( ملفوظ 441 )شرح صدر ہونے پر قواعد سے جواب لکھ دینا

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میں بعض اوقات قواعد سے جواب لکھ دیتا ہوں مگر جبکہ شرح صدر ہو جائے اور اگر شرح صدر نہ ہو تو نہیں لکھتا ۔

( ملفوظ 438 ) لوگ اصول سے گھبراتے ہیں وصول پسند کرتے ہیں

ایک شخص نے خاموشی کے ساتھ ایک رقعہ حضرت والا کے پاس رکھ دیا اور زبان سے کچھ نہیں کہا ، حضرت والا ڈاک کی تکمیل میں مصروف تھے اس طرف خیال بھی نہ ہوا اتفاقا نظر پڑ جانے پر دریافت فرمایا کہ یہ کن صاحب کا پرچہ ہے ۔ تب ان صاحب نے عرض کیا کہ یہ میرا ہے ۔ فرمایا کہ بندہ خدا کچھ تو زبان سے کہہ دیا ہوتا اگر میں نہ دیکھتا تو مجھ کو اس کا علم کس طرح ہوتا پھر مزاحا فرمایا کہ آدمی کو چاہیے کہ پہلے رکا دے ( یعنی بلند آواز سے بات کہنا ) اس کے بعد رقعہ دے اب غلطی پر متنبہ کیا جاتا ہے تو بدنام کرتے ہیں اس کا میرے پاس کیا علاج ہے کہ خواہ مخواہ بھیڑیا بنا رکھا ہے میرے تو کپڑے بھی سفید نہیں جن کی وجہ سے رعب ہو سکتا تھا اور سفید اس لیے نہیں کہ جمعہ کے روز نہ بدل سکا اور آج کا دن بھی یوں ہی گذر گیا ، میں خادم تو بننا چاہتا ہوں مگر غلام بننا نہیں چاہتا اور خادم بھی اس طرح کا کہ نہ میں اس کا تابع نہ وہ میرا تابع بلکہ اصول صحیح کا دونوں کو تابع ہونا چاہیے مگر اصول سے لوگ گبھراتے ہیں وصول کو پسند کرتے ہیں وصول سے مراد رقم اینٹھنا ہے چاہے پھر کچھ بھی حصول نہ ہو ۔

( ملفوظ 439 )ایک صاحب کے کارڈ میں سات سوال

فرمایا کہ ایک صاحب کا کارڈ آیا تھا اس میں سات سوالات کیے تھے میں نے لکھ دیا کہ تمہیں رحم نہیں آیا خود لفافہ میں بھی دو سوال سے زیادہ نہ ہوں نہ کہ کارڈ میں سات سوال ۔ اب بتلائیے کہاں تک خوش اخلاق بن سکتا ہوں ۔ ایک کارڈ میں سات سوالات کا جواب کس طرح لکھ دیتا ایسے ایسے بدفہموں سے پالا پڑتا ہے یہ لوگ یہ سمجھتے ہوں گے کہ اور کوئی کام نہ ہو گا اس لیے اتنے سوال بھیج دیتے ہیں پھر یہ سب سوالات اسی وقت تک ہیں کہ مفت جواب مل جاتا ہے اگر فی سوال قلیل فیس بھی مقرر کر دی جائے تو امید ہے کہ ایک سوال بھی نہ آوے ۔ ایک مولوی فتوی کی فیس لیتے ہیں وہ اس کو چھپاتے بھی نہیں ، اعلان کر کے لیتے ہیں اور صاحب تجارت کا تو اعلان ہونا ہی چاہیے اور دیوبند کثرت سے فتوے آتے ہیں ایک پیسہ بھی نہیں لیا جاتا اور گو لینا جائز ہے مگر اس طرز میں یعنی لینے میں آزادی نہیں رہ سکتی اس لیے یہ اچھا طرز نہیں ۔

( ملفوظ 436 ) کتاب حیات المسلمین کی اہمیت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں اپنی تمام تصنیفات میں رسالہ حیات المسلمین کو اپنے لیے ذریعہ نجات سمجھتا ہوں کیونکہ اس میں انتظام ہے مسلمانوں کے دین و دنیا کا قیامت تک کے لیے لیکن بعض ثمرات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ بدون جماعت کے مرتب نہیں ہو سکتے جیسے نماز میں جماعت کے فضائل ہیں مگر جب تک سب جمع ہو کر نہ پڑھیں وہ فضائل نہیں حاصل ہو سکتے ایسے ہی حیات المسلمین کے اعمال کے ثمرات بدون کثرت سے مسلمانوں کے جمع ہوئے اور عمل کئے حاصل نہیں ہو سکتے ۔ اگر سب مسلمان اس کی تعلیم پر عمل کریں اور اس کو اپنا دستور العمل بنا لیں تو میں خدا کی ذات پر بھروسہ کر کے کہتا ہوں کہ دین و دنیا میں ان کو اعلی درجہ کی کامیابی اور فتح نصیب ہو ۔

( ملفوظ 437 )عربی زبان علمی زبان ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ عربی زبان علمی زبان ہے دوسری زبانیں علمی نہیں چنانچہ اگر اردو فارسی میں سے مثلا عربی الفاظ نکال دیئے جائیں تو مطلب اس طرح ادا ہو ہی نہیں سکتا جیسے عربی کے الفاظ سے یہ عربی زبان ہی میں ہے احاطہ اور جامعیت ۔

( ملفوظ 434 )درمیان گفتگو سوال کرنا حماقت ہے

حضرت والا نے ایک مضمون بیان کرنا شروع ہی فرمایا تھا ایک صاحب درمیان میں ایک بے تعلق سوال کر بیٹھے ، اس پر فرمایا کہ ایک شخص تو مشقت کر کے افادہ کرے اس کی یہ قدر کی جائے بے محل سوالوں سے تقریر بالکل بے لطف ہو جاتی ہے ۔ بات یہ ہے کہ جو چیز مفت میں ملتی ہے اس کی یہ ہی گت بنتی ہے اگر ناک رگڑوا کر چھ مہینے میں ایک بات کہتا تب قدر ہوتی پھر ان صاحب کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ جواب دیجئے آپ نے یہ بے جوڑ سوال کیا ، اس وقت کیا محل تھا ان صاحب نے عرض کیا کہ غلطی ہوئی آئندہ انشاء اللہ ایسا کبھی نہ ہو گا ، فرمایا کہ آدمی کو فہم سے کام لینا چاہیے اس کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے کہ ایسی بات نہ کی جائے کہ جس سے دوسرے کو اذیت پہنچے ۔ یہ اول عمل ہے اس راہ میں ۔

( ملفوظ 435 )ہر حالت میں خدا کو یاد رکھنے کا حکم

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اسلام کی تعلیم کا اصل مقصد خدا کی یاد خدا کی اطاعت خدا سے صحیح تعلق رکھنا ہے ایسی تعلیم غیر اسلام میں کوئی نہیں دکھا سکتا ۔ چنانچہ تمام احوال کے متعلق مثلا گھر میں جاؤ گھر سے باہر آؤ پاخانہ جاؤ پاخانہ سے باہر آؤ وضو کرو نماز پڑھو حتی کہ انزال کے وقت جبکہ سوائے بیوی کے اور کوئی چیز نظر میں نہیں ہوتی اس وقت کے لیے بھی اس کی تعلیم موجود ہے کہ خدا کو یاد رکھو ۔ پس ہر کام میں دین کو مقصود بنایا گیا ہے یہاں ایک بات یہ بھی یاد رکھنے کی ہے کہ ہر مذہب کے مقتداؤں کو کیف ما اتفق بلا انتخاب دیکھنا چاہیے کہ کثرت سے دین کی طرف لگاؤ والوں کی تعداد کن ادیان میں زیادہ ہے سو جیسے مسلمانوں کے مقتداء ہیں کسی مذہب کے ایسے پیشوا نہیں بعضے ادیان کے پیشوا تو اکثر فاسق فاجر ہیں ۔

( ملفوظ 432 ) حضرت کی حالت قبض

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ طریق بہت نازک ہے اس میں مجھ پر خود ایسی حالت گزر چکی ہے کہ اگر حضرت حاجی صاحب کا اس حالت کے قبل یہ ارشاد نہ ہوتا کہ جلدی نہ کرتا تو میں خودکشی کر لیتا ۔ اس لیے میں اس کے متعلق جو کچھ کہتا ہوں دیکھ کر کہتا ہوں ۔ اس حالت کا قصہ ہے کہ میرے ایک دوست مجھ سے ملنے آئے ، ان کے پاس بھری بندوق تھی ، کئی مرتبہ جی میں آیا کہ ان سے کہوں کہ میرے گولی مار دیں مگر اللہ تعالی نے سنبھال لیا ۔ اس حالت میں مجھ کو بڑے گھر میں سے بہت امداد ملی اور کوئی ایسا تھا نہیں جس سے کہتا حق تعالی نے ان کو ہی غمگسار بنا دیا تھا ان سے اپنی حالت کہتا تھا ان کے جواب ایسے ہوتے تھے جیسے حضرت خدیجتہ الکبری رضی اللہ عنہا کے جوابات حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے ہوتے تھے ۔

( ملفوظ 433 ) طلب سے پہلے مطلوب کی تعیین ضروری ہے

ایک خط کے جواب میں حضرت والا نے تحریر فرمایا کہ اب راہ پر آئے ، اب یہ لکھو کہ طریق کی حقیقت کیا سمجھے ، اگر خود سمجھ میں نہ آوے تو قصدالسبیل دیکھ کر لکھو ، اگر قصدالسبیل دیکھ کر بھی سمجھ میں نہ آئے تب پوچھیں میں بتاؤں گا ۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ طلب سے پہلے مطلوب کا تعیین ہو جائے تا کہ پھر کبھی الجھن نہ ہو ۔

( ملفوظ 430 )مولوی مسیح الزمان صاحب کی ظرافت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولوی مسیح الزمان خان صاحب حضور نظام کے استاد شاہ جہاں پور کے رہنے والے تھے ، بڑے ظریف تھے ، ان کے پاس ایک فقیر آیا کہ میں یہاں کا قطب ہو کر آیا ہوں ، یعنی میرے معتقد ہو جائیں ، انہوں نے کہا کہ میں اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں اس لیے کہ پہلے سے میں یہاں کا قطب ہوں اور میرے پاس کوئی حکم نہیں آیا کہ میں آپ کو چارج دے دوں یا تو میرے پاس حکم منگا دو ورنہ اپنی قطبیت سے تم میں اخراج کا تصرف کروں گا اپنا سا منہ لے کر چل دیا ۔