ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ صوفیاء کے ایسے کلام کو دیکھنا جو علم مکاشفہ سے تعلق رکھتا ہو عوام الناس کے لیے حرام ہے ، اندیشہ گمراہی کا ہے اور وہ اس وجہ سے کہ سمجھ تو سکتے نہیں یوں ہی گڑبڑ میں پھنس کر گمراہ ہوں گے ۔
24 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم شنبہ

( ملفوظ 422 )ذبیحہ میں بے رحمی نہیں ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جو خدا کا قائل نہیں اس نالائق سے خطاب نہیں مگر جو قائل ہیں ان کی طرف سے جو مسلمانوں پر الزام اور اعتراض ہے کہ یہ لوگ بے رحم ہیں اور بے رحمی کی وجہ سے ان کے یہاں ذبیحہ ہے میں ان کو جواب دیتا ہوں کہ تمہارے یہاں گو ذبیحہ نہیں مگر جانوروں کو پھر بھی مارتے ہو تم بڑے با رحم ہو ۔ پھر یہ کہ جو جانور ذبح نہیں ہوتے آخر مرتے ہیں تو یہ بتلاؤ کہ ان کو کس نے مارا ۔ ظاہر ہے کہ تمہارے اعتقاد میں بھی خدا نے مارا تو اس کو بھی رحیم نہ کہنا چاہیے پس جس طرح انہوں نے حضرت عزرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ روح نکال لو جوحقیقت ہے موت کی اسی طرح ہمیں ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ بس ایک صورت ہلاک کی یہ ہے اور ایک صورت ہلاک کی وہ ہے اگر یہ ترحم کے خلاف ہے تو وہ بھی ہے اگر وہ نہیں تو یہ بھی نہیں ۔ جیسے اگر نوکر سے کہے کہ اسے مارو ، ایک چپت یا خود مار دے ان میں فرق کیا ہوا اور صاحب تمام شبہات کی جڑ ضعف تعلق ہے اور بڑی چیز خدا سے تعلق محبت ہے اس کے بعد تمام قانونوں کی حکمت سمجھ میں آنے لگتی ہے جیسے کوئی کسی پر عاشق ہو جائے تو اس کی ہر اداء اور اس کا ہر حکم محبوب معلوم ہونے لگتا ہے ۔ عظمت اور محبت ایسی ہی چیز ہے خدا کی محبت اور اس کی عظمت پیدا کرو سب اشکال رفع ہو جائیں گے اور اس کے پیدا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کسی اللہ والے کی جوتیاں سیدھی کرو ۔ مولانا اسی کو فرماتے ہیں :
قال را بگذار مرد حال شو پیش مردے کاملے پامال شو

( ملفوظ 423 )تقدیر سے متعلق ایک سوال کا جواب

تقدیر کے متعلق ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر لکھا ہوا بھی نہ ہوتا تب بھی چونکہ علم و قدرت کا تو ہر حادثہ سے تعلق ہے اس لیے جو ہو رہا ہے اس کے خلاف ہر گز نہ ہوتا ۔ قضیہ عقلیہ مسلمہ ہے کہ
الشیء مالم یجب لم یوجد
پھر اس وجوب پر جو اشکالات ہیں ان کو نہ متکلمین حل کر سکے اور نہ فلاسفر ، یہی مسئلہ ہے تقدیر کا جس کی کنہ کسی مخلوق کو معلوم نہیں اسی لیے اس میں خوض کرنے سے منع فرمایا گیا ہے اور یہ وہ مسئلہ ہے کہ اس کا انکشاف نام جنت میں بھی نہ ہو گا ہاں اتنا فرق ہے کہ یہاں وساوس اور تردد ہوتا ہے ۔ جنت میں تردد اور وساوس نہ ہوں گے بوجہ غلبہ محبت کے اور اس مسئلہ میں شفاء جبھی ہو سکتی ہے کہ خدا تعالی سے تعلق صحیح ہو جائے اور قیل و قال سے اور زیادہ شبہات پیدا ہوتے ہیں ۔ اسی واسطے سلف نے علم کلام میں انہماک کو منع کیا ہے سو ان دلائل اور چھان بین سے تو یہ بہتر ہے کہ حق تعالی کی طرف توجہ کی جاوے اور یہ سمجھا جائے کہ ہمارے نوکر ہمارے اسرار نہیں جانتے اور اگر ہم کو یہ معلوم ہو جائے کہ ہمارا نوکر ہمارے اسرار معلوم کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو وہ مستوجب سزا ہو گا کہ تجھ کو منصب کیا ہے ہمارے اسرار پر مطلع ہونے کا ۔ بس ایسے ہی یہاں پر سمجھ لیا جائے اس معاملہ میں تو صحابہ کرام کی عجیب شان تھی ان کی طبیعتیں اس قدر سلیم تھیں کہ جس طرح حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تھا اسی طرح ان کو یقین ہو گیا ان کو ایسے اشکال بھی نہیں ہوتے تھے اس قدر عقل سلیم اور طبیعتیں پاک تھیں اور ہماری تحقیق ہی کیا کہ جس کی بناء پر حقیقت کا انکشاف ہو اور اسرار پر مطلع ہوں ، حقائق کے سامنے ہماری یہ مثال ہے کہ پانی کے ایک قطرہ میں لاکھوں کیڑے ہوتے ہیں اگر ان میں سے ایک کیڑا سر ابھار کر آئے اور کہے کہ اس ریل سے کیا فائدہ اور اس تھرمامیٹر سے کیا نفع اور ٹیلی فون کیا چیز ہے اور ٹیلی گراف کس کو کہتے ہیں ؟ تو کیا اس کی یہ کوشش معقول ہو سکتی ہے سو جیسے اس کیڑے کی حقیقت ہے انسان کے سامنے ایسے ہی انسان کی حقیقت ہے حق تعالی کے سامنے بلکہ اس کیڑے کو تو کچھ انسان سے نسبت ہے بھی کیونکہ دونوں محدود ہیں اور انسان کو حق تعالی کی ذات کے سامنے اتنی بھی نسبت نہیں کیونکہ محدود کو غیر محدود سے کیا نسبت ۔

( ملفوظ 420 )علامہ تفتازانی اور تیمور لنگ

سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ علامہ تفتازانی جب اول مرتبہ بلائے ہوئے تیمور لنگ کے دربار میں تشریف لے گئے تو تیمور نے اپنے تخت پر ان کو جگہ دی ، تیمور بوجہ لنگ ہونے کے تخت پر پاؤں پھیلا کر بیٹھتا تھا ۔ علامہ نے بھی اپنا پاؤں پھیلا دیا ، تیمور کو ناگوار ہوا ، نرمی سے کہا کہ معذور دار مرا لنگ است انہوں نے فی الفور فرمایا معذور دار مرا ننگ ست ۔ یہ حضرات تو سلاطین کے دربار میں بھی اظہار حق سے نہیں رکے ۔