( ملفوظ 50 ) حق تعالی کی وسعت رحمت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کسی کو بھی اپنے اعمال پر ناز نہ کرنا چاہیے ۔ قانون سے کسی کو وہاں نجات حاصل ہونا ذرا مشکل ہی ہے ہاں رحمت اور فضل پر مدار نجات ہے جب رحمت ہو گی تو یہ معاملہ ہو گا کہ فرماتے ہیں :

فاولئک یبدل اللہ سیئاتھم حسنات

حضرت حاجی صاحب فرماتے تھے کہ یہ سیئات ہمارے وہ اعمال صالحہ ہیں جن کے حقوق ادا نہیں کر سکے تو وہ ہمارے زعم میں حسنات ہیں اور حقیقت میں سیئات میرا ہی خود واقعہ ہے کہ ایک شخص تھے مجھ کو پنکھا جھل رہے تھے کبھی ٹوپی اڑا دی ، کبھی مار دیا وہ تو خوش تھے کہ
میں خدمت کر رہا ہوں سو ان کے نزدیک تو وہ خدمت کامل خدمت تھی مگر میرے دل سے کوئی اس وقت پوچھتا کہ وہ کیسی خدمت تھی ایسے ہی ہماری نماز ہے روزہ ہے ۔ اسی کو فرماتے ہیں :

فاولئک یبدل اللہ سیئاتھم حسنات

( ملفوظ 49)ہاتھ میں ہاتھ دینے سے پہلے اچھی طرح دیکھ لیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل اس کی زیادہ ضرورت ہے کہ جس سے دین کا تعلق پیدا کیا جائے یا ہاتھ میں ہاتھ دیا جائے پہلے اس کی حالت کو اچھی طرح دیکھلیا جائے اس لیے کہ اس راہ میں رہزن بہت پیدا ہو گئے ہیں اور بہت اچھا معیار پہچان کا یہ ہے کہ اس زمانہ کے صلحاء اس سے جو معاملہ کرتے ہوں اس کو دیکھے علماء و اہل طریق و اہل وجدان کے قلوب کی شہادت اس معیار ہے ، علماء بھی اپنے اجتہاد سے پہچان لیتے ہیں اور یہاں پر علماء خشک مراد نہیں اور صاحب یہ سب کچھ ہے مگر پھر بھی اس میں کاوش گو ضروری ہے مگر کافی نہیں بس جس کو حق تعالی ہدایت فرمائیں وہی راہ پر آ سکتا ہے ۔ فرماتے ہیں :
انک لا تھدی من احببت و لکن اللہ یھدی من یشاء

مگر عادۃ اللہ ہے کہ طالب کے ارادہ پر حق تعالی ہدایت نصیب فرما ہی دیتے ہیں ۔
ارشاد فرماتے ہیں :

من اراد الاخرۃ و سعی لھا سعیھا
بہت سی آیتیں قرآن پاک میں ہیں جن میں ارادہ پر ہدایت کا وعدہ ہے اور ارادہ نہ کرنے پر یا اعراض کی صورت اختیار کرنے پر فرماتے ہیں :

انلزمکموھا و انتم لھا کرھون ۔

اور ایک بڑا مانع وصول الی اللہ اور قرب مع اللہ میں ستانا ہے مخلوق کا اس پر ظلم کرنا اور تکلیف پہنچانا ۔

( ملفوظ 48 ) پیر مرید کا خیال رکھے یا مرید پیر کا ؟

ایک مولوی صاحب نے بوقت رخصت حضرت والا سے مصافحہ کرتے وقت عرض کیا کہ حضرت والا احقر کا خیال رکھیں ، فرمایا کہ آپ اگر میرا خیال رکھیں یہ زیادہ نافع ہو گا ۔ ایک مرتبہ میں نے ماموں امداد علی صاحب سے عرض کیا تھا کہ میرا بھی خیال رکھئے ، فرمایا کہ میرا خیال رکھنا تم کو اتنا نافع نہیں جتنا تمہارا خیال رکھنا ۔

( ملفوظ 47 ) پروا اور پردا

خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت آج بعض حضرات اپنے اپنے وطن کو واپس ہو رہے ہیں ۔ حضرت والا کی مفارقت کا سب کو رنج ہے ۔ فرمایا کہ مجھ کو تو دیکھئے ایک تو قلب اور اتنے قلوب کی مفارقت کا متحمل ہونا پھر دینی محبت کے ذکر کے سلسلہ میں فرمایا
کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھ کو جب سے یہ معلوم ہوا کہ جنت میں دوستوں سے ملاقات ہو گی قلب میں جنت کی تمنا ہو
گئی ۔ حضرت امام جنت کا مقدمہ بتاتے ہیں اور اس کو مقصد بتاتے ہیں پھر مفارقت احباء کے تحمل کے متعلق فرمایا کہ مجھ کو ان دوستوں کی پروا تو ہے مگر پردا نہیں ( دا بمعنی کشادہ ) کہ اڑ کر سب کی طرف پہنچ جاؤں ۔

( ملفوظ 46 ) محبت کے نہ ہونے پر افسوس ہونا خود محبت ہے

ایک مولوی صاحب کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ محبت نہ ہونا مگر اس پر افسوس ہونا کہ محبت نہیں یہ بھی تو محبت ہے اور اسی سلسلہ میں فرمایا کہ محبت طبعی معین ہو جاتی ہے محبت عقلی کی اس پر سوال کیا گیا کہ اگر دونوں جمع ہو جائیں تو کیا زیادہ فضیلت ہو گی ، فرمایا کہ ظاہر ہے بلکہ اعمال صالحہ نہایت خوبی اور رغبت سے صادر ہوں گے ۔ بس یہ ہے دونوں کے مل جانے کا بڑا فائدہ ۔

( ملفوظ 45 ) مسائل کا بتلانا

ایک مولوی صاحب کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ کلام عامدا ہو ناسیا ہو مخطیا ہو کسی صورت پر ہو مفسد صلوۃ ہے ۔ دوسرے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بڑا ڈرتا ہوں مسئلہ بتانے سے کانپتا ہوں اس قدر کوئی کام مشکل نہیں معلوم ہوتا جس قدر مسائل کا بتلانا مشکل معلوم ہوتا ہے اور آج لوگوں کو اس ہی میں زیادہ جرات ہے ۔

( ملفوظ 44 ) جھوٹ بولنے والے طالب علم کی معافی کا واقعہ

جس طالب علم کو جھوٹ بولنے کی وجہ سے حضرت والا نے نکل جانے کا حکم دیا تھا جس کا قریب واقعہ گذرا ہے اس کی معافی کی درخواست پر من جملہ اور شرائط کے یہ شرط بھی فرمائی کہ پہننے کے لیے کپڑے ویسے ہوں گے جیسے میں تجویز کروں گا یعنی بدنما آج اس طالب علم کی معافی کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا کہ یہ سزا بہت سخت ہے جو اس کے لیے تجویز کی گئی اس کو اچھا کپڑا پہننے کا بہت شوق ہے اب ایک خاص قسم کی وردی اس کے لیے تجویز کروں گا جو نہایت بھدی اور بدنما ہو گی اور اس میں ایک مرض یہ ہے کہ بے پرواہ ہے جو جی چاہے کر لیا یہ سب چیزیں قابل اصلاح ہیں ۔ ایک مولوی صاحب کے کسی سوال کے جواب میں فرمایا کہ حضرت میں تو ایسا ضعیف القلب ہوں کہ ستانے پر بھی بہت جلد متاثر ہو جاتا ہوں اور یہ تکلیف تو محض خیالی ہے لیکن میرے مواخذہ پر دوسروں کو یقینی تکلیف ہوتی ہے اس سے بھی متاثر ہوتا ہوں مگر پھر بھی سزا تجویز کرنے میں طبیعت پر عقل کو غالب رکھتا ہوں ، اگر ایسا نہ کروں تو اصلاح کس طرح ہو پھر خود اس طالب علم سے فرمایا کہ مجھے تو اس کا بھی قلق اور رنج ہے کہ کم بخت تیری اتنے دنوں تک اصلاح اورتربیت کی گئی مگر کچھ بھی اثر نہ ہوا ، سالہا سال سے یہاں کے رہنے والے دیکھ رہے ہیں کہ جھوٹ بولنے پر میں کتنی سختی کرتا ہوں مگر پھر بھی نالائق باز نہیں آتے ۔

( ملفوظ 43 ) ایمانی اور بے ایمانی کا لطیفہ

ایک تار رنگون سے جوابی آیا اس کا پتہ حضرت والا نے ایک انگریزی جاننے والے صاحب سے پڑھوانا چاہا ۔ انہوں نے دیکھ کر کہا کہ پتہ غلط لکھا ہوا ہے لفظوں میں تقدم تاخر ہو گیا ہے یہ پتہ حاجی داؤد صاحب کا تھا ان کا پتہ تار کا ایمانی ہے ۔ حضرت والا نے مزاحا فرمایا کہ تار والوں نے بے ایمانی سے غلط لکھ دیا ہے ۔

( ملفوظ 42 ) مصلحت کی وجہ سے اپنے ہاتھ پر مسلمان نہ کرنا ۔

آج پھر وہی صاحب اہل قصبہ میں سے جن کا قصہ قریب ہی مذکور ہوا حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضرت اس کو مسلمان کر
لیا جائے ، فرمایا کہ اس میں شبہ کیا ہے ، عرض کیا کہ وہ یہاں پر آ کر مسلمان ہونا چاہتی ہے ، فرمایا کہ اس کے متعلق تو میں کل مصلحت بیان کر چکا ہوں کہ مشاہیر سے ایسے کام نہ لینے چاہیئں اس میں فتنے کا احتمال ہے ، دشمنی بڑھے گی ، سوئے ہوئے فتنہ کو جگانا ہے اور غیر مشاہیر میں فتنہ نہیں ، کسی کو التفات بھی نہیں ہوتا کہ کیا ہو رہا ہے ، لوگوں کو کام کرنے کا طریقہ بھی تو معلوم نہیں ۔

( ملفوظ 41 )عین نماز کے وقت تعویذ مانگنا

عصر کی اذان ہو چکی تھی نماز کا وقت قریب تھا ، ایک خاص تعلق والے صاحب نے عرض کیا کہ حضرت فلاں چیز کے لیے
تعویذ کی ضرورت ہے ۔ فرمایا آپ جیسے سمجھدار سے ایسی غلطی ہو قابل افسوس ہے ۔ یہ کوئی وقت ہے تعویذ کا آپ تو ظہر کے وقت سے یہاں پر موجود ہیں ایسی خصوصیت کے لوگ اور سمجھدار ایسی ایسی غلطیاں کریں حد ہو گئی پھر دوسروں ہی کی کیا شکایت ہے ۔ عرض کیا کہ واقعی سخت حماقت ہوئی معافی چاہتا ہوں ۔ فرمایا کہ حماقت اس کا سبب نہیں ہے بے فکری سبب ہے آئندہ احتیاط رکھی جائے ۔

29 رمضان المبارک 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم یک شنبہ