ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آجکل کے جاہل صوفیوں نے حقائق کو تو بالکل ہی مستور کر دیا ایک بھیانک صورت میں طریق کو لوگوں کے سامنے پیش کیا مگر اب تو الحمد للہ تعالی صدیوں کے لئے طریق بے غبار ہو گیا کافی خدمت طریق کی ہو چکی اور ان جاہلوں کے مکر و فریب سے لوگ بخوبی واقف ہو چکے اگر تھوڑا سا بھی کسی کو حق تعالی نے فہم سلیم عطا فرمایا ہو وہ ان جال میں نہیں پھنس سکتا باقی بد فہمیوں کا کسی کے پاس بھی علاج نہیں ـ
اقوال
( ملفوظ 96 )دور حاضر کے مفسرین کا حال
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں آجکل کے مدعیانِ قرآن دانی کے متعلق فرمایا کہ یہ تو ان نا اہلوں کا محض دعوی ہے کہ ہم قرآن کو سمجھتے ہیں اور تفسیر کر سکتے ہیں اس کے لئے ذوقِ سلیم اور فہمِ سلیم کی ضرورت ہے اور وہ پیدا ہوتا ہے تقویٰ سے اور بدون تقویٰ کے نور فہم کہاں نصیب! گو نظر بھی وسیع ہو۔ اس وسعتِ نظر اور عمقِ فہم پر میرے ایک دوست نے عجیب بات کی تھی کہ متبحر کی دو قسمیں ہیں ایک کدو متبحر، ایک مچھلی متبحر۔ کدو تو دریا کے تمام سطح پر پھر جاتا ہے مگر اس کو یہ خبر نہیں کہ دریا کے اندر کیا ہے اور ایک مچھلی ہے کہ عمق میں پہنچتی ہے گو تمام دریا پر نہ تیرے سو یہ آجکل کے مدعی کدو متبحر ہیں، اوپر پھرتے ہیں اندر کی خاک بھی خبر نہیں جیسے ایک انگریز نے دعویٰ کیا تھا کہ ہم اردو جانتا ہے اور میر کے اس شعر کی شرح کی تھی شعر یہ ہے ـ
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
اسکی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
شرح یہ کی کہ ہم اور تم اور انڈیا کا یک بڑا آدمی، یہ میر کا ترجمہ ہوا، سب اس کے بالوں میں پھنس کر جیل کھانے ( خانہ ) چلا گیا۔ ایک ایرانی نے دعویٰ کیا تھا کہ ہم اردو سمجھتا ہے ہندستانی نے کہا چھیلی رنگیلی رسیلی فہمیدی تم سمجھے ایرانی نے کہا بلے فہمیدم ہاں سمجھا ہندستانی نے کہا چہ فہمیدی تم کیا سمجھے تو وہ ایرانی کہتا ہے کہ شش گربہ رنگین رسن گرفت (یعنی) چھ رنگین بلیوں نے رسی پکڑ لی۔ بس یہی حال ہے ان مدعیوں کا خوب سمجھ لو کہ قرآن مجید جیسا لفظاً مُعجِز ہے اسی طرح معناً مُعجِز ہے بدون نقل صحیح کے محض عقل کی وہاں تک رسائی نہیں ہو سکتی اور لفظی اعجاز کی سب سے واضح اور کُلی دلیل یہ ہے کہ اہلِ زبان نے اس کو خدا کا کلام تسلیم کیا اور کہا کہ ما ہٰذا قول البشر (یعنی) یہ بشر کا کلام نہیں ہے۔ باقی تفصیلات و جزئیات بھی مویدات ہیں۔ چناچہ ایک تائیدی دلیل ہے کہ حق سبحانہ تعالی فرماتے ہیں ـ
اتدعون بعلا و تذرون احسن الخالقین
اگر یہ انسان کا کلام ہوتا تو بجائے تزرون کے یوں ہوتا کہ تدعون احسن الخالقین کیونکہ تدعون کے معنی بھی چھوڑ دینے کے ہیں اور تزرون کے بھی وہی معنی ہیں اور تدعون میں صنعت ہے تو بشر صنعت کو ترجیح دیتا ہے۔ اسی کو فرماتے ہیں کہ بعض مصنفین نے قرآن کی بعض آیات کی تفسیر کو نجوم کے اصول پر مبنی کیا ہے خدا کا شکر ہے کہ تفسیر بیان القرآن ایسی سب باتوں سے پاک ہے ـ
( ملفوظ 95 )حضرت کے ماموں کے کچھ اقوال
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تحریکات کے زمانہ میں لوگوں نے مجھ پر بلاوجہ طرح طرح کے بہتان باندھے بس ایسی باتوں سے اللہ تعالی کی نعمت کا مشاہدہ ہوتا ہے یعنی اخیر میں ان ہی کی گردن جھکی میری گردن نہیں جھکی وہی میرے دروازے پر معزرت کے لئے آئے ـ مجھے کسی کے دروازہ پر جانا نہیں پڑا اور میرا نقصان ہی کیا ہوا بلکہ نفع ہی ہوا کہ کنکریوں کے بدلے جواہرات عطاء فرمائے گئے یعنی ہر شے کا نعم البدل عطاء جس میں بڑی نعمت یہ ملی کہ مخلوق سے دل چسپی کم ہو گئی اس پر حیدر آباد والے ماموں صاحب کا قول یاد آیا فرماتے تھے کہ تارک الدنیا ہونا تو بڑا مشکل ہے مگر جب بندہ پر خدا کا فضل ہوتا ہے تو وہ متروک الدنیا بنادیا جاتا ہے ـ ماموں صاحب سے میرا اعتبار مسلک کے گو اختلاف تھا مگر ان کی باتیں بڑی ذہانت کی ہوتی تھیں اور مزاج میں ظرافت بھی بہت تھی روڑ کی ایک مرتبہ دو واعظ دو مولوی صاحب نے فرمایا کہ مولانا یہ معانقہ تو نہیں ہو مباطنہ ہوگیا تھا اور ان میں ترک کی بھی خاص شان تھی ایک بار جبکہ ماموں صاحب کا حیدرآباد دکن میں قیام تھا نواب محبوب علی خاں صاحب نے ایک تاریخ مقرر کی کہ آج ہم سب مزارات کی زیارت کریں گے چناچہ جس مزار پر گئے وہاں کے خدام نے پرجوش استقبال کیا مگر ماموں صاحب کے شیخ مرزا سردار بیگ صاحب کے مزار پر جو آئے تو یہاں ماموں صاحب پہلے سے مزار پر حاضر تھے مگر ان کو دیکھ کر صرف کھڑے ہو گئے اور سلام و مصافحہ کر لیا نزر بھی قبول نہیں کی جب وہاں سے رخصت ہوئے مضاحبین کو خیال ہوا کہ شاید نواب صاحب نے برا مانا ہوگا اس لئے تاویل کی کہ حضور یہ کچھ معزور سے ہیں ان کی بات کا کچھ خیال نہ فرمائیے نواب صاحب نے نہایت نا خوش ہو کر فرمایا کہ افسوس ایسے شخص کو پاگل اور دیوانہ کہتے ہو الحمدللہ کہ میرے شہر میں ایک ایسا شخص ہے کہ جس کے دل میں حب دنیا نہیں اور اس کے بعد ماموں صاحب کے پاس فرمان اور سواری بھیجی کہ اس وقت مجھ کو اسیری نہیں ہوئی یہاں تشریف لائیں تو عنایت ہو ماموں صاحب نے کہا کہ حضور اگر مجھ کو اپنی قلم رو سے نکالنا ہے تو دق کر کے کیوں نکالتے ہیں صاف کہہ دیں کہ میں کہیں نکل جاؤں آخر نواب صاحب خاموش ہو گئے باقی مجھ کو جو ماموں صاحب سے لگاؤ نہ تھا اس کا سبب ان کا مسائل میں لغزش کرنا تھا پھر اس کو زبان سے بھی ظاہر کرتے تھے بولتے بہت تھے اس میں ایسی باتیں کہہ جاتے تھے اور میں اس لئے خوش تھا کہ پیچھا چھوٹا میں نے ملنا بھی چھوڑ دیا تھا محض اس خیال سے کہ اگر ایسے منکرات پر سکوت کروں گا تو بے غیرتی ہے اگر بولوں گا تو گستاخی ہے ـ
( ملفوظ 94 )ایک خطبہ کا خواب میں القاء
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں نے جو مجموعہ خطیب لکھا ہے اس میں ایک خطبہ ہے محاسبہ اور مراقبہ کا اسمیں مجھ کو دو مشکلیں پیش آئیں ایک تو قید تساوی خطیب کے التزام کیساتھ ضبط مضمون کی کہ مضمون بہت طویل تھا جیسا احیاء کے کتاب المحاسبہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے اور ایک رعایت قوافی کی خدا تعالی کا فضل ہوا ـ خواب میں کسی نے اس کی عبارت بتلادی جس سے دونوں مشکلیں حل ہو گئیں صبح کو اٹھا تو کل حصہ تو محفوظ نہ تھا مگراکثر حصہ متخیلہ میں باقی تھا سو اس خطبہ کو الہامی نہ کہئے اس لئے کہ الہام تو بزرگوں کو ہوا کرتا ہے عوام کو تو خواب میں بتلادیا جاتا ہے ـ
( ملفوظ 93 )انتظام اوقات کی برکت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر میں اوقات منضبط نہ کرتا تو کوئی کام نہیں کرسکتا تھا اس انتظام اور اوقات کی پابندی کی بدولت اتنا کام ہوا انتظام میں حق تعالی نے ایک خاص برکت رکھی ہے مگر اسی انتظام اور اوقات کی پابندی کی بناء پر لوگ مجھ کو بدنام کرتے ہیں اس کا نام لوگوں نے خشکی بے مروتی رکھا ہے میں خشکی کے مقابلہ میں کہا کرتا ہوں کہ اتنی تری بھی نہیں چاہیے کہ جس میں ڈوب ہیں جائے ـ
( ملفوظ 92 )انتظام اوقات کی برکت
ایک صاحب کے سوال جواب میں فرمایا کہ الحمدللہ اب کسی چیز کی امنگ نہیں رہی اب تو یہ جی چاہتا ہے کہ فراغ کے ساتھ خاص تعلق مع اللہ میسر ہو جائے گو ابھی وہ نصیب نہیں ہوا مگر جی چاہتا ہے کہ نصیب ہو جائے ـ
( ملفوظ 91 ) حفظ مراتب کا خیال نہ رکھنا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگ ایسے گندے مذاق کے بھی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جسقدر ان کے قلب میں عظمت ہے اس قدر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں اور فقراء میں بھی ایسوں کی جو خلاف شریعت رہتے ہیں مراد جیسے بھنگڑواہی تباہی فقیر ـ
( ملفوظ 90 )متکبروں کے ساتھ حضرت کا برتاؤ
فرمایا میں متکبروں کی ساتھ الحمدللہ ایسا برتاؤ کرتا ہوں جس کودیکھ کر وہ یہ کہنے لگتے ہیں کہ ہمیں معلوم نہ تھا کہ علماء میں بھی ایسے ایسے حضرات ہوجود ہیں یعنی جو ان کو مونہہ نہیں لگاتے اور خیر میرے متعلق تو ان کا خیال ہی خیال ہے مگر یہ واقعہ ہے کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اہل علم میں بڑے بڑے حضرات ہیں باقی ہم لوگ تو کس شمار میں ہیں اب رہ گیا حصول دنیا دو اس پر حضرت مولانا محمد قاسم رحمۃ اللہ علیہ کا فرمانا یاد آگیا کہ دنیا ہمیں بھی ملتی ہے اور امراء کو بھی مگر اتنا فرق ہے کہ ہم کو عزت کے ساتھ ملتی ہے اور انکو ذلت کے ساتھ مگر اس استغناء کا حاصل اپنی عزت کی حفاظت ہے نہ کہ امراء کے ساتھ سختی کرنا یہ بھی تکبر ہے ـ
( ملفوظ 89 )حضرت کا کمال استغناء
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آجکل عموما مشائخ دربار میں اسپر نظر رہتی ہے کہ کون خدمت زیادہ کرتا ہے اور کون کم اس وجہ سے لوگ اس کا خاص اہتمام کرتے ہیں الحمدللہ مجھ کو اس کی طرف التفات بھی نہیں ہوتا بلکہ بعض خدمت سے اور تکلیف ہوتی ہے کیونکہ خدمت کا سلیقہ ہوتا اور بعض کو اگر ہوتا ہے تو نیت اچھی نہیں ہوتی کچھ اغراض پیش نظر ہوتے ہیں خدمت کرنے کے بعد اس غرض کو پیش کرتے ہیں برا معلوم ہوتا ہے یہ تو اچھی خاصی رشوت ہوئی کہ خدمت سے مخدوم نرم ہوجائے گا پھر ہم جو کہیں گے وہ کرے گا گویا تابع اور غلام بنانا چاہتے ہیں اس کا اصلی سبب یہ ہے کہ ان اہل دنیا کی نظروں میں دین اور اہل دین کی عظمت نہیں آخر ذلیل سمجھنے کا سبب کیا وجہ کیا ہمارا ایسا کون سا کام ہے جو بدون ان کے اٹکا پڑا ہے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ وہ اپنی حاجت آ کر پیش کرتے ہیں ہم نے خود تو کبھی کوئی حاجت ان کے پیش نہیں کی اس لئے جی چاہتا ہے کہ ان کو حقیقت معلوم کرادینا چاہیئے کہ جیسے تم ملانوں کو کچھ نہیں سمجھتے ملا نے تم کو کچھ نہیں سمجھتے ـ
( ملفوظ 88 ) فضولیات میں مبتلا ہونے کا نقصان
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جو شخص فضولیات میں مبتلا ہوگا وہ کبھی ضروریات کی طرف متوجہ نہیں ہو سکتا یہ تجربہ کی بات ہے ـ

You must be logged in to post a comment.