ایک صاحب نے رنگون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فلاں مولوی بدعتی کو فاش شکست ہوئی اور اہل حق کی فتح عظیم ہوئی ۔ اس پر حضرت والا نے فرمایا کہ بدعتیوں میں نہ تبلیغ ہے نہ اصلاح بجز فساد کے اور اہل حق کے ستانے کے ۔
26 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دو شنبہ
اقوال
( ملفوظ 458 ) خوف آخرت اور گنگوہ کے حافظ جی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ خوف آخرت بھی عجیب چیز ہے ۔ ایک حافظ صاحب گنگوہ میں تھے بچوں کو ان کی تعلیم و تربیت کی وجہ سے مارتے پھر آخرت کا خوف غالب ہوتا تو بچوں سے کہتے تم بدلا لے لو اور بچے بھی ایسے بے حیاء تھے کہ حافظ صاحب کو مارتے ۔
26 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس ساڑھے سات بجے یوم دو شنبہ
( ملفوظ 457 )بزدل کو غصہ زیادہ آتا ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جتنے بہادر ہیں ان میں غصہ کم ہوتا ہے ، بزدل کو غصہ بہت ہوتا ہے ، سمجھتا ہے کہ اگر اس وقت انتقام نہ لیا تو پھر کہاں موقع ملے گا بخلاف بہادر کے وہ یہ سمجھتا ہے کہ جب چاہوں گا انتقام لے لوں گا ۔
( ملفوظ 458 )خوف آخرت اور گنگوہ کے حافظ جی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ خوف آخرت بھی عجیب چیز ہے ۔ ایک حافظ صاحب گنگوہ میں تھے بچوں کو ان کی تعلیم و تربیت کی وجہ سے مارتے پھر آخرت کا خوف غالب ہوتا تو بچوں سے کہتے تم بدلا لے لو اور بچے بھی ایسے بے حیاء تھے کہ حافظ صاحب کو مارتے ۔
26 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس ساڑھے سات بجے یوم دو شنبہ
( ملفوظ 455 )مؤمن پر موت کے وقت آسانی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مشہور ہے کہ موت کا وقت بڑے خطرہ کا ہے مگر حقیقت میں مؤمن کے ساتھ بوقت موت کے بڑی رحمت ہوتی ہے اور بڑی آسانی کی جاتی ہے وہ وقت ہی خاص رحمت کا ہوتا ہے اور ظاہر بھی ہے کہ عجز و ضعف کی حالت سے زیادہ کون سا وقت رحمت کا ہو گا ۔
( ملفوظ 456 )جانور کو ستانے سے دل دکھتا ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آدمی تو آدمی جانور کو ستانے سے بھی دل دکھتا ہے ۔
( ملفوظ 453 )بغیر کام کے تنخواہ اور بلا ٹکٹ سفر
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان حضرت نے نفس کے علاج کا بڑا اہتمام کیا ہے ۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ بعض مباحات بھی چھوڑ دینا چاہئیں جہاں یہ شبہ ہو کہ یہ غیر مباح کی طرف مفضی ہو جائے گا ، یہ نفس کا علاج ہے ۔ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب کو جو کہ پہلے ڈپٹی انسپکٹر تھے مدارس کی چھ ماہ کی تنخواہ نہ ملی تھی جب غدر ہو گیا تو تنخواہ کا نو سو روپیہ آیا انکار کر دیا کہ میں نے کوئی کام نہیں کیا جس کی میں تنخواہ لوں کہا گیا کہ کام سے انکار بھی تو نہیں کیا ، تسلیم نفس تو بحالہ رہا مگر پھر بھی آپ نے کچھ نہیں لیا ۔ ایک تو یہ رنگ تھا اب کہتے ہیں کہ بدون ٹکٹ کے سفر کرنا جائز ہے ۔ ایک صاحب سے میری گفتگو ہوئی ، کہنے لگے کہ اگر ایسے عمل سے ہم پر دوسروں کا حق چاہتا ہے تو کیا حرج ہے ہمارا بھی تو دوسروں کے ذمہ ہے جب قیامت میں مانگے گا ، کہہ دیں گے کہ اس سے وصول کر لو ، میں نے کہا کیا واہیات ہے اگر عدالت کسی قرض خواہ کی ڈگری کر دے کسی پر اور وہ یہ کہے کہ میرا دوسرے پر ہے اس سے وصول کر لو تو کیا یہ عذر قبول ہو گا ، جب یہاں کافی نہیں تو قیامت میں تو کیا کافی ہو گا ، تب ان کی آنکھیں کھلیں اور توبہ کی ۔
( ملفوظ 454 )لفظ جدہ اصل جدہ ہے
ایک صاحب نے دریافت کیا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی قبر کہاں ہے ؟ فرمایا کہ ابو قبیس جو ایک پہاڑ ہے مکہ معظمہ میں وہاں بتلائی جاتی ہے اور حضرت حوا کی جدہ میں بتلاتے ہیں اس کی وجہ تسمیہ یہ بیان کرتے ہیں کہ وہاں ہماری جدہ ہیں مگر یہ بالکل غلط ہے یہ لفظ جدہ ہے ہی نہیں بلکہ جدہ ہے بالضم دو پہاڑوں کے درمیان کا جو راستہ جاتا ہے اس کو جدہ کہتے ہیں ۔
( ملفوظ 452 ) زمانہ غدر میں بعض بزرگوں کا واقعہ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان حضرات عارفین کی شان ہی جدا ہوتی ہے ۔ زمانہ غدر میں جب بعض بزرگوں پر بغاوت کا الزام لگایا گیا تو ایک بزرگ گرفتار کر لیے گئے اور اجلاس پر ان حضرات کا بیان لیا گیا ، حاکم نے دریافت کیا کہ آپ لڑے ، فرمایا کہ میرے تو کبھی باپ دادا بھی نہیں لڑے ۔ دریافت کیا کہ آپ نے گورنمنٹ کے خلاف ہتھیار اٹھائے ، حضرت نے تسبیح دکھلا دی کہ ہمارا ہتھیار تو یہ ہے دریافت کیا کہ تم نے فساد کیا ، فرمایا کہ مسلمان فساد نہیں کر سکتا ، ان حضرت کو جیل میں رکھا گیا تھا ، ان کی برکت سے جیل خانہ خانقاہ ہو گیا تھا ، یہ جہاں بیٹھ جائیں گے وہی رنگ پھیلائیں گے ۔ ایک اور بزرگ تین دن تک چھپے رہے پھر ظاہر ہو گئے کسی نے تحدید کی وجہ پوچھی ، فرمایا کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت تھی ، حضور صلی اللہ علیہ و سلم تین دن غار ثور میں رہے ۔`
( ملفوظ 451 ) انگوٹھے کا نشان دلیل شرعی نہیں
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت آج کل جو کاغذ پر انگوٹھا لیا جاتا ہے کیا اس کی شریعت میں کچھ اصل ہے ؟ فرمایا کہ شریعت کی یہی خوبی ہے کہ اس میں ان چیزوں کا کوئی اعتبار نہیں ۔

You must be logged in to post a comment.