ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مولوی صاحب کہنے لگے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے جو چند نکاح کیے اس سے مقصود مجاہدہ ہو گا ، میں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو مجاہدہ کی ضرورت نہ تھی کسی امتی کو بھی ضرورت مجاہدہ کی نہیں رہتی نہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو ۔
اقوال
( ملفوظ 289 )اپنے سے بڑے پر اعتماد چاہیے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اپنے بڑے پر اور جاننے والے پر اعتماد کرنا چاہیے ورنہ کام چل نہیں سکتا ۔ چنانچہ میدان میں تمام تر جنرل پر مدار ہوتا ہے اسی طرح ادنی سے ادنی چیز میں ضرورت ہے اتباع کی اور جاننے والے کی البتہ یہ علم ہو جانا ضرور ہے کہ جاننے والا ہے اور ہمارا خیر خواہ ہے بس پھر تو اس کے سامنے یہ حالت ہو جانی چاہیے ۔
دلارامے کہ داری دل درو بند دگر چشم ازہمہ عالم فروبند
( تیرا جو محبوب ہے اسی میں دل لگا باقی تمام عالم کی طرف سے آنکھ بند کر لے ۔ 12 )
( ملفوظ 288 )مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک پہلو
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی عجیب حالت ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی جو وقعت اور عظمت ان کے قلوب میں پیدا ہوئی ۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا معجزہ تھا یا صحابہ کرام کی کرامت اور یہ جو صحابہ رضی اللہ عنہم میں لڑائی ہوئی یہ بھی ان کی قوت ایمانیہ کی دلیل تھی یعنی ان کو یہ اطمینان تھا کہ یہ دین حق ہے ایسے اختلافات سے مٹ نہیں سکتا ورنہ اتنی جلدی اختلاف نہ کرتے کیونکہ نئے مشن میں اختلاف کرنے سے خیال ہوتا ہے کہ اس مشن کو مضرت ہو گی ، نقصان پہنچ جائے گا اس سے صحابہ رضی اللہ عنہم کے جذبات کا پتہ چلتا ہے ، سو لوگوں کے نزدیک تو یہ بات عیب کی ہے اور میرے نزدیک کمال کی ۔
( ملفوظ 287 ) فترۃ الوحی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں اول وحی کے بعد دوسری وحی کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر مؤخر کر دیا گیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو اس قدر رنج ہوا کہ اشتیاق کی وجہ سے پہاڑی پر چڑھ کر کئی بار جان دینا چاہا جس پر گزرتی ہے وہی خوب جانتا ہے ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
اے ترا خارے بپا نشکستہ کے دانی کہ چیست حال شیرا نے کہ شمشیر بلا برسر خورند
( تیرے پیر میں کانٹا بھی نہیں لگا تو ان حضرات کی حالت کیا جان سکتا ہے جو سر پر تلواریں کھاتے ہیں ۔ 12 )
( ملفوظ 286 )جوتا روشن دماغ ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب فرمایا کرتے تھے کہ جوتا روشن دماغ ہے اس سے بڑی جلدی فیصلہ ہو جاتا ہے ۔ جوتے پر ایک حکایت یاد آ گئی مولانا شیخ محمد صاحب کے ایک خلیفہ تھے ۔ مولوی رحم الہی صاحب منگلوی پڑوسی ان کو ستایا کرتے تھے ۔ چنانچہ ان کے مکان کے سامنے ایک چوک ہے مشترک اس میں چند مفسدین نے جمع ہو کر ناچ کی تجویز کی اور شامیانہ وغیرہ سب سامان مہیا کیا ۔ ایک طوائف نے آ کر ناچنا شروع کیا ، مولوی صاحب کا راستہ مسجد جانے کا وہی تھا ، نماز کو جاتے ہوئے تو مولوی صاحب نے بمشکل ضبط کر لیا مگر واپسی میں جب تحمل نہ ہو سکا جوتا ہاتھ میں لے کر اور تمام مجمع کے اندر گھس کر اس عورت کے سر پر بجانا شروع کیا مگر کوئی کچھ بولا نہیں اس لیے کہ بزرگوں کی ہیبت خدا داد ہوتی ہے مگر ظاہر ہے کہ اس مارنے کی کوئی وجہ قانونی تو تھی ہی نہیں ۔ نیز فقہاء نے بھی لکھا ہے کہ علماء کا کام زبان سے روکنے کا ہے اور حکام کا کام ہاتھ سے روکنے کا تو اس بناء پر مفسدین بے حد برہم ہوئے اور اس عورت کو بہت زیادہ اشتعال دیا کہ تو دعوی کر ہم سب شہادت دیں گے ہم روپیہ صرف کریں گے ۔
اس عورت نے کہا کہ روپیہ تو خود میرے پاس بہت ہے اور تم شہادت کو تیار ہو مگر مجھ کو ایک خیال دعوی سے مانع ہے وہ یہ کہ میں سوچتی ہوں کہ اس شخص کے اندر اگر دنیا کا ذرا بھی نام و نشان ہوتا تو مجھ پر اس کا ہاتھ ہر گرز نہ اٹھتا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ اللہ والا ہے سو اس کا مقابلہ حق تعالی کا مقابلہ ہے میری اتنی ہمت نہیں ۔ دیکھئے یہ ایک بازاری عورت کا بیان ہے پھر یہاں تک یہ اثر بڑھا کہ وہ عورت مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میں تائب ہوتی ہوں کسی بھلے آدمی سے میرا نکاح کر دیا جائے ۔ واقعی ان حضرات کی تو جوتیوں میں بھی برکت ہے ۔ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب کا فرمانا کہ جوتا روشن دماغ ہوتا ہے بالکل صحیح ہے غیر محصن زانی کے متعلق حکم ہے کہ سو درے لگاؤ اس سے دماغ درست ہو جاتا ہے اور اسی حکم کے ساتھ یہ بھی ارشاد ہے کہ خدا کے معاملہ میں رحم نہ ہونا چاہیے ، مؤمنین کو اور اس عدم ترحم کو شرط ایمان فرمایا :
ان کنتم تؤمنون باللہ و الیوم الاخر
حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب تو طلباء کو پیٹتے وقت بڑی ہی ظرافت سے کام لیا کرتے تھے ، پٹنے والا کہتا کہ حضرت اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے واسطے معاف کر دو ، فرماتے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہی نے حکم دیا ہے کہ ایسے شریروں کی خوب ڈنڈوں سے خبر لو ، میں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہی کے واسطے مارتا ہوں اور حضرت مولانا نے ایک بار فرمایا کہ یہ بھی سنت اللہ ہی ہے کہ ایک کرے سب کو پیٹو ۔ چنانچہ قحط وباء عام ہوتا ہے اور واقع میں کرنے والے بھی سب ہی ہوتے ہیں ۔ مثلا قدرت ہوتے ہوئے نہ روکنا و مثل ذلک مگر ظاہر کے اعتبار سے یہ فرما دیا کہ ایک کرے اور سب کو سزا ہو پھر اس کی ظاہری تائید میں مولانا نے ایک حکایت فرمائی کہ عالمگیر کے زمانہ میں روزانہ بازار والوں میں اور فوج والوں میں لڑائی ہوا کرتی ، مقدمہ ہوتا ، زیادہ تر فوج والوں ہی کو سزا ہوتی ، جیل خانہ پر ہو گیا ، بادشاہ کو اطلاع ملی کہ یہ صورت ہے اور روزانہ ایسا ہونے لگا ہے ، حکم دیا کہ اب کے جو ایسا معاملہ پیش آئے ہمارے پاس بھیج دو ، چنانچہ اگلے ہی روز ایک معاملہ پیش آیا ، عالمگیر کے یہاں بھیج دیا گیا ، عالمگیر نے فوجیوں کے ساتھ آس پاس جو بازار والے تھے ان کو بھی سزا دی ، بس پھر کوئی مقدمہ نہ آیا اس کی وجہ عالمگیر نے یہ فرمائی کہ پہلے بازار والے تماشا دیکھتے تھے نہ چھوڑاتے تھے نہ منع کرتے تھے ایک مشغلہ بنا لیا تھا ۔ اب جہاں باہم تیزی سے گفتگو ہوئی تمام بازار والے منع کرنے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ایسا مت کرو ہم سب پھنسیں گے ۔ بس سمجھا دیتے ہیں لڑائی نہیں ہونے پاتی اور یہ تو معمولی جزئی انتظامات ہیں باقی مکمل اور کلی انتظام خلفاء اور فقہاء نے کر کے دکھلا دیا جس کو مخالفین بھی مانتے ہیں ۔ چنانچہ ایک انگریز نے لکھا ہے کہ حنفی فقہ میں ایک خاص امتیازی شان ہے کہ اگر بڑی سے بڑی سلطنت کا انتظام اس کے موافق کیا جائے تو کہیں اس کا کوئی کام نہیں رک سکتا بلکہ بہت اچھی طرح سلطنت چل سکتی ہے ۔ ایک حاکم انگریز نے اپنے مسلمان سرشتہ دار سے کہا کہ ہماری ایک بڑی جماعت منتظمین کی ڈیڑھ سو برس میں وہ انتظام نہیں کر سکی جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے تیرہ چودہ برس میں کر دیا ۔ اس پر اس سرشتہ دار نے کہا کہ اب تو مانو گے کہ ان کے ساتھ تائید غیبی تھی اس نے کہا تائید غیبی کیا ہوتی ہے ان کو عقل بہت بڑی دی گئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ عقل کے اسی درجہ کا نام تائید غیبی ہے ۔ دیکھئے یہ شہادت ہے مخالفین کی اور یہ با وقعت اس لیے ہے کہ جاننے والے کی شہادت ہے اور جاننا وہ چیز ہے کہ ساحر ان موا سے معجزہ دیکھ کر ایمان لے آئے اور فرعون ایمان نہیں لایا اس لیے کہ وہ سمجھتے تھے کہ سحر کی حقیقت کیا ہے اور اس سے آگے قوت بشریہ کام نہیں دے سکتی ۔ اسی طرح اہل تمدن کا قول حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نسبت معتبر ہے اور لطف یہ ہے کہ ان حضرات کو کبھی ایسے امور کا تجربہ بھی نہ ہوا تھا ۔ چنانچہ خلافت سے پہلے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ بزازہ کا کام کرتے تھے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بکریاں چرایا کرتے تھے ان میں سلطنت کی اہلیت پیدا کب ہو گئی جن کے مقابلہ میں ہرقل اور کسری سب ماند تھے ۔ یہ سب سردار کونین جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ و سلم کی برکت تھی جس نے ایک دم کایا پلٹ کر دی
( ملفوظ 285 )حضرت شیخ الہند کی بے نفسی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے بزرگوں کی عجیب شان تھی کوئی ان کی نظیر پیش نہیں کر سکتا ۔ مولوی محمود صاحب رام پوری نے مجھ سے حضرت مولانا محمود صاحب کی ایک حکایت بیان کی مجھ کو تو حیرت ہو گئی اور لوگ تو اپنا احترام اپنی خدمت اپنی پرستش چاہتے ہیں اور ان حضرات کی یہ حالت تھی کیا ٹھکانا ہے اس بے نفسی کا انہوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ میں اور میرے ساتھ ایک ہندو ایک مقدمہ کے سلسلہ میں دیوبند آئے ، دیوبند پہنچ کر اس ہندو نے مجھ سے پوچھا کہ تم کہاں ٹھرو گے ، میں نے کہا کہ میں مولانا کے یہاں قیام کروں گا ، وہ ہندو بولا کہ جی میں روٹی تو اپنے اقارب میں کھا لوں گا ، باقی سونے کے واسطے اگر کوئی چھوٹی سی چارپائی مجھ کو بھی مل جائے تو وہاں ہی ٹھر جاؤں گا ، میں نے کہا کہ مل جائے گی تو روٹی کھا کر آ جانا ایسا ہی ہوا میں نے حضرت مولانا کی بیٹھک میں ایک چارپائی اس کے لیے الگ بچھا دی ، ایک چارپائی پر لیٹ گیا وہ ہندو تو پڑتے ہی سو گیا اور میں جاگ رہا تھا کہ حضرت مولانا دبے پاؤں زنانہ مکان سے تشریف لائے اور اس ہندو کی چارپائی کی پٹی پر بیٹھ کر اس کے پیر دبانے لگے ، میں ایک دم چارپائی سے کھڑا ہو گیا اور جا کر عرض کیا کہ حضرت چھوڑ دیں میں دبا دوں گا ، فرمایا کہ یہ تمہارا حق نہیں میرا مہمان ہے ، یہ خدمت میرے ذمہ ہے
میں نے اصرار کیا اس پر فرمایا کہ جاؤ تم کون ہوتے ہو گڑبڑ مت کرو ، بیچارے کی آنکھ کھل جائے گی ، تکلیف ہو گی ، بس وہ ہندو تو پڑا ہوا خرخر کر رہا تھا اور مزاحا فرمایا کہ ان کا مقدر تھا اور مولانا پاؤں دبا رہے تھے اب مدعی تو بے نفسی کے بہت ہیں مگر ذرا عمل کر کے تو دکھائیں تب حقیقت معلوم ہو ۔ ایک مرتبہ سٹیشن مراد آباد پر حضرت مولانا محمود الحسن صاحب کا اور میرا اجتماع ہو گیا ۔ سیوہارہ کے بھی کچھ حضرات تھے ، انہوں نے مجھے اور حضرت مولانا کو سیوہارہ اتارنا چاہا ، میں نے اضمحلال طبع کا عذر کیا اور حضرت مولانا نے قبول فرما لیا ، لوگوں نے میرے عذر پر کہا ہم وعظ کی درخواست نہ کریں گے جس سے اضمحلال میں تکلیف ہو ، میں نے کہا کہ بدون وعظ کہے تو مجھ کو کسی کی روٹی کھاتے ہوئے بھی شرم معلوم ہوتی ہے ۔ مولانا بے ساختہ کیا فرماتے ہیں کہ ہاں بھائی ایسے بے شرم تو ہم ہی ہیں کہ بلا کام کیے کھا لیتے ہیں میں اس وقت بہت شرمندہ ہوا اور کسی معذرت پیش کرنے کی بھی ہمت نہ ہوئی مگر مولانا بشاش تھے ۔
( ملفوظ 284 ) آج کل کا رسمی ادب اور رسمی تعظیم
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس کا تو اکثر لوگوں کو خیال ہی نہیں کہ ہماری وجہ سے دوسرے کو اذیت نہ ہو ، تکلیف نہ پہنچے ، البتہ رسمی ادب رسمی تعظیم یہ سب کچھ ہے بعض لوگ ادب کی وجہ سے پشت کی جانب آ کر بیٹھ جاتے ہیں جس سے سخت تکلیف ہوتی ہے ۔ قلب پر ایک بار ہوتا ہے ۔ ایک صاحب آئے اور میری پشت کی جانب بیٹھ گئے ، میں اس وقت کچھ پڑھا رہا تھا اس قدر قلب پر گرانی ہوئی کہ پورا کرنا مشکل ہو گیا ۔ آخر میں نے یہ کیا میں اپنی جگہ سے اٹھ کر ان کی پشت کی طرف جا بیٹھا ، اب وہ کمسائے اور اٹھنا چاہا ، میں نے ڈانٹ کر کہا کہ خبردار جو یہاں سے جنبش کی ، بیچارہ بیٹھا رہا ، میں نے کہا پتہ چلا کہ پشت پر بیٹھنے سے کیسی تکلیف ہوتی ہے ، کہا ہاں میں تو آپ کو بزرگ سمجھ کر ادب کی وجہ سے پیچھے بیٹھ گیا تھا ، میں نے کہا کہ یہ کیسے معلوم ہوا کہ میں آپ کو عاصی گنہگار ، فاسق فاجر سمجھتا ہوں ، توبہ کی کہ اب کبھی پشت کی جانب نہ بیٹھوں گا ، ان بد تمیزوں کے دماغ اسی طرح سیدھے ہوتے ہیں ۔
ڈھاکہ بلکہ کل بنگال میں ملاقات کے وقت پیر پکڑنے کی رسم ہے ۔ جب میں ڈھاکہ گیا یہ ہی برتاؤ میرے ساتھ کیا ، میں نے منع کیا مگر مانا نہیں ، پھر میں نے اس کا یہ علاج کیا کہ جو میرے پیر پکڑتا میں اس کے پیر پکڑ لیتا ۔ حیدر آباد دکن میں بھی ایسی رسمی تہذیب بہت زیادہ ہے جب وہاں گیا ، خیال ہوا کہ جب میں ایسے تصنعات نہ برتوں گا تو بد تہذیب سمجھا جاؤں گا ، اس لیے میں نے اعلان کر دیا کہ ہر جگہ کی تہذیب جدا ہے ، میں یہاں کی تہذیب پر عمل نہ کروں گا بلکہ تھانہ بھون کی تہذیب پر عمل کروں گا ، تو میں نے سادگی کو تہذیب کی فرد بنا دی ۔ حیدر آباد ہی کا واقعہ ہے ایک جج آئے میرے قدم چومنا چاہتے تھے ، صورت یہ تھی کہ میں چلنے کی تیاری کر رہا تھا اور ایک چارپائی پر پیر لٹکائے ہوئے اسباب بندھوا رہا تھا وہ پیروں کی طرف بڑھے ، میں نے کہا کہ ذرا ٹھرئیے میں آرام سے بیٹھ جاؤں ، وہ رک گئے ، میں نے پیر سمیٹ کر پلنگ پر رکھ لیے اور قدموں کو ران کے نیچے چھپا لیے اور کہا کہ اب اجازت ہے آپ جو چاہیں کریں رہ گئے ، اپنا سا منہ لے کر وہاں پر تو پیر اچھی خاصی پرستش کراتے ہیں حقائق تو ان جاہل پیروں کی وجہ سے بالکل ہی مستور ہو گئے ، بس رسوم رسوم رہ گئے ہیں انہیں رسوم کو مٹانا چاہتا ہوں ، اسی پر لوگوں سے آئے دن لڑائی رہتی ہے ۔
( ملفوظ 283 )مرزا مظہر جان جاناں کی لطافت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت مرزا صاحب نہایت ہی لطیف المزاج اور بہت ہی نازک طبع تھے ۔ آپ کے ایک مرید تھے جو سال بھر میں دو مرتبہ آتے تھے ، دو چار روز رہ کر چلے جاتے تھے ۔ ایک روز ان مرید صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اتنے دنوں سے آتا ہوں اس تمنا میں کہ حضرت کوئی فرمائش کریں ، میرا جی چاہتا ہے فرمایا کہ بھائی محبت سے آتے ہو جی خوش ہو جاتا ہے ۔ یہ فرمائش سے بڑھ کر ہے ۔ عرض کیا کہ حضرت میری خوشی یہی ہے ، فرمایا کہ فرمائش کروں ، عرض کیا کہ ضرور ، فرمایا کہ تم سال بھر میں دو مرتبہ آتے ہو ایک مرتبہ آیا کرو تو بہتر ہے کیونکہ تم کھاتے بہت ہو اس کے تصور سے میرے معدہ میں ثقل ہو جاتا ہے اور مسہل لینا پڑتا ہے ، سال بھر میں دو مسہل مشکل ہیں اگر ایک مرتبہ آؤ گے تو ایک ہی مسہل لینا پڑے گا ۔
( ملفوظ 282 )اتباع سنت کا دعوی بہت مشکل ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ سب دعوی آسان ہیں اور خلاف واقع چل بھی جاتے ہیں مگر اتباع سنت کا غیر واقعی دعوی بہت مشکل ہے یہ نہیں چلتا ۔
( ملفوظ 281 )بدعات اور القاب و آداب کی کثرت
فرمایا کہ رنگون سے ایک خط آیا ہے کہ ایک مولوی ہے بدعتی ، اس نے ایک شجرہ چھپوایا ہے وہاں پر پیری مریدی کا جال پھیلا رہا ہے ۔ اس شجرہ میں یہ گڑبڑ کی ہے کہ بزرگوں کے نام کے ساتھ صلی اللہ علیہ و سلم لکھا ہے وہ شجرہ چھپ چکا ہے جس میں مقصود تو صلوۃ علی المشائخ ہے مگر الزام سے بچنے کے لیے علی محمد کا اضافہ کر دیا ، ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تنقیص کرتے ہیں اور یہ تنقیص نہیں خط میں لکھا ہے کہ اس کے ہی گروہ کے لوگ اس سے بد عقیدہ ہو گئے ۔ اب وہ لوگ تھانہ بھون سے استفتاء کرنے والے ہیں ان اہل باطل کو رات دن یہ فکر ہے کہ اہل حق کے خلاف ایجاد کیا کریں ۔ جون پور ایک مولوی صاحب تھے انہوں نے دسویں قائم کی تھی جو ہر مہینہ کی دسویں تاریخ کو ہوا کرتی تھی کسی نے پوچھا کہ گیارہویں تو ہے ہی اب یہ کیا ہے کہا کہ رافضیوں کے یہاں دسویں ہوتی ہے اس میں سنی شریک ہوتے ہیں ان کو روکنے کے واسطے اپنے یہاں یہ دسویں ایجاد کی ہے ۔ ایک شخص نے خوب جواب دیا ، لوگ ہندوؤں کی ہولی دیوالی میں شریک ہوتے ہیں تو آپ ہولی دیوالی بھی کیا کریں تا کہ مسلمان وہاں جانے سے رک جائیں ، فرمایا کہ حضرت حب مال و حب جاہ سب خرابیوں کی جڑ ہے اور اہل باطل حب جاہ اور مال کے دلدادہ ہیں اس کے لیے طرح طرح کی تدبیریں کی جاتی ہیں ۔ چنانچہ اسی شہرت کی غرض سے القاب عجیب و غریب تجویز کیے جاتے ہیں ، کوئی طوطی ہند بنتا ہے کوئی بلبل ہند ، کوئی شیر پنجاب ، اللہ نے آدمی بنایا اور یہ جانور بنتے ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے چند روز میں خر ہند اور اسپ ہند فیل ہند بھی بنیں گے ۔ یہ نہیں معلوم کہ اس جاہ پرستی میں سوا ان خرافات کے کیا رکھا ہے ، اللہ کے نزدیک اگر مؤمن لقب ہو جائے تو اس کے سامنے سب گرد ہے اور ہیچ ہے اور صاحب جس کو یہ خبر نہ ہو کہ میں اللہ کے نزدیک مؤمن ہوں یا غیر مؤمن تو وہ کچھ بھی بن جائے کچھ بھی نہیں ۔ دوسرے یہ الفاظ اکثر عوام کی طرف سے عطا ہوتے ہیں جو کمالات کی حقیقت بھی نہیں جانتے تو محض واہیات ہوئے ۔ ہاں اگر چند طالب علم مل کر کسی کو طالب علم کہہ دیں یہ ہے مسرت کی چیز اس لیے کہ وہ اس لقب کی حقیقت سمجھتے ہیں باقی دوسروں کے کہنے پر کیا مسرت وہ کیا جانیں ۔ طالب علم کسے کہتے ہیں ؟ ایک حکایت ہے کہ ایک نائی بادشاہ کا خط بنایا کرتا تھا ، ایک بار غیر حاضر ہو گیا ، معتوب ہوا اس نے خادم خاص سے مل کر یہ کیا کہ جس وقت بادشاہ کو نیند آ گئی وہ آیا اور سوتے ہوئے بادشاہ کا خط بنا گیا ، کس قدر سبک دست تھا ، بادشاہ کی آنکھ کھلی اور جب بادشاہ نے شیشہ دیکھا خط بنا ہوا تھا ، بے حد خوش ہوا اور استاد ہونے کا خطاب دیا ۔ چند عورتیں برادری کی جمع ہو کر اس نائی کی بیوی کو مبارک باد دینے گئیں کہ تیرے خاوند کو استاد کا خطاب ملا ، اس عورت نے پوچھا کہ کس نے خطاب دیا ، کہا کہ بادشاہ نے ، اس نے کہا کہ کوئی خوشی کی بات نہیں اور نہ مبارک باد کی ، اس لیے کہ بادشاہ اس فن سے ناواقف ہے وہ کیا جانے اس فن کو اگر چار بھائی نائی مل کر خطاب دیں تو وہ ہے مسرت کی بات اس لیے کہ وہ اس فن سے واقف ہیں ۔ واقعی نہایت ہی کام کی حکایت ہے ۔ اسی طرح اگر چند طلبہ مل کر کسی کو طالب علم کہہ دیں تو وہ ہے مسرت کی بات ورنہ کچھ بھی نہیں ۔ گو اس مسرت کے بعد کی اب بھی خبر نہیں کہ آخرت میں کیا خطاب تجویز ہوا ہے اس لیے وہ بھی کوئی زیادہ خوشی کی بات نہیں مگر خیر اگر ایسی ہی جہالت کی خوشی ہے تو اہل کے لقب سے خوشی ہونا چاہیے نہ کہ عوام کے القاب دینے پر خوش ہونا ، انہیں کیا خبر ۔

You must be logged in to post a comment.