ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آئے دن ایک نیا فتنہ ملک میں ان مدعیان عقل کی بدولت کھڑا ہوتا ہے آج کل زنانہ سکولوں کی طرف عقلاء کی توجہ مبذول ہو رہی ہے وہی قصہ ہو رہا ہے کہ اونٹ رہے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی سر سے پیر تک ٹیڑھی ٹیڑھی ہے زنانہ سکولوں میں بڑی خرابی ہے ایسی عورتیں کہاں ہیں جن پر اعتماد ہو کہ وہ نگرانی کریں گی ، مردوں سے واسطہ ہوتا ہی ہے اس لیے جو عورتیں نگراں ہیں ان کا تعلق غیر مردوں سے ہوتا ہے ان کے واسطے سے لڑکیوں کا بھی تعلق ہوتا ہے یہ بھی سخت خطرناک ہے ۔
اقوال
( ملفوظ 448 )حضور صلی اللہ علیہ و سلم کسی کی محبت میں مغلوب نہ تھے
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ رسالہ لکھ رہا ہوں ، جگہ جگہ یہ ثابت کیا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کسی کی محبت میں مغلوب نہ تھے جیسے عشق میں آدمی مغلوب ہو جاتا ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم ایسے مغلوب نہ تھے ۔
25 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم یک شنبہ
( ملفوظ 449 )دیندار ہی حقوق ادا کرتا ہے
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ادائے حقوق کا آج کل بہت ہی کم خیال ہے اگر خیال ہو سکتا ہے تو دینداروں ہی کو ہو سکتا ہے ۔ دینداری بھی عجیب چیز ہے ایک ایک پائی کا اہتمام کرنا ہے اور بد دین تو سینکڑوں کی بھی پرواہ نہیں کرتا ۔
( ملفوظ 447 )محبت امرد اعاذنا اللہ منہ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعضے جاہل صوفی اس غلطی میں مبتلا ہیں کہ مخلوق کا جمال مظہر جمال الہی ہے اس لیے حسین و جمیل آدمی کو گھورنے سے مقامات میں ترقی ہوتی ہے ۔ استغفر اللہ ایک درویش کا قصہ سنا ہے کہ ایک مقام پر ٹھرے ، ان کے ہمراہ ایک لڑکا تھا جو ان کا محبوب تھا ، سردی کا زمانہ تھا ، لوگوں نے پوچھا کہ اس کی چارپائی کہاں بچھے گی کہا کہ ہماری چارپائی کے پاس لوگوں کو شبہ ہوا ، رات کو جھانک کر دیکھا تو وہ درویش رات بھر اس کو گھورتے رہے کیا ٹھکانا ہے اس جہل کا ۔
( ملفوظ 446 )حضرت حاجی صاحب کے فیض عام کا درجہ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب سے فیض اسی وجہ سے زیادہ ہوا کہ حضرت طالبین کے ساتھ توجہ اور سہولت اور تسلی بہت فرماتے تھے ظاہر میں کیسی ہی منکر بات ہوتی مگر اس کو بھی بشرط گنجائش اچھی ہی حالت پر منطبق فرما دیتے اور یہ فرماتے کہ فلانی حالت میں ایسی بات ہو جاتی ہے کہ کیا ٹھکانا ہے اس شفقت کا ۔
( ملفوظ 444 )برسوں کی ریاضت کے بعد یہ سمجھنا کہ کچھ حاصل نہیں ہوا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت مولانا گنگوہی فرمایا کرتے تھے کہ برسوں کے مجاہدہ اور ریاضت کے بعد اگر یہ سمجھ میں آ جائے کہ مجھ کو کچھ حاصل نہیں ہوا تو اسکو سب کچھ حاصل ہو گیا لیکن آج کل تو بھول کر بھی یہ خیال نہیں ہوتا دعوی ہی دعوی ہے ۔ چنانچہ ذرا ذرا سے بچے شیخ الحدیث شیخ التفسیر شیخ الادب کہلائے جانے پر نازاں ہیں مگر ابھی تک کوئی شیخ الشرارت نہیں ہوا ۔
( ملفوظ 445 )لوگ شیخ العالم کو شیخ الہند کہتے ہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اکثر لوگ حضرت مولانا دیوبندی کو فخرا شیخ الہند کہتے ہیں اور لکھتے ہیں یہ مجھ کو اس قدر ناگوار ہوتا ہے کہ شیخ العالم کو شیخ الہند کہتے ہیں اگر ایسا ہی تھا تو شیخ العرب کہنا چاہیے تھا نسبت بھی کی تو کفر کے ملک سے یہ کون سے فخر کی بات ہے ۔ اصل میں یہ نیچریوں کا لقب تجویز کیا ہوا ہے مگر افسوس اپنی جماعت کے لوگ بھی بڑے فخر سے شیخ الہند کہتے ہیں ۔ بس افسوس ان کی سمجھ پر ہے اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ وائسرائے کو کوئی کانسٹیبل کہے ، کیا یہ اہانت نہیں ہے یہ تعریف ایسی ہی ہے جس کو مولانا فرماتے ہیں :
شاہ را گوید کسے جولاہا نیست ایں نہ مدح ست اور مگر آگاہ نیست
( کوئی بادشاہ کو کہے کہ وہ جولاہا نہیں ہے یہ تعریف نہ ہوئی مگر کہنے والا تعریف کے اصول سے واقف نہیں 12 )
نئے نئے لقب ایجاد ہو رہے ہیں ۔ امام الشریعت امام الہند ہمارے بزرگوں کو ہمیشہ ایسی باتوں سے اجتناب رہا ۔ ان حضرات کی زندگی سلف کا نمونہ تھی مگر آجکل وہ باتیں پرانی اور دقیانوسی خیال کی جاتی ہیں ۔
25 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم یک شنبہ
( ملفوظ 442 )قواعد سے دوسروں کی راحت مقصود ہے
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ان قواعد اور اصول کی بدولت اگر مجھ کو بھی طبعی راحت مل جائے تو اس کو بھی جی چاہتا ہے لیکن اگر یہ نہ ہو تو دوسروں کو تو راحت ہوتی ہے سو یہ بھی میری ہی راحت ہے ۔
( ملفوظ 443 ) رعایت کرنے والے کی رعایت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ معاملہ تربیت میں جب میری کوئی رعایت کرتا ہے تو میرا بھی جی چاہتا ہے کہ رعایت کروں ، اگر وہ رعایت کا اہتمام نہیں کرتا ، میں بھی نہیں کرتا کہ اس سے اس کا جہل بڑھتا ہے ۔
( ملفوظ 440 )ہر چیز کا اہتمام
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرے یہاں الحمد للہ ہر چیز کا اہتمام ایسا ہے کہ اس میں رائی برابر بھی کسی پر گرانی نہ ہو ، سالہا سال میں مرتب ہوئے ہیں قواعد ۔

You must be logged in to post a comment.