ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ انبیاء ایسے کامل العقل اور کامل الدین بھیجے گئے کہ ارسطو افلاطون جالینوس بھی ان کے سامنے گردن جھکا کر بیٹھ جائیں ۔ اگر مسلمانوں میں تدین راسخ ہو جائے تو ان کی عقل کو جلاء ہو اور پھر تمام پر یہی غالب ہو جائیں مگر اس کی طرف تو آتے ہی نہیں ایک نیا دین تراش رکھا ہے ۔ چنانچہ انگریزی داں ایک عالم سے کہنے لگے کہ ہمارا اسلام ٹھیٹ اسلام ہے ۔ مولوی صاحب نے خوب جواب دیا کہ ٹھیٹ نہیں ٹینٹ اسلام ہے ۔
15 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم پنج شنبہ
اقوال
( ملفوظ 299 )نہ دھوکہ دینا نہ دھوکہ کھانا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جس شخص میں دو صفتیں ہوں گی ، دین اور عقل کی وہ ہمیشہ غالب رہے گا ، ایک بار ہرقل کے دربار میں سفیر اسلام آباد آیا اس نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے حالات دریافت کیے تو ان سفیر اسلام کا جواب سنئے ، فرماتے ہیں کہ ہمارے امیر المؤمنین کا مختصر حال یہ ہے کہ لا یخدع و لا یخدع ہرقل ان جملوں کو سن کر ششدر اور حیران رہ گیا اور دربار عام میں یہ بات کہی کہ ان خلیفہ وقت میں یہ دو صفتیں ہیں کہ نہ کسی کو دھوکہ دیتے ہیں جو دلیل ہے ان کے دین کی نہ کسی کے دھوکہ میں آتے ہیں جو دلیل ہے ان کی عقل کی سو جس میں یہ دو باتیں جمع ہوں گی ، ساری دنیا اس کا مقابلہ نہیں کر سکے گی
( ملفوظ 298 )بد فہمیوں کی ناخوشی خوشی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعضے لوگ جو مجھ سے ناخوش ہو جاتے ہیں میں تو خوش ہوتا ہوں کہ بد فہموں سے نجات ملی ، امام کے پیچھے جس قدر مقتدی کم ہوں راحت ہی ہے کیونکہ اگر نماز میں کوئی خرابی آ جائے تو تھوڑوں ہی کو اطلاع دینی پڑے گی ۔ یہاں کا تو یہ طرز ہے کہ نہ بیعت کا جھگڑا اس لیے کہ آج کل اکثر یہ مشغلہ دکانداروں کا اور رسمی پیروں کا رہ گیا ہے ان کے یہاں اس کا تو اہتمام ہی نہیں کہ اصلاح ہو ، روک ٹوک ہو ، بس شب و روز مجمع بڑھانے کی فکر اور نہ یہاں وہ مشغلہ جیسے اکثر درباروں میں ہوتا ہے ۔ مثلا یہاں پر نہ دیرہ دون کی چائے کا ذکر نہ سہارن پور کے گنوں کا ذکر نہ شملہ کی ناشپاتیوں کا ذکر الحمد للہ صرف مشاغل دینیہ ہی کا شغل ہے ۔
ماہر چہ خواندہ ایم فراموش کردہ ایم الاحدیث یار کی تکرارمی کنیم
مشائخ کے درباروں کی طرح ایسی چیزوں کا ذکر ہی نہیں ۔ حضرت میں تو نہ چائے پیوں نہ پلاؤں نہ چاول کھاؤں نہ کھلاؤں یہاں تو روکھا سوکھا معاملہ ہے اگر پسند ہوں آئیں ورنہ اپنے گھر بیٹھیں بلانے کون جاتا ہے ۔
( ملفوظ 297 ) علماء کو ہر سوال کا جواب دینا غلط ہے
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ طرز بعض علماء کا نہایت ہی ناپسندیدہ ہے کہ ہر سوال کا جواب دینے کو ضروری سمجھتے ہیں جو سوال ضروری اور قابل جواب ہو اس کا جواب دینا چاہیے اور جو اعراض کے قابل ہو اس سے اعراض کرنا چاہیے ، علماء کے اس طرز مذکور کا اثر یہ ہوا کہ عوام الناس علماء کو اپنا تابع سمجھنے لگے ، میں کہا کرتا ہوں کہ اگر کوئی خر دماغ ہے تو ہم اسپ دماغ گوادروں سے اس کی امید نہیں مگر خیر سب نہ سہی ان میں ایک تو ایسا ہو کہ ان متکبرین کی غلطیوں پر تنبیہ کرے ورنہ قیامت تک بھی ان کو خبر نہ ہو ۔ بس لوگ اسی تنبیہ اور روک ٹوک پر گھبراتے ہیں ، میں سب کو تو نہیں مگر جو صاحب طریق ہو کہ گھبرائے ، اس سے کہتا ہوں کہ بھائی بے سوچے سمجھے اس راہ میں قدم ہی کیوں رکھا تھا ، بس یوں چاہتے ہیں کہ ہو تو جائیں سب کچھ اور کرنا کچھ نہ پڑے تو جب یہ حالت ہے تو میدان میں کس بوتے پر آیا تھا ۔ اسی کو مولانا فرماتے ہیں :
تو بیک زخمے گریزانی زعشق تو بجز نامے چہ میدانی زعشق
( تو ایک ہی زخم سے عشق سے بھاگتا ہے لہذا تو تو صرف عشق کا نام جانتا ہے اور کچھ نہیں 12 )
اور فرماتے ہیں :
گر بہر زخمے تو پر کینہ شوی پس کجا بے صیقل آئینہ شوی
چوں نداری طاقت سوزن زون پس تو از شیر ژیاں ہم دم مزن
( اگر ہر زخم سے تم کو ناگواری ہو تو بھلا بغیر صیقل کے کس طرح آئینہ بن سکتے ہو ۔
جب تم کو ایک سوئی کے چھبنے کا بھی تحمل نہیں ہے تو جسم پر شیر کی صورت گدوانے کا خیال ہی چھوڑ دو ( کہ جسم پر شیر کی تصویر بنانے کے لیے تو بہت سی سوئیاں چھبونا ہوں گی )
ارے جب تیرے اندر ایک سوئی کے کوچنے کو بھی برداشت اور قوت اور تحمل نہیں تو اس میدان میں جہاں ہزاروں توپیں اور مشین گنیں اور تلواریں چل رہی ہیں کیوں قدم رکھا تھا جھوٹا ہے تو اور کذاب ہے اپنے کو مرد میدان کہتا ہے اور یہ سب تیری باتیں ہی باتیں ہیں صرف باتوں سے اس میدان میں کام نہیں چل سکتا ۔ اسی لیے کہتے ہیں :
قدم باید اندر طریقت نہ دم کہ اصلے ندارد دمے بے قدم
( راہ سلوک میں عمل کی ضرورت ہے نہ کہ باتیں بنانے کی کہ بغیر عمل کے صرف باتوں کی یہاں کوئی قدر نہیں ۔ 12 )
یہ تو وہ راہ ہے کہ بڑوں بڑوں کو چرکہ دیا جاتا ہے ایک مرتبہ حضرت حاجی صاحب اور حضرت مولانا گنگوہی بیٹھے ہوئے کھانا کھا رہے تھے ۔ مولانا شیخ محمد صاحب آ گئے ، دیکھ کر کہنے لگے کہ آج تو مرید صاحب کے اوپر بڑی ہی نوازش ہو رہی ہے ، ساتھ کھانا کھلایا جا رہا ہے ۔ حضرت حاجی صاحب نے باوجود یکہ حضرت مولانا کا بے حد ادب فرماتے تھے مگر اس وقت مصلحت تربیت کے لیے فرمایا کہ ہاں ہے تو میری عنایت کہ میں اس طرح ساتھ بٹھلا کر کھلا رہا ہوں ورنہ مجھ کو تو یہ حق ہے اور ان کی حیثیت ہے کہ میں روٹی ان کے ہاتھ پر رکھ کر کہتا کہ وہاں بیٹھ کر کھاؤ اور اس ارشاد کے ساتھ ہی کن انکھیوں سے دیکھ رہے تھے کہ کوئی تغیر تو نہیں ہوا ۔ یہ واقعہ ہے کہ حضرت مولانا گنگوہی پر ذرہ برابر ناگواری کا اثر نہیں ہوا ، کسی نے پوچھا کہ حضرت آپ کو ناگوار تو نہیں ہوا تھا ، فرمایا کہ جہاں سے کچھ ملا کرتا ہے یا ملنے کی کچھ امید ہوتی ہے وہاں سے ناگواری نہیں ہوا کرتی ۔ مشاہدہ ہے کہ کیمیاگر اگر لنگوٹا بند بھی ہو مگر اس کے پیچھے بڑے بڑے آدمی حقہ اٹھائے پھرتے ہیں گو وہ کتنا ہی میلا کچیلا سڑا ہوا ہو طالب کی تو یہ شان ہونا چاہیے اور مصلحین کی یہ شان ہونا چاہیے :
ہر کہ خواہد گوبیاؤ ہر کہ خواہد گوبرو داروگیرد حاجب و درباں دریں درگاہ نیست
میں ناتمام سی نقل اس شان کی کرتا ہوں تو بدنام کیا جاتا ہوں کہ تشدد ہے اور میں تو واللہ اپنے نفس پر بھی متشدد ہوں اور اپنی فکر میں دوسروں کی اصلاح سے زائد لگا ہوا ہوں بے فکر نہیں ہوں ، خدا کے سامنے مجھے بھی کھڑا ہونا ہے اسی لیے میں بھی اپنی حالت کے متعلق سوچتا رہتا ہوں اور فکر کرتا رہتا ہوں بے فکر نہیں ہوں سو جو شخص اپنی اصلاح کی فکر میں ہو وہ دوسروں کی اصلاح کے معاملہ میں کیا خوشامد کرے گا یا چاپلوسی کرے گا ہر گز نہیں اور میں تو کسی کو کوئی مشکل کام بھی نہیں بتلاتا مگر اس کا کیا علاج کہ وہ اتباع ہی کو مشکل سمجھتے ہوں ۔ سو وہ مشکل دوسرے کا اتباع ہے کیونکہ اس میں نفس کے خلاف کرنا پڑتا ہے اور عوام اس میں غلطی کریں تو کریں حیرت تو یہ ہے کہ علماء بھی غلطی کرتے ہیں اور یہاں تو عوام زیادہ نہیں آتے اکثر علماء ہی آتے ہیں ۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ ان میں بھی اکثر اصلاح سے بے فکر وجہ اس کی یہ ہے کہ یہاں آ کر غلطیوں پر تنبیہ ہوتا ہے تب آنکھیں کھلتی ہیں دوسری جگہ کہیں روک ٹوک نہیں ہوتی نہ تنبیہ کیا جاتا ہے اس لیے وہ بجائے فکر کے برعکس مجھ کو متشدد سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو حساب خود لگا کر آئے ہیں میں اس میں ان کی موافقت کروں جیسے ایک بہرہ نے اپنے دوست کی عیادت میں حساب لگایا تھا ۔ قصہ یہ ہے کہ ایک بہرہ شخص کسی دوست کی عیادت کو گیا اور چونکہ سنتا کم تھا ۔ ادھر بیمار کی آواز ضعیف ہوتی ہے اس لیے ذہن میں حساب لگا لیا کہ میں یہ پوچھوں گا وہ یہ جواب دے گا پھر میں یوں کہوں گا چنانچہ جا کر پوچھا کہ کیا حال ہے ۔ مریض نے کہا کہ مر رہا ہوں وہ کہتا ہے الحمد للہ پھر پوچھا کہ غذا کیا ہے کہا کہ زہر ہے کہا کہ خدا کرے ہضم ہو جان کو لگے بڑے خوش ہوئے کہ ہم نے عیادت کی ۔ اسی طرح یہ لوگ دو چار تسبیح و نوافل پڑھ کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے بڑی عبادت کی اور اصلاح ہو گئی ، اس طرح حساب لگا کر آتے ہیں جس طرح اس بہرہ شخص نے حساب لگا لیا تھا اور میں اس حالت میں بھی آنے والوں کی حرکات پر صبر کر سکتا ہوں مگر اس صبر سے ان کا کیا بھلا ہو گا ، دوسرے صبر دشمن سے تو ہو سکتا ہے دوست سے نہیں ہو سکتا ۔ ایک شخص ہے کہ وہ دعوی کرتا ہے :
انا محب انا مخلص انا عاشق انا کذا انا کذا
تو اس کی مخالفت کیسے گوارا ہو گی ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر کفار نے پتھر برسائے ، کچھ پروا ہی نہیں کی اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے ذرا کوئی بات ہوتی تھی فورا تغیر ہو جاتا تھا ۔ حضرت اسامہ ابن زید صحابی ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک عورت فاطمہ نامی کو چوری کے جرم میں ہاتھ کاٹنے کی سزا کا حکم دیا تو حضرت اسامہ نے سفارش کی حضور صلی اللہ علیہ و سلم برہم ہو گئے اور فرمایا کہ حدود کے باب میں سفارش کرتے ہو ، واللہ اگر فاطمہ بنت محمد بھی ایسا کرتی اس پر بھی حد جاری کرتا ۔ سو دیکھئے اسامہ پر آپ برہم ہوئے ۔ صاحبو ! جو بات برہمی کی ہو گی اس میں برہمی تو ہو ہی گی جیسے کوئی کسی کے سوئی چھبو دے تو اس کی سوزش اور جلن تو ہو ہی گی اور اس سوزش میں وہ شکایت بھی کرے ہی گا اور یہ شکایت اور برہمی دوسروں کی نافع بھی ہو گی ۔ اگر اس جگہ رعایت کرے تو سخت مضرت ہے جیسے آپریشن کی جگہ اگر مرہم رکھ دے تو ظاہر ہے اندر ہی اندر مادہ بڑھ کر سڑ جائے گا اور سبب ہلاکت کا ہو گا ۔ پھر اگر رعایت سے دوسرا شخص بھی رعایت کرے تو اس کا بھی مضائقہ نہیں ۔ مگر یہ بات بھی لوگوں میں نہیں رہی کہ جو ہماری رعایت کرے ہم اس کی رعایت کریں ۔ ذلیل کر کے اور تابع بنا کر خدمت لینا چاہتے ہیں سو اس میں طریق کی ذلت ہے گو ہم کوئی چیز نہیں ۔
( ملفوظ 296 ) اصلاح میں رعایت کرنا نقصان دہ ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگوں نے تو ملانوں کو بھیڑ سمجھ رکھا ہے اور بعض نے بھیڑیا پاس بھی نہیں آتے مگر ہماری جوتی سے نہیں آتے ہم اپنی طرف سے خدمت کو تیار ہیں اگر ہم پسند آئیں خدمت لو ورنہ جاؤ بلانے کون جانتا ہے ۔ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ انبیاء کرام پر تو تبلیغ فرض تھی اس لیے وہ کلفت زیادہ برداشت فرماتے تھے اور اب جبکہ حق سب کو پہنچ گیا ، فرض نہیں الا نادرا اسی سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ انبیاء علیہم السلام کا تحمل انبیاء علیہم السلام کا ضبط انبیاء علیہم السلام کا صبر کون کر سکتا ہے اس لیے خود کسی کو لپٹنے کی ضرورت نہیں البتہ اگر کوئی خود اپنی اصلاح کی درخواست کرے اس کی خدمت ضروری ہے مگر بلا رعایت کیونکہ اگر ایسی رعایتیں کی جائیں تو اصلاح کس طرح ہو جیسے طبیب نبض دیکھ کر سمجھ تو لے کہ بخار ہے مگر رعایت کر کے کہے کہ بخار نہیں بلکہ گرم چیز کھانے سے نبض جلدی جلدی چلنے لگی ہے ۔ یہ تاویل ہے تو کیا مریض کو اس طریق سے صحت ہو سکتی ہے یا مریض کہے کہ بخار نہیں ہے بلکہ دوڑ کر آیا ہوں اس لیے نبض جلدی جلدی چل رہی ہے ۔ سو اگر طبیب ایسا کرے تو خیانت ہے اور اگر مریض ایسا کرے تو جہالت ہے ۔ شفیق طبیب تو یہی کہے گا کہ جا تو کیا جانے ہم جانتے ہیں جو مرض ہے اسی کے ساتھ یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ طبیب مریض کو مرض یا علاج کی حقیقت سمجھانا چاہے تو قیامت تک نہیں سمجھا سکتا ۔ اس کی صرف ایک ہی واحد صورت ہے کہ طبیب تدابیر بتلائے اور مریض عمل کرے ۔
( ملفوظ 295 )سادگی عظمت کی دلیل ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ سلاطین کی خوبیوں میں اس سے اس کو تو شمار کیا گیا کہ وہ سادہ لباس پہنتے تھے مگر مؤرخین نے یہ کہیں نہیں لکھا کہ سو روپیہ گز کا کپڑا پہنتے تھے ۔
یہ سادگی علو اور عظمت کی دلیل ہے ۔ میں جب کسی کو بنا ٹھنا دیکھتا ہوں تو سمجھ جاتا ہوں کہ نہایت پست خیال شخص ہے اگر بلند ہمت ہوتا تو اس کی اس کو فرصت ہی نہ ملتی جو شخص علوم عالیہ میں مشغول ہوتا ہے اس کا ذہن ہی ان چیزوں تک نہیں پہنچتا اور اہل دین جو مقتداء کہلاتے ہیں ان کو بننے کی ضرورت ہی کیا ہے ۔ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب فرمایا کرتے تھے : ( ایں ہمہ زینت زناں باشد ) اور دوسرے مصرعہ کی جگہ الی آخرہ فرما دیتے ہیں یہ بھی ایک مزاج ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں ہرقل اپنی جگہ تھرا رہا ہے اور کسری اپنی جگہ ۔ ہرقل کا بھیجا ہوا سفیر مدینہ آتا ہے اور اہل مدینہ سے دریافت کرتا ہے :
گفت کو قصر خلیفہ اے حشم تامن اسپ و رخت را آنجا کشم
قوم جواب دیتی ہے :
قوم گفتندش کہ اور اقصر نیست مرعمر را قصر جان روشنے است
حضرت ان کی شان اور شوکت بدون بنے ٹھنے ہی ہوتی ہے ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
ہیبت حق است ایں از خلق نیست ہیبت ایں مرد صاحب دلق نیست
( ملفوظ 294 )نسب اطہر کے بارے میں سیوطی کی تحقیق
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جلال الدین سیوطی نے تو ثابت کیا ہے کہ حضور کے آباء اور اجداد سب کے سب حضرت آدم علیہ السلام تک کوئی بھی کافر نہ تھا ۔ گو وہ روایات ضعیف ہیں اور جمہور علماء کا مذہب اس کے خلاف ہے مگر اس پر سب کا اجماع ہے کہ کسی کی گستاخی یا بد زبانی نہ کرنی چاہیے ۔
( ملفوظ 293 )شیروانی میں شیر گرگابی میں گرگ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ لباس کا بھی اثر ہوتا ہے اخلاق پر ۔ میں تو کہا کرتا ہوں کہ شیروانی میں شیر ہے گرگابی میں گرگ ہے سر سے پاؤں تک درندوں میں لپٹے ہوئے ہوتے ہیں ۔ ثقہ لوگوں کو ایسے لباس سے اجتناب ضروری ہے ۔
( ملفوظ 292 )سلیقہ خدا داد چیز ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ سلیقہ خدا داد چیز ہے انگریزی عربی پر موقوف نہیں جس کو خدا تعالی عطا فرما دیں ۔
( ملفوظ 291 )اصل چیز بیعت نہیں اتباع ہے
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بیعت میں کیا رکھا ہے اصل چیز تو اتباع ہے اتباع میں بیعت سے بھی زیادہ قوی علاقہ ہو جاتا ہے اور میں تو تجربہ کی بناء پر کہتا ہوں کہ بعض لوگوں کو بیعت مضر ہوتی ہے اس لیے کہ بعض طبیعتیں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ مرید ہو کر بے فکر ہو جاتے ہیں ۔
14 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم چہار شنبہ

You must be logged in to post a comment.