( ملفوظ 87 ) کسی کا چہرہ پر نظر نہ رکھنا

ایک صاحب سلسلہ گفتگو میں فرمایا میں کسی چہرہ پر نظر نہیں کرتا طبعا حجاب معلوم ہوتا ہے ـ

( ملفوظ 86 ) خط صحیح طریقہ سے بند کرنا

ایک صاحب کا خط آیا اسکو اس طرح بند کیا تھا کہ کھولتے ہوئے پھٹ گیا اس پر حضرت والا نے جواب تحریر فرمایا کہ اس حالت میں یا تو تم کو بند کرنے کی تمیز نہیں یا مجھ کو کھولنے کی تمیز نہیں اور بد تمیز نہ مرید ہونے کے لائق ہے اور نہ پیر بننے کے لائق اس واسطے اس قصہ کو ختم کرو اور اگر تم نے بند نہیں کیا کسی اور نے بند کیا تو آئندہ بھی ایسے ہی بد تمیز آدمی سے بند کرایا کروگے تو یہ تکلیف کون برداشت کرے گا ـ جواب آیا کہ خط کے اوپر گوند دوسرے شخص نے لگایا تھا حضرت والا کا جواب گیا کہ تم نے خود کیوں نہیں لگایا کیا اپنے کو اتنا بڑا آدمی سمجھتے ہو کہ ایسے معمولی کام بھی دوسروں سے لیتے ہو تو متکبر آدمی بھی مرید ہونے کے لائق نہیں ـ

( ملفوظ 85 )ایک صاحب کے خط کے جواب

ایک صاحب کا خط آیا لکھا تھا کہ بہت عرصہ سے نہ حاضری ہوئی اور نہ خط بھیج سکا حضرت والا نے جواب میں تحریر فرمایا کہ اس سے میرا کوئی ضرر نہیں بالکل بے فکر رہو ـ

( ملفوظ 84 )حالات کے تغیر تبدل میں حکمتیں ہیں

فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے ایک باطنی حالت کے متعلق لکھا ہے کہ اس کو بقاء نہیں میں نے لکھا ہے کہ بقاء ہے مگر اس حالت کا غلبہ نہیں رہتا اور وہ دائم رہ بھی نہیں سکتا اگر انسان چاہے کہ ایک سی حالت ہمیشہ رہے یہ ہی نہیں سکتا حالات کے تغیر تبدل میں حکمتیں ہوتی ہیں ـ

( ملفوظ 83 )خالی مشورے دینے والوں کا علاج

آج صبح کی مجلس میں ملفوظ نمبر 79 ) میں جو ایک نو وارد متمول صاحب سے گفتگو نقل کی گئی ہے ان کے متعلق حضرت والا نے فرمایا کہ صبح ان کی گفتگو سے معلوم ہوتا تھا کہ ان کی دو قسم کے لوگوں سے گفتگو ہوئی ایک تو وہ جو ان کے مابکل ہم خیال ہیں انہوں نے ہمہ تن موافقت کی اور ایک وہ جنہوں نے بالکل مخالفت کی میں نے یہ کیا کہ اصل مقصد میں موافقت اور طریق کار میں اختلاف کیا اور میرا اختلاف بالکل اصول صحیحہ پر منطبق تھا الحمداللہ میرے اندر بے پروائی نہیں ہاں میں تابع تو بننا نہیں چاہتا تابع شریعت ہی کے رہنما چاہیے اب اگر کوئی کام شریعت کے موافق ہے تو مجھے شرکت سے خدمت سے انکار نہیں اگر خلاف شریعت ہے تو میں شرکت سے معزور ہوں میں ہمیشہ اس کا خیال رکھتا ہوں جہاں کسی نے مولویوں کے ذمہ کام ڈالا میں نے فورا اس کو بھی ایک کام بتلادیا بس اس سے ان کی سب فضولیات ختم ہو جاتی ہیں ـ یہ دنیا دار باتیں ہی بناتے ہیں جب کام سر پڑتا ہے تو محض ناکارہ ثابت ہوتے ہیں ان کی رگ میں ہی پہچانتا ہوں اب یہ گئے ہیں مگر جو کچھ کریں گے دیکھ لیجئے اور سن لیجئے وجہ یہ کہ اس میں طریق کار میں نے ایسا بیان کردیا کہ جس میں ان کو خود بھی کچھ کرنا پڑے گا اور یہی ٹیڑی کھیر ہے ـ

( ملفوظ 82 )مکاتیب میں تاخیر دلیل ہے ضعف طلب کی

ایک صاحب کے خط کے جواب میں حضرت والا نے تحریر فرمایا کہ کئی مہینے تک خط کا نہ بھیجنا دلیل ہے ضعف طلب کی اور یہ بھی تحریر فرمایا کہ یہ بھی راز ہے میرے یہاں تاخیر بیعت کا اس پر فرمایا کہ آجکل بیعت بھی منجملہ اسباب افتخار کے ہوگئی ہے طلب نہیں ہے میں ضابطہ کے تعلق کو نہیں سمجھتا خلوص کے تعلق سمجھتا ہوں اور خلوص بھی وہ جس میں فلوس کو بھی دخل نہ ہو یہ بھی تجربہ کی بات ہے کہ یہ پیری مریدی کا تعلق اس سے قبول کرنا چاہیئے جس پر حکومت کر سکے نیز مرید ہونے کے قابل وہ شخص ہے کہ جس کو پہلے سے محبت ہو خلوص ہو اس میں بڑی مصلحتیں اور راحتیں ہیں ـ

( ملفوظ 81 )اصول اسلامیہ کی خاصیت

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اصول اسلامیہ کی خاصیت کی بالکل ایسی مثال ہے کہ جیسے گل بنفشہ میں برکت ہے زکام کے دفع کی خواہ مسلمان ہے یا کافر ہے اسی طرح جو شخص اصول صحیح پر عمل کرتا ہے چاہے مسلمان ہو یا کافر ہو راحت پاتا ہے اصول صحیح میں فطرۃ یہ خاصیت ہے کہ وہ پریشانی اور کلفتوں کو دور کرتی ہیں اس میں مسلم غیر مسلم کی کچھ قید نہیں جبکہ شاہ راہ یعنی سڑک شاہی سے جوگزرے گا وہ راحت سے سفر کرے گا درختوں کا سایہ اس کو ملے گا اب چاہے مسافر مسلم ہو یا غیر مسلم ہو شیخ سید مغل پٹھان ہو یا بھنگی اور چمار ہو اس میں کسی کی کوئی قید نہیں البتہ آخرت میں ترتیب آثار کے لئے اسلام شرط ہے ـ

(ملفوظ 80 )حضرت کو دہلی منتقل ہونے کا مشورہ

ایک صاحب نے ایک بڑے غیر مسلم حاکم کا مقولہ نقل کیا کہ حضرت چھوٹے قصبہ میں رہتے ہیں دہلی جیسی جگہ میں کیوں قیام نہیں فرماتے تاکہ زیادہ لوگوں کو نفع ہو فرمایا کہ چھوٹی جگہ میں رہ کر کام زیادہ کر سکتا ہوں کیونکہ زیادہ وقت فراغ کا زیادہ ملتا ہے اور بڑی جگہ میں رہ کر چھوٹا کام بھی نہیں کرسکتا اور نہ ہو سکتا ہے کیونکہ زیادہ وقت وارد و صادر کی دلجوئی ہی میں گزرتا ہے اور اس وقت تک جو کچھ کام ہوا یہ سب اسی جگہ کی برکت ہے جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ حضرت حاجی صاحب کی جگہ ہے اور حضرت ہی کے فرمانے کی وجہ یہ سے کانپور سے یہاں آ کر قیام کیا اور اس کے علاوہ سب سے بڑی بات جس سے برکت بڑھتی ہے یہ ہے کام میں خلوص ہو یعنی جو کام ہم کریں اس میں یہ نیت ہو کہ اللہ راضی ہو پھر برکت ہی برکت ہے اور کام میں جو بے برکتی ہے وہ نیت کی خرابی اور عدم خلوص کے سبب ہوتی ہے ـ

( ملفوظ 79 )تدبیر الفلاح ، یعنی کامیابی کا راستہ

ملقب تدبیر الفلاح ایک صاحب نو وارد متمول نے چند ضروری باتیں مسلمانوں کی دنیوی فلاح دنیوی فلاح و بہبود کے متعلق بصورت سوال حضرت والا کی خدمت میں برائے مشورہ پیش کیں وہ اور اس پر حضرت والا جواب حسب ذیل ملاحظہ ہوـ ایک نو وارد متمول صاحب کلکتہ سے دیوبند اور دیوبند سے ایک مولوی صاحب کو ہمراہ لے کر تھانہ بھون حاضر ہوئے مولوی صاحب موصوف نے ان صاحب کی غیبت میں حضرت والا سے پیشتر ملاقات کی اور عرض کیا کہ یہ بہت بڑے شخص ہیں بااعتبار تمول کے کلکتہ میںمسلمانوں کے اندران کی ایک ممتاز ہستی ہے حضرت والا سے بعض ضروری باتوں کے متعلق بہ غرض مشورہ عرض کرنا چاہتے ہیں اگر حضرت والا اجازت فرمائیں اور کوئی وقت گفتگو کو متعین فرما دیں تو میں ان سے کہہ دوں حضرت والا نے فرمایا کہ اس سے تو جب گفتگو ہوگی ان کو مشورہ دیا ہی جاوے گا مگر ان سے پہلے بغرض خیر خواہی آپ کو مشورہ دیتا ہوں ـ وہ یہ کہ آپ کو ان کے ہمراہ آنے کی کون سی ضرورت تھی جب کلکتہ سے دیوبند تک خود آگئے تھانہ بھون کونسا آنا مشکل تھا میں اہل علم کے لئے ایسی باتوں کو پسند نہیں کرتا یہ اہل دنیا خصوصی اہل مال ، اہل دین ، اور اہل علم کو نظر سے تحقیر سے دیکھتے ہیں اس لئے اہل دین اہل علم کو ہر گز ان کی چاپلوسی نہیں کرنی چاہیئے منہ بھی نہ لگانا چاہیئے اب آپ کی ہمراہی کے سبب مجھ کو ان کی بعض مراعاتیں کرنی پڑی گی آپ کو خیال رہنا چاہیئے میں جو آپ کو مشورہ دے رہا ہوں اس میں بڑی مصلحت اور حکمت ہے عرض کیا کہ میں بہت اچھی طرح سمجھ چکا ہوں انشاءاللہ آئندہ کبھی ایسا نہ ہوگا اور اس میری کم فہمی اور غلطی کو حضرت والا معاف فرمائیں فرمایا کہ خدا نہ کرے کہ آپ کم فہم ہوں نہ میرا یہ مطلب ہے بلکہ بے فکری اس کا سبب ہے اگر کسی کام کرنے سے قبل اس میں فکر اور غور کرلیا جائے تو صدرور غلطیوں کا تو پھر بھی ممکن ہے مگر شاذ و نادر جوا لنا در کالمعدوم کا مصداق ہوگا اور بدون فکر اور غور کے بکثرت صدور ہوتا ہے یہ فرمایا کہ ان صاحب کو اسی وقت بلا لیا جائے تاکہ معلوم ہوجاوے کہ وہ کیا بات کہنا چاہتے ہیں میں ان کواسی وقت فارغ کروں گا تاکہ انکا بھی کوئی حرج نہ ہو اور میں بھی یکسو ہو جاؤں بعد فراغ ان کو قیام کے متعلق اختیار ہوگا ـ
چاہے واپس جائیں یار ہیں میری وجہ سے نہ انکا حرج ہو اور نہ کلفت ہو غرضیکہ ان صاحب کو مجلس میں بلا لیا گیا بعد سلام اور مصافحہ کے ان صاحب نے عرض کیا کلکتہ سے دیوبند ہوتا ہوا حضرت والا کی خدمت میں چند ضروری باتیں بطور مشورہ عرض کرنے کی غرض سے حاضر ہوا ہوں اگر اجازت فرمائی جائے تو عرض کروں فرمایا سر آنکھوں پر شوق سے فرمائیے انشاءاللہ تعالی سن کر جو ذہن میں آئے گا میں بھی بے تکلف عرض کردوں گا فرمائیں انہوں نے کہا ( نمبر 1 ) مدرسہ دیوبند میں بقدر ضرورت تھوڑی سی انگریزی ہونی چاہیئے ـ
( نمبر 2 ) میرا خیال ہے کہ چند طلباء عربی کو کلکتہ لے جا کر انگریزی کی علامت تعلیم دلواؤں تاکہ دوسرے ممالک میں جو کر تبلیغ کر سکیں ـ
( نمبر 3 ) مسلمانوں کو تجارت کی سخت ضرورت ہے ان کی طرف رغبت دلائی جائے ـ
( نمبر 4 ) مسلمان دوسری قوموں سے خرید و فرخت اور لین دین چھوڑ دیں اس کی تحریک علماء کو کرنا چاہیئے یہ ہیں وہ باتیں جو مجھ کو حضرت والا سے عرض کرنا تھیں اب جو حضرت والا کا مشورہ ہو اس پر عمل کر لیا جاوے ـ

حضرت والا کا جواب
آپ کے خیالات نیک نیتی پر مبنی ہیں آپ نے مسلمانوں کی تکلیف کا احساس کیا آپ کے دلمیں ان کی طرف سے دود ہے جس کی مجھ کو بھی مسرت ہوئی اس لئے کہ اہل تمول مسلمانوں کو قطعا اس طرف سے درد ہے جس کی مجھ کو بھی مسرت ہوئی اس لئے کہ اہل تمول مسلمانوں کو قطعا اس طرف التفات نہیں کہ غریب مسلمانوں کی خبر گیری کریں میرے ذہن میں آپکی باتیں سن کر جو مفید اور کار آمد مشورہ آیا ہے وہ میں بے تکلف عرض کرتا ہوں امید ہے کہ خالی الذہن ہو کر آپ بغور سنیں گے اور جہاں میں بات پر شبہ ہو میری تقریر کے بعد اس کو ظاہر فرمائیں گے میں پھر اس کے متعلق عرض کروں گا تقریر کے درمیان میں بولنے سے ایک الجھن پیدا ہوگی ـ پہلے اور درسرے سوال کا جواب آپ کا یہ فرمانا کہ مدرسہ دیوبند میں بقدر ضرورت تقریر کے درمیان میں بولنے سے ایک الجھن پیدا ہوگی ـ پہلے اور دوسرے سوال کا جواب کا یہ فرمانا کہ مدرسہ دیوبند میں بقدر ضرورت تھوڑی سی انگریزی ہونی چاہیئے اور طلباء دوسری جگہ پر لے جا کر انگریزی تعلیم اس نیت سے دلوائی جائے کہ دوسرے ممالک میں جاکر تبلیغ کر سکیں اس کے متعلق یہ عرض ہے کہ یہ طریق مفید ثابت نہ ہوگا بلکہ مضر ہوگا مدرسہ میں انگریزی داخل ہونے سے خلط مبحث ہو جائے گا اب جو کام مدرسہ میں ہورہا ہے یہ بھی نہ ہوگا مدرسہ ایک معجون مرکب ہوجائے گا اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ مدرسہ کو تو اپنی حالت پر رہنے دیجئے جو کام ہو رہا ہے ہونے دیجئے اور انگریزی کے متعلق ایک دوس گاہ الگ تیار کرا دیجئے اس کا نظم و نسق انہی حضرات کے ہاتھ میں رہے جو عربی کا نظم و نسق فرما رہے ہیں اور صورت اس کی یہ ہو کہ عربی کے فارغ التحصیل طلباء انگریزی درس گاہ میں تعلیم پائیں اور جب تک طلبہ فارغ التحصیل نہ ہو جائیں ان کو انگریزی تعلیم پانے کی اجازت نہ ہو ہاں فراغت کے بعد کوئی حرج نہیں اس لئے کہ قبل فراغ اندیشہ ہے اس طرف کے جذبات کے غلبہ کا اور بعد فراغ یہ اندیشہ نہ رہے گا فراغ کے قبل اجازت نہ ہونیکی مصلحت یہ ہے کہ اکثر نقد غالب آجاتا ہے ادھار پر اور اس صورت مجوزہ میں مدرسہ کا کوئی حرج نہ ہو گا ایک یہ بات بھی ضروری ہے کہ کتابیں ختم کرنے کے بعد جب تک دو چار مرتبہ پڑھا لے علم محفوظ نہیں رہ سکتا سو فارغین گھنٹوں کے حساب سے دنوں کام کر سکتے ہیں یعنی فارغ التحصیل طلبہ اس صورت میں عربی بھی پڑھا سکتے ہیں اور انگریزی بھی پڑھ سکتے ہیں اور دوسری جگہ پہنچ کر فارغ التحصیل طلباء کا بھی تعلیم انگریزی پانا مضرت سے خالی نہیں ان کا یہ رنگ رہ ہی نہیں سکتا اور نہ اس کام کے بن سکتے ہیں جو آپ کی غرض ہے اسکا بھی صحیح طریق یہ ہی ہے کہ اپنے ان ہی قدیم استاتزہ کی نگرانی میں تعلیم پائیں تاکہ ان کے جزبات پر برا اثر نہ پڑے یہاں الگ ہو کر ان جزبات کا محفوظ رہنا مشکل ہے جس کا نتیجہ بجائے ہدایت کے گمراہی ہوگا اور انگریزی کو خود مدرسہ میں داخل کردینے سے عوام کے اوپر برا اثر ہوگا وہ شروع ہی سے اپنے بچوں کو تعلیم انگریزی کے لئے بھیجنا شروع کر دیں گے انکے پاس سمجھنے کا کوئی معیار ہی نہیں کہ اس کو مدرسہ دینیہ ہی کی شاخ بناکر رکھنا چاہئے اور مدرسہ دینیہ ہی کے خدام اس انگریزی شاخ کے نگران رہیں اور میری مجوزہ صورت میں ہر مصلحت محفوظ رہ سکتی ہے اور جیسے مبلغ آپ چاہتے ہیں ویسے تیار ہو سکتے ہیں اس لئے جزبات وہی دین کے رہیں گے غرضیکہ مدرسہ دینیہ کے ماتحت انگریزی درسگاہ کو رکھنا چاہیئے تاکہ انگریزی خانہ عربی خانہ سے زیادہ مقصود نہ ہو جاوے پھر اس اہتمام اور نگرانی کے بعد اگر کوئی بگڑے تو بگڑے ہم تو ذمہ دار نہ ہوں گے اور اسکے خلاف صورت میں ہم ذمہ دار ہوں گے یہ ہے فرق دونوں صورتوں میں اور اس سے آگے توسیع کر کے کہتا ہوں اور آپ کے درد کی قدر کرتا ہوں اور اس کے لئے میں یہاں تک تیار ہوں کہ مدرسہ دیوبند کو اسی موجودہ حالت پر رکھتے ہوئے اور جا کام وہاں پر ہو رہا ہے اس کا تحفظ کرتے ہوئے مشورہ دیتا ہوں آپ انگریزی تعلیم کے متعلق یہاں پر تھانہ بھون میں انتظام کر دیجئے میں ہر کام اپنی نگرانی میں رکھو گا اور مدرسین کا انتخاب وغیرہ اپنی رائے سے کروں گا طلباء کی نگرانی اور انکے متعلق اصول و قواعد میں خود منضبط کروں گا ـ یہ سب سے بہتر اور آسان صورت ہے جو میں نے بیان کی یہاں پر نہایت سہولت سے مکان کا بھی طلباء کی سکونت اور خورد و نوش کا بھی انتظام ہو جاوے گا جدید تعمیر کے انتظام کی فوری ضرورت نہ ہوگی اہل علم میں اور انجام دے سکتے ہیں اور اس طریق کار میں کسی گڑبڑ کا بھی اندیشہ نہیں غرض جملہ امور متعلقہ تعلیم و نگرانی کا کافی انتظام ہو جائے گا آپ کے ذمہ محض مالی اعانت کا بار رہے گا اس کا انتظام آپ کیجئے یہ ہمارے ذمہ نہیں پھر دیکھئے انشاءاللہ تعالی کیسے مبلغ پیدا ہوتے ہیں اس مشورہ کے سن لینے کے بعد اگر آپ کے ذہن میں کوئی مفید مشورہ اس کے علاوہ ہو وہ فرمایئے عرض کیا کہ اس جز کے متعلق تو عرض کرنے کی کوئی گنجائش ہی حضرت نے نہیں رکھی نہایت جامع اور مختصر مشورہ میں سب ہی کچھ بیان فرمایا اور میری جو رائے تھی اس میں واقعی خلط منحث کا اندیشہ تھا جو سابقہ تعلیم عربی میں بھی گڑبڑ کر دیتا اور طلبہ کا باہر جو کر تعلیم پانا بھی اس خطرہ سے خالی نہ ہوگا جو حضرت والا نے بیان فرمایا بس یہ ہی مفید مشورہ ہے جو حضرت والا نے فرمایا میں انشاءاللہ تعالی اس کا انتظام کروں گا فرمایا اب آپ انتظام فرمائیں یا نہ جرمائیں مجھ کو انتظار نہ ہوگا اس لئے کہ جو چیز میرے اختیار سے خارج ہے اس کا میں کیوں انتظار کروں اور کیوں فکر کروں آپ جانیں آپ نے مشورہ دیا مسلمان کی فلاح اور بہبود کو جی چاہتا ہے میں نے طریق کار بیان کر دیا ـ
( تیسرے اور چوتھے سوال کا جواب ) اسکے متعلق یہ عرض ہے کہ اس کے لئے ایک کام کرنے والی جماعت کی ضرورت ہے جو محرک ہو اور عمل کرائے اس میں مسائل شرعیہ اور حدود کا تحفظ کرتے ہوئے تحریک کرنا چاہیئے ایسا نہ ہو جیسا کہ زمانہ تحریک خلافت میں ہڑبونگ مچا تھا کہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنے کو تیار ہو گئے تھے ایسا کرنے کی بے برکتی بھی دیکھ لی مفتیوں نے فتویٰ دیا کہ ولائیتی کپڑا پہننا حرام ہے اب وہی خود اس کو استعمال کر رہے ہیں کل تو حرام تھا آج حلال ہو گیا کیا لغو حرکت ہے ایسی گڑبڑ ہرگز منزل مقصود تک نہیں پہنچا سکتی اب رہا یہ کہ علماء اس کی تحریک کریں یہ بھی غلط اصول پر مبنی ہے صحیح طریق یہ ہے کہ ایک جماعت ہو مسلمانوں کی جو اندر خانہ مسلمانوں کو ترغیب دے اور تحریک کرے جتنی قوموں نے ان معالات میں ترقی کی ہے انہوں نے اس کی یہی صورت اختیار کی کامیابی ہوئی وعظوں اور پمفلٹ اور اشتہاروں سے کوئی نتیجہ نہیں نکلتا میں ایک مقام پر مدعو کیا گیا تھا وہاں پر مجھے قبل وعظ فرمائش کی گئی کہ ہندؤں کےبائیکاٹ کے متعلق کچھ بیان کیا جاوے میرا ہمیشہ بیان کے متعلق یہ معمول رہا اور ہے کہ فرمائش پر بیان نہیں کرتا بلکہ ضرورت کو محسوس کر کے وقت پر جو اللہ نے دل میں ڈالا بیان کردیا اور وہی اکثر مفید ثابت ہوا میں نے صاف انکار کر دیا کہ میں یہ بیان نہ کروں گا گو تمھارے نزدیک یہ بیان مفید اور محمود ہو مگر میں اس طرز کو مضر سمجھتا ہوں ایسے طریق سے بیان کرنے کا بتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اعلان کر کے سو جاتے ہیں اور دوسرے لوگ جاگ جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہوتا ہوا کچھ بھی نہیں اور عمل نہ کرنے کے سبب اوپر ذات گلوگیر ہوجاتی ہے دوسری قومیں نظر تحقیر سے دیکھنے لگتی ہیں اس کی مفید صورت تو یہ ہے کہ ہم اپنے طریق سے دوکانیں کھلوائیں اس میں نہ فتوے کی ضرورت نہ اعلان کی ضرورت یہ نیا طرز نکالا ہے کہ فتویٰ ہو اعلان ہو سو یہ طرز نہایت مضر اور خطرناک ہے البتہ حدود شرعیہ کی حفاظت کی ہرحال میں ضرورت ہے غرض کام اس طرہقہ سے ہونا چاہیے کہ جس میں شریعت کے حدود بھی محفوظ رہیں اور کام بھی ہو جائے ایسی صورت اختیار نہ کرنا چاہیئے جیسا کہ زمانہ خلافت میں کیا گیا تھا کہ میاں کام کرنے کا وقت ہے مسائل کا وقت نہیں لعنت ہے ایسے کام پر جو شریعت مقدسہ کے حدود سے تجاوز کر کے کیا جاوے اللہ جس کام سے راضی نہ ہو وہ کام مسلمان کا نہیں ہم جو مسلمانوں کے خیر خواہ ہیں وہ مسلمان ہونے کی وجہ سے ہیں اب اسلام اور شریعت کا تحفظ نہ رہا ہے یا نہ کیا تو کیسی ہمدردی اور خیر خواہی اور کیسا درد یوں تو فرعون نے ترقی کی شداد نے ترقی کی نمرود نے ترقی کی قارون نے ترقی کی آخر ان کی ترقی بھی تو ترقی ہی تھی پھر قابل ملامت اور مزموم کیوں ہوئی اس ہی لئے کہ وہ حدود سے تجاوز کر کے ترقی کی گئی تھی جس کو اکبر الہ آبادی نے ایک شعر میں کہا ہے ـ
نہ نماز ہے نہ روزہ نہ زکوۃ ہے نہ حج ہے تو خوشی پھر اس کی کیا ہے کوئی جنٹ کوئی جج ہے
یہ جو آجکل کے لیڈروں اور انکے ہم خیال مولویوں نے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے متعلق طرز اختیار کیا ہے کہ انکی ہر بات کا اشتہار اور اخبارات میں اعلان کرایا جاتا ہے یہ طرز نہایت ہی غیر مفید ہے شور غل تو تمام دنیا میں اور عمل ندارد اور سب سے بڑی بات قابل ذکر قابل شکایت یہ ہے کہ یہ لوگ دوسروں سے تو اسلام کی عزت کے خواہاں ہیں اور خود اسلام اور احکام اسلام کو پائمال کرتے ہیں ایک زمانہ میں نمازوں کے وقت میں جلسے ہوتے رہے کچھ پروا نہیں رمضان المبارک میں عام شاہراہوں پر میزوں پر کھانے چنے گئے اور کرسیوں پر کھائے گئے ـ یہ حرکات کہاں تک جائز ہیں نمازوں کے وقت میں جلسے ہوتے رہے کچھ پروا نہیں رمضان المبارک میں عام شاہراہوں پر میزوں پر کھانے چنے گئے اور کرسیوں پر کھائے گئے یہ حرکات کہاں تک جائز ہیں نمازوں کے لئے مسجدوں میں نہ آنا گھروں پر جا نمازیں بچھی ہیں یہ متکبروں کی ایک پہچان ہے کہ وہ مسجد میں آنا اور غربا کے ساتھ ملکر نماز پڑھنا کسر شان سمجھتے ہیں اور پھر بھی مسلمانوں کی باگ ان کے ہوتھ میں ہے ان کی کشتی کے نا خدا بنے ہوئے ہیں شرم نہیں آتی اگر مسجد میں آئیں گے بھی تو جمعہ کے روز بھی پیدل چلکر نہیں جب دیکھو فٹن میں دھرے ہیں اور دل میں فتن بھرے ہیں بندہ خدا مسجدوں میں آؤ غریب مسمانوں کی ہر حالت کع دیکھ کر جو کام کرنے کے مفید طریقے ہیں ان میں سے ایک بھی نہیں سب زبانی جمع خرچ جب چاہو جس چیز کی چاہو پوچھ لو جب چاہو اعلان کرالو بس اسی کے مرد ہیں ایک شخص نے کہا کہ اگر سب مسلمانوں سے ایک ایک پیسہ لیا جائے تو لاکھوں اور کروڑ کی تعداد میں روپیہ جمع ہو جائے پھر اور اس کو قومی کاموں میں صرف کیا جائے دوسرے نے جواب دیا کہ اگر سورۃ بقرہ ایک منٹ میں سات مرتبہ پڑھ لو تو ہفت اقلیم کے بادشا ہو جاؤ بس مسلمانوں سے تو یہ کاغزی حساب پوچھ لو کرنے کرانے کے نام صفر ایک بننے کی حکایت یاد آئی کہ کنبہ کو لیکر سفر میں چلے راستہ میں ایک دریا آگیا آپ نے پانی کا حساب لگایا کہیں تو ٹخنوں تک کہیں گھٹنوں تک کہیں ناف تک کہیں سینے تک کہیں گلے تک کہیں سر سے اوپر اپنے کاغز پر اوسط لگایا تو گھنٹوں تک اوسط نکلا گاڑی ڈالدی اب لگے ڈوبنے تو کہتا ہے کہ حساب جوں کا توں اور کنبہ ڈوبا کیوں بھائی وہ عملی حساب نہ تھا کاغزی حساب تھا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا یہی حالت ان باتیں بنانیں والوں کی ہے میاں صاحب عملی صورت میں تو اگر تھوڑے سے مسلمان بھی کام کرنے والے ہوں تو چند روز میں کچھ سے کچھ ہو جائے گاؤں کے اندر دس ہوں قصبہ کے اندر پچاس ہوں شہر کے اندر سو ہوں مگر مخلص کہ جان تک اڑادیں پھر دیکھوں کیا ہوتا ہے سب باتونکا انتظام بسہولت ہو سکتا ہے مگر جو کام کرنے کے ہیں انکی طرف تو کبھی التفات بھی نہیں ہوتا اور یہ بائیکاٹ وغیرہ ان سے کام چلتا ہے اگر انبیاء علیہ السلام نرے بائیکاٹ سے کام لیتے تو ہرگز دین کی اشاعت نہ ہوتی کام تو کام کے طریقے اور ہر موقع پر اس کے مناسب عمل سے ہوتا ہے دیکھ لیجئے جب تک قوت جمع نہ ہوئی ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے صبر اور حلم سے کام لیا جہاد کی بھی اجازت نہ ہوئی جب قوت جمع ہوگئی جہاد بھی فرض ہو گیا اور تلوار سے کام لیا گیا پھر اتنا بڑا کام کہ اظہر من الشمس ہے یہ ہے سب برکت مناسب طریقہ پر عمل کرنے کی تھی ـ اس مناسب عمل کرنے کی تھی ـ اس مناسب عمل پر یاد آیا کہ ایک صاحب پنجاب سے آئے تھے انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ اس تحریک خلافت میں کیوں نہیں شریک ہوئے میں نے کہا کہ ایسے عظیم الشان مقاصد کے لئے ضرورت ہے قوت کی اور قوت موقوف ہے اتفاق پر اور اس کے دو درجے ہیں ایک حدیث اور ایک بقاء سو اول تو اسوقت تک حدوث بھی نہیں ہوا لیکن اگر اس کو تسلیم بھی لیا جاوے تو بقا کا کوئی سامان نہیں کہنے لگے بقاء کیسے ہو میں نے کہا اس کے لئے ضرورت ہے امیرالمؤمنین کی کہ وہ اپنے قہر سے اتفاق کو باقی رکھ سکتا ہے کیونکہ خروج عن الجماعۃ پر سزا دے سکتا ہے اور یہاں کوئی امیرالمؤمنین نہیں کہنے لگے ہم آپ کو امیر بناتے ہیں میں نے کہا کہ میں بننے کو تیار ہوں مگر اس کے کچھ شرائط ہیں یہ کہ تمام مشاہیر علماء اور لیڈروں کے دستخط میرے امیر تسلیم کر لینے پر کرا کر لاؤ اگر ایک نے بھی اختلاف کیا تو میں امیر نہیں بنتا اس کے بعد اگر پھر کوئی کسی قسم کی گڑ بڑ کرے گا اس کو درست کر دیا جاوے گا دوسری بات یہ ہے کہ میں شخصی سلطان بنوں گا جمہوری نہ بنو گا ـ دوسروں کی رائے کا منتظر نہ رہوں گا تیسرے یہ کہ ہندستان کے سب مسلمان اپنا سرمایا چاہے وہ کسی قسم کا ہو نقد زیورات جائیداد مکانات باغات سب میرے نام ھبہ کردیں میں بھیک مانگنے والا امیر نہ بنو گا کہ ضرورت تو ہے اس وقت اب چندہ کرتے پھرو اتنے چندہ ہو وہاں سب کام درہم برہم اور یہ وعدہ کرتا ہوں کہ اس ہبہ کے بعد جس کی جس طرح پر گزر ہورہی ہے اس سے بھی اچھی طرح پر گزر کا انتظام کردوں گا تکلیف کسی کو قسم کی نہ ہونے دوں گا مجھ سے اس اقرار نامہ لکھوا لیا جاوے جب یہ سب ہو جائے گا اس کے ضروری سامان مہیا کردوں گا اور سب سے پہلے جوامیرالمؤمنین ہو کر حکم دوں گا وہ یہ ہوگا کہ دس دس برس تک سب تحریک اور شور و غل بند ان دس سال میں مسلمانوں کی اصلاح کی کوشش کی جائے گی جب یہ قابل اطمنان ہوجائیں گے
تب مناسب حکم دوں گا باقی جب تک قوت نہ ہو کفار سے بھی نہایت لطف اور حسن سے کام لینا چاہیئے اور اگر یہ شرائط پورے نہیں ہو سکے اور محض کاغزی امیرالمؤمنین بناتے ہو تو آج امیرالمؤمنین ہوں گا اور کل کو اسیرالکافرین کہنے لگے یہ تو بہت مشکل کام ہے میں نے کہا بس تو کامیابی بھی مشکل ہے بس یہ سن کر رہ گئے بیچارے ـ تو محض زبانی جمع خرچ سے کیا ہوتا ہے یہ جمع خرچ اور حساب تو ایسا ہی ہوگا جیسا کی میں بننے کی حکایت بیان کر چکا ہوں کاغزی حساب تھا عملی نہ تھا اس کا نتیجہ تو یہی ہوتا کہ حساب جوں کا توں اور کنبہ ڈوبا کیوں لوگوں کے ان خیالات کی اس سے زیادہ دقعت نہیں جیسے شیخ چلی کے گھڑے کے گر کر پھوٹ جانے پر سارا گھر بار ہی برباد ہو گیا تھا کام جو کرنے کے ہیں وہ کرو جیسا کہ میں نے بیان کیا کہ بدوں باشوکت امیر و سردار کے کام چلنا نہایت دشوار بلکہ محال ہے اور سب سے بڑی ضرورت تو اس کی یہ ہے کہ بدون امیر کے حدود شریعت کا کون تحفظ کرائے گا اور عدم تحفظ حدود شرعیہ پر اگر کامیابی ہو بھی گئی تو یہ خود ایک مسلمان کے لئے نہایت زبردست ناکامیابی ہے ـ بعضے کہتے ہیں کہ یہ حجروں میں رہنے اور بیٹھنے کا وقت نہیں میدان میں آنے کا وقت ہے اگر طریقہ کام کرنے سے حجرہ بھی ہاتھ سے جاوے گا اور میدان بھی نہ ادھر کے نہ ادھر کے رہے پھر ان نو وارد صاحب کے طرف مخاطب ہو کر حضرت والا نے فرمایا کہ جو میں نے عرض کیا آپ کی سمجھ میں آیا عرض کیا کہ جو حضرت فرمارہے ہیں میں بغور سن رہا ہوں اور سمجھ رہا ہوں مگر یہ کام بھی حضرت ہی کے کرنے کا ہے فرمایا مجھے انکار کب ہے میں تو مسلمانوں کا ایک ادنیٰ خادم ہوں مگر جماعت بنانا آپ کا کام ہے ایسی جماعت آپ پیدا کریں جو دل سے اور خلوص نیت سے لوگوں کو عملی صورت پر آمادہ کریں احکام ہم سے پوچھئے مشورہ لیجئے جو طریقہ ہے کام کرنے کا اس طرح کیجئے بہرحال صورت یہ ہے کہ آپ ایسی جماعت پیدا کریں اور ہم سے مشورہ لیں یہ ہے طریقہ کام کرنے کا اور یہ طریقہ آسان بھی ہے اس پر عمل کرنے کی صورت میں کسی پر جبر نہ کیا جاوے جیسے آجکل بعضوں نے وطیرہ اختیار کیا ہے جو کام خوشی سے ہوتا ہے اس میں مداومت ہوتی ہے آپ اس مجموعی طریق کو عملی جامعہ پہنائیں ـ یہ سب صورتیں تجربہ کی بناء پر میں نے بیان کی ہیں میری تو دل سے تمنا ہے کہ دین کے ساتھ مسلمانوں کی دنیا کی بھی فلاح ہو مگر طریقہ کے ساتھ یوں ہی اڑنگ بڑنگ کرنے سے کام نہیں چلا کرتا نہ اس میں برکت ہوتی ہے میرا تجربہ ہے کہ آجکل مسلمانوں کا کام جوش کے ماتحت ہوتا ہے اس لئے اس میں استقلال نہیں ہوتا اگر ہوش کے ماتحت ہو تو دنیا کی تمام قومیں بیٹھی دیکھا کریں ـ ایک یہ بات بھی قابل لحاظ ہیکہ جو شخص جس کام کا اہل ہے وہی کام اس سے لیا جاوے اسمیں گڑبڑ نہ کی جاوے اس کے خلاف کرنا اصول کے خلاف کرنا ہے جو بظاہر سبب ہوتا ہے عدم کامیابی کا یعنی جو کام لیڈروں کا ہے وہ کریں جو کام علماء کا ہے وہ کریں جو کام عوام کا ہے وہ کریں پھر عوام بھی دو طبقے ہیں ایک اہل جان اہل مال کا جو کام ہے وہ کریں اہل جان کا جو کام ہے وہ کریں تقسیم عمل سے بڑی سہولتیں پیدا ہوتی ہیں علماء سے دوسرے کام کی توقع ایسی ہے جیسے کوئی شخص حکیم محمود خاں کے پاس جاکر ٹوٹے ہوئے جوتہ کے سینے کی ترکیب ان سے پوچھنے وہ کہیں گے کہ دہلیز پر باہر چمار بیٹھا ہے یہ کام اس کے سپرد کرو ہمارایہ کام نہیں یا حکیم صاحب سے کوئی کہے کہ طبی کانفرنس میں جوتے گا ٹھنے کا منافع بیان کرو یہ سخت توہین ہوگی محمود خان کی اور فن طب کی بھی ایسے ہی یہاں سمجھ لو علماء سے مسائل پوچھو دینا کے حصول کی تدابیر انہیں کیا معلوم خوب سمجھ لیجئے پھر ایک اور بات بھی قابل لحاظ ہے وہ یہ کہ دنیا کہ ترقی اور اس کے حصول کے بھی تو کچھ شرائط اور حدود ہوں گے یہ تو نہیں کہ اس کے لئے جو جی میں آیا کر لیا جو جی میں آیا کہہ دیا جب دنیا کی ترقی کی بھی ایک حد ہے تو اس سے آگے بڑھنا و بال جان بلکہ مضر ایمان ہوگا میں نے لکھنو ایک وعظ میں بیان کیا تھا اس وعظ میں نو تعلیم یافتہ طبقہ کے لوگ زیادہ تھے ـ بڑے بڑے بیرسٹر اور وکلا کا مجمع تھا میں نے کہا تھا کہ ترقی ترقی گاتے پھرتے ہو آخر اس کے کچھ حدود بھی ہیں اگر ہر ترقی مطلوب ہے تو انسان کے بدن پر کبھی ورم آجاتا ہے جس سے اس کے جسم کی ترقی ہو جاتی ہے تو پھر اس کے ازالہ کی تدابیر طبیب یا ڈاکٹر سے کیوں پوچھتے ہو اور اس کو مزموم کیوں سمجھتے ہو اگر حدود سے گزر کر ترقی کی جاوے تو ایسے ہوگی جیسے فرعون نے ترقی کی تھی تو ایسی ترقی سے ایک مسلمان ایمان والے کو کیا فائدہ ایسی ترقی کہلانے کے قابل کب ہوگی یقینا کفار کی ترقی کہلائے گی اور اس کے حصول کی فکر بھی بے ضرورت ہی ہوگی اس لئے کہ کفار کی ترقی تو ہوہی رہی ہے پھر مسلمانوں کے لئے ایسی ترقی میں کونسی خوبی ہوگی انکی خوبی تو اسی ترقی میں ہے کہ حدود کا تحفظ ہو اور پھر ترقی ہو یہ ہے خوبی کی بات اور ایسی ترقی غیر ممکن نہیں محال نہیں سلف کے کارنامے تمہارے سامنے ہیں کہ شرق سے غرب تک اور جنوب سے شمال تک اعلاء کلمۃ الحق کے گئے ان کی کامیابی اور ترقی میں جو بڑی بات ہے ـ
وہ یہ ہے کہ حدود کا تحفظ رکھا اور اس کے ماتحت کامیابی اور ترقی کی نکاح کا نتیجہ جب ہی بر آمد ہو سکتا ہے کہ میاں بھی صحیح المزاج ہو اور بیوی میں بھی کوئی نقص نہ ہو تب ہی اولاد پیدا ہوگی اسی طرح اگر علماء بھی متدین اہل تقویٰ و اہل فتویٰ ہوں اور عوام بھی اونکے مطیع و فرمانبردار ہوں اس صورت میں انشاءاللہ تعالی نتیجہ بہتر سے بہتر برآمد ہوگا غرض کام کے انجام دینے کے لئے ایک مخلص جماعت چاہئے جس کا شب و روز یہ ہی کام ہو پھر اس جماعت میں دو قسم کے لوگوں کی ضرورت ہے ایک وہ لوگ جو دنیا کی وجاہت رکھتے ہوں دوسرے وہ دین کی وجاہت رکھتے اگر دنیا کے متعلق کوئی شبہ ہو تو پہلا طبقہ جواب دے ہوگا اور اگر دین کے متعلق کوئی شبہ ہو تو دوسرا طبقہ جواب دے ہوگا ـ رہا میری شرکت کے متعلق سو یہ عرض ہے کہ غیب کی خبر نہ مجھکو نہ آپ کو اس لئے پہلے سے کیسے جازم فیصلہ کرلوں بس معلقا اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ اگر شریعت کے موافق طریق کار ہو میں شریک ہوں مجھ کو انکار نہیں اصرار نہیں جو بات تھی میں نے صاف صاف ظاہر کر دی تاکہ کسی قسم کی آپ کو الجھن نہ ہو دھوکہ نہ ہو نہایت احسن طریق سے کام شروع کیا جاوے اور اگر اس میں کوئی مخالفت کرے اس کے ساتھ نرمی سے کام لیا جاوے جبر اور تشدد کو پاس نہ آنے دیا جائے انشاءاللہ تعالی رفتہ رفتہ سب شریک ہوجائیں گے سب سے اول ضرورت خلوص کی ہے پھر فلوس والے خود آ شریک ہوں گے آپ دیکھیں کہ شیعوں کا مذہب نہایت لچر ہے مگر ظاہرا ان کے نرم ہونے کی وجہ سے بہت لوگ اس طرف مائل ہیں ـ نرمی وہ چیز ہے کہ حضرت شاہ عبدالقادر صاحب دہلوی نے وعظ میں دیکھا کہ ایک شخص ٹخنے سے نیچے پا جامہ پہنے ہوئے ہے آپ نے ختم وعظ پر فرمایا کہ میاں ذرا تم ٹھرے رہنا تم سے کچھ کام ہے سب لوگ چلے گئے وہ شخص ٹھرا رہا تنہائی میں اس سے کہا کہ ذرا اس پر ایسی ایسی وعید ہے اس لئے دیکھ کر بتلا دو تاکہ زیادہ احتیاط کروں اور یہ کہہ کر کھڑے ہو گئے کہ بھائی اچھی طرح دیکھ لو اس شخص نے نہایت محجوبا لہجہ میں عرض کیا کہ حضرت خدا نہ کرے آپ کا تو کیوں ہوتا البتہ میرا ہی پاجامہ ٹخنے سے نیچے ہے میں توبہ کرتا ہوں مولانا محمد قاسم صاحب کا ایک واقعہ ہے کہ ایک خان صاحب مولانا کے بڑے دوست تھے مگر لباس انکا خلاف شریعت تھا اور جمعہ کے روز مولانا ہی کہ پاس آکر غسل کرتے کپڑے بدلتے اور جمعہ پڑھتے اور انداز سے یہ معلوم تھا کہ پکے آدمی ہیں کہنے سے نہ مانیں گے مولانا نے ایک جمعہ کو ان سے فرمایا کہ میاں آج دو جوڑے لیتے آنا ہم بھی آج تمھاری وضع کا لباس پہنیں گے وہ صاحب بے حد متاثر ہوئے اور عرض کیا کہ خدانہ کرے آپ مجھ جیسے خبیث کی وضع پر رہیں آپ ہی مجھ کو ایک جوڑا دیجئے میں اس کو پہنوں گا اور ہمیشہ کے لئے اس لباس سے تو توبہ کر لی حق تعالی نے نرمی میں حصہ رکھا ہے جزب کا پس آپ ان اصول پر کام شروع کریں اگر شریعت کے موافق تحریک نافز ہوگئی میں دل و جان سے شریک ہوں پھر فرامایا کہ تجارت کے متعلق ایک اور بات کام کی یاد آئی وہ یہ کہ امراء کو یہ رائے دی جائے کہ گراں قیمت کی چیزیں خرید کر غربا کو سستی دیں تاکہ تجارت میں مسلمان دوسری قوموں کا مقابلہ کر سکیں یہ دوسری قومیں مسلمانوں کو اپنی چالوں اور تدابیر سے تجارت میں چلنے نہیں دیتے ـ اور اس کی چند روز ضرورت ہوگی پھر کام چل نکلنے پر کچھ ضرورت نہ ہوگی وجہ یہ لوگ بھی اصول تجارت سے واقف ہو جائیں گے اور ان تدابیر سے یہ مقصود نہیں کہ مسلمان اہل ثروت ہوں بلکہ مقصود یہ ہے کہ ان کی حوائج ضرور یہ چلتی رہیں اور کم از کم ہم دوسری قوموں سے مستعفی ہو جائیں یہ ہیں چند باتیں جو تجربات کی بناء پر میں نے آپ کے سامنے بیان کر دیں مجھ کو مسلمانوں کی طرف سے یہ زیادہ قلق ہے اس وجہ سے ہے کہ انکی بالکل ایسی مثال ہے جیسے ایک مریض کسی طبیب کے پاس جائے مگر طبیب خود ہی بیمار ہو وہ کیا خاک علاج کرے گا تو حضرت ہمارے طبیب ہی بیمار ہیں کیا علاج کریں گے رہنما ہی غلط راستہ پر ہیں کیا رہبری کریں گے الا ماشاءاللہ ـ

( ملفوظ 78 ) حضرت شیخ الہند کا ذکر

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں تحریکات کے سست ہو جانے پر فرمایا کہ اب قصہ تو ختم ہو گیا مگر حضرت مولانا دیوبندی کو کسی نے پہچانا ہی نہیں اگر مولانا کو یہ مدعیال اعتقاد لوگ پہچان لیتے تو سب سے پہلے یہی لوگ مولانا کے مخالف ہوتے یہ لوگ یہ سمجھے کہ مولانا ہمارے جیسے ہیں مگر یہ سمجھنا ایسا ہے جیسے شیعوں نے حضرت علی کی نسبت یہ سمجھا کہ حضرت علی کے مخالف ہوتے ـ