ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مرتبہ وقارالملک کے بلانے پر علی گڑھ کالج میں جانا ہوا ، وہاں مجھ کو ایک سائنس کے کمرہ کی بھی سیر کرائی گئی اس میں بجلی بھی دکھلائی گئی اس کے بعد جمع کی نماز پڑھ کر میرا بیان ہوا ، میں نے اس میں ایک پر یہ بھی کہا کہ ممکن ہے کہ آپ کو اس پر شبہ ہو کہ جو برق کی حقیقت حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیث شریف میں بیان کی ہے وہ اس برق پر صادق نہیں آتی ۔ میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے کہ برق کی دو قسمیں ہیں ایک برق سماوی اور ایک برق ارضی تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے جس برق کی حقیقت بیان فرمائی ہے وہ سماوی ہے اور یہ قسم برق کی ارضی ہے ۔ اسی طرح اور بھی بعض چیزوں کو میں نے بیان کیا ۔ سامعین حیرت سے منہ تکتے تھے ، آنکھیں کھل گئیں اور اس تقریر کا بے حد اثر ہوا ، پھر کبھی جانے کا اتفاق نہیں ہوا کیونکہ پھر بلایا نہیں گیا ۔ وجہ یہ ہوئی کہ نئی روشنی کے بعض اخباروں نے یہ لکھا کہ اگر ایک دو مرتبہ یہ شخص کالج میں اور آ گیا تو سرسید کے کعبہ کو ویر بنا دے گا ۔ یہ حقیقت ہے ان کی تحقیقات کی اور فہم کی ۔
( ملفوظ 418 )حضرت شیخ محمد تھانوی کہ پیشین گوئی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مرتبہ میں بچپن میں کسی کے ہمراہ حضرت مولانا شیخ محمد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا ، مجھ سے فرمایا کہ قرآن شریف سناؤ ، سن کر بہت خوش ہوئے اور حاضرین سے فرمایا کہ یہاں میرے بعد یہ لڑکا ہو گا ۔ پھر یہ قصہ بیان کر کے فرمایا کہ بھائی ہمارے پاس اور سرمایہ ہی کیا ہے بس یہی اپنے بزرگوں کی توجہ و عنایت ہے ۔
( ملفوظ 419 )محمود غزنوی اور ایک ہندو لڑکا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے حضرات سے جب تک کوئی ملتا نہیں جبھی تک وحشت ہے مگر اختلاط کے بعد پھر اپنی وحشت پر تعجب ہوتا ہے جیسے محمود غزنوی کی حکایت ہے جب وہ ہندوستان آئے چند ہندو لوگوں کو گرفتار کر کے لے گئے ۔ ان میں سے ایک لڑکے میں آثار لیاقت کے پا کر اس کو ایک بڑا عہدہ دیا ۔ اس وقت وہ لڑکا رویا ۔ محمود غزنوی نے پوچھا کہ یہ رونے کا وقت ہے ، لڑکے نے کہا کہ میں غم سے نہیں روتا بلکہ مجھ کو میری ماں کی ایک بات یاد آ گئی وہ یہ کہ جب آپ بار بار ہندوستان پر آتے تھے تو بچوں کو یہ کہہ کر ڈرایا جاتا تھا کہ تجھے محمود کو دے دیں گے ہم یہ سن کر ڈر جاتے اور سہم جاتے کہ یااللہ محمود کیسا ہو گا ، آج اگر میرے پاس ماں ہوتی تو اس کو دکھاتا کہ دیکھ یہ ہے محمود ۔
( ملفوظ 416 )بزرگوں کی شان اتباع شریعت کے چند واقعات
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے بزرگوں کی جیسی شان تھی وہ ان کے واقعات سے معلوم ہو سکتی ہے ۔ ایک شخص نے حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ ایک صاحب ہیں انیہٹے میں ، وہ کہتے ہیں کہ حضرت حاجی صاحب نے مجھ کو سماع کی اجازت دے دی ہے ۔ حضرت نے جواب میں فرمایا کہ اگر ایسا ہوا بھی ہو تو حجت نہیں ، حضرت حاجی صاحب جس فن کے امام ہیں ان میں ہم ان کے غلام ہیں باقی یہ مسائل فقہیہ ہیں اس میں فقہاء کا اتباع کیا جائے گا ۔ دیکھئے حضرت مولانا ہمیشہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خطوط میں اپنے نام کے ساتھ یہی لکھتے تھے کہ کمترین غلام کمینہ خدام مگر اس موقع پر صاف صاف حقیقت ظاہر کر دی بلکہ یہ بھی فرمایا کہ ان مسائل میں حضرت کو ہم سے فتوی لے کر عمل کرنا چاہیے نہ کہ ہم آپ کے قول پر عمل کریں ، حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ میں انتظامی شان بڑی زبردست تھی جس کو بعض بدفہموں نے نخوت سے تعبیر کیا نخوت نہ تھی بلکہ صفائی تھی جو ایک مجتہدانہ محققانہ شان کی مظہر تھی اس کے بعد ایک واقعہ حضرت شاہ محمد اسحاق صاحب کا بیان فرمایا کہ جب حضرت شاہ صاحب ہجرت کر کے تشریف لے گئے تو اجمیر کی طرف سے ارادہ فرمایا ۔ اس وقت ریل نہ تھی ، یہی گاڑی چھکڑے تھے ، اجمیر میں شاہ صاحب کے ایک شاگرد تھے عالم تھے ان کو لکھا کہ میں مکہ کو جا رہا ہوں اور اجمیر کی طرف سے جاؤں گا اور وہاں پر ٹھروں گا اور حضرت خواجہ صاحب کی زیارت کروں گا ۔ شاگرد لکھتے ہیں کہ آپ یہاں پر تشریف نہ لائیے ، آپ کی تشریف آوری سے انتظام شریعت میں گڑبڑ ہو گی اس لیے کہ میں یہاں پر تبلیغ کر رہا ہوں اور سفر کر کے قبر کی زیارت کرنے کو انتظاما منع کرتا ہوں آپ کے آنے سے میرا سب انتظام بگڑ جائے گا ۔ شاہ صاحب نے شاگرد کو اس کا جواب لکھا وہ قابل غور ہے لکھا کہ اس انتظام شریعت کے محفوظ رہنے کی ایک تدبیر ہے وہ یہ کہ میں جب اجمیر آؤں تو تم مجمع کر کے وعظ کہنا اور یہ کہنا کہ بعض لوگ بڑے بڑے عالم کہلاتے ہیں مگر بزرگوں کی قبر کی زیارت کے لیے سفر کر کے آتے ہیں جو جائز نہیں اور ان کا یہ فعل حجت نہیں میں اسی مجمع میں کہوں گا کہ آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں مجھ سے غلطی ہوئی پھر ایسا نہ کروں گا ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ، کیا ٹھکانا ہے ان حضرات کی حق پرستی کا ، یہ لوگ عاشق تھے شریعت کے ، کہ آج کل تو کوئی ایسی بات کر کے دکھلائے ۔ ایک سلسلہ گفتگو میں ایک اور واقعہ بیان فرمایا کہ مولوی فضل حق صاحب خیر آبادی مولانا شاہ عبد القادر صاحب سے حدیث کی سند لینے جایا کرتے تھے ، کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ کو کیا حاجت ہے آپ وہاں جاتے ہیں ؟ کہنے لگے معقول تو ہمارے گھر کی لونڈی ہے اس میں تو ہم کسی کے محتاج نہیں البتہ حدیث میں بزرگوں گا معمول ہے کہ برکت کے لیے سند لیتے ہیں سند ہی کے لیے میں جایا کرتا ہوں ۔ شاہ صاحب کشف میں بڑے تھے غالبا ان پر اس کا انکشاف ہو گیا جب یہ حاضر ہوئے ان کا دعوی توڑنے کے لیے فرمایا آج سبق رہنے دو کچھ تفریح کے لیے معقولات میں گفتگو کریں ۔ اول انہوں نے ادب کے سبب عذر کیا پھر راضی ہو گئے ۔ جب گفتگو کی رائے ٹھر گئی اس وقت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب نے اپنے لیے تو چٹائی مسجد کے حصہ میں بچھوائی اور مولوی فضل حق صاحب کے لیے مسجد سے باہر کے حصہ میں ۔ گفتگو شروع ہوئی تو تھوڑی ہی دیر میں مولوی فضل حق صاحب کو بند کر دیا ، خیر یہ کمال تو ظاہر ہے باقی ایک اور دقیق کمال اس واقعہ میں قابل غور ہے وہ چٹائیوں کے مواقع کا اختلاف ہے ۔ سو میں سمجھتا ہوں کہ مسجد عبادت کے لیے ہے شاہ صاحب کی نیت گفتگو میں اصلاح تھی ۔ مولوی صاحب کی اور وہ عبادت ہے اس لیے مسجد کے اندر بیٹھے اور مولوی صاحب کی نیت اظہار علم تھا اس لیے ان کو مسجد سے باہر بٹھلایا ۔ واللہ اعلم
( ملفوظ 417 )بڑے لوگوں کی غلطی کی وجہ
مولوی لطف اللہ صاحب علی گڑھی مصنفین کی غلطی کی بھی ہمیشہ توجیہ کر دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ بڑے لوگ ہیں ہمارا منہ نہیں ان پر اعتراض کرنے کا ، آج کل مدرسین اعتراض بھی کر لیتے ہیں پہلے بزرگوں کی طبیعت کا یہ رنگ تھا ۔
(ملفوظ 414 ) جواب مختصر مگر کافی اور شافی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب کہتے تھے کہ آپ کا جواب مختصر بہت ہوتا ہے جی نہیں بھرتا ، میں نے پوچھا کہ کافی بھی ہوتا ہے کہا کافی تو ہوتا ہے میں نے کہا کہ میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ جواب وافی بھی ہو اور جب کافی تو شافی بھی ہے وافی نہ سہی ۔
( ملفوظ 415 )تکلفات لباس اور حافظ شیرازی
ایک صاحب کے لباس پر حضرت والا نے تکلفات کی مذمت بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ لباس میں کیا رکھا ہے حافظ صاحب فرماتے ہیں :
مبیں حقیر گدایان عشق را کایں قوم شہان بے کمر و خسروان بے کلہ اند
حافظ صاحب کا بھی عجیب کلام ہے موجد ہیں اس طرز کے اس قبل کسی نے یہ طرز نہیں اختیار کیا البتہ ان کے بعد لوگوں نے اس طرز کا اتباع کیا مگر ہو نہیں سکا ۔ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ ایک شخص خشک مزاج مدعی عمل بالحدیث کہنے لگے کہ حافظ شیرانی کو باوجود ان کے رندانہ کلام کے کیوں بزرگ مانا جاتا ہے اور کلام میں تاویل کیوں کی جاتی ہے ، ان میں کونسی حدیث ہے ؟ میں نے کہا کہ حدیث شریف میں آیا ہے : ” انتم شھداء اللہ فی الارض ” اب تم جامع مسجد کے دروازہ پر کھڑے ہو جاؤ اور ہر شخص سے ان کے متعلق دریافت کرنا شروع کرو ، دیکھو کہ کیا جواب ملتا ہے ، دوسرے علی سبیل التنزل اگر غیر بزرگ کو کوئی بزرگ خیال کر لے تو کوئی معصیت نہیں اور اس کے عکس میں اندیشہ ہے معصیت کا ۔
( ملفوظ 412 )نئی روشنی والوں کا ہر چیز کا قرآن سے ثابت کرنا
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نئی روشنی والوں کو حضرت کی تقریر اور تحریر سے بہت تسلی ہوتی ہے ۔ فرمایا کہ ان کو دوسرے اہل تحقیق کی خبر نہیں اس لیے تسلی ہونا ہی چاہیے اور ایک بڑا سبب تسلی کا یہ ہے کہ میرے یہاں سیدھی اور سچی بات ہوتی ہے یہ اس کا اثر ہے اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ رنڈی اور گرستن کو پاس پاس بٹھلاؤ ، اول وہلہ میں لوگ رنڈی ہی کو پسند کریں گے اس لیے کہ وہ چکنی چپڑی ہوتی ہے ، اچھی معلوم ہوتی ہے مگر چند روز کے بعد جب حقیقت منکشف ہو گی اس وقت گرستن ہی کو پسند کریں گے گو وہ چکنی چپڑی ہی نہیں ایسے لوگ وہلہ میں چکنی چپڑی باتوں کو پسند کرتے ہیں مگر کشف حقیقت کے بعد پھر سادہ ہی باتیں پسند ہوں گی ۔ اسی طرح تسلی بھی ان نئی روشنی والوں کی ہوتی ہے جن کو کچھ بھی لگاؤ ہے کیونکہ کچھ حقیقت ان پر بھی منکشف ہو جاتی ہے ورنہ اکثر نئی روشنی والے تو ایسے احمق ہیں کہ جہاں کوئی نئی بات دیکھتے ہیں ۔ کہتے ہیں واہ کیا عجیب تحقیق ہے پرانی بات کیسی ہی ہو اس کو پسند نہیں کرتے جیسے کسی ناحقیقت شناس کو اگر گرستن چودہ سال کی بھی ہو تو پسند نہیں اور بازاری اگر پچاس برس کی بھی ہو پسند ہے ان کا یہی مذاق ہے اور ہم مذاق میں مزاحمت نہیں ہوتی مگر اس مذاق کی تائید میں قرآن و حدیث پر کیوں مشق کرتے ہیں ناگواری اس پر ہوتی ہے مگر آج کل کے مدعیان عقل کا مذاق یہ ہو گیا ہے کہ ہر چیز کو قرآن شریف میں ٹھونسنا چاہتے ہیں خواہ وہ چیز قرآن سے کچھ بھی تعلق نہ رکھتی ہو یہ تو ایسا ہے جیسے طب اکبر میں کوئی شخص جوتی سینے کی ترکیب ٹھونس دے ۔ بس یہ تفسیریں ہیں آج کل کی چنانچہ ایک صاحب نے اذا الصحف نشرت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ قیامت کے قریب اخبار بہت جاری ہو جائیں گے ایک اور شخص نے کہا تھا کہ تحقیق جدید سے ثابت ہے کہ منی میں کیڑے ہوتے ہیں اور یہ قرآن سے ثابت ہے : خلق الانسان من علق
ایک اور شخص نے کہا تھا کہ آج کل سائنس سے ثابت ہو گیا ہے کہ تخم میں گھٹلی میں دو حصے ہوتے ہیں ان میں نر و مادہ کے خواص ہیں اس کے بعد کہتے ہیں کہ سورہ یسین میں ” سبحان الذی خلق الازواج کلھا مما تنبت الارض ” سے یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ نباتات میں بھی میاں بیوی ہوتے ہیں ان چیزوں کو قرآن میں ٹھونسنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ پچاس برس کے بعد اگر کوئی ان تحقیقات کا نافی پیدا ہو گیا اور تم نے ان تحقیقات کو قرآن کا جزو تسلیم کر لیا تھا تو وہ بہت آسانی سے قرآن کی تکذیب کر سکے گا ۔
( ملفوظ 413 )مولویوں میں نئے نئے القاب آورد
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولویوں میں نئے نئے لقب کہاں سے گھس آئے ، ہمارے اکابر اتنے اتنے بڑے گزرے ہیں کسی کا کوئی لقب نہ تھا نہ امام الہند نہ شیخ الہند نہ شیخ الحدیث نہ شیخ التفسیر نہ ابوالکلام نہ امیر الکلام محض سادگی تھی ۔ ہم کو تو وہی طرز پسند ہے ایک صاحب نے عرض کیا کہ دیوبند میں حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر جو کتبہ ہے اس پر حضرت کے نام کے ساتھ شیخ الاسلام لکھا ہے ، فرمایا کہ یہ آج ہی آپ کی زبانی سنا ہے مگر خیر یہ لقب پھر پرانا ہے نئے القاب کی سی اس میں ظلمت نہیں ، ہمارے بزرگوں کی سادگی کی تو یہ حالت تھی ایک مرتبہ حضرت مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ پاؤں دبوا رہے تھے ایک گنوار آیا اس نے نہایت بے باکی سے کہا کہ مولوی صاحب بڑا جی خوش ہو رہا ہو گا کہ ہم ایسے ہیں کہ لوگ ہمارے پاؤں دبا رہے ہیں ، حضرت نے فرمایا کہ ہاں بھائی راحت سے تو جی خوش ہوتا ہی ہے اس نے کہا کیا یہ جی میں نہیں آتا کہ میں بڑا ہوں ، فرمایا الحمد للہ بڑے ہونے کا تو قلب میں وسوسہ تک بھی نہیں آتا اس نے کہا کہ مولوی جی تو پھر تم کو پاؤں دبوانا جائز ہے ۔ اس واقعہ سے حضرت کی بے نفسی اور سادگی اور اس شخص کی بھی بے تکلفی اور سادگی کا پتہ چلتا ہے ۔ آج کل کے مدعیان تہذیب اس واقعہ سے سبق حاصل کریں اگر یہ نہیں تو میں تو آج کل کی تہذیب کو تعذیب کہا کرتا ہوں ۔
23 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس بعد نماز جمعہ
( ملفوظ 410 )ایک نئے خیال کے مولوی صاحب کی تھانہ بھون آمد
ایک نئے خیال کے مولوی صاحب کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا کہ وہ یہاں پر آئے تھے میں نے مہمان سمجھ کر اچھا برتاؤ کیا وہ کھلے تو مجھ سے کہا کہ مجھے تنہائی میں کچھ کہنا ہے میں نے ان کو تنہائی کا وقت دیا ، مختلف باتیں ہوتی رہیں ، میں نے کہا کہ آپ کو کیا ضرورت ہوئی کہ آپ نے ترجمہ قرآن پڑھانے کا نیا طرز نکالا متقدمین کے خلاف کہنے لگے کہ اب نئے نئے شبہات ہونے لگے ہیں ، ان نئے شبہات کا جواب بدون اس طرز جدید کے نہیں ہو سکتا میں نے کہا کہ پرانے طرز کی تفسیروں کو اگر سمجھ کر پڑھ لیا جائے سب شبہات کا جواب ان میں موجود ہے اور میں نے یہ بھی کہا کہ اس کا ایک امتحان ہے وہ یہ کہ دو گریجویٹ لے لیے جائیں ایک کو میں پرانے اصول پر ترجمہ پڑھاؤں اور ایک کو آپ اپنے نئے اصول پر پڑھائیں پھر کوئی شخص نئے شبہات دونوں کے سامنے پیش کرے اور دونوں اپنے اپنے طرز پر جواب دیں پھر اس سائل سے پوچھ لیا جائے کہ بولو کس کے جوابوں سے تسلی ہوئی ، کہنے لگے کہ پرانے طرز سے تسلی کر دینا آپ کے ساتھ مخصوص ہے دوسرے نہیں کر سکتے ۔ میں نے کہا کہ میں کیا چیز ہوں مجھ سے بڑے بڑے اکابر ہیں اور اگر یہی فرض کر لیا جائے تو جن کو آپ پڑھاتے ہیں یہاں بھیج دیا کیجئے ، آپ کیوں پڑھاتے ہیں اس کا کوئی شافی جواب نہ دے سکے ۔

You must be logged in to post a comment.