( ملفوظ 508 )موت کا ایک طرح سے رحمت ہونا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر موت نہ ہوتی تو دنیا کی کدورت سے پریشان ہو کر انسان پوچھتا پھرتا کہ مرنے کی بھی کوئی تدبیر ہے اس لئے موت بھی رحمت ہے بعض لوگ تو اب بھی باوجود اس یقین کے کہ موت اپنے وقت پر یقینی ہے پھر بھی اس کی تمنا کرتے ہیں کہ ہم مر جائیں اس لئے کہ علاوہ کدورت کے انسان کی یہ بھی خاصیت ہے کہ ایک چیز سے گھبرا جاتا ہے ۔

( ملفوظ 508) بزرگوں کے پاس رہ کر فنائیت حاصل کرنی چاہیے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر کسی بزرگ کو تعظیم سے اذیت ہوتی ہو تو اس کی ایسی تعظیم نہیں کرنا چاہیے بڑا مقصود تو بزرگوں کے متعلق یہ ہے کہ ان کو اذیت نہ پہنچے ہمارے بزرگ ہمیشہ ایسی باتوں سے نفرت کرتے تھے عرفی ادب اور تعظیم کے سخت خلاف تھے اصل ادب اور تعظیم تو محبت اور اتباع ہے چاپلوسی سے کیا کام چلتا ہے ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت فلاں بزرگ کی صحبت میں ایک شخص رہے ہیں مگر ان کی دین کی حالت بہت خراب ہے فرمایا کہ محض پاس رہنے سے کیا ہوتا ہے یہ پاس رہنا تو ایسا ہے جیسے کسی کے پاس زمین رہن ہو رہنے اور رہن میں تجنیس کا ایک درجہ ہے کام جو چلتا ہے بیع سے چلتا ہے رہن سے کام نہیں چلتا بیعت بیع سے مشتق ہے جس کا حاصل ہے بک جانا فنا ہو جانا دوسرے کا ہو جانا مولانا فرماتے ہیں ۔
قال ربگزار مرد حال شو پیش مرد کاملے پامال شو

( ملفوظ 506 )کتاب پر تقریظ لکھنے میں احتیاط

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو یہ چاہا کرتا ہوں کہ جس وقت کوئی آئے اسی وقت اس کا کام کر کے اس کو فارغ کر دوں ایک صاحب دہلی سے آئے ہوئے ہیں عشاء کے وقت وہ مجھ سے ملے میں نے ان سے کہا کہ اگر کوئی لمبی چوڑی بات ہے تو صبح پر رکھئے اور اگر مختصر ہے تو ابھی ختم کر لیجئے انہوں نے کہا کہ مختصر ہے میں نے اس وقت سن کر جواب دے دیا یہ صاحب بیان القرآن کی تسہیل پر تقریظ لکھنا چاہتے تھے ( دہلی میں مطبع مجتبائی والوں نے ایک مولوی صاحب سے تفسیر بیان القرآن کی تسہیل کرائی ہے سمجھ میں نہیں آیا کہ الفاظ کی تو تسہیل ہو سکتی ہے مگر جو مضمون علمی ہیں ان کو سہل کرنے کی کیا صورت ہے دیکھئے اگر اقلیدس کو کوئی اردو میں لکھے تو کیا اس کی شکلوں کو بھی جو کہ اثبات ہے خاص دعوؤں کا اس معنی کو سہل کر سکتا ہے کہ ہر شخص سمجھ لیا کرے ) میں نے ان صاحب سے کہا کہ اس کا جو مقدمہ لکھا گیا ہے جس میں آپ کہتے ہیں کہ سب التزامات و رعایات ظاہر کر دی گئی ہیں اس مقدمہ کو میرے پاس بھیج دو اور اس کے ہر نمبر کے ساتھ دو دو تین تین مثالیں بھی کہ مثلا فلاں مقام کی تسہیل میں یہ رعایتیں کی گئیں ہیں ان کو دیکھ کر خاص ان مقامات پر تقریظ لکھ دوں گا اور آپ کی رعایت سے اتنا اور لکھ دوں گا کہ امید ہے کہ اور مقامات کی تسہیل بھی ایسی ہو گی وجہ اس تقیید کی یہ ہے کہ تقریظ کی حقیقت ہے شہادت اور بلا مشاہدہ کے شرعا شہادت جائز نہیں یہ بڑا ظلم ہے کہ کسی خاص مقام کو دیکھ کر کل کتاب کی تقریظ لکھ دیتے ہیں میں تو یہ کرتا ہوں کہ ان مقامات کی تعیین لکھ دیتا ہوں کہ فلاں مقام سے فلاں مقام تک دیکھا ایسا پایا پھر اس میں کوئی شبہ نہیں کر سکتا نہ اعتراض کر سکتا ہے کہ آپ نے اس پر تقریظ لکھی ہے اور اس میں فلاں مضمون محدوش ہے کیونکہ ہم نے اپنے دیکھے ہوئے پر تقریظ لکھی ہے اس کے بعد اگر کوئی اعتراض کرے تو جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ بقیہ مقامات کسی کی نسبت امید کا لفظ تھا مگر امید غلط نکلی مزاحا فرمایا کہ امید تھی مگر بچہ نہیں ہوا ان احتیاطوں کی وجہ سے بعض لوگوں نے یہاں کا نام رکھا ہے نرالا چنانچہ کہتے ہیں کہ بھائی وہاں کا تو دربار ہی نرالا ہے ۔

( ملفوظ 505 )حتی الامکان سب کام اپنے ہاتھ سے کرنا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حتی الامکان سب کام اپنے ہاتھ سے کرتا ہوں ۔ بعضے کام خود کر لینے آسان ہوتے ہیں مگر بتلا کر دوسرے سے کام لینا بڑا مشکل ہوتا ہے

( ملفوظ 505) انگریزی تعلیم کے بعد سادگی ختم ہو جاتی ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ انگریزی تعلیم پا کر ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ سادی وضع میں رہ نہیں سکتے کوٹ ہو پتلون ہو بوٹ ہو ہیٹ ہو اس کی وجہ سے اخراجات میں بھی توسیع ہو جاتی ہے اب ان اخراجات کو پورا کرنے کے لئے بڑی ملازمت کی ضرورت ہے اور ملازمت آج کل عنقاء تو سوائے پریشانی کے نتیجہ کچھ نہیں دوسرے چھوٹی ملازمت کو اپنی شان کے خلاف بھی خیال کرتے ہیں اس وجہ سے بھی اس کو اختیار کرنے سے عار آتی ہے تو انگریزی پڑھ کر اچھی خاصی مصیبت مول لینا ہے بخلاف ملانوں کے جیسے پڑتی ہے نباہ لیتے ہیں ۔

( ملفوظ 504) طبیعت پر کام کے جلد ختم ہو جانے کا تقاضا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ قوت حافظہ کم ہونے کی وجہ سے میری طبیعت کسی کام کے ادھار کی متحمل نہیں اسی لئے ہاتھ کے ہاتھ کام ختم کرنے کو جی چاہتا ہے جب تک ختم نہ کر دوں میرے اوپر ایک بوجھ سا رہتا ہے ۔

( ملفوظ 503)مسئلہ تقدیر اور خیر و شر کی نسبت

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ صاحب یہ مسئلہ بہت ہی نازک ہے پھر فرمایا کہ ہے تو سب خدا ہی کا پیدا کیا ہوا ، شر بھی اور خیر بھی مگر ادب یہ ہے کہ خیر کی نسبت خدا کی طرف کرنا چاہیے اور شر کی نسبت اپنی طرف جس کی حقیقت یہ ہے کہ دونوں میں نسبتیں ہیں ایک خلق کی اور ایک کسب کی تو خیر میں تو مراقبہ ان کی طرف کی نسبت کا کرے کسب کا استحضار نہ کرے اور شر میں مراقبہ اپنی طرف کی نسبت کا کرے خلق کا نہ کرے غرض خیر میں تو نسبت خلق کو مستحضر کرو اور شر میں نسبت کسب کو مستحضر کرو ۔

( ملفوظ 501 ) دوسرے کے اٹھ جانے کے بعد اس کی جگہ کا خیال

ایک صاحب حضرت والا کے قریب بیٹھے ہوئے تھے وہ اٹھ کر چلے گئے کچھ دیر کے بعد ایک صاحب کو فرمایا کہ اب آپ اس جگہ پر آ جائیے ان کے اٹھنے کے ساتھ ہی اس جگہ کو پر کرنا نہ چاہیے تھا اس لیے کہ ممکن ہے کہ وہ پھر جلدی آ جائیں اتنی تو رعایتیں کرتا ہوں پھر بھی لوگ سخت سخت کہتے ہیں ، معلوم نہیں نرمی کسے کہتے ہیں ۔

( ملفوظ 501)مرغیوں کے کھول دینے سے شرح صدر ہو جانا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ شیخ کی مثال طبیب کی سی ہے کہ وہ فن میں اختراع نہیں کرتا مگر فن کے اصول سے دقائق کو سمجھ لیتا ہے ان دقائق پر ایک واقعہ نقل کیا کہ ایک مرتبہ گھر میں سے اپنے میکہ گئیں ، جاتے وقت مجھ سے یہ کہا کہ مرغیاں ہیں ان کو خیال کر کے صبح ہی جب نماز کو جانے لگو ، کھول دیا جایا کرے ، ایک روز کھولنا یاد نہیں رہا اس روز صبح کو بکس میں ایک طالب علم کا پرچہ ملا جس میں اپنی حالت کا اظہار کر کے جواب مانگا تھا میں نے اس پرچہ کو پڑھ کر ہر چند کوشش کی کہ جواب لکھوں مگر کوئی جواب شافی قلب میں نہ تھا ، جب قطعا شرح صدر نہ ہوا تو اب فکر ہوئی کہ اس کا کیا سبب ہے ، یاد آیا کہ مرغیاں بند اور محبوس ہیں اس وجہ سے قلب کو محبوس کر دیا گیا گھر پہنچا مرغیاں کھولیں پھر جو واپس آ کر وہ مضمون پڑھا تو جواب میں شرح صدر ہو گیا ۔ اب یہ دقیق بات کتابوں میں کہاں لکھی ہے ۔

( ملفوظ 500)تکبر جہالت یعنی حماقت سے ہوتا ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ تکبر ہمیشہ جہل سے ہوتا ہے میں نے جہل کی جگہ حمق کر دیا ہے کہ تکبر ہمیشہ حماقت سے ہوتا ہے یہ ذرا واضح لفظ ہے مراد جہل سے بھی حضرت کی یہی تھی اگر کوئی برسوں تجربہ کرتا تب بھی ایسی بات نہ کہہ سکتا جو ان حضرات کو فی البدیہہ معلوم ہو جاتی ہے ۔