ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ کام تو کام ہی کے طریق سے ہوتا ہے نرے مشوروں سے کام نہیں چلتا جو اہل علم سیاسیات میں کھڑے ہوئے ہیں اس میں ایک بڑا ضعف تو یہی ہے کہ عوام سے امید اطاعت نہیں دوسرے اگر یہ نھی معلوم ہو جاوے کہ اب انکا کہنا مانیں گے اور مخاطبین اور اطاعت کا مادہ ہے تب بھی اہل علم کا بہ راہ راست یہ کام نہیں بلکہ اس وقت بھی دنیا کے جر بڑے ہیں اہل مال اہل جاہ ہی ان کاموں کو انجام دیں البتہ اہل علم سے جائز نا جائز کو پوچھالیا کریں غرض ایل علم کا جو اصلی بات ہے اور احکام کے مقابلہ میں جہاں ناکامی ہوئی اس کا اصلی سبب بے اصولی سے کام کرنا ہے امیر شاہ خان صاحب نے ایک بات بہت اچھی بیان کی کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے سلطنت کا مقابلہ سلطنت ہی کرسکتی ہے امام حسین کا کیا تقدس ہے کہ حضور کے نور سے ان کو خاص تلبیس مگر یزید کے مقابلہ میں کامیابی نہیں ہوئی اسی سلسلہ میں فرمایا کہ ایک جنٹلمین صاحب یہاں پر آئے تھے مجھ سے کہا کہ تم تحریکات میں شریک کیوں نہیں ہوئے میں نے کہا کہ اس میں ایک کسر ہے کہا کہ میں نے کہا کہ اس جماعت میں کوئی امیر المؤمنین نہیں کہا کہ ہم آپ ہی کو امیر المؤمنین بناتے ہیں میں نے کہا کہ میں بنتا ہوں مگر چند شرائطیں ہیں ایک تو یہ کہ مشاہیر علماء لیڈر میرے امیر المؤمنین ہونے پر دستخط کردیں اور ایک یہ کہ سب مسلمان اپنی تمام املاک میرے نام ہبہ کردیں خواہ وہ روپیہ ہو یا زیور ہو باغات ہوں یا جائیداد کیونکہ میں اگر مالک اموال کا نہ ہوا تو ہر کام کے لئے چندہ مانگنا پڑے گا سو میں بھیک مانگنے والا امیر المؤمنین نہین بنونگا اور بھی چند شرائط بیان کئے گئے یہ شرائط اس لئے ہیں کہ بدون قوت کے محض کاگزی امیر المؤمنین ہوگا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آج امیر المؤمنین ہوں کل اسیر الکافرین بس رہ ھئے اپنا سا منہ لے کر بڑے دعوے کے ساتھ تشریف لائے تھے ـ کہ پانچ منٹ میں اپنا ہم خیال بنا لونگا ـ
اقوال
( ملفوظ 15 ) وقت اور موقع ضائع کر دینا نقصان دہ ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگ دوروں پر الزام لگاتے ہیلں اپنی حالت کو نہیں دیکھتے رات دن کے معاملات میں مشاہدہ ہو رہا ہے کہ موقع کو خود ضائع کر دیتے ہیں پھر ان کے بس کا کام نہیں رہتا یہاں ہی پر قصبہ میں بازار میں چوک ہے حکام نے مسلمانوں سے کہا تھا اس کو بنوالو مگر نہ بنوایا ہندؤں نے بنوا لیا قبضہ کر لیا ـ
( ملفوظ 14 ) بھوک ہڑتال کا شرعی حکم
ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہ بھوک ہڑتال نئی ایجاد ہے فرمایا کہ یہ خود کشی کے مترادف ہے ـ اگر موت واقع ہو جائے گی تو وہ موت حرام ہوگی اور بزدلی پر بھی دال ہے کہ آئندہ آنے والے مصائب سے گھبرا کر ایسا کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں ـ ( مزاحا فرمایا نر نہیں رہتے مادہ بن جاتے ہیں ) میں کہتا ہوں کہ بھوکے مرگئے تو کسی کا کیا حرج ہوا اور کسی کو کیا نقصان پہنچا جو سوجھتی ہے الٹی ہی سوجھتی ہے ایک فاتر العقل لیڈر گاندھی نے اپنے اتباع کو یہ بھی مشورہ دیا تھا کہ بیویوں کے پاس جانا چھوڑو آئندہ نسل بند ہو جائے گی اور جو موجود ہیں یہ مر جائیں گے پھر اہل حکومت کریں گے یہ عاقل ہے بدفہم بدعقل اسی پر لوگ اس کی بیدار مغزی کے قائل ہیں بات یہ ہے کہ ان معتقدین کی جماعت بھی ان امور میں اس سے کم نہیں اس مشورہ کی تو بالکل ایسی مثال ہے جیسے ایک شخص کی بھینس چور لے گئے جا کر دیکھا کہ رسا موجود تھا تو پکار کر کہتا ہے کہ لے جاؤ مگر باندھو گے کہاں میں یہ ہی حالت ان عقلاء کی ہے حکومت کا مدار خاص نسل پر سمجھتے ہیں جیسے اس شخص نے بھینس باندھنے کا مدار خاص رسے پر سمجھا ایسے بیدار مغزوں سے تو وہ گنوار ہی اچھے جو اپنا مطلب اور مقصد تو مفید طریقہ پر نکال لیتے ہیں ایک گنوار کا قصہ ہے کہ ایک تحصیلدار کو ایک تحصیل میں کئی برس کا عرصہ تعینات ہوئے ہو گیا تھا عام برتاؤ اہل معاملہ سے ان کا اچھا نہ تھا مگر حکام کو انہوں نے مسخر کر رکھا تھا اس لئے کسی کی شکایت کا اثر اس گنوار نے اس کا تبادلہ کرانا چاہا صاحب کلکٹر کے بنگلے پر پہنچا کلکٹر نے پوچھا کیسے آئے کہا کہ ایک بات پوچھوں ہو کہ موروثی کسے کہیں ہیں صاحب نے کہا کہ اگر بارہ سال تک کسی کے قبضہ میں زمین رہے وہ موروثی ہوجاتی ہے پھر اس کو کوئی چھوڑا نہیں سکتا کہا کہ ہوں بڑے غضب ہو گئے کلکٹر نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے کہا کہ فلاں تحصیلدار کو تحصلیل میں گیارہ سال تو ہوگئے ایک سال اور باقی ہے موروثی ہونے میں اگر یہ بھی پورا ہوگیا تو پھر نہ تیرے باپو سے جا اور میرے باپو سے جا کیسی ترکیب سے کام لیا کلکٹر سمجھ گیا اور تحصیلدار کا تبالہ کردیا
( ملفوظ 13 ) ایک صاحب کی بے قاعدگی پر مواخزہ
ایک مولوی صاحب کی غلطی پر مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ میں خادم تو ہوں مگر غلام نہیں طریقہ اور سلیقہ سے اگر مجھ سے خدمت لی جائے آدھی رات بھی خدمت کے لئے موجود ہوں گی مگر بے ڈھنگے پن اور بے قاعدگی سے میں خدمت کرنے سے معزور ہوں دوسرے بہت مشائخ کی دکانیں کھلی ہیں وہاں جاؤ آخر وجہ کیا میں غلامی کروں خود خادمیت ہی کا نام کیا تھوڑا ہے اسی کے حقوق کا ادا ہونا کوئی معمولی بات نہیں سو غلامی کی کہاں فرصت فلاں مولوی صاحب کے متعلق میں نے عزم کر لیا تھا ـ کہ اگر انہوں نے اپنے خیال کی اصلاح کر لی تو خیر ورنہ ان سے کوئی تعلق نہ رکھوں گا مگر خیر انہوں نے معزرت کر لی میں نے در گذر کیا بہر حال میں تو اپنی طرف سے کسی کو الجھانا نہیں چاہتا میری جو حالت ہے وہ کھلی ہوئی ہے اور جو بات ہے وہ صاف ہے یہ ہی میں دوسروں سے چاہتا ہوں کہ وہ بھی سلیقہ اور طریقہ سے خدمت لیں ایچ پیچ نہ کریں پھر مجھ کو خدمت سے کوئی عذر نہیں ـ
( ملفوظ 12 ) قوت کی مدار حق پر ہے شخصیت پر نہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بھائی اکبر علی مرحوم ایک زمانہ میں بسلسلہ ملازمت بریلی میں تھے وہاں پر ایک ڈپٹی کلکٹر مسلمان تھے ان ڈپٹی صاحب نے چند آریونکی جو ایک مناظرہ کے جلسہ میں آئے تھے اظہار بے تعصبی کی غرض سے دعوت کی شہر میں شور مچ گیا کہ ڈپٹی صاحب آریہ ہو گئے ایک شخص بھائی کے پاس آئے اور کہا کہ آج ایک بہت بڑا حادثہ پیش آ گیا بھائی نے دریافت کیا کہا کہ فلاں ڈپٹی صاحب آریہ ہوگئے بھائی نے جواب دیا کہ یہ تو کو ئی حادثہ نہیں اگر یہ صحیح ہے جو تم کہہ رہے ہو تو اس سے معلوم ہوا کہ ان کے اندر خبیث مادہ پہلے سے موجود تھا سو ایسے خبیث کا اسلام اے نکل جانا ہی اچھا ہے آپ کو کیا فکر ہوئی اور آپ کو دوسروں کی تو فکر ہے اپنے اسلام کی تو خبر لیجئے ان ک داڑھی بھی کٹی تھی اور بھائی نے یہ بھی کہا کہ تم اپنے کو مسلمان سمجھتے ہو یاد رکھو اگر بریلی میں ایک بھی حقیقی مسلمان ہوتا تو آج تمام بریلی مسلکان ہوتی اس پر وہ شخص گھبرا کر کہنے لگا کہ فلاں مولوی صاحب بھی مسلمان نہیں بھائی نے جواب دیا کہ وہ تو ایسے مسلمان ہیں کہ اگر اس وقت صحابہ میں سے کوئی آجاویں تو سب سے پہلے ان پر جہاد کریں خیر یہ تو اس شخص کو جوبدیدیا مگر فرصت کے وقت بھائی ان ڈپٹی صاحب سے ملے اور واقعہ کی حقیقت دریافت کی انہوں نے کہا کہ کیا واہیات ہے محض لغوبات ہے میں آریہ ہوگیا ویسے ہی اخلاقا اس دعوت کے قصہ کا تو البتہ مجھ سے صدور ہو گیا پھر ان ڈپٹی صاحب نے بھائی سے مشورہ کیا کہ اب مجھ کو کیا کرنا چاہیئے یہ بات تو بڑی بدنامی کا سبب بن گئی ـ یہ خبر اور مقامات میں بھی شہرت پائے گی ( مزاحا حضرت والا نے فرمایا کہ بریلی سے مشورہ سے بہت خوش ہوئے اور مولویونکی اور مجمع میں کھڑے ہو کر توبہ کی تب شہر میں اس کا چرچا بند ہوا اور مسلمانوں کو اطمنان ہوا اس واقعہ سے لوگوں کا یہ مزاق بھی معلوم ہوا کہ اسلام کی قوت کا مدار لوگوں کی شخصیتوں پر سمجھتے ہیں اسی لئے ڈپٹی صاحب کے انقلاب کی کسقدر فکر ہوئی حالانکہ اسلام کی قوت کا مدار حق پر ہے نہ کہ کسی مخلوق پر اسلام کی قوت خارج سے نہیں داخل سے ہے اور عوام کا تو یہ مذاق ہے ہی غضب تو یہ ہے کہ خواص بھی اس سے خالی نہیں چنا چہ اپنے ایک معمولی کے متعلق ایک مولوی صاحب کا مشورہ عرض کرتا ہوں وہ معمول ہے کہ میں عورت کو اور مریض کو تو سفر میں بھی مرید کر لیتا ہوں محض اس خیال سے کہ عورت اہل الرائے نہیں اور مریض قابل رحم ہے مگر تندرست کو اور مرد کو انکار کردیتا ہوں سفر ختم ہونے پر تو وطن میں آویا خط و کتابت کرواسکے متعلق ایک مولوی صاحب نے مشورہ دیا کہ انکار نہ کیا کرو سب مرید کرلیا کرو اس سے جماعت بڑھے گی میں نے کہا حق ان چیزوں کی قوت محتاج ہے کچھ معلوم بھی ہے کہ حق میں وہ قوت ہے کہ اگر ایک شخص حق پر ہو اور ساراعالم اس کا مخالف ہو تو وہ ضعیف نہیں اور اگر یہ شخص حق پر نہیں سارا عالم اس کا معتقد ہو وہ شخص ضعیف ہے اس میں کچھ بھی قوت نہیں ـ
( ملفوظ 11 )محبت حق کی لذت اوراس کے حصول کا طریقہ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فلاں بستی کا ایک شخص حج کو گیا واپسی پر وطن کے
لوگوں نے وہاں کے حالات دریافت کرنا چاہے اس پر کہا کہ خلاصہ بیان کئے دیتا ہوں وہ یہ ہے کہ خدا کسی مسلمان کو وہاں نہ لے جائے کمبخت بد نصیب نے یہ خلاصہ بیان کیا اسی سلسلہ میں حج کے متعلق ایک حکایت بیان کی کہ ایک غریب اور ایک امیر میں حج کے متعلق گفتگو ہوئی امیر صاحب چونکہ بڑی خوش عیشی سے گئے تھے ـ اور غریب بیچاروں کو ٹوٹی پھوٹی حالت میں دیکھا تھا اس کے متعلق امیر صاحب کہنے لگے کہ تم لوگ بے بلائے جاتے ہو کیونکہ تم پر حج فرض نہیں اس لئے تمھاری بے قدری ہوتی ہے اور ہم بلائے ہوئے جاتے ہیں اس لئے ہماری قدر ہوتی ہے اس غریب نے جواب دیا کہ یہ بات نہیں جو تم کہتے ہو بلکہ وجہ یہ ہے کہ تم تو مہمان ہو اس لئے تمھارے ساتھ یہ معاملہ کیا جاتا ہے اور ہم گھر کے آدمی ہیں گھر والوں کے ساتھ اسی طرح بے تکلفی کا معاملہ کیا جاتا ہے بات تو بڑے کام کی کہی ایسا کلام اہل محبت ہی کا ہو سکتا ہے وہ ہر حالت میں خوش رہتے ہیں بخلاف ٖغیر آہل محبت کے وہ ذرا ذر مصائب اور تکالیف پر چیخ پکار مچا دیتے ہیں حضرت لقمان کی حکایت ہے ان کی نبوت میں علماء کا اختلاف ہے مگر ولایت متفق علیہ ہے یہ ایک کسی رئیس کے باغ میں ملازم ہو گئے ایک روز رئیس اپنے باغ کی سیر کو گیا دیکھا کہ باغ میں ککڑی کے چھوٹے چھوٹے لگے ہوئے ہیں حضرت لقمان سے کہا کہ ایک ککڑی توڑ لاؤ توڑ لائے رئیس نے تراش کر ای ٹکڑا ان کو دیا جب آقا نے منہ میں رکھا تمام کڑوا ہو گیا آقا نے کہا کہ بندہ خدا اس قدر تلخ چیز کو جو مثل زہر کے معلوم ہوئی تو کھا گیا اور تیوری سے بھی محسوس نہ ہو سکا کہ یہ تلخ ہے حضرت لقمان نے جواب دیا کہ جس آقا کے ہاتھ سے ہزارہا قسم کی نعمتیں قسم قسم کے ذائقوں کی کھائیں ہوں اگر آج اس کے ہاتھ سے ایک تلخ کھا لی تو کیا اسپر منہ بناتا اس کو منہ پر لاتا اسی طرح خدا کے ساتھ مسلمان کا تعلق ہے اس کی یہی شان ہونا چاہیے اور صاحب اللہ کی تو بڑی شان ہے ایک آوارہ عورت سے کسی کو تعشق ہو جائے اس میں گوارہ ناگوار سب کچھ سہتا ہے اور زبان پر حرف شکایت نہیں لاتا ـ جان مال جاہ سب ہی کچھ فدا کردیتا ہے ـ یہ سب محبت کے کرشمے ہیں اسی ہی لئے کہا کرتا ہوں خصوص جدید تعلیم یافتوں کو جنکو دوسری اصطلاح میں نئی روشنی والے کہا جاتا ہے کہ تمھارے تمام اعتراضات اور شبہات کا پہاڑ محض محبت حق کے نہ ہونے کی وجہ سے تمہارے سامنے ہے محبت پیدا کرو تمام شبہات اور اعتراضات خود بخود ایک دم میں کافور ہوجائیں گے رہا محبت کے پیدا کرنے کا طریق سو وہ اہل محبت کی صحبت ہے بدون اس کے کام بننامشکل ہے اور گو ان شبہات کے ازالہ کا دوسرا طریق ہے تحقیق قالی مگر اس میں اور محبت میں جو تفاوت ہے اس کی مثال ہے کہ ایک جنگل میں بہت ہی کچھ جھاڑ جنھکاڑ کھڑے ہیں کھڑے ہیں ایک شخص ان کو صاف کر کے زراعت کرنا چاہتا ہے اب اس کے صاف کرنے کی دو ہی صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ درانتی لے کر جائے اور ایک ایک درخت خار دار کو کاٹے اس پر جو مشکلات کا سامنا ہو گا ظاہر ہے
اور پھر بھی کامیابی یقینی نہیں ممکن ہے اس صاف کرنے ہی میں اتنا وقت لگ جائے کہ زراعت کی فصل ہی ختم ہو جاوے ـ یہ حالت تو قال و قیل کی ہے اور ایک یہ صورت ہے کہ دیا سلائی لے جا کر ہوا کا رخ کھڑے ہو کر اس کو گھس کر جھاڑ کر دکھلا ئے اور گھر آکر سو رہے ہیں صبح کو دیکھے گا کہ جنگل صاف ہے بلکہ وہی جلا ہوا کھاد کا کام دیگا یہ حال آتش محبت کی ہے اس ہی لیے کرتا ہوں کہ ان شبہات اور اعتراضات سے جو قلب لبریز ہے اسمیں حضرت حق کی محبت کی آگ پیدا کرلو اور پیدا کرنے کا طریق بھی ابھی بتا چکا ہوں کہ اہل محبت کی صحبت ہے وہ دیا سلائی ان کے پاس ہے اس کے مل جانے کے بعد تم کو محض گھس کر لگا دینا ہوگا پھر اس کے سامنے کسی خس و خاشاک کا ٹھرنا مشکل ہوگا پھر تو یہ حالت ہو گی جیسے مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ـ
عشق آں شعلہ است کو چوں برفروخت ہر چہ جز معشوق باقی جملہ سوخت
(عشق وہ شعلہ ہے کہ جب یہ روشن ہوتا ہے ـ تو جز معشوق کے اور سب کو آگ دیتا ہے )
تیغ لا در قتل غیر حق براند ورنگر آخر کہ بعد لاچہ ماند
ماند الا اللہ باقی جملہ رفت مرحبا لہ عشق شرکت سوز رفت
لا کی تلوار غیر حق کو قتل کرنے کے لئے چلا اور پھرا دیکھ کہ لا کے بعد کیا رہا ( ظاہر ہے کہ الا اللہ رہ گیا ( اور یہی مقصود تھا ) عشق کو مبارک باد دیتا ہوں ـ جو شرکت غیر حق کو بالکل جلا دینے والا ہے 16 )
(ملفوظ 10 )دامن اسلام کی وسعت
ایک سلسلہ میں فرمایا کہ ایک شخص قادیانی ہونا چاہتا تھا یہ پہلے مسلمان تھا پھر آریہ ہوا پھر عیسائی پھر مسلمان ہو اب قادیانی بننا چاہتا تھا مگر ان لوگوں نے اس کو لینے سے انکار کر دیا اس خیال سے کہ اس کا کوئی اعتبار نہیں اگر یہ پھر پھر گیا تو لوگوں کو قادیانی مشن میں شبہات پیدا ہو جاویں گے دیکھئے اس سے حق و باطل کے تفارت کا پتہ چلتا ہے اسلام میں اگر ہزار بار آجائے لے لیں گے اس کو ایسی بیھودہ بدنامی کی پرواہ نہیں اسی کو فرماتے ہیں ـ
باز آ آباز آنچہ ، ہستی باز آ گر کافر و گبروبت پرستی باز آ
ایں در گہہ مادر گہہ نو میدی نیست صد با اگر تو بہ شکستی باز آ
تو اگر کافر ملحد بت پرست بھی ہے تب بھی توبہ کر لے تو ہماری درگاہ سے نا امید نہیں ہونا چاہیئے اگر سو مرتبہ بھی توبہ توڑ چکا ہے تو پھر دل سے توبہ کر لے ہم قبول کر لیں گے 16)
( ملفوظ 9 ) ہمیں اسلام کی ضرورت ہے اسلام کو ہماری نہیں :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ سچ تو یہ ہے کہ اگر ہفت اقلیم کا بادشاہ بھی مسلمان ہو تو اسلام کو کیا فخر ہاں خود اس کو فخر ہو کہ ہمیں اسلام میں قبول کرلیا گیا تو مضائقہ نہیں جبلہ بن ایہم غسانی حضرت عمر کی خلافت میں مسلمان ہو گیا تھا جسکے پاس اتنا سامان تھا کہ ہرقل کے پاس بھی نہ تھا ـ ایک بار طواف کررہا تھا لنگی کا پلہ لٹک رہا تھا وہ کسی غریب آدمی کے پیر کے نیچے دب گیا جبلہ جو آگے بڑھا لنگی کھل گئی اس کو غصہ آیا اور اس کے ایک طمانچہ مارا اس نے حضرت عمر کے اجلاس میں فریاد کی آپ نے بدلہ کا حکم دیا اس نے مہلت مانگی اور شب کو مرتد ہو کر چلا گیا مگر حضرت عمر فاروق کو افسوس نہیں ہوا کیونکہ وہ حق پر تھے بلکہ ایک مدت کے بعد اس کو افسوس ہوا اور ظاہر بھی کیا کہ کاش میں حضرت عمر کے فرمانے پر قصاص پر راضی ہو جاتا تو کیا اچھا ہوتا ایک قاصد اسلامی سے یہ بھی کہا کہ میں مسلمان ہو کر آسکتا ہوں بشرطیکہ ایک تو اپنے بعد مجھ کو خلافت دیدیں اور اپنی بیٹی سے شادی کردیں قاصد اسلامی نے کہا کہ خلافت مل جانے کا تو میں وعدہ کرتا ہوں مگر بیٹی دینے کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا البتہ پیام پہنچا دونگا جب آپ کو خبر ملی تو آپ نے فرمایا کہ اس کا بھی کیوں نہ وعدہ کر لیا مگر جس وقت جواب دینے کے لئے وہاں آدمی پہچا سامنے سے اس کا جنازہ آرہا تھا اسلام کے فخر نہ کرنے پر ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جس کے ہزاروں عاشق ہوں اور ایک سے ایک حسین ہوا اگر ان عاشقوں میں سے ایک بد شکل بوڑھا نکل جاوے تو کیا محبوب کو افسوس ہوگا مگر آجکل کم سمجھ لوگوں کی یہ حالت ہے کہ اگر با وجاہت شخص کوئی مسلمان ہو جاتا ہے تو اس کو لئے لئے پھرتے ہیں ارے کیوں اس کا دماغ خراب کیا اس کے مسلمان ہونے پر فخر کرنے سے تو یہ شبہ ہوتا ہے کہ مسلمان اس کے انتظار میں منہ کھولے بیٹھے تھے ورنہ اسمیں فخر کی کیا بات ہے اور ابھی تو جب تک ایک معتد بہ زمانہ نہ گزر جائے بگڑ جانے کا بھی اندیشہ ہے کیوں اس قدر اچھلتے پھرتے ہو حق تعالی ایسے ہی ناز کے باب میں فرماتے ہیں لا تفرح ان اللہ لا یحب الفرحین کیونکہ اب تو اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ مسلمان ہوئے اور پھر مرتد ہوگئے تو ایسی حالت میں تم کس خبط میں پڑے اسلام تو بزبان حال کہتا ہے
ہر کہ خواہد گوبیاؤ ہر خواہد گو برو دارو گیر وحاجب و در باں دریں درگاہ نیست
( اس مال و حشمت پر ) اترا امت وقعی اللہ تعالی اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا ـ جس کا دل چاہے آوے اور جس دل چاہے چلا جاوے اس دربار میں کوئی پکڑ دھکڑ نہیں ہے ) اور ایسے ہی موقع کے لئے فرماتے ہیں
منت منہ کہ خدمت سلطان ہمی کنی منت شناس از و کہ بخدمت بداشتت
( بادشاہ کی خدمت کر کے احسان نہ جتلاؤ کہ ہم خدمت کی اور اس کے احسان مند ہو کہ اس نے تم سے خدمت لے لی ـ 16)
ایک پادری کا واقعہ ہے کہ وہ میرے پاس کانپور میں مسلمان ہونے آیا اور یہ کہا کہ کچھ روپیہ جمع کردیا جائے تاکہ میں اس سے کوئی تجارت کو سکوں اور کسی سے احتیاج ظاہر نہ کرنا پڑے میں نے کہا سنئے اگر اسلام کو حق سمجھ کر قبول کرتے ہو تو الٹا تم سے فیس لینے کا حق ہے اور اگر یہ نہیں تو ہم نے روپیہ دے کر کیوں خراب کیا بیچارہ تھا مخلص گو مفلس تھا کہنے لگا کہ وہ ایک مستقل درخواست تھی شرط نہ تھی اور اسلام قبول کر لیا اور پھر روپیہ کا نام بھی نہ لیا ایسی درخواست کے جواب کا یہی طرز ہونا چاہئیے ـ
( ملفوظ 8 )طالب کے لئے طریق نفع
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ طالب کے دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس کو کسی پر اعتماد ہے یا نہیں اگر ہے تو وہ جو تدبیر بتلائے اس پر عمل کرے خاموش رہے دن میں جو سنا کرے رات کو دل میں جمانے کے لئے اس کو سوچا کرے یہ طرز تو نافع ہے اور یہ طرز مر بیانہ ہے اور ایک طرز ہے مناظرانہ میں مولوی صاحب جنہوں نے سائل کو یہاں بھجا تھا مجھ سے زیادہ ماہر ہیں وہاں جاؤ اور اگر مربیا نہ طرز سے استفادہ مقصود ہے تو ہم کہیں وہ کرو باقی چق چق بق بق سے کچھ حاصل نہیں ـ
(ملفوظ5 )راہ سلوک میں تدقیق کی ممانعت
ملقب بہ مشی الطریق مع نفی التدقیق ) ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ انسان کو کام میں لگنا چاہیئے اس کی ضرورت نہیں کہ نفع کا ہو نا بھی اس کو معلوم ہو اس کی ایسی مثال ہے کہ بچہ کم سن ہے اور باپ اس کی طرف سے بنک میں روپیہ جمع کردے تو وہ بچہ مالک ہو جاوے گا ـ مگر مالک ہونے کے لئے اس کا معلوم ہونا شرط نہیں جب آمدنی تقسیم ہونے لگے گی اس وقت معلوم ہو جاوے گا اس طرح عمل کا نفع یہاں اگر سمجھ میں نہیں آیا وہاں آخرت میں سمجھ لو گے یہاں تو کام میں لگے رہو نفع برابر واقع ہو رہا ہے وہاں دیکھو گے اور تم یہاں ہی نفع کو معلوم کرنا چاہتے ہو تو دنیا کے نفع کے واسطے کام کر رہے ہو جو دنیا میں نفع کے طالب ہو جہاں کے لئے کام کر رہے ہو وہاں اس کا نفع دیکھنا انشاءاللہ تعالی خزانہ بھرپور ملے گا یہاں کے نفع کے متلاشی تو کفار ہوتے ہیں جن کو آخرت میں کوئی امید نہیں ان کی مطلوبہ اور آخرت کے لئے محض معطل اور مومن اس کے برعکس مولانا اسی کو فرماتے ہیں
انبیاء درکار دنیا جبری اند کافران درکار عقبی جبری اند
انبیاء راکار عقبی اختیار کافران را کار دنیا اختیار
( حضرات انبیاء علیم السلام دنیا کے کامعں میں جبری ہوتے ہیں اور کافر لوگ آخرت کے کاموں میں جبری ہوتے ہیں انبیاء علیم السلام آخرت کے کاموں میں اپنے کو مختار سمجھ کر ان کاموں کی کوشش فرماتے ہیں اور کافر لوگ دنیا کے کاموں کو اپنے اختیار میں سمجھ کر اس کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ـ ) ان کی مرغوب آخرت ہے ان کی مرغوب دنیا ہے اپنی اپنی مرغوب پر زور لگا رہے ہیں بس اپنے مقصود کے لئے کام کرتے رہو ثمرہ کو نہ دیکھو ورنہ اگر ساتھ ساتھ اسکو بھی دیکھو گے کہ کچھ ثمرہ مرتب ہوا یا نہیں تو بس کام ہو چکا پھر تو وہ مثال ہوگی جیسے چکی پیسنے والی ہر چکر گھمانے والی کے بعد یہ دیکھا کرے کی کس قدر آٹا نکلا تو بس ہو چکا کام اور پیس چکا آٹا کام کرنے والوں کی تو شان ہی اور ہوتی ہے ان کو تو والہانہ کام ہی کرنا چاہیئے اسی کو فرماتے ہیں
گر چہ رخنہ نیست عالم را پدید خیر یوسف وار مے باید دوید
(اگرچہ ظاہر میں کوئی راستہ معلوم نہیں ہوتا مگر یوسف علیہ السلام کی طرح بھاگنا چاہیئے )
یوسف علیہ السلام نے یہ نہیں دیکھا کہ دروازہ بھی کھلا ہے یا نہیں اٹھکر دوڑ پڑے اپنا کام کیا بس اس ارادہ اور نیت کی برکت سے دروازے خود بخود کھل گئے اور آپ صاف باہر نکل آئے اسی طرح تم چلو تو جو کچھ برے بھلے ہو آگے تو بڑھو خریداروں میں تو نام لکھا ہی جائے گا اور وہاں خریدار نام کا بھی محروم نہیں رہتا ایک بڑھیا سوت کی انٹی لے کر یوسف علیہ السلام کو خرید نے چلی کسی نے پوچھا کہاں جارہی ہو کہا کہ یوسف کو خریدنے اس نے کہا کہ ان کی قیمت کے لئے تو شاید عزیز مصر کا خزانہ بھی کافی نہ تم کیا ایک سوت کی انٹی لے کر چلی ہو بڑھیا کہتی ہے کہ یوسف کے خریداروں میں تو نام لکھا ہی جائے گا آپ ہی بتلائیے کہ کونسا زر ثمن اس کے پاس تھا مگر نیت اوراردہ تو تھا تو تم بھی نیت اور ارادہ کیساتھ کام لگو سوال جواب میں مت پڑو زیادہ تدقیق و تعمق کی ضرورت نہیں اتباع کی ضرورت ہے افسوس ہے کہ دو وقت کھانا کھانے میں باورچی پر تو اعتماد کریں کہ اس نے کھانے میں زہر نہیں ملایا اور اپنے خیر خواہوں پر اعتماد نہ ہو ان سے قیل و قال کی جاوے اس تدقیق میں یہ بھی داخل ہے کہ اس کو دیکھا جاوے کہ ہمارا عمل کامل ہے یا ناقص اگر ناقص ہوا تو بد دل ہو کر ہمت ہاردی صاحبو معلوم بھی ہے ـ کہ عمل میں جس کمال کے تم منتظر ہو کہ کوئی نقص نہ ہو وہ کمال تو صرف ذات پاک ہی کے ساتھ خاص ہے ورنہ اس ذات کے سامنے تو انبیاء بھی کامل نہیں اور کسی کا تو کیا منہ ہے کہ کامل ہونے کا دعوی کرے یا منتظر ہو اس کے سامنے تو جو کامل بھی ہوگا وہ ناقص ہی ہوگا یہ ہی بڑی رحمت ہے کہ ہم ناقص ہی ہیں محروم تو نہیں اور اگر کمال

You must be logged in to post a comment.