ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر مخالفین کی طرف سے نفس پرستی کا اعتراض ہے کثرت ازواج کے متعلق مگر یہ نہ دیکھا کہ عرب کے بڑے بڑے عمائد نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت مبارک میں حسین سے حسین عورتیں اور سلطنت اور حکومت اور مال پیش کرنے کی درخواست کی تھی اور یہ چاہتے تھے کہ ہمارے لات اور عزی کو برا نہ کہئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے صاف انکار فرما دیا ، کیا حظ نفس والے کا یہی رنگ ہوتا ہے اس قسم کا اعتراض ایسی ذات مقدس پر وہی کر سکتا ہے جو یا تو اندھا ہو اور اگر اندھا نہیں تو شرارت ہے ۔
( ملفوظ 350 )معمولات اصل نہیں تعلیمات اصل ہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ معمولات تو افعال ہوتے ہیں اور اتباع اقوال کا ہوتا ہے اس لیے کسی بزرگ کے معمولات لکھنا بے کار ہے بلکہ یہ مؤرخین کا مذہب ہے کہ دوسروں کے معمولات لکھنے پڑتے ہیں طالب کو اس سے کیا بحث ، حضرت تعلیم پر عمل ہونا چاہیے کہ اصل چیز قدر کی یہی ہے اور نری تعلیم سے کیا ہوتا ہے اور اس کو پوچھتا کون ہے ؟
17 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم شنبہ
( ملفوظ 347 )مزاج مقدس کیسا ہے ؟
فرمایا کہ ایک صاحب نے خط میں لکھا ہے کہ مزاج مقدس کیسا ہے ؟ میں نے جواب میں لکھ دیا کہ مقدس تو معدوم مگر غیر مقدس اچھا ہے ۔
( ملفوظ 348 )اخلاق کی درستی درشتی پر موقوف ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اخلاق کی درستی درشتی پر موقوف ہے مصلح بدون تھوڑی سی سختی کے دوسرے کی اصلاح نہیں کر سکتا ۔ مامون رشید کے پاس قاضی یحیی بن اکثم امام بخاری کے شیخ قیام فرمائے ہوئے تھے ، شب کو کسی ضرورت سے مامون رشید نے پکارا یا غلام یا غلام یا غلام اول تو غلام بولا نہیں اور جب بولا تو بہت ہی بگڑا کہ غلاموں کو زہر دے دو ، تلوار سے سر قلم کر دو ، دن بھر تو راحت ملتی نہیں شب کی بھی چین نہ رہی یا غلام یا غلام یہی ہر وقت رہتا ہے ۔ باوجود اس قدر گستاخی کے مامون رشید غلام پر برہم نہیں ہوا ۔ قاضی صاحب نے کہا کہ یہ بہت گستاخ ہو گئے ہیں ان کی اصلاح ہونا چاہیے ۔ مامون رشید نے کہا کہ پہلے میں اپنے اخلاق خراب کروں جب ان کے اخلاق درست ہوں اور ان کی اصلاح ہو سو میری جوتی کو کیا غرض پڑی کہ میں ان کی وجہ سے اپنے اخلاق خراب کروں اور بدون مواخذہ و مطالبہ و محاسبہ اصلاح ہو نہیں سکتی پھر فرمایا میرے یہاں اصلاح کے لیے مواخذہ تو ہے مگر بحمد اللہ عین مواخذہ کے وقت بھی تحقیر کسی کی قلب میں نہیں ہوتی ہاں مجھ سے ہر ایک کی بنتی بھی نہیں اور یہ عدم توافق کسی نقص ہی کی بناء پر نہیں ہوتا بلکہ عدم مناسبت اس کا اصل سبب ہے ۔ دیکھئے حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا واقعہ عدم مناسبت ہی کی بناء پر تھا جس پر ” ھذا فراق بینی و بینک ” کہا گیا ورنہ موسی علیہ السلام میں کس قسم کا شبہ ہو سکتا ہے ۔ ( نعوذباللہ ) ایسے ہی یہاں پر ہے کہ میں کسی نقص ہی کی بناء پر فراقی جواب نہیں دیتا بلکہ عدم مناسبت ہی اکثر سبب ہوتا ہے ۔
( ملفوظ 346 )دور سے پاس کرنا
ایک صاحب نے اپنے بعض امراض لکھ کر لکھا تھا کہ فلاں مرض کا علاج میں اس طرح کر رہا ہوں ، اگر آپ پاس فرما دیں ، جواب لکھا گیا میں دور ہی سے پاس کرتا ہوں ۔
( ملفوظ 345 )قابل اصلاح مرض
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت جن امراض کی اصلاح کی ضرورت ہے ان سب کا مجموعہ ہو جائے ، فرمایا کہ ایسے خطوط کو ایک ایک کر کے جمع کر لو ، اسی طرح مجموعہ جمع ہو جائے گا ۔ جیسے ایک عورت سے دوسری عورت نے پوچھا تھا کہ فوج کسے کہتے ہیں اس نے جواب دیا کہ میرا میاں اور تیرا میاں سب مل کر فوج ہو گئی تو یہی جو حالات پیش آتے رہتے ہیں وقتا فوقتا ان ہی کے جمع ہونے سے مجموعہ بن جائے گا اور اس کے لیے کسی خاص اہتمام کی ضرورت نہیں
( ملفوظ 343 )لوگوں میں عجمیت کی رسم غالب ہیں
ایک صاحب نے خط کے پتہ پر صرف حکیم الامت لکھا تھا اس پر حضرت والا نے جواب میں لکھا کہ کیا حکیم الامت میرا نام ہے اور آپ کو کس دلیل سے یہ ثابت ہو گیا کہ ڈاک خانہ والے مجھے اس لقب سے پہچان لیں گے ۔ فرمایا کہ آج ان صاحب کا خط آیا ہے کہ مجھ سے غلطی ہوئی معافی کا خواستگار ہوں ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ادب کی وجہ سے نہیں لکھ سکے ، فرمایا کہ ادب کی وجہ سے پھر خط بھی کبھی نہ آئے اور نہ خود کبھی آئیں گے کہ میری کیا مجال ہے کہ میں کچھ لکھ سکوں یا حاضر ہو سکوں ۔ ایک پہلو پر تو نظر جاتی ہے دوسری جانب کا احتمال ہی نہیں ہوتا ، نظر محیط ہونی چاہیے یہ جو کچھ ہو رہا ہے سب رسم کے ماتحت ہے اور کچھ نہیں محض تکلفات ہیں ، لوگوں میں عجمیت غالب ہے حلانکہ عربیت ہونا چاہیے ۔
( ملفوظ 344 )غلطی کے اقرار سے شیخ پر اثر ہونا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جب آدمی بار بار اپنی کوتاہیوں کا اقرار کرتا ہے مصلح پر اس کا اثر ہوتا ہی ہے اور ایسے شخص کی اصلاح کی امید ہوتی ہے بخلاف اس شخص کے کہ جو اپنی کوتاہیوں کا اقرار نہ کرے بلکہ تاویل سے کام لے اور سخن پروری کرے ، اس کی اصلاح کی امید نہیں نہ مصلح کی اس پر توجہ ہوتی ہے ۔
( ملفوظ 342 )نماز میں غلط جگہ بسم اللہ پڑھنا
ایک صاحب نے خط میں دریافت کیا کہ قیام میں سبحانک اللھم سے پہلے اور رکوع میں سبحان ربی العظیم سے پہلے اور قعدہ میں التحیات سے پہلے بسم اللہ پڑھنا کیسا ہے ؟ جواب لکھا گیا کہ بدعت ہے ۔
( ملفوظ 341 )شکایت تو نہیں البتہ حکایت ہے
ایک صاحب نے خط میں دریافت کیا تھا کہ حضرت کو اب تو نیند کی شکایت نہیں جواب لکھا گیا کہ شکایت تو نہیں حکایت ہے کہ نیند اب بھی کم ہے شکایت وہ ہے جس میں ناگواری ہی کا اظہار ہو ۔

You must be logged in to post a comment.